تازہ تر ین

عمران خان مائنڈ نہ کریں پلیز!

خواجہ عبدالحکیم عامر سچ ہی لکھتے جانا
حالیہ ضمنی انتخابات کے حیرت انگیز نتائج پر بھانت بھانت کی بولیاں پڑھنے اور سننے کو مل رہی ہیں۔ ہر کوئی اپنی اپنی پسند اور سیاسی وابستگی کے مطابق تجزیہ کر رہا ہے۔ اس بحث میں الجھے بغیر کہ مجھے ضمنی انتخابات کے نتائج نے خوشی دی ہے یا غمگین کر دیا ہے‘ میں اپنی اس رائے اور سوچ کو ایک طرف رکھتے ہوئے یہ بات ببانگ دہل بیان کر رہا ہوں کہ مجھے یہ خوشی نہیں کہ ن لیگ نے محاذ (میدان) مار لیا ہے بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ میں اس بات پر بہت زیادہ خوش ہوں کہ پاکستانی عوام جسے ہر الیکشن کے بعد جاہل اور اجڈ کے القابات سے نوازا جاتا رہا ہے‘نے اپنے اوپر سے یہ داغ دھو دیا ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ پاکستانی پوری طرح چوکس اور اپنے بھلے برے کی پہچان کرنے لگے ہیں۔ اب وہ اس قابل ہو گئے ہیں کہ آج کے بعد کوئی سیاسی طالع آزما انہیں بے و قوف نہیں بنا سکے گا۔ یہ سچ ہے کہ آج تک پاکستانی لوگ سیاستدانوں کی کٹھ پتلیاں بن کر ناچتے رہے مگر اس ضمنی الیکشن میں سیاستدانوں کو بھی یقینا احساس ہو گیا ہو گا کہ آئندہ وہ بہت احتیاط اور سوچ بچار کے بعد پاکستانیوں سے وعدے کریں گے۔ میں یہ بات ڈنکے کی چوٹ پر کہنے کو تیار ہوں کہ حالیہ ضمنی انتخابات کے بعد سیاستدان وعدے سوچ سمجھ کر ہی کیا کریں گے۔
اس سے قبل کہ میں بات کو آگے بڑھاﺅں یہ وضاحت کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں نے اپنی 30 سالہ صحافتی زندگی میں صرف ایک سیاستدان کو دل و جان سے چاہا ہے اور اس کی شہادت کے بعد میں اسے ہی پاکستان اور پاکستانی عوام کا اصل لیڈر کہتا اور مانتا ہوں اور اس عظیم انسان کا نام ہے ذوالفقار علی بھٹو‘ جسے ایک مخصوص ٹولے نے راہ کا کانٹا سمجھا اسے سولی پر لٹکا دیاگیا مگر شان قدرت دیکھئے کہ آج بھی پی پی پی کے جیالے یہ نعرہ لگاتے رہتے ہیں ”کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے۔“
آپ جانتے ہیں کہ میں فطری طور پر منافق نہیں ہوں ۔ جو میرے دل میں ہوتا ہے نوکِ قلم پر آ ہی جاتا ہے۔ میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ بھٹو شہید کے بعد اگر تھوڑے بہت اثرات جس سیاستدان کے اندر نظر آئے ہیں اس کا نام ہے شہباز شریف اور یہ سچ سیاسی و صحافتی حلقے جانتے بھی ہیں۔
دوستو! دو تین ماہ قبل ہونے والے جنرل الیکشن کی انتخابی مہم میں عمران خان نے دعوﺅں کے انبار لگا دیئے تھے۔ان کی باتوں پر پاکستانیوں نے اس لئے شائد یقین کر لیا کہ عمران خان واقعی ایماندار، دلیر اور محنتی انسان ہےں۔ پاکستانیوں نے عمران خان کے وعدوں پر اس قدر یقین کر لیا کہ جنرل الیکشن میں بڑے بڑے برج الٹا دیئے کیونکہ عمران خان نے لوگوں کو صرف سبز باغات ہی نہیں دکھائے بلکہ تصورات میں ست رنگے باغوں میں بھی پہنچا دیا۔ الیکشن کے نتائج کے مطابق عمران خان حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔الیکشن جیت کر عمران خان کو پہلی پریشانی پتہ ہے کیا لاحق ہوئی ”اچھی ٹیم“کاانتخاب‘میں تو یہی کہوں اور سمجھوں گا کہ بھابی پنکی کی دُعائیں بھی شایدرنگ نہ لائیں اورمیرے خیال میں عمران خان اچھی ٹیم بنانے میں بری طرح ناکام ہوگئے۔
تحریک انصاف نے عمران خان کے ایما پر نعرہ ایجاد کیا، ”تبدیلی آئے گی نہیں تبدیلی آ گئی ہے“ اور یہ سچ بھی ہے کہ پاکستان میں تبدیلی آ گئی ہے۔ سوئی گیس اور بجلی کی قیمتیں آﺅٹ آف کنٹرول ہو رہی ہیں۔ میں نے زندگی بھر پانی کی لوڈ شیڈنگ نہیں سنی تھی۔ عمران خان کی حکومت کو پانی کی لوڈ شیڈنگ کرنے کا شرف بھی حاصل ہو چکا ہے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو پر لگ چکے ہیں۔ عمران خان کرپشن کے خاتمے کا نعرے لے کر جیتے تھے۔ دوستو! پچھلی اور موجودہ حکومت کا موازنہ کریں پتہ چل جائے گا کہ کس کس محکمے میں کرپشن کا بازار پہلے سے بھی زیادہ گرم ہے۔ ناجائز تجاوزات گرانے کے نام پر سرعام لوٹ مار ہو رہی ہے۔
وطن عزیز کے عوام کی اکثریت غریب اور سفید پوش طبقات سے تعلق رکھتی ہے انہیں سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے مگر یہاں تو ہر کام الٹ ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ میں یہ بات دعویٰ کے ساتھ بیان کرنے کو تیار ہوں کہ ہر سرکاری محکمہ تنزلی کا شکار ہے۔ رشوت اور کرپشن کا بازار گرم ہے۔شاید کوئی پوچھنے، روکنے اور ٹوکنے والا نہیں۔ پاکستان بالخصوص پنجاب کی ثقافت کا ایک طرح سے جنازہ نکالا جا رہا ہے۔ ثقافت کو مادر پدر آزاد کر دیا گیا ہوا ہے۔ برادرم فیاض الحسن چوہان کو ٹی وی مباحثوں سے فرصت نہیںمل رہی۔صحت پاکستانیوں کا سب سے بڑا ایشو ہے۔ پنجاب کی ہیلتھ منسٹر ایک ڈاکٹر یاسمین راشد کو لگا دیا گیا ہوا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پنجاب میں صحت کا معیار پہلے ہی بہت پست رہا ہے‘ اب ایک ڈاکٹر کے وزیر بننے کے بعد مسیحاﺅں کو کھلی چھٹی مل گئی ہوئی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار دیکھ کر رونا آتا ہے۔ ڈاکٹر سرکاری ہسپتالوں سے زیادہ پرائیویٹ ہسپتالوں کو ٹائم دے رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے میرا خیال ہے کہ بطور وزیرصحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا تقرر حکومت کی ایک غلطی ہے۔کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ ایک ڈاکٹر وزیر کسی سنگین غلطی کی پاداش میں کسی ڈاکٹر کو سزا دے سکے گی؟ ہر گز نہیں۔ کالم کے آخر میں عمران خان سے سوائے ہمدردی کے اور کیا کر سکتا ہوں بھلا، اس مشورے کے ساتھ کہ وفاقی اور پنجاب کابینہ میں ردوبدل اشد ضروری ہو گیا ہے خاص کر یاسمین راشد کی جگہ کوئی ڈنڈا بردار وزیر لایا جائے۔
(کالم نگارثقافتی‘سماجی اورادبی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved