تازہ تر ین

غیرسیاسی وائس چانسلر….تنقیدی جائزہ

ڈاکٹر عقیلہ صغیر….اظہار خیال
چےئرمین ہائیرایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر طارق بنوری نے گزشتہ دنوں زرعی یونےورسٹی فصیل آباد کا دورہ کیا جس کا مقصد ہائراےجوکیشن کمیشن اورزرعی ےونےورسٹی کے تعلقات کو مربوط کرکے تعلیمی و فیکلٹی کے مسائل کی نشاندہی نیزبہتر حل تلاش کرنا تھا۔ جس میں ڈاکٹر طارق بنوری نے اساتذہ ایسوسی ایشن اورمختلف شعبہ ہائے جات کے سربراہان سے خطاب کیا۔ آپ نے اپنے خطاب میں جامعہ کے بارے میں اپنی رائے اورخدشات کا اظہا رکیا۔بشمول دیگر آپ نے ملکی سطح پر وائس چانسلر کی تعےناتی کے بارے میں اپنے خیالات پیش کےے جس کے مطابق ہمارے ملک میں وائس چانسلر کی کوئی ٹریننگ نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کی تعےناتی میںمیرٹ کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔دوسری طر ف پاک آرمی میں پہلے ہی دن سے کیڈٹ کی تربیت میں ےہ پیش نظر ہوتا ہے کیونکہ کل اسی کیڈٹ نے آرمی چیف بن کرادارے کے انتظامی امور سنبھالنے ہیں ۔ جب پروفیسر حضرات وائس چانسلر کا عہدہ سنبھال لےتے ہیں تو چونکہ ان کی کوئی باقاعدہ تربیت نہےں ہوئی ہوتی تو ان کوانتظامی امور سنبھالنے میں دشواریوں کا سامنا ہوتا ہے‘ اس میں ہر سطح پر سےاسی دباﺅ بھی قابل ذکر ہے۔ ڈاکٹر طارق بنوری کی بات بالکل بجا مگر سوال ےہ پیدا ہوتا ہے کہ ان وائس چانسلر کو تعینات کو ن کرتا ہے؟ کیا غیر سیاسی شخص وائس چانسلربن سکتا ہے ؟ان سے کام کو ن لیتا ہے ؟ وہ جواب دہ کس کے آگے ہیں؟ ان کے Tenureکی extensionکون کر تا ہے؟
اِ ن تمام سوالوں کا ایک ہی جواب ہے وہ ہے حکومت وقت، کسی بھی یونےورسٹی کے لئے وائس چانسلر کا انتخاب حکومت کرتی ہے ۔ گورنمنٹ وائس چانسلر کے انتخاب میں من مرضی کا VCلگاتی ہے جس سے سیاسی حکومت نے امیدیں لگائی ہوتی ہیں کہ اپنی پارٹی کے لوگ بھرتی کرنے ہیں۔اپنی پارٹی کے ورکرزکے سٹوڈنٹس کو سپورٹس کوٹہ پر میرٹ کے برعکس داخلہ کروانا ہے اورےہاں تک کہ مختلف سیاسی حکومتوں نے یونیورسٹیوں سے ماہانہ بنیادوں پر خرچہ بھی لیا جاتا ہے جو ظاہر ہے وائس چانسلرصاحب نے اپنی جیب سے تو نہیں دینا وہ بھی ناجائز ذرائع سے اکٹھا کر کے ہی دے گا۔
حکومت نے اےسے شخص کووائس چانسلربنانا ہے جو ان کے تمام جائز و ناجائز مطالبات مان سکے۔اگرحکومت میرٹ کی بنیاد پر VCلگائے گی تو وہ شخص حکومت کی بات نہیں مانے گا لیکن اگر غلطی سے کہےں کوئی میرٹ پرVCلگ بھی گیا اور اُس نے حکومت کی نہ مانی تو یونےورسٹی اور حکومت میں ایک جنگ کا سا سامان رہے گا۔ نہ یونےورسٹی آگے بڑھ پائے گی اور نہ ہی طلبہ کے مسائل حل ہونگے۔ اسی گرم سرد جنگ میں وائس چانسلرکواعصابی جنگ لڑنا پڑتی اورایک دن خود ہی تھک ہارکر استعفیٰ دے دے گا۔
دوسری طرف پروفیسرزمیں VCبننے کے لئے آپس میں ایک خانہ جنگی کی کیفیت رہتی ہے کہ دوسرا مجھ سے آگے نہ بڑھ جائے اور اس سلسلے میں وہ کسی بھی حد تک جانے سے گُریز نہیں کرتے ۔فیصلے دفتروں میں ہونے کی بجائے سڑکوں پر احتجاج کی صورت میں ےا عدالتوں میں مقدموں کی صورت میں ہوتے ہیں۔اس میں جو طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے وہ عوام الناس جس میں طلباءاور عام اساتذہ شامل ہیں۔پروفیسرز کو ےہ ادراک ہوتا ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کی ہم رضا مندی حاصل کر پائےں گے تو ہی VCبن سکتے ہیں وہ ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس جنگ میں انکاوقار ،تعظیم اور عزت نفس سب جاتا رہتا ہے۔ جب کہ بیرونی دنیا میں پروفیسر VCبننا ہی نہیں چاہتے۔ اُن کا مﺅقف ہو تا ہے کہ ےہ انتظامی عہدہ ہے اس سے ہماری ریسرچ اور ماہریت کا ضےا ع ہو جائے گا ۔دوسری طرف وہاں ےہ عہدہ بھی غیرسیاسی ہے۔
ہماری حکومت کو چاہےے کہ اس عہدے میں جو سیاسی مداخلت ہے اس کو ختم کردیا جائے۔ اس کو سنیارٹی کی بنیاد پر کیا جائے سوائے کچھ تخصیص ےارعاےت کے ۔تاکہ وائس چانسلراپنے آقاﺅں کے چہرے کی طرف دیکھ کر فیصلہ کرنے کی بجائے میرٹ پر فیصلہ کرےں ۔VCصاحب شایدےہ نہیں جانتے کہ ان کی ایک ہاں یا ناں میں کتنے خاندانوں کا مستقبل اجڑ جاتا ہے ۔ ان کے ایک غلط فیصلے سے کنتی نا امیدی اوران کے لئے کتنی آہیں جنم لیتی ہیں۔ موجودہ حکومت کے فےصلے بلا شبہ قابل ستائش ہیں جن میں کرپٹ افراد کے خلاف بلا تخصیص کارروائی بہت ہی اہم ہے۔ اس میں بعض یونےو رسٹیز کے وائس چانسلرصاحبان بھی شامل ہیںجن کو ہتھکڑی لگا کرعدالت میں پیش کیا گیا۔ یونیورسٹیز کی فیکلٹی کے مذاکرے سے لوگوں کے ملے جلے خیالا ت سامنے آئے ہیں۔ کچھ لوگوں کا مﺅقف ےہ تھا کہ انہوں نے بد عنوانی کی ہے ۔میرٹ کی پا مالی کی ہے تو ان کو سزا ملنی چاہےے بلکہ ہم اساتذہ کو بھی ان لوگوں نے جو کہ معاشرے میں قابل عزت مقام رکھتے ہےں‘ کو بدنام کیاہے۔ ےہ کارروائی تو معمول کا حصہ ہے۔ اگر جج ،جنرل،وزیراعظم کو ہتھکڑی لگ سکتی ہے تو ایک کرپٹ VCکو کیوں نہیں؟ جب کہ دوسری طرف لوگوں کا ےہ مﺅقف ہے کہ اساتذہ قابل احترام ہیں۔ ان کو ہتھکڑی نہیں لگنی چاہےے بلکہ ہتھکڑی لگائے بغیر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہےے۔
الغرض دیکھنا ےہ ہے کہ ان تمام بے ضابطگیوں میں VCکی کس حد تک شمولیت تھی کیونکہ سنڈیکیٹ میں 3-7 تکs MPA اور سیشن جج ہائی کورٹ بھی شامل ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ ےہ سنڈیکیٹ یونےورسٹی کا سب سے بڑا قوانین پاس کرنے والا ادارہ ہوتاہے۔ اگرVCکے خلاف کارروائی ہو رہی ہے تو اس بات کو یقینی بناےا جائے کہ ان غلط فیصلو ں میں شامل دیگر ممبر سنڈیکیٹ جو کہ فیصلہ سازی میں تھے‘ کے خلاف حکومت کب کارروائی عمل میں لاتی ہے۔
(کالم نگارزرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں لیکچرار ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved