تازہ تر ین

21ویں صدی میں بھی بھارتی جنگی جنون جاری(3)

محمود شام ….خاص مضمون
یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے قوم اس سلسلے میں انتہائی مطمئن بھی ہے کہ ہماری مسلح افواج، بری ہوں کہ فضائیہ یا بحریہ یہ سب جدید ترین دفاعی خطوط پر منظّم ہیں۔ پاکستان میں سیاسی اور معاشی بحران آتے رہے ہیں۔ لیکن پاکستانی فوجی قیادت نے اپنے یونٹوں کو دنیا کے اعلیٰ ترین دفاعی نظام کی تربیت دی ہے۔ جدید ترین اسلحہ بھی خریدا ہے۔ اس کے استعمال کی تربیت بھی دے دی ہے۔دفاعی حوالے سے تو پاکستان کو کوئی تشویش نہیں ہونی چاہئے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف عالمی جنگ میں بھی پاکستان شریک ہے اور اپنے طور پر بھی ان خطرناک تنظیموں کا قلع قمع 2001سے کیا جارہا ہے۔ دنیا تسلیم کرتی ہے کہ پاکستانی فوج نے اپنے فوجی افسروں اور سپاہیوں کی قربانیاں دے کر دہشت گردی کا نیٹ ورک توڑا ہے۔ دنیاکے جنگ زدہ علاقوں میں بھی پاکستان افواج کی اقوام متحدہ کی امن فوج میں شرکت اور کارروائیوں کو عالمی سطح پر خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔
بھارت کو بھی پاکستانی فوج کی استعداد، دفاعی اور عسکری صلاحیتوں کا بخوبی اندازہ ہے۔ اس لئے وہ کبھی یہ جرا¿ت نہیں کرے گا کہ کسی فوجی آزمائش میںپڑے، دھمکیاں ضرور دیتا رہے گا۔
اس وقت بھارت کو یہ بھی تشویش ہے کہ پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت خارجہ اور داخلہ امور میں ہم خیال ہیں، ان میں دوریاں نہیں ہیں۔ اس کی علانیہ اور خفیہ یہ کوشش ہوگی کہ پاکستان میں پہلے والے حالات پیدا کئے جائیں۔ سیاسی اور عسکری قیادت میں اختلافات کو ابھارا جائے۔
تاریخ کے مختلف ادوار میں بھارت کی قیادت کی شاطرانہ پالیسیوں کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کی حکومت اور اپوزیشن کو بھارت کے معاملات پر انتہائی محتاط اور سوچی سمجھی پالیسی اختیار کرنی ہوگی۔ پارلیمنٹ میں اس پر مباحثہ ہوسکتا ہے۔ لیکن زیادہ مناسب یہ ہوگا کہ حکومت بھارت سے متعلق جامع حکمتِ عملی ترتیب دیتے وقت نہ صرف پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن پارٹیوں کو اعتماد میں لے جو پارٹیاں پارلیمنٹ میں نہیں پہنچ سکیں ان سے بھی بات چیت کی جائے۔ ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کے ذریعے اساتذہ اور طلبہ و طالبات کو بھی بھارت کے عزائم سے آگاہ کیا جائے اور جن شعبوں میں اس نے پیشرفت کی ہے اس سے بھی آگاہی ہو قوم سے یہ کہا جائے کہ پاکستان کے فوجی دفاع کے لئے پاکستان کی مسلح افواج ہر طرح سے تیار ہیں۔ دوسرے شعبوں مثلاً تعلیم، معیشت، توانائی، آبپاشی، پٹرولیم، فلم سازی میں ہم پیچھے ہیں۔ ہمیں ان شعبوں میں بھی بھارت کا مقابلہ کرنا ہے۔ طاقت ور ہونا ہے۔
پاکستان کی اب تک سب سے بڑی کمزوری رہی ہے کہ عالمی رائے عامہ کے سامنے ہم بھارتی حکومتوں کی ناکامیاں اجاگر کرنے میں پوری طرح کامیاب نہیں رہے ہیں۔ پہلے تو یہ کہ پاکستانی متحد نہیں رہتے۔ بھارتی دانشوروں، صحافیوں اور سفارت کاروں کے سامنے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرلیتے ہیں۔ یا صرف جذبات سے کام لیتے ہیں حقائق کا تجزیہ نہیں کرتے۔
اب جس طرح بھارت اپنی داخلی کمزوریوں اور کرپشن کے اسکینڈل چھپانے کے لئے جارحانہ رویہ اختیار کررہا ہے پہلے بھی اس کایہی رویہ رہا ہے اور بھارتی میڈیا بھی اس سلسلے میں اس کا پورا ساتھ دیتا ہے۔ پاکستانی حکومت اور میڈیا انڈیا کی ان کوتاہیوں کو عالمی رائے عامہ کے سامنے لانے میں بہت کمزور رہا ہے۔ اب انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دَور ہے۔ ہمیں بھی اس کسوٹی سے بھارت کے منفی پہلوﺅں کو پرکھنا چاہئے اور ان کی بھیانک تصویر پورے پروفیشنل انداز میں پیش کرنی چاہئے۔ ہمارا اپنا مذہبی نقطہ نظر جذباتی ذریعہ اظہار عالمی رائے عامہ کو متاثر نہیں کرسکتا۔ جدید دنیا جو پیمانے وضع کرچکی ہے ہم ان کو استعمال کرکے ہی ان کو قائل کرسکتے ہیں۔ اس کے لئے بے شمار مواقع موجود ہیں۔بھارت میں حقوق انسانی کو پامال کیا جاتا ہے۔ حکومتی سطح سے معاشرتی سطح پر ذات پات کی ہولناک تقسیم ہے۔ بھارت میں غربت کی سطح سے نیچے کروڑوں لوگ رہ رہے ہیں اور بھارت اب بھی ایٹمی پروگراموں اور ہتھیاروں پر اربوں ڈالر خرچ کررہا ہے۔ بھارتی فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں جو بھارت دکھایا جاتا ہے جو خوشحال خوبصورت خاندان نظر آتے ہیں حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیںہے۔ پینے کا صاف پانی بہت بڑی آبادی کو نصیب نہیں ہے۔ اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں۔ مغربی ممالک کے ہم مذہب عیسائیوں پر آئے دن حملے ہوتے رہتے ہیں۔ کشمیر بھارت کے غاصبانہ، توسیع پسندانہ عزائم کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اس کے علاوہ بھی بھارت کے کئی حصوں میں چھوٹی ذاتوں کی بڑی تعداد کو بزور بازو کچلا جاتا ہے۔
بھارت کی اشرافیہ نے پاکستان کے قیام کو ذہنی طور پر قبول نہیں کیا ہے۔اس کا مسکت جواب پاکستان ہر شعبے میں مسلسل ترقی کرکے ہی دے سکتا ہے۔ یہ مقام شکر ہے کہ پاکستان کی نئی نسل میں آگے بڑھنے کی امنگ پوری شدت سے موجود ہے۔ اس میں اگر ہم مسابقت کا جذبہ پیدا کردیں گے کہ ہم نے سائنس، ٹیکنالوجی، صنعت، تجارت، ادب، میڈیا، عمرانیات، پیٹرولیم، ارضیات اور فلم سازی میں آگے اس لئے بڑھناہے کہ بھارت کے توسیع پسندانہ اور منفی عزائم کو ہمیشہ کے لئے ختم کیا جائے تو ہمارے نوجوان ایک ولولہ تازہ کے ساتھ نئے آفاق تسخیر کرنے میں مصروف ہوجائیں گے۔(ختم شد)
(بشکریہ:ھلال)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved