تازہ تر ین

قرضوں سے نجات مگر کیسے؟

چوہدری ریاض مسعود….نقطہ ِ نظر
ہمیں آئی ایم ایف کے قرضے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی، ہم اپنی معیشت کو سہارا دینے کیلئے دوست ممالک کا تعاون حاصل کرینگے، ہماری ماضی کی ناکام معاشی اور مالیاتی پالیسیاں اور ہمارے دوستوں کے ساتھ رویے و تعلقات ہمیں کسی بھی آزمائش میں مبتلا کرسکتے ہیں، یہ حقیقت ہے کہ ہمارے دوست ممالک نے ہر مشکل گھڑی میں ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کیا ، لیکن مشکل وقت گزرنے یعنی امداد حاصل کرنے کے بعد ہم نے کبھی انکا حال احوال تک نہیں پوچھا جس کی وجہ سے ہمارے خارجہ تعلقات ہمیشہ سے ہی اونچ نیچ کا شکار رہے ہیں۔
ابھی حال ہی میں موجودہ حکومت کے ایک ذمہ دار وزیر کا یہ بیان سامنے آیاتھا کہ ہم سی پیک کے منصوبوں پر نظر ثانی کرینگے جس پر چین کی حکومت نے خاصی تشویش کا اظہار کیاتھا، پھر دنیا نے دیکھا کہ ہمیں چین کو راضی کرنے کیلئے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑے، بھلا ہو ہمارے جرا¿تمند چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہ جنہوں نے اپنے دورہ چین کے دوران چینی حکومت کے تمام خدشات کو احسن طریقے سے دور کردیا، کچھ عرصہ پہلے وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور سعودی حکومت کو پاکستان میں سرمایہ کاری پر آمادہ کرکے قابل تحسین کارنامہ انجام دیا۔
اس مشکل اقتصادی اور مالیاتی صورتحال میں ہمیں نہایت ذمہ داری، ذہانت اور مہارت کے ساتھ اپنے دوست ممالک کا اعتماد اور تعاون حاصل کرنا ہوگا، انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے پر راضی کرنے کیلئے انہیں مناسب سہولتیں اور مراعات بھی دینا ہونگی، وزیراعظم کے اس پالیسی بیان کے بعد کہ ”ہم آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرنے کی بجائے اپنے دوست ممالک پر انحصار کرنا چاہتے ہیں “ ہمیں اب اپنی خارجہ پالیسی کو موثر انداز میں ترتیب دینا ہوگا، اللہ تعالیٰ نے ہمیں جس قدر قیمتی قدرتی وسائل سے نوازا ہے کہ اگر ہم قدرت کی ان فیاضیوں سے پوری محنت اور ایمانداری کے ساتھ فائدہ اٹھائیں تو پاکستان مختصر سی مدت میں خود کفالت کی منزل کو نہایت آسانی کے ساتھ حاصل کرسکتا ہے ۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ ہماری ناقص پالیسیوں کی وجہ سے صرف گذشتہ دس سالوں میں قرضے کی رقم 6ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 30ہزار ارب روپے ہوچکی ہے ، گردشی قرضہ 1200ارب روپے تک پہنچ چکا ہے ، زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہوچکے ہیں، سٹاک ایکسچینج کا انڈکس تیزی سے گر رہا ہے ، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب چکے ہیں، کوئی مانے یا نہ مانے ہماری برآمدات میں 5سے 6 ارب ڈالر کی کمی ہوچکی ہے، جبکہ درآمدات میں مسلسل اضافہ توازن تجارت کو بری طرح اپ سیٹ کرچکا ہے ، ہمارا مینوفیکچرنگ کا شعبہ تقریباً ٹھپ ہوچکا ہے ، کیونکہ سمگلنگ کے ساتھ ساتھ ہم دوسرے ممالک کی مصنوعات کی منڈی بن چکے ہیں جس سے ہمارا قیمتی زرمبادلہ غیر ملکی مینو فیکچرر کی تجوریوں میں جارہاہے، یہ تلخ حقیقت ہے کہ بااثر سیاسی اور کاروباری افراد کی طرف سے منی لانڈرنگ کا دھندا عروج پر ہے اور یہ افراد اپنے ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی بجائے لندن ، دوبئی سمیت دنیا کے کئی ممالک میں جائیدادیں خریدنے میں مگن ہیں، ان کا لا دھندا کرنےوالوں کیخلاف سخت ترین کارروائی ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کی طرف اہم قدم ثابت ہوسکتی ہے ، جعلی اکاو¿نٹس اور اس کے ذریعے رقوم کی غیر قانونی طور پر منتقلی نے حکومت وقت کو حیران اور پریشان کردیاہے، شاید یہ ورلڈ ریکارڈ ہو کہ ایک مردہ شخص کے نام پر بنک میں 3اکاو¿نٹس ہوں اور یہ سب اکاو¿نٹس اسکی وفات کے بعد کھولے گئے تھے ان اکاو¿نٹس کے ذریعے بھی بھاری رقوم کی منتقلی ہو چکی ہے ،اسکے علاوہ ملک کے دوسرے شہروں میں بھی کئی افراد کے نام پر جعلی اکاو¿نٹس کا انکشاف ہوا ہے جس میں اس وقت بھی بھاری رقوم موجود ہیں، سٹیٹ بنک آف پاکستان نے تمام بنکوں کو ہدایت کی ہے کہ اپنے تمام اکاو¿نٹس کی بائیو میٹرک تصدیق کروائیں ۔
یاد رہے کہ اسوقت ملک کے بنکوں میں اکاو¿نٹس کی تعداد 5کروڑ سے بھی زیادہے، ماہرین معیشت کا یہ کہنا درست ہے کہ اگر ہم اپنا مالی اور معاشی نظم و ضبط صحیح کرلیں تو ہمیں کسی قسم کے بیرونی قرضے کی ضرورت نہیں رہے گی، ایک جائزے کے مطابق پاکستان میں 10ارب ڈالر مالیت کی منی لانڈرنگ ہورہی ہے ، جس کا سدباب بے حد ضروری ہے ، دوسری بات ہمیں بے دریغ نئے نوٹ نہیں چھاپنے چاہئیں، تحریک انصاف کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ سابقہ حکومت نے ایک سال کے دوران 1200ارب روپے کے نوٹ چھاپے تھے ، اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ مالیاتی اور معاشی ماہرین کی سفارش کے بغیر نئے نوٹ چھاپنے کا کام بند کیا جائے، ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے اور غیر ملکی قرضوں پر انحصار کم کرنے میں اوورسیز پاکستانی بے حد اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ، اگر ہم انہیں ان کا جائز مقام دیں، بیرون ممالک میں مقیم پاکستانی اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ ملک میں ان کی قیمتی جائیدادوں پر قبضہ گروپ اورلینڈ مافیا نے قبضہ کیا ہوا ہے ، انکی بات کوئی نہیں سنتا، انہیں انصاف نہیں ملتا، اگر وہ اپنے ملک میں سرمایہ کاری کرنا چاہیں تو کوئی ادارہ ان کی مدد و رہنمائی نہیں کرتا، بیرون ممالک پاکستانی سفارتخانے سے انہیں کسی قسم کی مدد نہیں ملتی، آخر اوورسیز پاکستانیوں کی جائز شکایات کو کون دور کریگا؟
بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں نے ہر مشکل وقت میں اپنے وطن کی مدد کرکے حب الوطنی کا ثبوت دیا ہے ، اب حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ انکے مسائل کو حل کرنے کیلئے فوری اقدامات کرے، صنعتیں کسی بھی ملک کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، لیکن ہمارے یہاں صنعتوں کا پہیہ اور چمنیوں کا دھواں رک گیا ہے جس سے مجموعی صنعتی پیداوار بری طرح متاثر ہورہی ہے ، اس سے ہماری برآمدات میں مسلسل کمی ہورہی ہے ، زرعی شعبے کی صورتحال بھی دگرگوں ہے، زرعی رقبے اور زرعی پیداوار میں تیزی سے ہونے والی کمی نے ہماری زرعی معیشت کوکھوکھلا کررکھا ہے ،ہم کئی اقسام کی زرعی اجناس اور مصنوعات منگوانے پر بھاری زرمبادلہ خرچ کررہے ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے زرعی شعبے بشمول لائیو سٹاک میں اس قدر صلاحیت موجود ہے کہ ہم اپنا تمام تر قرضہ چند سالوں میں اتار سکتے ہیں، لیکن اس مشن کو کون سر انجام دیگا؟ کون زرعی شعبے کی اہمیت کو سمجھے گا؟ نعرے لگانے ، بلند بانگ دعوے کرنے اور فرضی اعداد و شمار سے کام نہیں چلے گا، اس اہم مقصد کے حصول کیلئے جامع اور ٹھوس مگر قابل عمل حکمت عملی تیار کرنا ہوگی، بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور آئندہ سے قرضوں سے بچنے کیلئے حکومت اور عوام کا باہمی تعاون بے حد ضروری ہے ، اس کے علاوہ حکومت کو تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کرکے ”قرض اتارو“ پالیسی تیار کرنی چاہئے۔
اگر قوم آج سے اس بات کا عزم کرلے کہ حکومت اور عوام باہم مل کر اس اعلیٰ مقصد کو حاصل کرنے کیلئے جوش و جذبے سے متحد ہوکر آگے بڑھیں گے تو ناممکن کو ممکن بنایا جاسکتا ہے ، ترکی کی مثال سب کے سامنے ہے کہ جس نے آئی ایم ایف کے تمام قرضے اتار کر مالیاتی اور معاشی آزادی حاصل کی اور آج ترکی شاہراہ ترقی پر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے شانہ بشانہ چل رہاہے، پاکستان تو علامہ اقبال کے خوابوں کی تعبیر اور حضرت قائد اعظم ؒ کی عظیم جدوجہد سے وجود میں آیا ہے ، ہماری قوم میں اسی وجہ سے حوصلہ بھی ہے، ہمت بھی ہے اور کچھ کرگزرنے کا جذبہ بھی ہے ۔
آئیے ہم سب قائد اعظم کے سنہرے اصول اتحاد، تنظیم اور یقین محکم کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھیں اور اس مملکت خدا داد پاکستان کو قرضوں کے بوجھ سے نجات دلائیں۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved