تازہ تر ین

جناب عمران خان!

محمد صغیر قمر….چنار کہانی
خوش آمدید ‘ چشم ماروشن دل ماشاد۔ یہ ملک آپ کا ہے آپ اس ملک کے ہیں۔خدا کرے آپ کا آنا سب کے لیے برکت کا باعث بنے ۔ اس ملک کے عوام پر آپ کے کچھ احسانات ہیں۔آپ اس ملک کے بیٹے ہیں اس ملک کے شہری ‘ سیاست دان اور حکمران ہیں جسے لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل کیاگیا۔ہمارے اجداد کی ہڈیاں اور لہو اس کی بنیادوں میں موجود ہے۔ وہ لوگ جو اپنا سب کچھ قربان کر کے ایک نئی دنیا تلاش کرنے نکلے تھے ‘ سب کچھ لٹا کر ایک اسلامی نظریاتی مملکت کے خواب دیکھتے تھے۔ ہزاروں نے سینے چھلنی کرائے ‘ لاکھوں نے گرد نیں کٹائیں ‘سب کا ایک ہی خواب تھا سب کی ایک ہی منزل تھی جس کو پانے کے لیے جان ‘ مال ‘ عزت اور اولاد پیش کر دی ۔ایک درد ناک کہانی ہے ‘ ایک لازوال داستان ‘ ایک عروج آشنا سفر ‘ جس نے بر صغیر کے مسلمانوں کو ایک ایسے قائد کے گرد جمع کر دیا جس نے ببانگ دہل کہا تھا۔
” اگر ہمارا دشمن اٹھا کر ہمیں بحیرہ ہند میں پھینک دے ہم تب بھی مطالبہ پاکستان سے باز نہیں آئیں گے۔“
اس نے کہا تھا ”کوئی میرا ساتھ دے نہ دے اکیلا چلوں گا اور پاکستان لے کر رہوں گا“۔
عزم صمیم کا پہاڑ ‘ جس کا جسم سوکھ کر کانٹا بن گیا تھا۔ یہ قائد ایسی آہنی چٹان تھا کہ دنیا پر حکمرانی کرنے والا برطانیہ بول پڑا۔
” جناح کی جرات کردار دریاﺅں کے دل دہلا دیتی ہے۔ گلاب کی مانند اس شخص کے سینے میں چیتے کا جگر ہے۔“
کون نہیں جانتا اس قائد نے اپنے عزم سے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ ہتھیلی پر سرسوں جما کر دکھا دی ‘ چٹانوں کے سینے سے چشمے رواں کر دیے ‘ آسماں سے تارے توڑ لائے ‘جگر لالہ میں ٹھنڈک ‘ دریاﺅں کے دل دہلانے والے بے مثل قائد نے مدینہ منورہ کے بعد پہلی اسلامی نظریاتی مملکت کو جلوہ گر کر دیا۔ آپ جانتے ہیں کہ ایک پرچم تلے بر صغیر کے مسلمانوں نے قائد اعظم کی قیادت میں ہر دکھ جھیلا‘ ہر غم برداشت کیا۔ اتحاد ‘ یقین محکم اور عمل پیہم کے نتیجے میں اﷲ نے ہمیں اتنی بڑی نعمت عطا فرمائی۔ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ قائد کی اس عظیم میراث کی حفاظت کرنے والے بھی کتنے عظیم ہوتے ہیں۔ قائد کی وفات کے بعد مسلمانوں کی اس عظیم جماعت کے ساتھ اسی کے کھوٹے سکوں نے جوحشر کیا جس طرح سے اسے برباد کیا ‘ اسے” س‘ ش ‘ ق ‘ م ن “میں تقسیم کیا۔اسے آمروں کے ہاتھوں میںکھلونا بنایا ۔ ذاتی اور گروہی مفاد ات‘ غیر آئینی ‘ غیر قانونی ‘ غیر اخلاقی اقدامات کو پروان چڑھایا۔ آپ جانتے ہیں جس مسلم لیگ کی سربراہی اور قیادت محمد علی جناح جیسے صاحب کردار جمہوریت پسند اور قانون کی اطاعت شعار شخصیت کے پاس تھی اسی مسلم لیگ کا کون کون ”سربراہ “نہیں رہا ۔ کس کس کا تذکرہ کیا جائے ‘ کس نے کس دور اور کتنے آمروں کے ساتھ مالشیے کا کردار ادا کیا ۔ کس نے قائد اعظم کے پاکستان کو حقیقی منزل کی طرف لے جانے کی کوشش کی اور کس نے غلامی کی شب تار کو طول دیا‘ کس نے قانون اور آئین کو تاراج کیا ‘کس نے بربادیوں کو کندھا دیا۔کس نے اپنی منزل کی راہوں میں کانٹے بوئے ‘ کس نے قومی خزانے سے ذاتی جاگیریں ‘ ملیں اور کارخانے لگائے ۔کس نے کرپٹ ‘ بددیانت اور خیانت کاروں کو اس قوم پر مسلط کیا ‘ کس نے نااہلوں خوشامدیوں ‘ لٹیروں ‘ وڈیروں ‘ جاگیرداروں ‘ سرمایہ داروں کو حوصلے بخشے ؟وہ کون تھا جس نے اﷲ کی بڑی نعمت کی قدر نہیں کی‘ کس نے ناشکری کے بول بولے ۔ آپ دیکھ رہے ہیں آج چہار جانب سے ظلمتوں کی یلغار ہم پر ہونے لگی ہے۔کون ہے اس کا ذمے دار؟آپ جانتے ہیں۔
آپ خوب جانتے ہیں اورستر برس سوچنے پرکھنے اور خود احتسابی کے لیے بہت ہوتے ہیں۔ آپ ایسے وقت میں پاکستان کے حکمران بنے ہیں جب حالات یکسر بدل چکے ہیں ۔یہاں اغیار کی سازشیں کار گر ہیں تو اپنوں کا حصہ بھی کچھ کم نہیں۔ قوم مخمصے میں ہے ‘ اضطراب ‘ بے چینی اور غیریقینی مستقبل نے ڈپریشن عام کر دیا ہے۔ معاشرے سے وضع داری اور اخوت خواب ہوئی۔ دل ٹوٹے ہیں ‘جگر پاش ہیں۔ سیاست دان شاکی ہیں کہ عوام کچھ نہیں کرتے اور عوام نوحہ کناں ہیں کہ حکمران کچھ نہیں کرتے۔ آپ یقین جانیے کہ کراچی سے خیبر تک بیس کروڑ عوام کا اعتماد سیاست دانوں اور علماءکے ساتھ ساتھ ہر اس ادارے سے اٹھ چکا ہے جس پر کبھی آنکھیں بند کر کے اعتماد کیا جا سکتا تھا۔جن کے راستے میں لوگ پلکیں بچھاتے تھے۔اگلے چند ہفتوں میں آپ کو اس کا اندازہ ہو جائے گا۔ خاکم بدھن لوگ آپ پر بھی اعتماد نہیںکریں گے۔ آپ کے جاں نثار بہت ہوں گے لیکن آپ جانتے ہیں اور خوب پہچانتے ہیں کہ وفاداروں اور مکھن بازوں میں کتنا فرق ہوتا ہے۔مفاد پرستوں کا ایک ٹولہ آپ کے ساتھ بھی ہے اور ایک فوج ظفر موج آپ کو اپنے حصار میں لینے کو بے تاب ہے۔ان کی مکھن فیکٹریاں حرکت میں آ چکی ہیں۔وہ نظریات خیالات اور مفادات کا واسطہ دے کر آپ کو اصل کام سے ہٹانے کی کوشش کریں گے۔اس ملک میں خوشامدیوں کی کیا کمی ہے؟بڑے بڑے سیاست دان ‘ دانشور ‘ صحافی اور مفکر جو آپ کے بھاری مینڈیٹ سے لطف اتھاتے ہیں۔ زوال کے دنوں میں آنکھیں پھیر لیں گے ۔گزشتہ ستر برسوں میں بہت سارا پانی پلوں کے نیچے سے بہہ چکا ہے ۔ کھوٹے اور کھرے نکھر کر سامنے آ چکے ہیں۔اب آپ کا امتحان ہے کہ آپ کس قدر مردم شناس اور مزاج آشنا ہیں ؟ دکھ کی بات ہے کہ بہت سارے وہ لوگ جو اس سارے فتنے اور بیماری کا باعث ہیں محسوس یہ ہوتا ہے کہ آپ دونوں پھر سے اسی راستے پر جانے والے ہیں۔
میر بھی کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
آپ یاد کریں اس وقت کو جب حکمرانوں کے اشاروں پر ظلم بھی ہوتا تھا اور خلق خدا اذیت کا شکار بھی۔ یہ قوم ان سے بھی نجات کی دعائیں مانگتی رہی ہے۔ اس قوم کی یادداشت کمزور ہے نسیان کا مرض ہے لیکن اتنا بھی نہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن، وہ جلوزئی کیمپ کے واقعے کو بھول جائیں ‘ کارگل کے رستے لہو کی خوشبو بھلا دیں ‘ سیاسی مخالفین کے ساتھ ناروا سلوک اگنور کر دیں اور لاہور کی سڑکوں پرشہیدوں کے والدین اور بزرگ شہریوں کوننگا کر کے پیٹنا صرف نظر کر دیں۔ اتنا ہی کافی نہیں کہ ماضی کی غلطیوں کا صرف ادراک کرلیں ،ازالہ ضروری ہے جناب وزیراعظم۔
قوم ‘ ملک اور سیاست کا مزاج بدل چکا ۔ آپ نئے عزم کے ساتھ اس ملک کو بنانے اور نیک نیتی کے ساتھ آئے ہیں تو اﷲ آپ کو کامیابیوں سے نوازے گا ‘ اس ملک کے اقتدار پر بار بارمتمکن کرے گا۔ بد نیتی ‘ انتقام ‘ افرا تفری ‘ لوٹ مار ‘ قبضے ‘ اسلحے ‘جاگیروں اور ملوں کے زور پر قوم کو جھکانا ممکن نہیں ۔یہ ملک ‘ یہ اقتدار آپ کے لیے ہے لیکن آپ کو دوست اور دشمن پہچاننا ہوں گے۔ اس ملک کی سیاست میں ایک ہی طرح کے چہروں کو دیکھ دیکھ کرلوگ تنگ آ چکے تھے ۔ مسائل کے گرداب میں پھنسے عوام مصائب در مصائب جھیلتے چلے جا رہے ہیں۔ان کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ ادارے تباہ ہو چکے ‘ جبر کے اندھے غار کھلے ہیں اور کوئی اس قوم کو نہیں بتاتا اس کی منزل کہاں ہے؟اغیار کی سازشیں اور طعنے ہیں اپنے اغیار کے ایجنٹ ہیں اور ہم اپنے لہو میں نہاچکے ۔
اگر آپ درست سمت کا تعین کر چکے ‘ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنے کا عزم لے کر آئے اور حضرت قائد اعظم کے پاکستان کو بچانے کی نیت رکھتے ہیں تو روشنی کی تلاش میں چلنے والا کاررواں چلتا رہے گا ۔ اندھیرے چھٹتے رہیں گے۔اگر آپ روشنی کے داعی ہیں تو روشنی پائیں گے ۔ روشنی امنگوں اور امیدوں کے کاررواں چلتے رہتے ہیں روشنی کا راستہ کون روک سکتا ہے؟
عزم صمیم کے پہاڑ‘ جرات کردار کے پیکرقائد کا اصل وارث کون ہے؟ یہ تو وقت بتائے گا۔ وہ وقت جس کے ہم سب منتظر ہیں۔
( متعدد کتابوں کے مصنف ‘شعبہ تعلیم
سے وابستہ اورسماجی کارکن ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved