تازہ تر ین

خاموش کیوں؟

کامران گورائیہ
سابق وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کے حوالہ سے یہ گفتگو موضوع بحث ہے کہ وہ اپنی رہائی کے بعد مسلسل خاموش ہیں اور اس پراسرار خاموشی کی وجہ کیا ہوسکتی ہے۔ مریم نواز کی معنی خیز خاموشی بہت سے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ مختلف تجزیہ نگار ، سیاسی پنڈت اس خاموشی کو اپنے اپنے انداز میں پیش کر رہے ہیں ان میں سے اکثریت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ان کی خاموشی بلا جواز نہیں اس کے پس پردہ ایک داستان اور ایک ڈیل بھی ہے۔ ضمانت پر رہائی کے بعد میاں نواز شریف تو گاہے بگاہے ہلکے پھلکے انداز کی سیاسی بات ، گفتگو یا پھر حکومت کے حوالہ سے مختصر بیان دے ڈالتے ہیں لیکن ان صاحبزادی اور مسلم لیگ ن کی اہم رہنما مریم نواز خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور منظر عام سے یکسر غائب ہیں۔
شریف فیملی کی ضمانت پر رہائی کے بعد یہ کہا جا رہا تھا کہ یہ سب کچھ ایک ڈیل کا نتیجہ ہے اور یہ ڈیل کروانے میں میاں نواز شریف کے چھوٹے بھائی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے اہم کردار ادا کیا ہے لیکن میاں نواز شریف اور مریم نواز کی رہائی کے فوراً بعد شہباز شریف کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری نے یہ تھیوری غلط ثابت کر دی۔ پاکستان کی سیاست کے حوالہ سے پیشنگوئی کرنا اب اتنا آسان عمل نہیں رہا ۔ شریف برادران جو 80 کی دہائی سے لیکر آج تک پاکستانی سیاست کا اہم حصہ رہے ہیں لیکن ان کے مستقبل کے حوالے سے صورتحال واضح نہیں مگریہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ ان کی سیاست نشیب و فراز کا شکار ہوئی ۔مشرف کے مارشل لاءکے بعد جب شریف خاندان ایک معاہدہ کے تحت جدہ چلا گیا تو تب بھی یہ کہا جاتا تھا کہ ان کی سیاست ختم ہو گئی ہے ۔ ماضی میں ان کے قریبی ساتھیوں میںچوہدری برداران بھی شامل تھے جو ان کو چھوڑ کر کنگز پارٹی یعنی مشرف کی سرپرستی میں بنائی گئی سیاسی جماعت کا حصہ بن گئے ۔ لیکن وقت بدلا اور 2007ءکے اوائل میں جب پاکستان کی سیاست نے کروٹ لی اور شریف فیملی کو وطن واپس آنے کا موقع ملا تب سے لیکر 2018ءکے الیکشن تک شریف خاندان پھر سے اقتدار کے ایوانوں میں براجمان رہا لیکن اس مرتبہ بھی میاں نواز شریف اپنے اقتدار کو مقررہ مدت تک برقرار نہ رکھ سکے۔میرے خیال میں انہیں ایک نئی حکمت عملی کے تحت اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔ شریف خاندان کا اقتدار میں آ کر اداروں سے محاذ آرائی کرنا کوئی نئی بات نہیں ۔ 90 کی دہائی میں صدراسحاق خان اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت اور 97،98 میں جنرل مشرف سے اختلافات ان کی حکومت کے خاتمہ کا سبب بنے۔
یہاں یہ امر انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ 2013ءمیں جب میاں نواز شریف کو اقتدار ملا اور وہ وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھے تواس مرتبہ بھی اگرچہ وہ اپنی وزارت عظمیٰ کی مدت پوری کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے لیکن ان کی جماعت 5 سال تک برسراقتدار رہی۔ اس سے اس بات کا اندازہ تو لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے ملک میں جوقوتیں سیاسی ردو بدل کے لیے اور سیاست کی شطرنج پر جو کھیل کھیلتی ہیں وہ کبھی بھی کھل کر منظر عام پر نہیں آتےں بلکہ پس پردہ رہ کر اپنا کھیل جاری رکھتی ہیں۔ میں اس صورتحال کو مثبت سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ایک جمہوریت کی کامیابی ہے کہ وہ لوگ اور وہ طاقتیں جو پاکستانی سیاست میں اثر ور سوخ رکھتی ہیں وہ یہ سمجھ چکی ہیں کہ اب سامنے سے آ کر ”کھیلنا“شاید ممکن نہیں لہٰذا انہوں نے اپنے کھیل کا انداز تبدیل کیا ہے ۔
دنیا بھر کی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ اور دیگر قوتوں کا عمل دخل ہوتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ صرف پاکستان میں ہے تو غلط ہوگا۔ امریکہ سمیت دنیا کی بڑی بڑی جمہوری قوتوں میں بھی اقتدار کا محور کسی ایک شخص یا ادارے کے پاس نہیں ہوتا یہ مختلف اداروں میں تقسیم ہوتا ہے۔ اس کی ایک مثال میں دیتاچلوں کہ امریکہ کے سابق صدر اوباما نے اپنی الیکشن کمپیئن میں نعرہ لگایا تھا کہ وہ افغانستان سے اپنی افواج کو واپس بلا لیں گے اور افغانستان میں اپنا کردار محدود کریں گے مگر صدر بننے کے بعد وہ ایسا نہ کر پائے انہوں نے پینٹاگون کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ۔ افغانستان میں آج بھی امریکی فورسز موجود ہیں ان میں کمی کا نعرہ لگایا گیا تھا مگر اس پر عمل نہ ہوسکا حتی کہ اوباما اپنا10 سالہ دور اقتدار مکمل کرکے رخصت بھی ہو گئے۔
پاکستان میں بھی سیاست اور اختیارات کی باگ ڈور کسی ایک شخص یا ادارے کے پاس موجود نہیں یہاں بھی مختلف ادارے اور قوتیںمل کر ملکی معاملات کو چلاتی ہیں یہی حقیقت ہے ۔ میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان جیسی ریاست میں پارلیمنٹ کے علاوہ فوج اور عدلیہ کے کردار کو اہمیت نہ دیا جانا درست اقدام ہوگا۔ اس حوالے سے سیاست دان اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو مل کر ایک نیا عمرانی معاہدہ کرنے کی ضرورت ہے جس میں ہر ادارے کا کردار ، رول اور اختیار کا تعین کیا گیا ہو اسی صورت میں ملک احسن طریقہ سے آگے بڑھ سکتا ہے ورنہ ذوالفقار بھٹو سے لیکر نواز شریف تک عوام کے منتخب حکمرانوں کے ساتھ جو کچھ ہوتا چلا آیا ہے وہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ اس طریقہ کار اور حکمت عملی سے عین ممکن ہے کہ کسی فرد واحد کو نقصان نہ پہنچے مگر مجموعی طور پرپاکستان پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو تے رہےں گے۔ پاکستان خطے میں 60 کی دہائی میں جن خطوں سے کہیں آگے تھا مگر اب ان ممالک سے کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔
میاں نواز شریف اور مریم نواز کی خاموشی ڈیل کا نتیجہ ہے ۔ اس حوالے سے میرا پاکستان مسلم لیگ ن کے انتہائی اہم رہنما سے تفصیلی تبادلہ خیال ہو‘ا لیگی رہنما کی گفتگو سے اس بات کا اندازہ تو ہو رہا تھا کہ کہیں معاملات طے پاچکے ہیں اور اس سلسلے میں پیشرفت بھی جاری ہے۔ اس اہم رہنما کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کی سوچ انتہائی واضح ہے کہ ہم نے جو پیغام عوام تک پہنچانا تھا وہ احسن طریقہ سے پہنچانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ قیادت نے عام آدمی تک یہ بات پہنچا دی ہے کہ ہم پر لگائے جانے والے کرپشن سمیت تمام الزامات بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہےں۔ ہمارا قصور صرف اتنا ہے کہ ہم کٹھ پتلی وزیراعظم کے طور پر کام کرنے سے انکاری تھے۔ اس اہم رہنما نے بتایا کہ 2018ءکے الیکشن میں اگرچہ ہم ہار گئے ہیں مگر جن قوتوں کو پیغام پہنچانا مقصود تھا ان کو پیغام پہنچ چکا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن ایک بڑی حقیقت ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں جبکہ پارٹی اور ملک کے لیے میاں نواز شریف ناگزیر ہیں ان کو الگ کرنا ممکن نہیں ہے۔ بہر حال لیگی رہنما کی گفتگو کے نتیجہ کی روشنی میں یہ بات میںواضح طور پر کہہ سکتا ہوں کہ میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی کی خاموشی ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت ہے اور کہیں نہ کہیںانڈرسٹینڈنگ ضرور موجود ہے اور اس انڈرسٹینڈنگ کے پیچھے کچھ دوست ممالک کا ہاتھ بھی ہے اوریہ بات بھی واضح طور پر کہی جا سکتی ہے کہ میاں نواز شریف اور مریم نواز کی خاموشی زیادہ طویل نہیں ہوگی۔ میری معلومات کے مطابق موجودہ حکومت کے پاس ایک سال کا ٹائم ہے اور اس کے بعد بھرپور سیاسی میدان لگے گا جس میں تمام سٹیک ہولڈرز کھل کر موجود ہوں گے۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved