تازہ تر ین

آدمی بُلبلہ ہے پانی کا

حیات عبداللہ……..انگارے
درون دل فکر آخرت کی کوئی کرن ٹمٹماتی ہو تو حیاتی کی بے ثباتی کا جو رنگ ہے یہ زندگی میں بے تابیاں گھول کر تمام خوشیوں کو غارت کر ڈالتا ہے، پھر انسان کو بادصبا کے جھونکے بھی دھوکے دکھائی دیتے ہیں۔ زیست کی یہ بے بضاعتی انسان کی ساری نزاکتوں اور نظافتوں کو چاٹ کھاتی ہے جب بھی خیالات کے کسی جھروکے میں زندگی کی اس ”بے اعتباری“ کا کوئی جھونکا آ جائے تو تمام خوشیاں اور تمام آسودگیاں کالعدم سی ہو جاتی ہیں۔ آرزوئیں بے نور اور چاہتیں بے مایہ سی دِکھنے لگتی ہیں۔ ہم اپنی زندگی میں کتنی بار مشاہدہ کر چکے ہیں کہ خواہشوں اور آرزوﺅں کے شہر اپنے سینوں میں بسا کر جیتے جاگتے اور چمکتے دمکتے لوگوں کو فرشتہ اجل آن واحد میں قصہ ماضی بنا ڈالتا ہے۔ ہم لوگ امیدوں اور تمناﺅں کو پال پوس کر انہیں مکھن پیڑ ے کھلا کھلا کر خوب پہلوان بنا کر ان کی تکمیل کے لئے ہر جائز و ناجائز کام کا تعاقب کرتے چلے جاتے ہیں۔ امیدوں کے سہارے زندگی کی راہوں اور ریگزاروں پر چلنے والے ہم لوگ اتنے بے خبر ہیں کہ ہمیں پتا بھی نہیں ہوتا کہ کون سا طلوع ہونے والا سورج ہماری زندگی کا آخری ہو گا۔ ہمیں تو اتنا علم بھی نہیں کہ افق کے پار غروب ہو جانے والا آفتاب اب کبھی ہماری زندگی میں طلوع ہو بھی سکے گا کہ نہیں۔ یہ کیسی بے خبری ہے؟ ہمیں یہ تک نہیں معلوم کہ ہمارا کون سا جملہ آخری ہو گا۔ ہماری کس مسکراہٹ اور تبسم کے بعد ہمارے لب کبھی مسکرا نہ پائیں گے اور ہمیں تو یہ بھی علم نہیں کہ ہماری پلکوں سے گرنے والا کون سا آنسو آخری ہو گا۔ اپنی ذات اور شخصیت کے متعلق اس قدر اہم باتوں سے نابلد ہونے کے باوجود یہ انسان اپنے مزاج اور طبیعت کے لٹھے میں کلف لگائے پھرتا ہے، امیر مینائی نے کیا سچ کہا تھا۔
زیست کا اعتبار کیا ہے امیر
آدمی بلبلہ ہے پانی کا
کسی بھی حادثے کا شکار ہونے والے مسافروں کو خبر تک نہیں ہوتی کہ یہ ان کا آخری سفر ہے اور چند لمحوں بعد ان کے جسم سے زندگی کی رمق تک چھین لی جائے گی، موت سے فرار تو کسی ذی روح کے بس کی بات نہیں، ہم مرنے سے خائف رہتے ہیں ہم فنا ہونے کے متعلق سوچ کر سہم جاتے ہیں۔
ہمیں یقین واثق بھی ہے کہ آخر مرنا ہے اور ساتھ ہی اس وہم میں بھی مبتلا ہیں کہ موت ابھی نہیں آئے گی، حالانکہ کتنوں کو بھری جوانی میں موت اچک لیتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم موت کو یاد بھی کرتے ہیں تو عارضی بنیادوں پر، بس ذہن کے کسی خفیہ گوشے میں یہ خیال دبکا رہتا ہے کہ ہم نے مرنا ہے، کسی بزم میں کسی وعظ و نصیحت کی مجلس میں محض سرسری طور پر یا کچھ ثانیوں کے لئے موت کا تذکرہ کر کے پھر پرانی روٹین اور ڈگر پر بحال ہو جاتے ہیں۔ اگر ہمارا کوئی پیارا یک دم جدا ہو جائے، جب کوئی ہمارے دل کا ٹکڑا ہماری آنکھوں کے سامنے اچانک ہی دنیا چھوڑ چلے تو کچھ دنوں کے لئے موت کا دھڑکا اور کھٹکا بھی لگا رہتا ہے مگر رفتہ رفتہ ہم انہی پھوکٹ راہوں کی جانب لوٹ آتے ہیں۔
زندگی میں کتنی بار ہم اپنے پیاروں کی جدائی کے جاں سوز لمحات سہہ چکے ہیں، کتنی ہی مرتبہ درد اور کرب حدود و قیود کے پیرہن چاک کر کے آنکھوں کے رستے بہہ نکلتے ہیں تو کبھی لفظوں کی صورت نوک زبان سے ابل پڑتے ہیں اور کبھی قلم و قرطاس سے منسلک لوگوں کے قلم تک آبدیدہ ہو جاتے ہیں۔ مجھ سا کوئی شخص بھی قلم تھامے، چائے سے اٹھتی بھاپ کو تکتا جدا ہوجانے والے اپنے پیاروں کے متعلق سوچتا آنسوو¿ں میں گم ہو جاتا ہے ، دل کے تمام مضافات، مقاماتِ آہ و فغاں بن جاتے ہیں اور کوئی خفیف سی سسکی خیالوں کے بندھن سے باہر لے آتی ہے۔
بعض اموات بھی بڑی ہی بھیانک اور عبرت ناک ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر جسم و جاں تک کانپ اٹھتے ہیں، معصوم زینب کا قاتل درندہ عمران پھانسی کے پھندے پر لٹک کر نشان عبرت بن چکا ، مرنے کے بعد بھی لعنت ملامت اس کا مقدر ٹھہر گئی ہے، قصور کے شہریوں نے اعلان کیا کہ عمران کو قصور میں دفن نہیں ہونے دیں گے ، موت تو سب کو آنی ہے تو کیوں نہ باعزت موت کی دعا کی جائے،میں اس کالم کے ذریعے آپ کی ذات اور احساسات کو پند و نصائح کے کوہ گراں تلے نہیں دبا دینا چاہتا اور نہ ہی اس بات کا تقاضا کرتا ہوں کہ آپ دنیا سے بالکل ہی روکشی اختیار کر لیں، میں تو فقط کوئی بھی ایک گناہ کو چھوڑنے کی بات کرنے چلا ہوں۔ میرے یہ شکستہ سے لفظ اور بے ترتیب سا لہجہ صرف اس بات کا خواستگار ہے کہ اس عارضی حیات کا کسی بھی وقت خاتمہ ہوا چاہتا ہے، سو ہم اپنے دلوں کو صاف کر لیں، اپنے بھائی، رشتہ داروں، دوستوں کے بارے میں اور اپنے مذہب و ملک کے متعلق جس قدر روکھا پن ہماری طبیعت میں در آیا ہے، جتنی بے رخی ہمارے مزاج سے چمٹ کر رہ گئی ہے اور جس قدر منافرت ہمارے دلوں میں بس گئی ہے، اسے اللہ کی رضا کیلئے ختم کر دیں۔ زندگی کی بے ثباتی کتنے لوگوں کو کھا گئی؟ ہم کتنے لوگوں کو گم کر چکے اور ہم ان گم گشتہ لوگوں کو کھوجتے اور تلاشتے کہاں تک نہ نکل آئے مگر ہمارا یہ سارا سفر رائیگاں ہی تو ثابت ہوا ہے ہم آج تک کتنی یادوں سے لپٹ کر روئے مگر کچھ بھی تو حاصل نہ ہوا۔
جانے والے بھلا کب لوٹ آتے ہیں البتہ یہ حقیقت ہے کہ ہم بھی ایک نہ ایک دن انہی راہوں اور راستوں میں کہیں گم ہو جائیں گے، جہاں ہم نے اپنے پیاروں کو دفنایا تھا، ہم بھی قبر کی منوں مٹی تلے دفن ہو جائیں گے۔ موت کا فرشتہ کب ہمیں اچک لے اس کی خبر نہیں، سو اپنے دل کو اپنے بھائیوں کے متعلق بالکل ہی صاف کر لیجئے، اتنا صاف اور ستھرا کہ اس کو آپ کے دل میں محبتوں کے سوا کچھ بھی تو دکھائی نہ دے ۔
(کالم نگارقومی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved