تازہ تر ین

ایک اور تصویر کا اضافہ

نجیب الدین اویسی ….ستلج کنارے
جیسا کہ میں کئی مرتبہ بتا چکا ہوں میں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز بلدیات سے کیا۔ میں 79ءمیں اپنے علاقہ کی یونین کونسل کا چیئرمین منتخب ہوا۔ پھر چار مرتبہ چیئرمین منتخب ہوتا رہا یوں 14سال چیئرمین رہا۔ چیئرمینی کے دوران تقریباًروزانہ بہاولپور جاتا تھا مجھے افسران سے تعلقات کا شوق بھی تھا اور ضرورت بھی۔ میں تحصیل کی سطح پر اسسٹنٹ کمشنر ، پولیس کے ایس پی، ڈی پی او سے دوستی رکھتا تھا۔ اس وقت مجسٹریسی نظام تھااسسٹنٹ کمشنر ان تمام مجسٹریٹوں کا باس ہوتا تھا۔ ڈپٹی کمشنر ، ایس ایس پی ہماری پہنچ سے کہیں دور تھے البتہ ٹیکنوکریٹس کی دوستی میں نے ایکسئین کی سطح پر شروع کی۔ واپڈا ، لوکل گورنمنٹ ، پبلک ہیلتھ ، ہائی وے سب کے ایکسیئن میرے دوست تھے۔ جب میرے بڑے بھائی ممبر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تو کبھی کبھار ڈپٹی کمشنر یا ایس ایس پی سے انتہائی ضروری کام کیلئے چلا جاتا۔ البتہ ایس ایس پی ہمایوں رضا شفیع میرے پہلے ذاتی دوست بنے ۔ اس میں بھی انکی اعلیٰ ظرفی کو دخل حاصل تھا۔ وقت گزرتا گیا میں یونین کونسل سے پنجاب اسمبلی پھر تحصیل ناظمی تک سفر طے کرتا رہا۔ پہلی بار 2013ءمیں اللہ تعالیٰ نے مجھے ممبر قومی اسمبلی کا اعزاز عطا فرمایا۔ اب میرے دوستوں میں ڈی آئی جی ، کمشنر بھی شامل ہوگئے۔ یہ الگ بات ہے میری دوستی کا دعویٰ میری خوش فہمی ہو۔ میرے یہ دوست دل ہی دل میں کہتے ہوں ۔
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
ہمارے کمشنر سید مسعود شاہ اور سید شوکت علی شاہ بھی تھے۔ دونوں پی سی ایس آفیسر تھے مگر ان دونوں کایہ پختہ خیال تھا ہم سی ایس پی (سابق DMG موجودہ PAS) والوں سے زیادہ ذہین اور قابلیت میں یکتائے روزگار ہیں۔ ہماری اردو، انگریزی کی رائٹنگ ان سے کہیں زیادہ بُلند ، اچھی ہے۔ ہماری Vocabulary ، یعنی الفاظوں کے ذخائر چاہے اردو میں ہوں یا انگریزی میں‘ زیادہ ہیں۔ چلتے چلتے یہ بھی بتا تا چلوں میرے ایک بہترین اور مخلص دوست ایڈیشنل کمشنر (رابطہ) رانا نصیر احمد تھے۔اگرچہ ان کے دفتر کا کمرہ بہت ہی چھوٹا تھا مگر انکا دل بہت بڑا تھا ۔ کا م کرنے کے معاملے میں بھی ، کھلانے پلانے میں بھی ۔ دوپہر کو انکے گھر سے کھانا آتا تھا جسکا زیادہ حصہ ہم کھا جاتے تھے۔ سید مسعود شاہ بڑے سخت گیر آفیسر مشہورتھے۔ مگر مجھے یاد نہیں میں نے کبھی انکو کوئی کام کہا ہو اور انھوں نے انکار کیا ہو۔ وہ ہمارے ہاں اے ڈی سی جی قلیل عرصے کیلئے ڈپٹی کمشنر بھی رہے۔ انکے پاس بیٹھنے کا اپنا ایک لطف ہوتا تھا۔ مولانا رومی، شیخ سعدی کی درجنوں حکائتیں انھیں ازبر تھیں۔ بزرگانِ دین کے حالات ِ زندگی ، صوفیانہ کلام، بڑے بڑے شعراءکا کلام بھی انھیں یاد تھا۔ اسلام کے بارے میں بھی انھیں مکمل عبور حاصل تھا۔ البتہ میرے جگری یار رانا نصیر احمد جو انکے سٹاف آفیسر (ایڈیشنل کمشنر رابطہ) تھے انکی رائے تھی یہ عالم بے عمل ہے۔ مجھے یاد آیا میںایک مرتبہ فورٹ منرو سیر کیلئے جاتے ہوئے سید شوکت علی شاہ کے پاس ڈیرہ غازیخان ان کی دعوت پر لنچ کیلئے رُکا۔ ان دنوں سید مسعود شاہ کمشنر بہاولپور تھے جبکہ سید شوکت علی شاہ ڈیرہ غازیخان میں ڈپٹی کمشنر تھے۔ انہوں نے مجھے گلہ کے انداز میں کہا مجھے کمشنر بہاولپور نہیں لگایا گیا۔ انکا اپنا خیال تھا وہ شریف برادران کے بہت وفادار افسران میں سے ایک ہیں جب بہاولپور پی سی ایس کمشنر تعینات کیا گیا تو مجھے کیوں نہیں ؟
آخر ان کی بہاولپورکا کمشنر بننے کی دیرینہ خواہش 99ءمیں پوری ہو گئی۔ وہ پرویز مشرف کے نئے نظام کے بعد اس عہدے سے سبکدوش ہوئے یوں کمشنری نظام کے اختتام پر بہاولپور کے وہ آخری کمشنر تھے۔ کمشنر کے دفتر میں زیادہ وقت ثاقب ظفر کے ساتھ گزارا ۔ ثاقب ظفر کو کام کرنے کا بہت شوق تھا ۔ انہیں آثارِ قدیمہ سے تو عشق کی حد تک لگاﺅ تھا جس کا عکس بہاولپور میں آج بھی نظر آرہا ہے۔ زمانہِ قدیم میں شہروں کے باہر فصیلیں ہوتی تھیں جنکے مختلف سمتوں میں گیٹ ہوتے تھے۔ بہاولپور شہر میں سوائے فرید گیٹ (سابقہ بیکانیری گیٹ) کے باقی سب گیٹوں کے کوئی آثار نہ تھے صرف زبانِ زدعام پکارے اور سنے جاتے تھے۔ ایک گیٹ تو ایسا بھی تھا جسکا نام بھی ہم نے نہیں سنا تھا۔ اس کا نام بھی مجھے انہوں نے یاد کرایا© ’ موری گیٹ‘ ۔ انکی شدید خواہش تھی قلعہ ڈیراور کو تباہ ہونے سے بچایا جائے۔ وہ بہاولپور کی عوام کے لیے ایک وسیع و عریض پارک بنانے کا ارادہ بھی رکھتے تھے جو ریس کورس پارک کے برابر ہوتا۔ مجھے اپنے منصوبوں ، ارادوں سے وہ ہر ملا قات میں ضرور آگاہ کرتے بلکہ اپنے لیپ ٹاپ میں گیٹوں پر لگانے والی اینٹوں ، پینٹ کے رنگ و دیگر خیال میں آئے منصوبوں کے خاکے دیکھاتے رہتے۔ میں کبھی کبھار انھیں مذاق میں کہتا تھا جس طرح کے آپ کے منصوبے ہیں آپکی ریٹائرمنٹ تک بہاولپور تعیناتی ضروری ہے تاکہ ہم ان سہانے خوابوں کی تعبیر بھی دیکھ سکیں۔
وہ سیاست پر بہت کم گفتگو کیا کرتے تھے ۔ انہوں نے اپنے دفتر میں سابقہ کمشنروں کی تصاویر آویزاں کرائیں ۔ ایک دن میں نے بورڈ پر نظر دوڑاتے ہوئے انہیں کہا 55ءسے یہاں چالیس سے زیادہ کمشنر تعینات رہ چکے ہیں۔ جبکہ آپ نے صرف پندرہ فوٹو آویزاں کیے ہوئے ہیںانہوں نے فرمایا بس یہی میُسرآئے۔1955ءبہاولپور میں پہلے کمشنر اے۔آر خاں تھے۔ یہاں بہت بڑے بڑے لوگ کمشنر رہے۔ دربار علی شاہ، عجم خاں، مرتضٰے برلاس۔ میرے چچا مرحوم کا باغ بہت ہی خوبصورت تھا ۔ انھیں اپنے باغ سے بڑی محبت تھی خوبصورت بڑے بڑے لان، ہر قسم کے پھول وہاں موجود تھے۔ وہ پاکستان یا غیر ممالک جاتے تو باغ کیلئے پودے ، پھولوں اور درختوں کو تراشنے کیلئے خصوصی قینچی، کبھی کوئی چیز تو کبھی کوئی چیزباغ کیلئے لیکر آتے۔ اس باغ کی خوبصورتی کا بڑا چرچا تھا‘ ہائیکورٹس کے جج ( جو لاہور سے پندرہ روز کیلئے بہاولپور جسے بغدالجدید کورٹ کہا جاتا تھا) ، کمشنر، بڑے آفیسر گاہے بگاہے باغ کی سیر کے لیے آتے تھے۔ کسی بھی محکمے کے بڑے افسر جو لاہور سے آتے انکے مقامی افسر بھی انھیں سیر کیلئے اس باغ میں لیکر آتے۔ مجھے آج بھی یاد ہے میں مڈل کلاس کا طالبعلم تھا میں نے اپنے چچا کے باغ میںعجم خاںکو دیکھا جو اس وقت بہاولپور کے کمشنر تھے گورے چٹے، تھری پیس سوٹ میں ملبوس انگریزی کٹ میں پورے انگریز لگتے تھے۔ مرتضےٰ برلاس کیونکہ شاعر تھا اس لیے اکثر ادبی مجالس کراتے رہتے تھے انکے بقول میں شاعروں ادیبوں میں بڑا افسر ہوں۔ افسروں میں، میںبڑا شاعر ہوں۔ ان کا ایک شعر میں اپنے صوبائی سطح کے الیکشن میں (93ء ، 97ئ) اکثر ضرور کہتا تھا۔
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب ِ منزل
لوگ ملتے گئے کارواں بڑھتا گیا
1955ءسے 99ءتک بہاولپور میں چونتیس کمشنر رہے۔ 2008ءمیں مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں حکومت دوبارہ آئی تو انھوں نے پرویز مشرف کے بنائے گئے بلدیاتی نظام کو پہلے فریز کیا۔ معیاد ختم ہونے کے بعد اسکو دوبارہ بحال نہ کیا۔ اسی دوران انھوں نے کمشنر بحال کر دیئے۔ مشتاق برانہ جنکا جنوبی پنجاب سے تعلق تھا پہلے کمشنر بہاولپور تعینات ہوئے۔ وہ بڑے طاقتور بیوروکریٹ تھے انکا رویہ آئی سی ایس (انڈین سول سرونٹ) افسروں سے بھی بدتر تھا۔ پورے ڈویژن کے افسران ان سے ڈرتے تھے افسر تو ایک طرف تمام سیاسی اکابرین بھی ان سے ملاقات کیلئے وقت ملنے کا انتظار کرتے تھے بوقتِ ملاقات وہ بڑا سوچ سمجھ کر بولتے تھے کہیں صاحب کو کوئی بات نا گوار نہ گزرے۔ انکے زمانے میں دو دانش سکول ، کرافٹ بازار، ماڈل بازار،سٹیڈیم کی بحالی، اس میں خوبصورت سوئمنگ پول، بہاول کلب کی تزئین و آرائش کے علاوہ بہت سے منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچے۔ وہ پنجاب حکومت سے اپنے ذاتی اثر و سوخ سے بجٹ منگواتے ۔اگر کسی منصوبے کے ٹیکنوکریٹ رقم ختم ہونے کا کہتے تو بڑے غصے اور پرُ اعتماد انداز میں کہتے آپ بجٹ کی فکر نہ کریں کام جاری رکھیں ، بجٹ میری ذمہ داری ہے۔ اس لیے ان کے دور میں تین دانش سکول تیزی سے مقررہ مدت سے بھی پہلے مکمل ہوئے۔ انکا دورانیہ سب سے زیادہ تھا وہ 2008ءسے 2012ءتک کمشنر بہاولپور رہے۔ پورے ڈویژن کے اراکین اسمبلی انکے تبادلے کے خواہاں تھے مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ اس بورڈ پر بریک سمت (جب کمشنر کا عہدہ ختم کیا گیا) چوالیس کمشنرز تعینات رہے۔ مجھے ان سے کوئی ذاتی اختلاف نہ تھا میں نے کبھی انھیں کوئی کام بھی نہ کہا۔ زیادہ ملاقاتیں بھی نہ تھیں۔ صرف ایک بار کرٹسی کال کیلئے ان کے دفتر گیا۔ میرا ان سے بنیادی اختلاف یہ تھا کہ انکا تعلق وسیب سے ہے زمیندارہ پس منظر ہے۔ انھیں بہاولپور کے لوگوں سے برادری جیسا تعلق رکھنا چاہیے نا کہ ایک سخت گیر ، نک چڑھا بیوروکریٹ کا روپ دھارنا چاہیے۔ نیئر اقبال نگران حکومت کے دور میں کمشنر بہاولپور تعینات ہوئے۔ ان سے دو مرتبہ فون پر بات ہوئی۔ مجھے ان کی گفتگو سے ادب نوازی کی جھلک نظر آئی۔ میں بلا کا سست و کاہل ہوں ۔ بہاولپور تعینات بہت سے افسروں سے ملاقات بھی نہیں ہوتی کہ وہ تبدیل ہوجاتے۔ میں نے تہیہ کیا میں نیئر اقبال کے تبادلے سے پہلے انھیں ضرور ملوں گا۔ بڑے پُر تپاک انداز میں انھوں نے میرا استقبال کیا۔ ادب پر بڑی سیر حاصل گفتگو کی۔ مجھے وہ بڑے ادب نواز اس لیے محسوس ہوئے کہ انھوں نے مجھے اچھا رائٹر کہہ دیا۔ یہ انسانی جبلت ہے انسان اپنی تعریف سے خوش ہوتا ہے۔ہم اسے ہی ادب نوازمانتے اور سمجھتے ہیں جو ہمیں اچھا لکھنے والا کہے۔ سو انھوں نے کہا‘ ہم خوش ہوئے۔ اس کمرے میں کمشنرز کی تصاویر میں ایک اور تصویر کا اضافہ ہو چکا تھا وہ تھی ثاقب ظفر کی۔ جنھیں ہم اپنا دوست کہتے ہیں یہ ہمارا دعویٰ ہے جسے دعویٰ یکطرفہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ممکن ہے میرے اس کالم کے چھپنے تک نیئر اقبال کی تصویر کا اضافہ ہو چکا ہو۔ یہ اچھی میٹھی باتیں کرنیوالا بھی ثاقب ظفر اور دیگر بیوروکریٹ دوستوں کی طرح لاہور، اسلام آباد کے میلوں میں گم ہو جائے۔
(کالم نگارمعروف پارلیمنٹیرین ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved