تازہ تر ین

کانفرنس میں بھارت سے اپنے حصے کا پانی لینے کا معاملہ زیر بحث آنا چاہیے ، نہال ہاشمی کو ایسا جھٹکا دیں کہ آئندہ کوئی مائی کا لعل فوج کیخلاف بات نہ کرے : ضیا شاہد ، نہال ہاشمی کا بیان بغاوت ، گرفتار کر کے مقدمہ چلایا جائے : جنرل (ر ) امجد شعیب ، چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ چیف جسٹس نے جس مہم کا آغاز کیا ہے یہ بہت ہی ضروری ہے پچھلے 30 برس سے پہلے چیف جسٹس ہیں جنہوں نے پانی کی کمی کے مسئلے پر توجہ دلائی اور اس کمی کو پورا کرنے کیلئے ڈیم بنانے کی طرف توجہ دلائی ہے اور بھاشا ڈیم کے بارے میں فنڈز جمع کرنے کا آغاز کیا ہے اور قوم سے اپیل کی ہے کہ بھاشا ڈیم کے لئے وقف کریں تا کہ کسی ادارے سے قرضہ نہ لینا پڑے اب پاکستان پانچ سال کے بعد دنیا کے ان 15 ممالک کی فہرست میں شامل ہونے والا ہے جس میں پینے کے پانی کی شدید کمی ہو گی لہٰذا اگر آج بھی ہم بھاشا ڈیم شروع کر دیں یا کالا باغ بارے صوبوں کے درمیان تصفیہ ہو جائے کالا باغ 6 سے لے کر 7 برس اور بھاشا ڈیم 7 سے 8 برس میں تعمیر بھی ہو سکتا ہے اور 6 برس میں اس میں پہلا حصہ مکمل ہو کر اس کے کچھ نہ کچھ فوائد سامنے آ سکتے ہیں۔ اس اعتبار سے بڑے کریڈٹ ہے جو چیف جسٹس صاحب کو جاتا ہے۔
جناب شمس الملک صاحب پہلے بھی ہمیشہ بات ہوتی رہتی ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ موجودہ چیف جسٹس صاحب نے بہت ہی ہوش مندی اور دانش مندی سے پاکستان کے سب سے بڑے مسئلہ کو اجاگر کیا ہے اور موجودہ تقریب میں جو آج شروع ہوئی اور کل بھی جاری رہے گی اس کی بنیاد بھی یہی ہے کہ پاکستان میں پانی کا مسئلہ جس تیزی کے ساتھ اس کی کمی ہوتی جا رہی ہے اگلے چند برس میں پاکستان ان 15 ممالک میں شامل ہو جائے گا جس میں پینے کے پانی کی بھی شدید کمی ہو گی۔ آپ تو پانی کے مسئلے پر بہت بولتے اور لکھتے رہے ہیں اور مختلف مواقع پر بہت کھل کر اظہار خیال کیا ہے آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اس مرحلے پر پانی کی کمی کے معاملے پر یہ جو کانفرنس ہے اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے۔
شمس الملک نے کہا کہ پانی ایسی چیز ہے جس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ باقی اور چیزوں کے بغیر انسان زندہ رہ سکتا ہے۔ اس کو انسان چاہے یا نہ چاہے، اس کو پسند ہو نا ہو پانی اس کی ضرورت ہے اللہ نے پانی اس کی ضرورت بنایا ہوا ہے اور انشاءاللہ ہم چونکہ صحیح راستے پر ہیں ہم حق پر ہیں ہم وہ کام کر رہے ہیں جو اللہ نے انسان کے لئے تحفہ بنایا ہوا ہے تو انشاءاللہ اللہ ہمارے ساتھ ہو گا۔ میں نے ہمیشہ مطمئن ہو جاتا ہو ںکہ جب میں اپنے آپ کو ایگزامن کر کے دیکھ لیتا ہوں یہ بات حق ہے اگر صحیح ہو تو پھر مجھے فکر نہیں ہوتی۔
ضیا شاہد نے کہا کہ میں نے اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں ایک رٹ بھی داخل کی ہوئی ہے اتفاق سے وہ رٹ جو تھی وہ کالا باغ کے ساتھ آپ نے بھی جس میں تقریر کی تھی میں نے بھی کچھ گزارشات کی تھیں اس کے ساتھ یہ منسلک ہو گئی۔ لیکن بعد میں مجھے پتہ چلا کہ وہ اس کے ساتھ ڈس پوز آف نہیں ہونی چاہئے چنانچہ میں نے پھر ایک ترمیم شدہ رٹ دی میری رٹ کا خلاصہ جو ہے میں پھر آپ کے سامنے ایک بار پیش کر سکتا ہوں اور آپ کے حوالے سے ناظرین اور سامعین تک یہ بات پہنچانا چاہتا ہوں کہ میں نے بڑی مدت سے اس پر ریسرچ کی ہے کہ انڈس بین پلان جو ہے اس میں انڈیا نے اپنے حصے میں جو دریا پاکستان کے حصے میں آئے ہیں یعنی چناب جہلم اور سندھ ان کے بارے میں یہ لکھا ہوا ہے اس معاہدے میں جس کو واٹر ٹریٹی 1960ءکہتے ہیں اس میں لکھا ہے کہ پاکستان کے حصے میں جو دریا آئے ہیں وہ دریا جب انڈیا میں بہتے ہیں تو انڈیا ان دریاﺅں میں سے پینے کا پانی لے سکتا ہے گھریلو استعمال کا پانی لے سکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ آبی حیات کے لئے یعنی جس سے مچھلیاں پلتی ہیں اس کے لئے پانی لے سکتا ہے لیکن راوی، ستلج اور بیاس۔ بیاس تو پاکستان میں داخل ہونے سے پہلے خشک کر دیا گیا اور ستلج اور راوی جو پاکستان کے علاقے میں داخل ہوتے ہیں تو سارا سال زبردستی بند رکھے جاتے ہیں اور میں نے موقع پر جا کر دیکھا ہے کہ لکڑی کے شٹر لگا کر مکمل طور پر پانی بند کر دیا گیا جو کہ انڈس واٹر ٹریٹی معاہدے کی اس شق کی خلاف ورزی ہےکہ اگر انڈیا جو اپنے علاقے میں بہنے والے پاکستانی دریاﺅں میں سے پینے کا پانی، گھریلو استعمال کا پانی، ماحولیات کا پانی، پن بجلی کا پانی، آبی حیات کا پانی لے سکتا ہے تو پھر ہمارے ان دو دریاﺅں میں مکمل طور پر ان کو کیوں خشک رکھا جاتا ہے اور ایک قطرہ پانی بپی نہیں چھوڑا جاتا ہے۔ سوائے برسات کے دنوں میں یا کم از کم جب دریاﺅں میں طغیانی آ جاتی اور جب اس کو پانی زبردستی چھوڑنا پڑتا ہے کہ اس کو روکے رکھنے سے وہ خود تباہ و برباد ہو جائے گا۔ آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ یہ میرا ذاتی مسئلہ نہیں ہے۔ مجھے انڈس واٹر ٹریٹی میں سے زمین کا جھگڑا نہیں ہے۔ یہ کسی مکان کی الاٹ منٹ، جھگڑا نہیں ہے۔ یہ ہمارا حق ہے کیونکہ زیر زمین پانی کی سطح سارا سال دریاﺅں میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے اتنا نیچے چلی گئی ہے کہ اب ٹیوب ویلوں سے بھی پانی نہیں نکلتا۔ چونکہ آپ اس کانفرنس میں حصہ بھی لے رہے ہیں۔ آپ براہ کرم ہمارا حق ہمیں لے کر دیں کہ بھارت نے جس طرح ستلج اور راوی کو بند کیا ہوا مکمل طور پر اس طرح سے وہ اپنے لئے تو معاہدے میں یہ شامل کر لیا ہے انہیں گھریلو پانی، پینے کا پانی، آبی حیات کا پانی اور پن بجلی کا پانی چاہئے لیکن ہمارے دریاﺅں کے سلسلے میں وہ ہمیں پورا سال پانی نہیں دیتا۔ پورا سال پانی نہ ہونے کی وجہ زیر زمین پانی کی سطح بہت نیچے چلی گئی ہے۔ اس مسئلے پر آپ ضروریات کریں۔ اب جب ہمارے عالی دماغ بیٹھیں گے تو یقینا کوئی نہ کوئی نتیجہ پر پہنچیں گے۔
ضیا شاہد نے کہا کہ نہال ہاشمی کے بارے پہلی بار بھی غلطی ہوئی تھی اور ہماری عدلیہ نے جو اس پر نرم رویہ اختیار کیا تھا وہ یقینا اس نرم رویے کے مستحق نہیں ہیں آج جو الفاظ انہوں نے استعمال کئے جو سامنے آئے ہیں۔ جس طرح سے انہوں نے زبان درازی کی، ہرزہ سرائی کی بکواس کی ہے اور پاکستان کی فوج کے بارے میں کہا ہے کہ ان سے اتنے برسوں میں کچھ بھی نہیں ہو سکا۔ ان کو 1965ءکی جنگ یاد نہیں، کارگل کی جنگ یاد نہیں انہیں کشمیر کی بارڈر پر ہونے والی بے شمار جھڑپیں یاد نہیں ہیں کیا ان کو ”رن آف کچھ“ کی لڑائی یاد نہیں جس میں پاک فوج بہادری دکھا کر پاکستان کو محفوظ کیا اور پاکستانی علاقوں کو انڈین جارحیت سے بچایا۔ یہ مسلم لیگ ن کی پالیسی ہے۔ ہر تیسرے دن نہال ہاشمی کو ابال آتا ہے یہ ان کا ذاتی معاملہ نہیں ہے بلکہ مسلم لیگ ن کی قیادت جس طرح سے کبھی وہ ڈان لیکس کی شکل میں کبھی ملتان میں ہونے والے انٹرویو کی شکل میں، کبھی ہمارے ڈان کے ایڈیٹر کے مضمون کی شکل میں، کبھی بی بی سی کو انٹرویو کی شکل میں یہ جو مستقلا اور ایک تسلسل کے ساتھ پاکستان میں بھارتی عزائم کے پیش نظر اور بھارتی نقطہ نظر کے پیش نظر جس طرح سے پاکستان کی فوج پر تبرا بھیجا اور برا بھلا کہا جا رہا ہے اور عین وقت پر یہ لوگ معافی مانگ کر بچ جاتے ہیں۔ آپ یہ فرمائیں کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ معمولی بات ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ کسی ملک کے شہری کا اپنے ملک کی فوج کے بارے میں اتنا صریحاً جھوٹا الزام لگانا اور ہم بھول گئے کہ 1965ءکی جنگ کو، کارگل کی جنگ۔ یہ الزام تو کوئی انڈین بھی نہیں لگا سکتا جو الفاظ نہال ہاشمی نے کہے ہیں۔
معروف دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا ہے کہ جی ایچ کیو کو نہال ہاشمی کی ہرزہ سرائی کا نوٹس لینا چاہئے۔ اس پر ایکشن ہونا چاہئے۔ اس کو اس پیرائے میں دیکھیں کہ جب نہال ہاشمی نے یہ تجویز کی یہ کہا کہ تو پھر وہاں پر شیم شیم کے نعرے لگے۔ آپ اختلاف رائے نہیں کر رہے بلکہ آپ عوام میں نفرت پیدا کر کے عوام کو فوج کے خلاف ابھار رہے ہیں۔ یہ بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔ میں پوری کلپ سن چکا ہوں لہٰذا اس کو ہمارا آئین میں شق ہے آرمی کے یا اپنی افواج کے خلاف آپ بات نہیں کر سکتے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بغاوت کے زمرے میں آتا ہے اس آدمی کو گرفتار کر کے اس پر مقدمہ چلنا چاہئے۔یہ وہ وقت چلا گیا جب یہ بھکاری کی طرح معافی مانگ کر بچوں کے واسطے دے کر توہین عدالت سے نکل گیا۔ اگر اس کے اتنے ہی اس کے مسائل ہیں تو اپنی زبان پر کنٹرول ہونا چاہئے جو اس نے آج حرکت کی ہے یہ ناقابل معافی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ سزا ملنی چاہئے۔
ضیا شاہد نے کہا کہ یہ کوئی دلیل ہے کہ میں بوڑھا ہوں میری صحت خراب ہے صحت خراب کا مطلب ہے کہ آپ پاکستان کی فوج کو اور اس کے بارے میں ایسے نازیبا الفاظ استعمال کریں جو آج سارا دن انڈین ٹی وی چینلز جو ہیں وہ مسلسل اس کو اٹھاتے رہے ہیں کیونکہ ان کو پاکستان میں بسنے والے ایک شہری کی تصدیق مل جاتی ہے اس کی طرف سے آواز مل جاتی ہے جس کو وہ پھر پاکستان کے خلاف، پاک فوج کے خلاف پاکستان کی حکومت کے خلاف، پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ حکومت نہال ہاشمی کے خلاف کوئی رورعایت نہ بھرتے۔
جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ ابھی ایک دن لگے گا کیونکہ آرمی چیف ملک سے باہر ہیں لیکن ایکشن لازماً ہو گا۔ یہ ہو نہیں سکتا اس پر ایکشن نہ ہو۔ اس کی حرکت ناقابل معافی ہے اور میرا اپنا اندازہ ہے کہ اس کے اوپر مقدمہ چلایا جائے گا۔
ضیا شاہد نے کہا کہ رانا ثناءاللہ کی اشک شوئی جو ہے اور اس قسم کی چکنی چپڑی باتیں کر کے وہ ہمیشہ بچ جاتے ہیں اور ن لیگ کے لیڈروں کی اصل پالیسی یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو الگ کر لیتے ہیں اور اس قسم کے چند جوشیلے اور کڑک دار آواز میں پاکستانی فوج کو گالیاں دینے والوں کو یہ کہتے ہیں کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔ ذاتی رائے کیا ہوتی ہے اگر کسی شخص کو یہ حق دیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے ہی ملک کی فوج کے خلاف بکواس کرے جس فوج نے تین جنگیں لڑی ہیں اور جس نے دہشت گردی کے خلاف برسوں سے جدوجہد کی ہے اور جانوں کی قربانیاں دی ہیں اور اس کو کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔ اس قسم کے کئی رانا ثناءاللہ ہیں جو اس قسم کے بڈھے کھوسٹ اور پاگل انسانوںکی حمایت کو آ جاتے ہیں۔ بورھا ہونے کا یہ مطلب ہے آپ چاند پر تھوکیں۔
ضیا شاہد نے کہا کہ بھارتی میڈیا واویلا کر رہا ہےکہ نہال ہاشمی نے دوبارہ سچ بولا، ایسے سچ تو ایسا جھٹکا دینا چاہئے کہ دوبارہ کسی کی ہمت نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ علیم خان ٹھیک کہتے ہیں اگر واقعی ان پر الزامات ہیں تو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ مقدمات سامنے کیوں نہیں لائے؟ پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاج کوئی غیر معمولی بات نہیں، اپوزیشن ہمیشہ حکومت پر تنقید کرتی ہے۔ انتخابی دھاندلی کا بہت بڑا الزام لگایا گیا تھا اب اس کے لئے جو تحقیقاتی کمیٹی بنی ہے اس میں حکومت و اپوزیشن کی یکساں نمائندگی ہے یہ اچھی بات ہے۔ شہباز شریف کو کیوں گرفتار کیا؟ یہ کوئی شکایت نہیں، اگر وہ بے گناہ ہوئے تو رہا ہو جائیں گے۔ یہ غلط ہے کہ حمزہ شہباز کے والد کو پکڑ لیا تو جمہوریت خطرے میں پڑ گئی۔ عمران خان نے بھی کہا تھا کہ جب کسی پر ہاتھ ڈالتے ہیں تو جمہوریت خطرے میں آ جاتی ہے لیکن اب جس کے خلاف کوئی چیز سامنے آئی اس پر کارروائی ضرور ہو گی۔ انہو ںنے کہا کہ کوآپریٹو سوسائٹی پنجاب کے رجسٹرار آفس میں آگ لگنے کی تحقیقاتی رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ کچھ لوگوں نے پٹرول چھڑک کر آگ لگائی، جس سے کچھ ملزموں کو بچانے کی کوشش کی گئی، اب حکومت فوری ان کو گرفتار کروا کر کڑی سزائیں دلوائے تا کہ دوبارہ کوئی کسی ریکارڈ کو جلانے کی جرا¿ت نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے بہت سارے کیسز زیر التوا پڑے ہیں جس پر لوگوں کو تشویش ہے کہ کسی کو گرفتاری کے بعد معاملہ آگے نہیں بڑھتا۔ چیئرمین نیب سے گزارش ہے کہ جلد سے جلد حتمی و آخری فیصلے کئے جائیں۔ جعلی اکاﺅنٹس کیس میں اصل مجرم بینک منیجر ہیں۔ ان کو نہیں پکڑا جاتا۔ اٹک ویڈیو سکینڈل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب قصور میں 300 بچوں کے ساتھ غیر اخلاقی ویڈیو بنی تھیں تو اسی پروگرام میں رانا ثناءاللہ نے کہا تھا کہ ایسی کوئی بات نہیں 2 پارٹیوں میں آپس میں زمین کا جھگڑا ہے، وزیراعلیٰ کو بھی کئی مہینے یہی کہتے رہے۔ آج تک ایسے ہر سکینڈل پر یہی کہا جا رہا ہے کہ زمین کا جھگڑا ہے، اس میں بچوں کی فلموں کا کیا تعلق ہے؟ معاملے کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کسی نہ کسی جگہ کہیں نہ کہیں کوئی رانا ثناءضرور بیٹھا ہوتا ہے۔ پنجاب کے مختلف اضلاع میں پہلے بھی ایسے سکینڈلز آ چکے ہیں۔ بہت سارے واقعات میں زیادی کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے۔ قصور میں بھی ثابت ہوا کہ بچوں کے والدین ملزمان کو مہانہ پیسے دیتے تھے کہ ویڈیو کو وائرل نہ کرنا، لوگوں کو بلیک میل کیا جاتا تھا۔ جب بھی کہیں کوئی ایسا واقعہ پیش آیا تو رانا ثناءسمیت ایم پی ایز اور ایم این ایز نے ملزموں کو بچانے کی کوشش کی۔ زینب کا قاتل جس کو پھانسی دی گئی، اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کو محلے داروں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا، ایک گھنٹے بعد پولیس نے رہا کر دیا، اس پولیس والے کو کیوں نہیں پکڑا گیا؟ چیچہ وطنی واقعے کے حوالے سے انہوں نے کہا وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی، ڈائریکٹر ایف آئی اے اس معاملے پر ایکشن لیں، حقائق معلوم کریں۔ ایک شخص اتنا مجبور کیسے ہو گیا کہ خود کو چھریاں مار کر احتجاج کرتا ہے کہ مجھے انصاف نہیں ملا، اگر معاشرہ انصاف فراہم نہیں کرتا تو اس کی ذمہ داری ان افسران پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے شکایت نہیں سنی۔ نمائندہ اٹک آصف صابری نے کہا کہ اویشیہ گروپ بنا ہوا ہے جو بچوں سے بدفعلی کے بعد ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر دیتا ہے، زمینوں کا جھگڑا نہیں ہے۔ انکشاف سامنے آیا تو والدین نے تھانے میں درخواست دی جس پر ڈی پی او اسد علوی نے متعلقہ ایس ایچ او کی سربراہی میں ٹیم بھجوائی جنہوں نے اس گروہ کو گرفتار کیا، ملزمان کے قبضے سے موبائل فونز، لیپ ٹاپس وغیرہ برآمد ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق تحقیقات میں مزید ملزمان بھی پکڑ میں آ سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 3 ہفتے پہلے حسن ابدال میںبھی ایک بچہ گھر سے دودھ لینے گیا مگر واپس نہیں آیا۔ اس کے والدین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پھول کی بھی اسی طرح تفتیش کی جائے جس طرح زینب واقعہ کی ہوئی تا کہ ہم بھی اپنے بیٹے کے قاتل کو پھانسی پر لٹکتا دیکھ سکیں۔
چیچہ وطنی سے نمائندہ سعید اختر نے بتایا کہ خود کو چھریاں مار کر احتجاج کرنے والے 60 سالہ شخص کی کپڑے کی دکان ہے، 3 سال سے کاروبار ٹھپ ہے، بچے فاقے کر رہے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ اب جو گیس، بجلی، پانی وغیرہ کے بل آئے ہیں وہ ادا کرنے کے لئے پیسے نہیں، دکان کی راس بھی ختم ہو چکی ہے۔ بھوکے مر رہے ہیں اس لئے احتجاج کیا ہے اور خونی انقلاب کی شروعات کی ہے۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved