تازہ تر ین

قائداعظم کے معتمد ساتھی خواجہ ناظم الدین

زید حبیب….قلم آزمائی
تحریک پاکستان کے رہنماﺅں اور کارکنوں کی بیش بہاقربانیوں کی بدولت ہی آج ہم آزاد فضاﺅں میں سانس لے رہے ہیں ۔ تحریک آزادی کے ان مجاہدین نے اپنا آج ہمارے کل پر قربان کر دیا۔ خواجہ ناظم الدےن کا شمار بھی ان رہنماﺅں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف پاکستان کے قےام کی سرگرمےوں مےں زور وشور سے حصہ لےا بلکہ بعدازاں ملکی تعمیر وترقی میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔ وہ قائداعظم کے ان رفقاءمےںشامل تھے جن پر وہ بے حد شفقت اور اعتماد کا اظہار کےا کرتے تھے۔ قائداعظم نے اس معتمد ساتھی کے بارے مےں بنگال صوبائی مسلم لےگ کانفرنس منعقدہ سراج گنج مےں اپنے صدارتی خطبہ مےں 15فروری‘ 1942ءکو فرماےاتھا”خواجہ ناظم الدےن ذمہ دار لےڈر ہےں اور پاکےزہ کردار کے مالک ہےں۔ ان کا کردار بالکل صاف ستھرا ہے۔ اُنہوں نے پوری زندگی مےں اپنا دامن الزام سے پاک و بے داغ رکھا ہے۔“
تحرےک پاکستان کے ممتاز رہنما اور قائداعظم کے معتمد ساتھی خواجہ ناظم الدین 19 جولائی 1894ءکو ڈھاکہ میں خواجہ نظام الدےن رئےس کے ہاں پےدا ہوئے۔ آپ کے ماموں نواب سلےم اللہ مسلم لےگ کے بانےوں مےںسے تھے۔ ابتدائی تعلےم کے بعد مسلم ےونےورسٹی علی گڑھ مےں داخل ہوئے۔ ےہاں سے فارغ ہونے کے بعد انگلستان چلے گئے اور کےمبرج مےں تعلےم حاصل کی۔ باراےٹ لاءکرنے کے بعد وطن واپس آگئے۔ خواجہ صاحب کا خاندان بنگال مےں علمی سرگرمےوں اور فلاحی کاموں مےں حصہ لےنے کے باعث مسلمانوں مےں اہم مقام رکھتا تھا اور اس کے ساتھ ہی دےانتداری‘ فرض شناسی اور حب الوطنی مےں بھی اپنی مثال آپ تھا۔ سب سے پہلے خواجہ ناظم الدےن نے بنگالی مسلمانوں کی فلاح و بہبودپر توجہ دےنا شروع کی اور اس کے ساتھ ہی 28سال کی عمر مےں عملی سےاست مےں قدم رکھ دےا۔ 1922ءمےںآپ ڈھاکہ مےونسپل کمےٹی کے صدر بن گئے ، اس حیثیت میں آپ نے لوگوں کی بھلائی کےلئے عملی اور دور رس نتائج کی حامل سکےموں پر کامیابی سے عمل کرنا شروع کردےا۔ اس منصب پر خواجہ ناظم الدےن پانچ سال ےعنی 1927ءتک فائز رہے۔ جس دوران خواجہ ناظم الدےن ڈھاکہ بلدےہ کے صدر تھے، اس دور مےں ان کی علمی اور تعلےمی اداروں کی سرپرستی کے باعث انہےں ڈھاکہ ےونےورسٹی کی انتظامی کونسل کا رکن بناےا گےا۔ لوگوں کے فلاحی‘ تعمےراتی‘ رفاہ عامہ کے کاموں مےں بہت زےادہ دلچسپی لےنے کے باعث آپ ڈھاکہ کے مسلمانوں مےں بے حد مقبول ہوگئے۔ مسلمان ان کی سےاسی اور سماجی سرگرمےوںپر اعتماد کرنے لگے تھے۔ ڈھاکہ ےونےورسٹی انتظامےہ کارُکن ہونا آپ کی ان خدمات کا اعتراف تھا جو آپ نے تعلےم کے مےدان مےں سرانجام دی تھےں۔1929ءمےں خواجہ ناظم الدےن بنگال صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اور اس حیثیت میں بہت اہم خدمات انجام دےں اور مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ دےگر امور پر پوری نظر رکھی۔ اُنہوں نے اس وقت کی بنگال پروانشےل اسمبلی مےں 1930ءمےں بڑی کامےابی سے مذہبی تعلےم کا بل منظور کراےا۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ آپ کی کوششوں سے ہی لازمی پرائمری تعلےم کا مسودہ¿ قانون منظور ہوا جس کے بطور قانون نفاذسے مسلمانوں کو بہت فائدہ ہوا اور وہ تعلےم سے بہرہ ور ہوئے۔خواجہ ناظم الدےن1929ءمےں متحدہ بنگال کے وزےر تعلےم مقرر ہوئے۔ وزےر تعلےم کی حےثےت سے آپ نے بنگال مےں تعلےم عام کرنے اور نئے تعلےمی اداروں کے قےام کے لےے کامےاب کوششیں کےں۔ خواجہ صاحب کرکٹ، ہاکی، فٹ بال اور ٹےنس کے دلدادہ تھے۔ 1938ء‘1939ءاور1940ءمےں انڈےن ہاکی فےڈرےشن کے صدررہے جو ایک مسلمان کے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔ اکتوبر 1935ءمےں جب قائداعظمؒ نے مسلم لےگ کو از سر نو فعال اور مسلمانوں کی نمائندہ جماعت کے طور پر بااختےار بنانے کے پروگرام پر عمل کےا تو خواجہ ناظم الدےن کو مسلم لےگ ورکنگ کمےٹی کا ممبر بنا لےاگیا۔ خواجہ ناظم الدےن چونکہ نہاےت سادہ مزاج انسان تھے اورقومی ہمدردی مےں پےش پےش تھے اس لےے اُنہوں نے جلد ہی مسلم لےگ مےں اہم مقام حاصل کرلےا اور اس کے ساتھ ساتھ انتہائی اہم خدمات سرانجام دےنے لگے۔ اس کے بعد سے قائداعظم بھی خواجہ ناظم الدےن پر بہت اعتماد کرنے لگے۔ 1937ءکے انتخابات مےں قائداعظم کی آواز پر لبےک کہا اور مسلم لےگ کے لےے سرگرم عمل ہوئے۔ ان انتخابات کے نتےجے مےں وہ بنگال اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور صوبہ کے وزےر داخلہ مقرر ہوئے۔ دسمبر 1941ءمےں بنگال مسلم لےگ نے ان کی خدمات کے پےش نظر صوبائی مسلم لےگ کا صدر چن لےا۔ اس پر قائداعظم نے انہےں مبارک باد کا خط لکھا اورمسلم لےگ کے لےے ان کی خدمات کو سراہا۔ مارچ 1942ءتا 1943ءقائد حزب اختلاف رہے۔ 1942ءمےں مولوی اے کے فضل الحق کی وزارت ختم ہونے پر خواجہ ناظم الدےن نے وزارت بنائی۔ 1945ءتک وہ بنگال کے وزےراعظم رہے۔
1937ءسے 1947ءتک آل انڈےا مسلم لےگ ورکنگ کمےٹی کے رکن رہے۔ جون 1947ءمےں قےامِ پاکستان کی تجوےز آنے کے بعد انگرےز کی غلط پالےسی کے تحت بنگال کا صوبہ تقسےم ہوا۔ مشرقی بنگال مےں خواجہ ناظم الدےن وزےراعلیٰ منتخب ہوئے۔11ستمبر‘ 1948ءکو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد خواجہ ناظم الدےن کو پاکستان کے لےے ان کی شاندار خدمات کی بدولت پاکستان کا گورنر جنرل مقرر کےا گےا۔ 14ستمبر‘ 1948ءکو اُنہوں نے گورنر جنرل کے عہدہ کا حلف اٹھاےا۔ 16اکتوبر‘ 1951ءکو قائد ملت نواب زادہ لےاقت علی خان کی شہادت کے بعد 19اکتوبر کوخواجہ ناظم الدےن نے وزےراعظم کا عہدہ سنبھال لےا۔ 1953ءتک وہ اس عہدہ پر فائز رہے۔ انہےں گورنر جنرل غلام محمد نے غےر آئےنی طور پر برطرف کردےا اور اس طرح ملک مےں غےر جمہوری دور کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد خواجہ ناظم الدےن دل برداشتہ ہوکر سےاست سے کنارہ کش ہوگئے۔ 1963ءمےں دوبارہ سےاست مےں سرگرم عمل ہوئے اور مسلم لےگ کے صدر منتخب ہوئے۔ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے لےے صدارتی انتخاب مےں سرگرم حصہ لےا۔ 22اکتوبر 1964ءکوآپ کا انتقال ہوا۔پیر علی محمد راشدی اپنی کتاب ”رودادِ چمن“ کے صفحہ نمبر 52 پر لکھتے ہیں”خواجہ ناظم الدین مرحوم نے آڑے وقت میں قربانیاں دی تھیں۔ مسلم لیگ اور تحریکِ پاکستان کی خدمت کی تھی۔ مثلاً جب ہندو اخبارات نے مسلمانوں کا ناطقہ بند کر رکھا تھا تو اسی ناظم الدین نے اپنی جملہ آبائی جائیداد بیچ کر مسلمانوں کا انگریزی اخبار ”اسٹار آف انڈیا“ کلکتہ سے جاری کروایا تھا اور خود قلاش بن کر بیٹھ گیا تھا۔ قربانی کے ایک ایسے مجسمے کو کس طرح بے آبرو کر کے ہمیشہ کے لیے سیاست سے نکال دیا گیا؟“۔
(کالم نگارقومی وسیاسی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved