تازہ تر ین

ویں صدی میں بھی بھارتی جنگی جنون جاری1(21)

محمود شام ….خاص مضمون
11مارچ 1948 کو سوئٹزرلینڈ کے صحافی سٹرڈی ایرک اسٹریف قائداعظم محمد علی جناح سے سوال کررہے ہیں:”کیا ایسی کوئی امید ہے کہ ہندوستان اور پاکستان اپنے طور پر بہت ضروری اور اہم مسائل پر اپنے اختلافات اور تنازعات کے پر امن تصفیے کی راہ نکال لیں گے۔“بانی پاکستان، بابائے قوم اور ایشیا کے عظیم رہنما قائد اعظم محمد علی جناح فرماتے ہیں” جی ہاں۔ بشرطیکہ ہندوستان احساس برتری کو خیرباد کہہ دے اور پاکستان کے ساتھ برابری کی بنیاد پر معاملات کرے اور حقائق کا صحیح اندازہ لگائے۔“(قائد اعظم محمد علی جناح۔ تقاریر و بیانات۔1947-48… ناشر حکومت پاکستان اسلام آباد)
70سال گزرتے ہیں۔ 23ستمبر2018 کو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کہہ رہے ہیں” پاکستان کی امن پالیسی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان دھمکی میں آنے والا نہیں۔ بھارت کو تکبر ختم کرنا ہوگا۔“
سات دہائیاں۔ جن میں بھارت کے اس خبط برتری نے جنوبی ایشیا کو غربت کا مرکز بنا رکھا ہے۔ دنیا بھر میں علاقائی تعاون کی تنظیمیں ترقی کررہی ہیں۔ اپنے اپنے ملکوں کو آگے لے جارہی ہیں۔ باہمی تعاون سے غربت کا خاتمہ کررہی ہیں۔ زندگی میں آسانیاں پیدا کررہی ہیں۔ انسانی وسائل کو بہبود کے ذریعے افرادی صلاحیتوں میں بہتری لارہی ہیں۔ آسیان ہو،یورپی یونین، امریکہ، کینیڈا، جنوبی امریکہ۔ سب آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرکے انسانوں کے لئے زندگی کی مشکلات بہت حد تک کم کرچکے ہیں۔لیکن جنوبی ایشیا کے ملکوں کی تنظیم سارک سب سے کمزور علاقائی تعاون کی مثال پیش کرتی ہے۔ بھارت کے تکبر اور معاندانہ رویے سے سارک کے اجلاس ہی نہیں ہوپاتے۔ سات دہائیوں میں یکے بعد دیگرے آنے والی بھارت کی مختلف نام نہاد جمہوری حکومتیں اپنے ملک میں بھی اقلیتوں کی آواز دباتی رہی ہیں۔ کروڑوں افراد غربت کی لکیر سے اوپر نہیں لائے جاسکے ہیں۔ اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگتی رہی ہیں۔ پورے بھارت میں ہی مسلمان دوسرے بلکہ تیسرے درجے کے شہری کی حیثیت سے زندگی گزارنے پر مجبور رہتے ہیں۔ لیکن مقبوضہ کشمیر میں تو روزانہ کہیں نہ کہیں مسلمانوں پر قیامت ڈھائی جاتی ہے۔ کشمیر میں موجود بھارت کے سات لاکھ فوجی کشمیریوں کو مفتوحہ قوم سمجھتے ہوئے اپنی گولیوں کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔
پاکستان کی فوجی اور سیاسی حکومتوں میں سے ہر ایک نے بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ لیکن اس کا جواب ہمیشہ جارحیت کی صورت میں ملا۔
قائد اعظم نے سوئٹزرلینڈ کے صحافی کو جو بنیادی نکتہ بتایا تھا، اس پر پوری دنیا کا نظام چل رہا ہے کہ قومیں چھوٹی ہوں یا بڑی، ملک زیادہ آبادی والے ہوں یا کم تعداد والے، مملکتیں ترقی یافتہ اور دولت مند ہوں یا غریب، جب وہ اقوام عالم کی سطح پر ملیں گی تو برابری کی بنیاد پر، سفارت کاری بھی اسی اصول پر ہوگی باہمی تعلقات بھی برابری کی سطح پر ہوں گے۔
پاکستان کی نئی منتخب حکومت کے سربراہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی امن کی خواہش کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کو خط میں یہی لکھا۔ بلکہ اس سے پہلے اپنی انتخابی فتح کی تقریر میں بھی بھارت کو دعوت دی کہ وہ اگر ایک قدم آگے آئے گا تو پاکستان دو قدم آگے بڑھائے گا۔ بعد میں با ضابطہ طور پر تحریری دستاویز میں بھی اس خواہش کا اظہار کیا۔ بھارت کی طرف سے پہلے اس سلسلے میں مثبت جواب آیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کریں گی۔ پاکستان اور بھارت کے عوام نے اس خبر پر خوشی محسوس کی کہ اس سے خطّے میں تناﺅ کم ہوگا۔ دونوں ملکوں کے سربراہوں کے درمیان ملاقات کی راہ ہموار ہوگی۔ عالمی دارالحکومتوں میں بھی اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا گیا۔ واشنگٹن کے دفتر خارجہ نے بھی اسے درست سمت میں قدم قرار دیا۔ لیکن اگلے ہی روز بھارت کے ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ ملاقات نہیں ہوگی، کیونکہ پاکستان دہشتگردی کی سرپرستی کررہا ہے۔ ایسے حالات میں اور پاکستان کے اس رویے کے تناظر میں ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
یہ بھارت کا سفارتی دیوالیہ پن تھا اور اس سے یقینا ظاہر ہوتا تھا کہ بھارت میں حکومتی ارکان بھی ہم خیال نہیں ہیں۔ وزیر اعظم کا دفتر اور دفتر خارجہ ایک دوسرے سے مختلف مو¿قف رکھتے ہیں۔ پاکستان کے سنجیدہ اور متین حلقوں کا خیال تو یہ تھا کہ بھارت سے ایسی امید ہی نہیں رکھنی چاہئے تھی۔ بقول غالب:
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
انہی دنوں میں بھارت کے آرمی چیف جنرل بپن راوت نے نہ جانے کن عسکری، دفاعی یا علاقائی وجوہ کی بنا پر پاکستان پر حملے کی دھمکی دے ڈالی۔ اس کی کیا ضرورت تھی۔ لگتا ہے کہ بھارتی تکبر کا نشہ صرف وزیرا عظم مودی کو ہی نہیں بھارت کے سارے کلیدی عہدیداروں کو ہے اور یہ تکبر، رعونت، نخوت 71سال سے جاری و ساری ہے۔ انہیں پاکستان کا وجود میں آنا، نسل در نسل برداشت نہیں ہورہا ہے۔ اکیسویں صدی ہے۔ یہ اشوکا اور چانکیہ کا دَور نہیں ہے۔ پاکستان ایک حقیقت ہے۔ 71سال میں پاکستانیوں کی کئی نسلیں زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا عالمی سطح پر منواچکی ہیں۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ ایک نوجوان ملک ہے۔62فیصد آبادی 15سے 30 سال کی عمر کے درمیان ہے۔ پاکستان دفاعی طور پر جدید ترین تربیت رکھتا ہے۔اس کی مسلح افواج کی دفاعی، انتظامی، عسکری صلاحیتوں کا اعتراف امریکہ، برطانیہ اور نیٹو کرتے ہیں۔ افغانستان سے سوویت یونین جیسی سپر طاقت کو نکالنے اور بعدمیں سوویت یونین کے انہدام میں پاکستان کی فوجی قیادت کے کردار کو ساری دنیا تسلیم کرتی ہے۔
جنرل صاحب نہ جانے کس کیفیت میں ہیں۔ اب 1971نہیں ہے۔یہ 2018ہے۔
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا
ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز، میجر جنرل آصف غفور نے پاکستان کی مسلح افواج کی طرف سے انڈین آرمی چیف کو واضح طور پر پیغام دیا کہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے۔ کسی بھی قسم کی مہم جوئی ہوئی تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ تمام عسکری، سفارتی اور عمومی تاریخی روایات کے بالکل برعکس جنرل بپن راوت نے سرحد پر اپنے ایک بھارتی فوجی کی لاش دیکھ کر اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لئے انڈین صحافیوں کو بلایا اور اس فوجی کی موت کی تحقیقات کئے بغیر کہ وہ کن حالات میں ہلاک ہوا، کس کی گولی لگی، انہوں نے براہِ راست پاکستان کو دھمکی دی اور کہا کہ بھارت کو پاکستان کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنی چاہئے اور اپنا فلسفہ بگھارتے ہوئے بولے کہ مذاکرات اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ انہوں نے بزعم خود کہا کہ ہمارے ملک کی پالیسی اس سلسلے میں بہت واضح اور قطعی رہی ہے۔ ہم نے کبھی لگی لپٹی نہیں رکھی۔ پاکستان کو چاہئے کہ وہ دہشت گردی کے عفریت کو روند ڈالے۔
جنرل صاحب کو جنگی جنون بہت زیادہ ورثے میں ملا ہے۔ وہ اس سے پہلے پاکستان پر سرجیکل حملوں کا دعویٰ بھی کرچکے ہیں۔ اور یہ دعویٰ بھی کہ سرجیکل ضربوں سے ہی پاکستان کو درست اور بروقت پیغام مل سکتا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ پاکستانی فوج سے بدلہ لینے کا وقت آگیا ہے۔ اسے اسی کی زبان میں جواب دیں گے۔ پاکستان کو درد محسوس کرانا چاہتے ہیں۔ پاک فوج اور دہشت گردی کا جواب دینے کے لئے ہمیں سخت کارروائی کرنا ہوگی۔
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے جنگی جنون میں مبتلا بھارتی جنرل کی اس اشتعال انگیزی کا جواب بہت ہی متانت سے مدلل انداز میں دیا۔ ان کی طرف سے جنگی دھمکی کے باوجود انہوں نے کہا :
”پاکستان کی آج بھی آفر ہے، آئیں میز پر بیٹھ کر بات چیت کریں، بھارتی فوج اپنی ملکی سیاست میں گھری ہوئی ہے، عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کے لئے جنگ کی باتیں کررہی ہے، امن کے لئے بہت قربانیاں دی ہیں، امن کو خراب نہیں ہونے دیں گے، پاکستان کبھی مذاکرات سے پیچھے نہیںہٹا،ہمیشہ بھارت ہی بھاگا ہے، بھارت سرجیکل اسٹرائیک کا ثبوت اپنی پارلیمنٹ میں نہیں دے سکا، انڈیا جتنی بھی کوشش کرلے، جھوٹ ہمیشہ جھوٹ ہی رہے گا۔ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک چل رہی ہے اور یہ تیسری نسل ہے جو قربانیاں دے رہی ہے۔ جو کہتے تھے کشمیر میں عسکریت پسندی ہے وہ سیاسی تحریک ہے جسے وہ دبا نہیں پارہے جبکہ بھارت میں آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ہم امن چاہتے ہیں لیکن ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہم نے امن کے لئے قربانیاں دی ہیں اور امن کو خراب نہیں ہونے دیں گے۔پاکستان ایٹمی قوت ہے اور جنگ اس وقت ہوتی ہے جب کوئی جنگ کے لئے تیار نہ ہو لیکن ہم جنگ کے لئے تیار ہیں۔ ہم امن چاہتے ہیں اور ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاک فوج ایک تجربہ کار اور بہادر فوج ہے اور ہم جنگ کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں اور کسی بھی بھارتی کارروائی کا بھر پور جواب دیں گے۔ کسی نے صبر کا امتحان لیا تو قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔ حکومتِ پاکستان نے بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کی تھی جس پر بھارت رضا مندی ظاہر کرنے کے بعد پیچھے ہٹ گیا۔ حکومت پاکستان کی آج بھی پیشکش ہے آپ آئیں اور میز پر بیٹھ کر بات کریں۔ پاکستان کو دہشت گردی کا شکار بنایا گیا لیکن پاکستان نے کامیابی کے ساتھ دہشت گری کا مقابلہ کیا۔ پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں امن قائم کیا ہے۔ ہمیں پتہ ہے کہ امن پسندی کی کیا قیمت ہے اور ہم امن پسندی کو آگے لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کو پہلے پارٹ آف پرابلم کہا جاتا تھا اب پاکستان پارٹ آف سلوشن ہے۔ بھارتی حکومت کو کرپشن کے الزامات پر تنقید کا سامنا ہے لیکن بھارتی حکومت نے حالات کا رخ موڑنے کے لئے پاکستان دشمنی کا بیانیہ اپنایا۔ہم پر ایک فوجی کی لاش کی بے حرمتی کا الزام لگایا گیا ہے، ہم نے کسی فوجی کی لاش کی کبھی بے حرمتی نہیں کی چاہے وہ دشمن ملک کا ہو یا کوئی اور ہو۔ بھارت ایسی حرکت نہ کرے جس سے خود بھارت کا نقصان ہو اور خطّے کو بھی پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امن ہوگا تو دنیا ترقی کرے گی جس سے پاکستان اور بھارت سمیت سب کو فائدہ ہوگا۔ پاکستان امن پسند ملک ہے وہ کبھی مذاکرات سے نہیں بھاگا، آج بھی پاکستان مذاکرات کی بات کررہا ہے لیکن بھارت ٹکٹوں کا بہانہ بناکر بھاگ رہا ہے۔ پاکستان نے جب بھی مذاکرات کی بات کی اس سے ہمیشہ بھارت ہی بھاگا ہے۔“
میرے خیال میں ایک ذمہ دار فرض شناس فوج کی طرف سے ایسے ہی باوقار انداز میں جنگی جنون کا جواب دیا جانا چاہئے تھا، تاکہ اقوام عالم پر واضح ہوسکے کہ بھارت جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا ڈھونگ رچاکر مغرب کا لاڈلا بن گیا ہے وہ در حقیقت ایک جنونی ملک ہے۔ جس نے اقلیتوں کو طاقت کے زور پر دبا رکھا ہے، انسانی حقوق پامال کئے جارہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں، اقدامات اور قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر پر 1948 سے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ کشمیریوں کو حق خودارادیت سے سات دہائیوں سے محروم کیا ہوا ہے۔ ان کی روز مرہ کی زندگی کو عذاب بنارکھا ہے۔ لیکن جمہوریت کے ڈرامے اور کھلی آزاد سوسائٹی کے رنگین دعوﺅں کے لباس میں مغرب کو دھوکہ دے کر ان سے سرمایہ حاصل کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ وہ دہشت گردی کی آماجگاہ ہے۔ پاکستان انتہا پسندوں کو خفیہ اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے بہت سے مغربی ممالک تو حقیقت جان چکے ہیں۔ وہ اب بھارت کے اس پراپیگنڈے سے بیوقوف نہیںبنتے بلکہ انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق تفصیلی رپورٹیں شائع کرتے رہتے ہیں۔
اللہ کا شکر ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے ہاں اقلیتوں کو ملکی تحفظ دیا ہے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح سے لے کر وزیر اعظم عمران خان تک سب حکمرانوں نے اپنے عوام کو یہی درس دیا ہے کہ وہ اپنے غیرمسلم ہم وطنوں کی حفاظت کریں۔ انہیں برابر کا شہری خیال کیا جائے۔ ان کو بھی وہی سہولتیں دی جائیں جو مسلمان اکثریت کو حاصل ہیں۔ (جاری ہے)
(بشکریہ:ھلال)
٭….٭….٭
محمود شام ….خاص مضمون
11مارچ 1948 کو سوئٹزرلینڈ کے صحافی سٹرڈی ایرک اسٹریف قائداعظم محمد علی جناح سے سوال کررہے ہیں:”کیا ایسی کوئی امید ہے کہ ہندوستان اور پاکستان اپنے طور پر بہت ضروری اور اہم مسائل پر اپنے اختلافات اور تنازعات کے پر امن تصفیے کی راہ نکال لیں گے۔“بانی پاکستان، بابائے قوم اور ایشیا کے عظیم رہنما قائد اعظم محمد علی جناح فرماتے ہیں” جی ہاں۔ بشرطیکہ ہندوستان احساس برتری کو خیرباد کہہ دے اور پاکستان کے ساتھ برابری کی بنیاد پر معاملات کرے اور حقائق کا صحیح اندازہ لگائے۔“(قائد اعظم محمد علی جناح۔ تقاریر و بیانات۔1947-48… ناشر حکومت پاکستان اسلام آباد)
70سال گزرتے ہیں۔ 23ستمبر2018 کو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کہہ رہے ہیں” پاکستان کی امن پالیسی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان دھمکی میں آنے والا نہیں۔ بھارت کو تکبر ختم کرنا ہوگا۔“
سات دہائیاں۔ جن میں بھارت کے اس خبط برتری نے جنوبی ایشیا کو غربت کا مرکز بنا رکھا ہے۔ دنیا بھر میں علاقائی تعاون کی تنظیمیں ترقی کررہی ہیں۔ اپنے اپنے ملکوں کو آگے لے جارہی ہیں۔ باہمی تعاون سے غربت کا خاتمہ کررہی ہیں۔ زندگی میں آسانیاں پیدا کررہی ہیں۔ انسانی وسائل کو بہبود کے ذریعے افرادی صلاحیتوں میں بہتری لارہی ہیں۔ آسیان ہو،یورپی یونین، امریکہ، کینیڈا، جنوبی امریکہ۔ سب آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرکے انسانوں کے لئے زندگی کی مشکلات بہت حد تک کم کرچکے ہیں۔لیکن جنوبی ایشیا کے ملکوں کی تنظیم سارک سب سے کمزور علاقائی تعاون کی مثال پیش کرتی ہے۔ بھارت کے تکبر اور معاندانہ رویے سے سارک کے اجلاس ہی نہیں ہوپاتے۔ سات دہائیوں میں یکے بعد دیگرے آنے والی بھارت کی مختلف نام نہاد جمہوری حکومتیں اپنے ملک میں بھی اقلیتوں کی آواز دباتی رہی ہیں۔ کروڑوں افراد غربت کی لکیر سے اوپر نہیں لائے جاسکے ہیں۔ اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگتی رہی ہیں۔ پورے بھارت میں ہی مسلمان دوسرے بلکہ تیسرے درجے کے شہری کی حیثیت سے زندگی گزارنے پر مجبور رہتے ہیں۔ لیکن مقبوضہ کشمیر میں تو روزانہ کہیں نہ کہیں مسلمانوں پر قیامت ڈھائی جاتی ہے۔ کشمیر میں موجود بھارت کے سات لاکھ فوجی کشمیریوں کو مفتوحہ قوم سمجھتے ہوئے اپنی گولیوں کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔
پاکستان کی فوجی اور سیاسی حکومتوں میں سے ہر ایک نے بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ لیکن اس کا جواب ہمیشہ جارحیت کی صورت میں ملا۔
قائد اعظم نے سوئٹزرلینڈ کے صحافی کو جو بنیادی نکتہ بتایا تھا، اس پر پوری دنیا کا نظام چل رہا ہے کہ قومیں چھوٹی ہوں یا بڑی، ملک زیادہ آبادی والے ہوں یا کم تعداد والے، مملکتیں ترقی یافتہ اور دولت مند ہوں یا غریب، جب وہ اقوام عالم کی سطح پر ملیں گی تو برابری کی بنیاد پر، سفارت کاری بھی اسی اصول پر ہوگی باہمی تعلقات بھی برابری کی سطح پر ہوں گے۔
پاکستان کی نئی منتخب حکومت کے سربراہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی امن کی خواہش کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کو خط میں یہی لکھا۔ بلکہ اس سے پہلے اپنی انتخابی فتح کی تقریر میں بھی بھارت کو دعوت دی کہ وہ اگر ایک قدم آگے آئے گا تو پاکستان دو قدم آگے بڑھائے گا۔ بعد میں با ضابطہ طور پر تحریری دستاویز میں بھی اس خواہش کا اظہار کیا۔ بھارت کی طرف سے پہلے اس سلسلے میں مثبت جواب آیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کریں گی۔ پاکستان اور بھارت کے عوام نے اس خبر پر خوشی محسوس کی کہ اس سے خطّے میں تناﺅ کم ہوگا۔ دونوں ملکوں کے سربراہوں کے درمیان ملاقات کی راہ ہموار ہوگی۔ عالمی دارالحکومتوں میں بھی اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا گیا۔ واشنگٹن کے دفتر خارجہ نے بھی اسے درست سمت میں قدم قرار دیا۔ لیکن اگلے ہی روز بھارت کے ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ ملاقات نہیں ہوگی، کیونکہ پاکستان دہشتگردی کی سرپرستی کررہا ہے۔ ایسے حالات میں اور پاکستان کے اس رویے کے تناظر میں ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
یہ بھارت کا سفارتی دیوالیہ پن تھا اور اس سے یقینا ظاہر ہوتا تھا کہ بھارت میں حکومتی ارکان بھی ہم خیال نہیں ہیں۔ وزیر اعظم کا دفتر اور دفتر خارجہ ایک دوسرے سے مختلف مو¿قف رکھتے ہیں۔ پاکستان کے سنجیدہ اور متین حلقوں کا خیال تو یہ تھا کہ بھارت سے ایسی امید ہی نہیں رکھنی چاہئے تھی۔ بقول غالب:
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
انہی دنوں میں بھارت کے آرمی چیف جنرل بپن راوت نے نہ جانے کن عسکری، دفاعی یا علاقائی وجوہ کی بنا پر پاکستان پر حملے کی دھمکی دے ڈالی۔ اس کی کیا ضرورت تھی۔ لگتا ہے کہ بھارتی تکبر کا نشہ صرف وزیرا عظم مودی کو ہی نہیں بھارت کے سارے کلیدی عہدیداروں کو ہے اور یہ تکبر، رعونت، نخوت 71سال سے جاری و ساری ہے۔ انہیں پاکستان کا وجود میں آنا، نسل در نسل برداشت نہیں ہورہا ہے۔ اکیسویں صدی ہے۔ یہ اشوکا اور چانکیہ کا دَور نہیں ہے۔ پاکستان ایک حقیقت ہے۔ 71سال میں پاکستانیوں کی کئی نسلیں زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا عالمی سطح پر منواچکی ہیں۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ ایک نوجوان ملک ہے۔62فیصد آبادی 15سے 30 سال کی عمر کے درمیان ہے۔ پاکستان دفاعی طور پر جدید ترین تربیت رکھتا ہے۔اس کی مسلح افواج کی دفاعی، انتظامی، عسکری صلاحیتوں کا اعتراف امریکہ، برطانیہ اور نیٹو کرتے ہیں۔ افغانستان سے سوویت یونین جیسی سپر طاقت کو نکالنے اور بعدمیں سوویت یونین کے انہدام میں پاکستان کی فوجی قیادت کے کردار کو ساری دنیا تسلیم کرتی ہے۔
جنرل صاحب نہ جانے کس کیفیت میں ہیں۔ اب 1971نہیں ہے۔یہ 2018ہے۔
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا
ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز، میجر جنرل آصف غفور نے پاکستان کی مسلح افواج کی طرف سے انڈین آرمی چیف کو واضح طور پر پیغام دیا کہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے۔ کسی بھی قسم کی مہم جوئی ہوئی تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ تمام عسکری، سفارتی اور عمومی تاریخی روایات کے بالکل برعکس جنرل بپن راوت نے سرحد پر اپنے ایک بھارتی فوجی کی لاش دیکھ کر اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لئے انڈین صحافیوں کو بلایا اور اس فوجی کی موت کی تحقیقات کئے بغیر کہ وہ کن حالات میں ہلاک ہوا، کس کی گولی لگی، انہوں نے براہِ راست پاکستان کو دھمکی دی اور کہا کہ بھارت کو پاکستان کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنی چاہئے اور اپنا فلسفہ بگھارتے ہوئے بولے کہ مذاکرات اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ انہوں نے بزعم خود کہا کہ ہمارے ملک کی پالیسی اس سلسلے میں بہت واضح اور قطعی رہی ہے۔ ہم نے کبھی لگی لپٹی نہیں رکھی۔ پاکستان کو چاہئے کہ وہ دہشت گردی کے عفریت کو روند ڈالے۔
جنرل صاحب کو جنگی جنون بہت زیادہ ورثے میں ملا ہے۔ وہ اس سے پہلے پاکستان پر سرجیکل حملوں کا دعویٰ بھی کرچکے ہیں۔ اور یہ دعویٰ بھی کہ سرجیکل ضربوں سے ہی پاکستان کو درست اور بروقت پیغام مل سکتا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ پاکستانی فوج سے بدلہ لینے کا وقت آگیا ہے۔ اسے اسی کی زبان میں جواب دیں گے۔ پاکستان کو درد محسوس کرانا چاہتے ہیں۔ پاک فوج اور دہشت گردی کا جواب دینے کے لئے ہمیں سخت کارروائی کرنا ہوگی۔
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے جنگی جنون میں مبتلا بھارتی جنرل کی اس اشتعال انگیزی کا جواب بہت ہی متانت سے مدلل انداز میں دیا۔ ان کی طرف سے جنگی دھمکی کے باوجود انہوں نے کہا :
”پاکستان کی آج بھی آفر ہے، آئیں میز پر بیٹھ کر بات چیت کریں، بھارتی فوج اپنی ملکی سیاست میں گھری ہوئی ہے، عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کے لئے جنگ کی باتیں کررہی ہے، امن کے لئے بہت قربانیاں دی ہیں، امن کو خراب نہیں ہونے دیں گے، پاکستان کبھی مذاکرات سے پیچھے نہیںہٹا،ہمیشہ بھارت ہی بھاگا ہے، بھارت سرجیکل اسٹرائیک کا ثبوت اپنی پارلیمنٹ میں نہیں دے سکا، انڈیا جتنی بھی کوشش کرلے، جھوٹ ہمیشہ جھوٹ ہی رہے گا۔ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک چل رہی ہے اور یہ تیسری نسل ہے جو قربانیاں دے رہی ہے۔ جو کہتے تھے کشمیر میں عسکریت پسندی ہے وہ سیاسی تحریک ہے جسے وہ دبا نہیں پارہے جبکہ بھارت میں آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ہم امن چاہتے ہیں لیکن ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہم نے امن کے لئے قربانیاں دی ہیں اور امن کو خراب نہیں ہونے دیں گے۔پاکستان ایٹمی قوت ہے اور جنگ اس وقت ہوتی ہے جب کوئی جنگ کے لئے تیار نہ ہو لیکن ہم جنگ کے لئے تیار ہیں۔ ہم امن چاہتے ہیں اور ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاک فوج ایک تجربہ کار اور بہادر فوج ہے اور ہم جنگ کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں اور کسی بھی بھارتی کارروائی کا بھر پور جواب دیں گے۔ کسی نے صبر کا امتحان لیا تو قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔ حکومتِ پاکستان نے بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کی تھی جس پر بھارت رضا مندی ظاہر کرنے کے بعد پیچھے ہٹ گیا۔ حکومت پاکستان کی آج بھی پیشکش ہے آپ آئیں اور میز پر بیٹھ کر بات کریں۔ پاکستان کو دہشت گردی کا شکار بنایا گیا لیکن پاکستان نے کامیابی کے ساتھ دہشت گری کا مقابلہ کیا۔ پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں امن قائم کیا ہے۔ ہمیں پتہ ہے کہ امن پسندی کی کیا قیمت ہے اور ہم امن پسندی کو آگے لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کو پہلے پارٹ آف پرابلم کہا جاتا تھا اب پاکستان پارٹ آف سلوشن ہے۔ بھارتی حکومت کو کرپشن کے الزامات پر تنقید کا سامنا ہے لیکن بھارتی حکومت نے حالات کا رخ موڑنے کے لئے پاکستان دشمنی کا بیانیہ اپنایا۔ہم پر ایک فوجی کی لاش کی بے حرمتی کا الزام لگایا گیا ہے، ہم نے کسی فوجی کی لاش کی کبھی بے حرمتی نہیں کی چاہے وہ دشمن ملک کا ہو یا کوئی اور ہو۔ بھارت ایسی حرکت نہ کرے جس سے خود بھارت کا نقصان ہو اور خطّے کو بھی پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امن ہوگا تو دنیا ترقی کرے گی جس سے پاکستان اور بھارت سمیت سب کو فائدہ ہوگا۔ پاکستان امن پسند ملک ہے وہ کبھی مذاکرات سے نہیں بھاگا، آج بھی پاکستان مذاکرات کی بات کررہا ہے لیکن بھارت ٹکٹوں کا بہانہ بناکر بھاگ رہا ہے۔ پاکستان نے جب بھی مذاکرات کی بات کی اس سے ہمیشہ بھارت ہی بھاگا ہے۔“
میرے خیال میں ایک ذمہ دار فرض شناس فوج کی طرف سے ایسے ہی باوقار انداز میں جنگی جنون کا جواب دیا جانا چاہئے تھا، تاکہ اقوام عالم پر واضح ہوسکے کہ بھارت جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا ڈھونگ رچاکر مغرب کا لاڈلا بن گیا ہے وہ در حقیقت ایک جنونی ملک ہے۔ جس نے اقلیتوں کو طاقت کے زور پر دبا رکھا ہے، انسانی حقوق پامال کئے جارہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں، اقدامات اور قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر پر 1948 سے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ کشمیریوں کو حق خودارادیت سے سات دہائیوں سے محروم کیا ہوا ہے۔ ان کی روز مرہ کی زندگی کو عذاب بنارکھا ہے۔ لیکن جمہوریت کے ڈرامے اور کھلی آزاد سوسائٹی کے رنگین دعوﺅں کے لباس میں مغرب کو دھوکہ دے کر ان سے سرمایہ حاصل کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ وہ دہشت گردی کی آماجگاہ ہے۔ پاکستان انتہا پسندوں کو خفیہ اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے بہت سے مغربی ممالک تو حقیقت جان چکے ہیں۔ وہ اب بھارت کے اس پراپیگنڈے سے بیوقوف نہیںبنتے بلکہ انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق تفصیلی رپورٹیں شائع کرتے رہتے ہیں۔
اللہ کا شکر ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے ہاں اقلیتوں کو ملکی تحفظ دیا ہے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح سے لے کر وزیر اعظم عمران خان تک سب حکمرانوں نے اپنے عوام کو یہی درس دیا ہے کہ وہ اپنے غیرمسلم ہم وطنوں کی حفاظت کریں۔ انہیں برابر کا شہری خیال کیا جائے۔ ان کو بھی وہی سہولتیں دی جائیں جو مسلمان اکثریت کو حاصل ہیں۔ (جاری ہے)
(بشکریہ:ھلال)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved