تازہ تر ین

منی لانڈرنگ، جعلی اکاﺅنٹس کیس، زرداری، بلاول،فریال ملوث

ڈاکٹرشاہدمسعود
منی لانڈرنگ، جعلی اکاﺅنٹس کیس میں جے آئی ٹی کی دوسری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آصف زرداری، فریال تالپور، بلاول بھٹو، مراد علی شاہ سمیت تمام پارٹی قیادت براہ راست ملوث ہے۔ سندھ میں سامنے آنے والا یہ میگا کرپشن کا کیس نواز شریف کے کرپشن کیسز سے بالکل مختلف ہے اس میں تمام شواہد موجود ہیں۔ آصف زرداری یاد رکھیں کہ جب وہ گرفتار ہونگے تو ان کے ساتھ کوئی بھی کھڑا نظر نہیں آئے گا ان کے تمام دوست، کاروباری شخصیات وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں معاملات تیزی سے آگے بڑھیں گے۔ ساری بدمعاشیہ چاہتی ہے کہ کسی طرح ملک میں افراتفری پھیلے جس سے جمہوریت ختم اور مارشل لاءآ جائے۔ تاکہ دنیا بھر میں واویلا کر سکیں کہ اصل میں ان کے خلاف کیسز اور سزائیں سول حکومت نے ہی سنائیں۔ مافیا کی یہ خواہش دو اڑھائی سال سے دلوں میں پل رہی ہے جس سے احتساب شروع ہوا ہے ریاست تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ پانی اور ڈیمز کا مسئلہ جس پر کرپٹ مافیا نے پردہ ڈالے رکھا کہ عدالت نے کسی تنازعہ کے بغیر خوش اسلوبی سے حل کر دیا ہے۔ فاقا قومی دھارے میں شامل ہو چکا۔ افغان بارڈر پر باڑ لگنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ بجلی، پانی کے مسائل عدالت طے کر رہی ہے بدمعاشیہ میڈیا پر پراپیگنڈا کرنے میں مصروف ہے کہ مہنگائی کا طوفان آ گیا۔ غریب آدمی پس گیا یہ اصل میں اس طبقے کی چیخیں ہیں۔ سندھ میں حکومت ختم ہو سکتی ہے یا حکومت رہی بھی تو چہرے بدل سکتے ہیں جو اعلان کر دینگے کہ زرداری سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ زرداری یاد رکھیں کہ دوست تو دور کی بات پارٹی میں بھی اکثریت ان کو صاف جواب دے دے گی۔ زرداری جس اتحاد کی بات کر رہے ہیں یہ ن لیگ بھی ان کی ہمنوا ہے کہ ان سب کو اپنا انجام معلوم ہے۔ این آر کا زمانہ گزر گیا زرداری نے اپنے دور میں میڈیا کو زبردست طریقے سے کنٹرول کیا تھا۔ کرپشن کی کہانی جو چلی تھی ان سے یہ ڈیل ہوئی کہ فلاں فلاں پانچ چھ بندوں کا نام نہیں لینا باقی چاہے ساری پارٹی کے نام اچھالتے رہیں۔ کے ڈی اے پر چھاپہ پڑا اور منظور کاکا کا نام منظرعام پر آیا تو زرداری نے اینٹ سے اینٹ بجانے کی تقریر کی وہ منظور کاکا کیلئے اتنے کیوں تڑپ گئے تھے۔ ملک کے تمام ادارے ٹھیک ہو رہے ہیں نیب بھی ٹھیک ہو جائے گا۔ جمہوریت مزید مضبوط ہوتی جائے گی۔ عوامی مینڈیٹ کا نام لے کر کوئی چور اس کے پیچھے نہیں چھپ سکے گا۔ ترکی میں قتل ہونے والے صحافی جمال خشوگی کا معاملہ تلخ ہوتا جا رہا ہے۔ سعودی عرب اور ترکی میں صلح صرف امریکہ یا روس کرا سکتا ہے۔ پوچھا جا رہا ہے کہ جمال کی نعش کہاں ہے۔ خشوگی ترکی میں ایک ترک عورت سے شادی کرنے اور ٹی وی سٹیشن کون چاہتے تھے۔ ترک میڈیا کے مطابق اور سعودی ولی عہد کی جو بات چیت کرائی گئی اس کی آڈیو بھی موجود ہے۔ استنبول کے گردونواح میں قائم جنگل میں صحافی کی لاش تلاش کی جا رہی ہے۔ قتل سے پہلے کی آڈیو ٹیپ امریکی صدر کو پہنچائی جا چکی ہے۔ ترکی اس معاملہ پر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔ سعودی عرب نے جن افراد کو اس قتل میں ملوث پایا ان میں سے ایک کی پراسرار حادثہ میں موت ہو چکی ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ سعودی عرب اور ترکی کے مابین یہ معاملہ آگے نہ بڑھے اور اسے اچھے طریقے سے حل کیا جائے۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved