تازہ تر ین

فواد حسن فواد ہر روز نیا سکینڈل نکالتا ہے

ڈاکٹرشاہدمسعود
سانحہ کارساز میں سینکڑوں جانیں گئیں، آج تک اس واقعہ کی انکوائری نہیں ہوسکی، پیپلزپارٹی پچھلے گیارہ سال سے سندھ میں اقتدار میں ہے اور ہر سال صرف بیانات جاری کرنا ہی کافی سمجھا جاتا ہے ، پھر خود سے ہی مطالبہ کرتے ہیں کہ سانحہ کے ذمہ داروں کو کیوں نہیں پکڑا جاتا۔ اب تحریک انصاف کی حکومت سے بھی یہی مطالبہ کرینگے، پیپلزپارٹی حکومت نے کبھی اس سانحہ کی انکوائری تو نہ کرائی لیکن ہر سال موم بتیاں جلانا نہیں بھولتے۔ پاکستان میں بدمعاشیہ ، معاشی دہشتگردوں کا کھیل ختم ہوچکا ہے ، اب صرف یہ طے پانا ہے کہ اس بدبودار سسٹم کو دفن کہاں کرناہے۔جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ، وہ چلے گی، صرف معاشی دہشتگردوں کو خطرہ ہے وہ پکڑے اور مارے جائینگے، افغانستان میں الیکشن کو چند روز باقی ہیں اور حالات یہ ہیں کہ خود امریکہ اور افغانستان حکومت کا ٹرینڈ کیا ہوا ایک بچہ فائرنگ کرکے این ڈی ایس سربراہ ،پولیس چیف اور گورنر کو مار ڈالتا ہے ، شکر ہے کہ امریکی جنرل ملر نے بروقت صوفے کے پیچھے چھپ کر جان بچالی۔ امریکہ کی 1945سے اب تک یہی خواہش رہی ہے کہ کبھی تو کوئی جنگ جیت لے ۔
امریکہ کی پٹائی ہوتی ہے تو دکھ ہوتا ہے کیونکہ ایک جانب ٹرمپ دھاڑ رہے ہیں اور دوسری جانب ٹھکائی جاری ہے ، افغانستان میں بھی اسی طرح کی کرپشن ہوئی ہے جس طرح پاکستان میں ہوئی ، اس طرح کے کردار افغانستان میںبڑے پیمانے پر تھے جس طرح کے پاکستان میں لائے گئے، امریکہ نے 17سال میں افغانستان میں کیا تیر چلا لیا جو بھارتی فوج وہاں کریگی، وزیراعظم عمران خان کا سعودی عرب کا دورہ ابھی حتمی نہیں ہے ، اپوزیشن جماعتیں سڑکوں پر نکلنے کے قابل نہیں ہیں ، اس لئے طے پایا تھا کہ پارلیمنٹ میں ہنگامہ کریں گی، ایوانوں میں ہنگامے کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا، سب نے پکڑے جانا ہے ، نیب والے آسٹریلین طوطے فواد حسن فواد کو شہبازشریف کے سامنے بٹھا دیتے ہیں اور وہ ہر روز نئی فال نکالتا ہے کہ ایسا کہا گیا، ابراج گروپ کا بڑا سکینڈل سامنے آیا ہے ، اس کے سربراہ عارف نقوی نے بل گیٹس سے صحت کے نام پر بڑی رقم لی اور کسی اور جگہ انوسٹ کردی، آڈٹ کرانے پر سارا معاملہ کھل گیا۔
ابراج گروپ کا کام یہی تھا کہ خسارے میں چلنے والے یونٹس کو خرید کر دوبارہ قابل استعمال بناتا اور پھر بیچ دیتا، یہ گروپ 2008میں پاکستان آیا ، اس وقت اس گروپ کے سربراہ فرخ عباسی اور چیف فنانس افسر دونوں ہی آصف زرداری کے رشتہ دارتھے، ابراج گروپ ایک بڑا منشا بم ہے اور اس طرز پر تمام جماعتوں کو نوازتا رہا ہے ، گروپ نے کے ای ایس سی کو خریدا اور کے الیکٹرک بنادیا ، اس کھیل میں 180ارب روپیہ نکال کر منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر بھجوایاگیا، کے الیکٹرک جب بالکل ٹھس ہوگیا تو نوازشریف سے رابطہ کیا گیا کہ کسی چینی گروپ کو پکڑ لائیں اور وہ لے آئے ، چینی گروپ سے معاہدہ ہوگیا، تاہم اس دوران ہی بل گیٹس نے آڈٹ کرایا اور ابراج گروپ کا سارا کچا چٹھا سامنے آگیا اور اس کا سارا کھیل ختم ہوگیا۔
تھرکول منصوبہ کا فرانزک آڈٹ ہوگا تو بڑے راز کھلیں گے اور بڑے بڑے نام سامنے آئینگے، طوطے فواد حسن نے ایک فال اس منصوبہ کی بھی نکالی تھی کہ اس میں نوازشریف ملوث ہے ، نوازشریف جب ورلڈ اکنامک فورم جاتے لمبے چوڑے دورے کرتے تو اس کا سارا خرچ ابراج گروپ کے ذمہ ہوتا تھا، سندھ میں جام خان شورو کی گرفتاری تو پہلا قطرہ ہے ، ان سب کرداروں کو پکڑوانے والا سندھ کا شاہد خاقان عباسی ہے یعنی وعدہ معاف گواہ مراد علی شاہ۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved