تازہ تر ین

لوٹا پیسہ واپس آئے گا نہ بندہ

وجاہت علی خان….مکتوب لندن
ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں غیر ملکیوں کی صرف جائیدادوں کا اندازہ پچاس کھرب پاﺅنڈ سے زیادہ ہے جبکہ سات کھرب پاﺅنڈ کی جائیدادیں صرف لندن میں ہیں اور برطانوی بینکوں میں رقوم اس کے علاوہ ہیں۔ چنانچہ پاکستان اگر یہ سمجھتا ہے کہ برطانیہ اسے مطلوب منی لانڈرنگ یا دیگر جرائم میں ملوث ملزم اس کے حوالے کر دے گا تو یقینا ڈسکریشن پاور رکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں جو اپنے عوام کوغلط معلومات دے رہے ہیں کہ ہم برطانیہ سے اپنے ملزم بھی واپس لیں گے اور کھربوں روپے کا وہ سرمایہ بھی جو یہ لوگ پاکستان سے لوٹ کر برطانیہ میں انویسٹ کر چکے ہیں، حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کے یہ ملزم برطانیہ کیلئے سونے کی چڑیاں ہیں جو ان کے ملک اور عوام کے لئے خوشحالی کا باعث ہیں، کوئی چھ ہفتے پہلے برطانیہ کے وزیر داخلہ ساجد جاوید نے پاکستان کا دورہ کیا تو ابھی یہ دورہ ختم بھی نہ ہوا تھا کہ پاکستان کے حکومتی زعماءنے میڈیا اور عوام کو غلط معلومات دیتے ہوئے یہ واویلا کیا کہ برطانیہ و پاکستان کے مابین ملزموں کی حوالگی کا معاہدہ ہو گیا ہے جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا کیونکہ ہم نے برطانوی وزارت خارجہ سے اس معاہدہ کے بارے میں تصدیق کی تو ان کا جواب نفی میں تھا کیونکہ اصل میں ساجد جاوید نے قیدیوں کے دو طرفہ تبادلہ کے قانون کی بات کی تھی یعنی برطانیہ یا پاکستان کے قیدی ایک دوسرے کے ملک میں قید ہوں تو باقی قید کاٹنے کے لئے انہیں ان کے ملک کی جیل میں بھجوا دیا جائے۔ برطانیہ پاکستان کے ملزم اس کے حوالے کرے گا یا نہیں لیکن پاکستان نے آﺅ دیکھا نہ تاﺅ برطانیہ کو مطلوب ایک ملزم جس پر الزام تھا کہ اس کے برطانیہ میں ایک گھر کو آگ لگا دی تھی جس میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے شاہد محمود نام کا یہ شخص بھاگ کر پاکستان چلا گیا تھا لہٰذا پاکستان نے ایسا بغیر کسی معاہدے کے وزیر موصوف کی فرمائش پر کیا!!
برطانیہ کیوں دوسرے ممالک کے سرمایہ داروں کو اپنے ہاں پناہ دیتا ہے اور ان کے سرمائے کو تحفظ بھی‘ اس کہانی سے پہلے ایک تاریخی حقیقت بھی سن لیں کہ برٹش انڈیا کے دور میں ایک سرگرم سماجی و سیاسی لیڈر دادا بھائی نوروجی تھے جو پارسی مذہب سے تعلق رکھتے تھے انہوں نے ان دنوں حالات کو دیکھتے ہوئے سب سے پہلے اس حقیقت کی نشاندہی کی تھی کہ تجارت کی آڑ میں برطانیہ ہندوستان کی دولت لوٹ رہا ہے انہوں نے اپنی کتاب (Un Brinsh Rule in India) میں بڑی تفصیل سے وضاحت کی کہ نو آبادیاتی نظام کے تحت ہندوستان کی ساری دولت کا برطانیہ پہنچ جانا اور بدلے میں ہمیں کچھ واپس نہ ملنا ہندوستان اوراس کے عوام کی بے بسی اور غربت کی بڑی وجہ ہے ”ڈرین تھیوری آف پاور ٹی“ میں وہ ”ڈرین آف ویلتھ تھیوری“ بیان کرتے ہوئے دادا بھائی نوروجی نے ہندوستان کی دولت کے برطانیہ بہاﺅکی چند چیدہ چیدہ وجوہ کی نشاندہی اس طرح کی ہے کہ -1 قابضین کی وجہ سے نئے سرمایہ کار ہندوستان نہیں آتے چنانچہ معیشت کی مضبوطی کیلئے غیر ملکی سرمایہ ہندوستان نہیں آتا۔ -2 سرکاری ملازمین اور فوج کے اخراجات ہندوستان کو ہی برداشت کرنا پڑے ہیں۔ -3 اچھی تنخواہوں کی ملازمتیں صرف غیر ملکیوں کو دی جاتی ہیں جو اس رقم کو ہنددوستان میں خرچ نہیں کرتے بلکہ اپنے ساتھ واپس لے جاتے ہیں۔ دادا بھائی نوروجی نے کئی دیگر وجوہات بھی اس ضمن میں بیان کی ہیں لیکن 1867ءمیں ان کی مذکورہ تصنیف کی روشنی میں آج کے پاکستان اور انگریز کے روّیے کا اندازہ کیا جائے تو اس تھیوری کا براہ راست اطلاق پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات پر کیا جا سکتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ برٹش انڈیا میں غیر ملکی قابضین ہندوستان کی دولت لوٹ کر برطانیہ جمع کر رہے تھے اور آج پاکستان کے حکمران اور دیگر اداروںکے افراد اندھا دھند اپنے ملک کی دولت لوٹ کر برطانیہ لے جا رہے ہیں اور برطانیہ انہیں خوش دلی سے ویلکم کہہ رہا ہے کیونکہ کسی بھی دکاندار کے پاس جس قدر گاہک زیادہ آئیں گے وہ اتنا ہی خوشحال ہو گا لیکن اگر یہ دکاندار ہر گاہک سے یہ تفتیش کرنا شروع کر دے کہ یہ پیسہ تم نے کن ذرائع سے حاصل کیا پہلے تم ہمیں اس کی منی ٹریل دو یا آمدن سے زائد اثاثوں کی تفصیل فراہم کرو تو کیا ایسے دکاندار کو دانش مند بزنس مین کہا جا سکتا ہے؟ لہٰذا آج اگر کوئی مصنف پاکستان کے بارے میں ”ڈرین آف ویلتھ تھیوری“ لکھے تو اس میں کسی غیر ملکی حاکم یا قابضین کا ذکر نہیں ہو گا بلکہ پاکستان کے اپنے حکمرانوں، بیوروکریٹس اور ”ہا ہا کریسی“ کے دعویداروں نے پاکستان کی ویلتھ کی جس طرح سے ڈرین کی ہے اور یہ روش جاری و ساری ہے اس کی نظیر تو دادا بھائی نوروجی کی ”ڈرین آف ویلتھ تھوری“ میں بھی نہیں ملتی۔
سوال پاکستان کی حکومت اور دیگر ریاستی اداروں سے یہ ہے کہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے لے کر آج تک کوئی ایک مثال ایسی عوام کو بتائیں جب آپ یورپ، امریکہ اور برطانیہ سے اپنی لوٹی گئی دولت یا کسی لٹیرے کو پاکستان واپس لا سکے ہوں۔ گزشتہ 28 سال سے ”متحدہ“ قائدالطاف حسین اور ایم کیو ایم کے دیگر ازخود جلاوطن لیڈروں سمیت، نوازشریف کے بیٹوں اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار‘ کس کو آپ واپس پاکستان لے جانے میں کامیاب ہوئے یا برطانوی بنکوں میں پڑی ان کی اربوں کھربوں کی رقوم میں سے ایک روپیہ بھی آپ کو واپس ملا یا کبھی مل سکتا ہے کیا سابق صدر پرویز مشرف کی جائیداد اور بنک بیلنس یہاں موجود نہیں حالانکہ آج کے وزیراعظم عمران خان ماضی میں بڑی فائلیں لے کر الطاف حسین کو سزا دلوانے لندن آتے رہے اور سابق وزیر داخلہ رحمان ملک بھی بڑے طمطراق سے یہاں آتے اور جاتے رہے ابھی دو ہفتے قبل وزیراعظم عمران خان کے خصوصی نمائندہ برائے احتساب شہزاد اکبر بھی لندن آئے اور پہلے آنے والوں کی طرح پاکستان کے خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کر کے نامراد واپس لوٹ گئے چنانچہ جو اب اس بات کا چاہئے کہ یہ بلّی چوہے کا کھیل آخر کب تک جاری رہے گا۔ صورتحال یوں ہے کہ پہلے تو کھربوں روپے لوٹ کر لوگ برطانیہ میں پناہ لے لیتے ہیں پھر اس ملک کے خزانے کو مزید خالی ان لٹیروں کا احتساب کرنے کے لئے کیا جاتا ہے‘ لیکن آخر کب تک؟
پاکستان کی حکومت اور احتساب کے دیگر اداروں کو یقینا اتنا علم تو ہو گا کہ کالونیز کے دور میں اور اؑٓج بھی برطانیہ جہاں ساری دنیا کا سیاسی مرکز ہے اُسی طرح دنیا کا معاشی مرکز بھی برطانیہ ہی ہے اور اس کی اس حیثیت میں امریکہ اور یورپ کے کئی طاقتور معاشی قوتوں کے ہوتے ہوئے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عالمی سرمایہ داری کیلئے آج بھی لندن ہی سب سے زیادہ محفوظ اور اہم ترین تجارتی مرکز ہے، شائد بہت کم لوگوں کو علم ہو گا کہ لندن کے معاشی اثرورسوخ کا مقابلہ امریکہ کی وال سٹریٹ کے بس میں بھی نہیں۔ پاکستان کے لئے یہ سمجھنے اور پلے باندھنے والی معلومات ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ کئی دہائیوں سے دُنیا بھر کے فورمز پر کالا دھن اور منی لانڈرنگ روکنے کے لئے کی جانے والی متعدد کوششوں کے باوجود اس کا کوئی مثبت اور حتمی حل نہیں نکالا جا سکا اس کا جواب ایک لائن میں یہ ہے کہ ایسا ناممکنات میں سے ہے۔ اگربرطانیہ کی بات کی جائے تو لندن اس کا دارالحکومت ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا معاشی انجن بھی ہے۔ پورے ملک میں جو بھی قانون رائج ہو لیکن وسطی لندن کے کم و بیش دو مربع میل کے احاطے میں ایک قدرے مختلف اور اس کے ارباب بست و کشاد کا اپنا قانون ہے۔ چنانچہ یہ لابی اس قدر مضبوط اور آزاد ہے کہ اس کے مضبوط قانونی، آئینی اور انتظامی ڈھانچے پر کوئی چیز یا ادارہ حاوی ہونے کی جرا¿ت نہیں کر سکتا۔ برطانیہ کے زیر تسلط مختلف جزائر مثلاً ورجن آئی لینڈ، جرسی، جبرالٹر اور کیمین آئی لینڈ وغیرہ بھی ہیں لیکن برطانیہ نے بوجوہ انہیں مکمل اندرونی خود مختاری دے رکھی ہے جہاں کا گورنر تاج برطانیہ کے نمائندہ کی حیثیت سے بہت سے انتظامی اختیارات کا مالک ہوتا ہے، ان برطانوی آئی لینڈر یا جزائر کا نظام بظاہر جمہوری، صاف ستھرا اور ترقی یافتہ دنیا کی طرح ہوتا ہے لیکن یہاں بینکنگ اور آف شور کمپنیز کے قوانین انتہائی کھلے اور آزاد ہیں، دُنیا بھر کا کالا دھن چاہے وہ ٹیکس چوری کا ہو، کسی قسم کے جرائم سے اکٹھا کیا گیا ہو یا ڈرگز اور کرپشن کا پیسہ ہو یہ ساری دولت بالآخر ان آف شور کمپنیز کے ذریعے ان بنکوں کا رُخ کرتی ہے جو لندن کے اسی دو میل کے احاطے میں بھی موجود ہیں اور ان برطانوی جزائر میں بھی یہ اکاﺅنٹس خفیہ بھی نہیں ہوتے اور سوئس اکاﺅنٹس کی طرح نام کی بجائے نمبر کا اکاﺅنٹ بھی نہیں ہوتا یہ اکاﺅنٹ مختلف فرموں اور آف شور کمپنیز کے نام پر ہوتے ہیں لیکن اصل مالک یا بینفیشری کی شناخت خفیہ رہتی ہے پھر کوئی نہ کوئی لاءفرم اس میں شامل ہوتی ہے، ٹرسٹی مقرر کئے جاتے ہیں غرضیکہ سیکریسی کا ایسا سکہ بند نظام بنا دیا گیا ہے کہ کسی کو پکڑے جانے کا ڈر ہے نہ ہی ایسا کوئی سوال و قانون موجود ہے۔ یہاں سٹی آف لندن یعنی سنٹرل لندن میں تقریباً دو میل کے احاطے کے کرتا دھرتاﺅں کا کردار سامنے آتا ہے جو ایک طاقتور ترین معاشی لابی ہے جس کا اپنا منتخب کردہ نمائندہ Rememberencer کے نام سے سپیکر برطانوی پارلیمنٹ کے بالکل پیچھے بیٹھتا ہے جو کہ ان بینکنگ کارپوریشنز اور اس سارے نظام کے مفادات کے تحفظ کے لئے پارلیمنٹ میں لابی بھی کرتا ہے اور ان کا تحفظ بھی۔ اس شہری کارپوریشن کے پاس بے تحاشا فنڈز بھی ہوتے ہیں ان کے تھنک ٹینکس اپنے ہیں، مین سٹریم میڈیا پر ان کا بے اندازہ اثرورسوخ ہے اور ان کا پارلیمنٹ میں نمائندہ ریمیبرینز بھی ان کے خلاف کوئی قانون بننے نہیں دیتا جو ان بنکنگ کارپوریشنز کے خلاف ہو!! بہت کچھ اور بھی ہے جو ہر قسم کے سرمایہ اور سرمایہ دار کے تحفظ کے لئے لندن میں موجود ہے لہٰذا گزارش ہے حکومت پاکستان اور اس کے اداروں سے کہ جو دولت اور بندہ پاکستان سے چلا گیا آپ اسے کسی بھی طرح واپس نہیں لے جا سکتے اس وقت تک کہ جب وہ خود نہ چاہے لہٰذا اپنی توانائیاں ان کاموں پر ضائع کرنے کی بجائے آئندہ کے لئے ایسے فول پروف قوانین بنانے پر صرف کریں کہ کرپشن اور لوٹ مار نہ ہو سکے اپنے اداروں کو مضبوط اور کرپشن سے پاک کریں اور اپنے عوام سے جھوٹ نہ بولیں، لیکن اگر پھر آپ ان اللے تللوں میں ملک کا پیسہ اور قوم کا وقت ضائع کرنے پر ہی مضر ہیں تو عرض ہے کہ ”ہنوز دلّی دور است“۔
( کالم نگار”خبریں“ کے لندن میں بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved