تازہ تر ین

صلاحیتوں کا درست استعمال

الطاف حسن قریشی….خصوصی مضمون
ہمارے سیاسی قائدین اور دانشور یہ کہتے نہیں تھکتے کہ پاکستانی قوم بڑی عظیم اور جواں ہمت ہے، اس نے بدترین بحرانوں کا بڑی پامردی سے مقابلہ کیا ہے اورمعاشرے کو تتربتر ہونے سے محفوظ رکھا ہے۔ یقینا ان کی بات میں صداقت کا ایک عنصر موجود ہے ، مگر اس حقیقت سے بھی شاید انکار نہ کیا جاسکے کہ علامہ اقبال اور قائداعظم نے جس پاکستان کا خواب دیکھاتھا اس کی پوری تعبیر سامنے نہ آ سکی ۔ ان زعما نے بر صغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک جداگانہ وطن کی جدوجہد اس عظیم الشان نصب العین کیلئے کی تھی کہ اس میں وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی اسلام کی اعلیٰ تعلیمات اور درخشندہ روایات کے مطابق گزار سکیں گے اور ایک ایسا معاشرہ تعمیر کر پائیں گے جس میں اظہار کی آزادی ، دولت کی منصفانہ تقسیم، معاشرتی انصاف کا بول بالا اور قانون کی عمل داری کا اہتمام ہوگا اور عوام کے منتخب نمائندے اقتدار کی مقدس امانت کو خالق حقیقی کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق بروئے کار لانے کے مجاز قرار پائیں گے۔ انگریزوں اورہندوو¿ں کی شدید مخالفت کے باوجود قائداعظم کی بے مثال قیادت میں پاکستان دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا جو عوام و خواص کے قابل رشک ایثار اور محنت سے عالمی برادری میں ایک بلند مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا، لیکن یہ مملکت خدا داد وہ سارے اہداف حاصل نہ کرسکی جو اس کی تخلیق میں شامل تھے۔ آج بھی یہی عالم ہے کہ اسٹرٹیجک اہمیت کے محل وقوع اور جفا کش عوام کے باوجود ہمارا ملک طرح طرح کی مشکلات میں گھرا ہوا ہے اور کبھی کبھی یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ جہاز ڈوبنے کے قریب ہے۔
اس آن عمرانیات کے ماہرین کی طرف سے اس صورتحال پر نہایت گہرائی کے ساتھ غور و فکر کرنے اور کوئی مستقل لائحہ عمل ترتیب دینے کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اپنی تاریخ پر غائرانہ نظر ڈالنے سے ہماری مجموعی ساخت اور مزاج کا یہ پہلو سامنے آتا ہے کہ ہمیں وقت کی اہمیت کا کوئی احساس ہے نہ اس امر کا صحیح اندازہ کہ ہمارے اندر کیسی کیسی صلاحیتیں پوشیدہ ہیں۔ عام طور پر یہ بھی مشاہدے میں آتا رہتا ہے کہ ہم انفرادی طور پر حیرت انگیز کارنامے سرانجام دے لیتے ہیں، مگر جب اجتماعی معاملات کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں تو بری طرح ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس کیفیت کا ہمہ پہلو تجزیہ حالات کی بہتری میں یقینی طور پر سود مند ثابت ہوگا۔ اس ضمن میں ایک بدیہی حقیقت یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام فرد کی شخصیت کی صحتمند نشوو نما میں بری طرح ناکام رہاہے، اسے جن مثبت انسانی جبلتوں کو جلا دینی چاہئے تھی وہ بڑی حد تک نظرانداز ہوتی رہیں، نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ ہماری جبلتوں اور ہماری صلاحیتوں کے مابین کوئی اجتماعی نظام قائم نہ ہوسکا اور ہم ایک قوم ہوتے ہوئے بھی ایک بے ہنگم ہجوم کی طرح زندگی بسر کرنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ یوں باطنی طور پر ہماری آبادی مختلف دھڑوں میں تقسیم اور اس حقیقت سے بے خبر ہے کہ وقت اور توانائیوں کا درست استعمال ہی ایک فرد اور ایک قوم کی زندگی میں خوشگوار انقلاب لاسکتا ہے ۔
ہماری قومی زندگی کے ستر سال مختلف تجربات میں بیت گئے اور عوام کے اندر تبدیلی کی زبردست خواہش پیدا ہوئی۔جناب عمران خان نے اس خواہش کی عملی صورت گری میں بڑا کردار ادا کیا جنہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد 1996میں رکھی ، جبکہ 2011میں لاہور کے عوام نے انکے ساتھ زبردست یک جہتی کا مظاہرہ کیا۔ 2018کے انتخابات میں ان کی جماعت کو مرکز کے علاوہ پنجاب اور خیبرپختونخوامیں حکومتیں قائم کرنے کا موقع ملا اور اس نے کراچی میں بھی حیرت انگیز کامیابی حاصل کی۔ بدقسمتی سے ہمارا الیکشن کمیشن عام انتخابات کے نتائج کا اعلان بروقت کرسکا نہ اس سے ایک طے شدہ طریق کار کی پوری طرح پاسداری ہوسکی،چنانچہ بیشتر سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں دھاندلی کاالزام لگایا اور یہ تاثر عام ہوا کہ تحریک انصاف کی انتخابی کامیابیوں میں غیر سیاسی طاقتوں کا بھی حصہ تھا۔ جمہوریت کے تسلسل کو یقینی بنانے کیلئے اپوزیشن جماعتوںنے حلف بھی اٹھالیااور پارلیمنٹ کی کارروائی میں حصہ لینا بھی شروع کردیا۔ تحریک انصاف کی قیادت نے عوام کو ان یقین دہانیوں سے سحر زدہ کررکھا تھا کہ ان کے اقتدار میں آتے ہی عوام کی تقدیر بدل جائیگی تارکین وطن ڈالروں کی بارش کردینگے اور زندگی کے ہر شعبے کے ماہرین جو تحریک سے وابستہ ہیں، عوامی مسائل تیزی سے حل کرنا شروع کردینگے۔ عمران خان صاحب نے اعلان کیا کہ غریبوں اور متوسط خاندانوں کو ایک کروڑ ملازمتیں فراہم کرینگے اور ان کو پچاس لاکھ گھر تعمیر کرکے دینگے، اس اعلان پر عوام کی خوشی قابل دید تھی۔
خاںصاحب کو اقتدار میں آئے تین ماہ ہونے کو آئے ہیں مگر وہ کوئی بڑا مژدہ سنانے کے بجائے ماضی کی نوحہ خوانی شب و روز ایسی دردناک آواز میں کررہے ہیں کہ امید کے سارے چراغ بجھتے جارہے ہیں۔ پوری قیادت اپنی اہلیت اور دیانت کا تاثر قائم کرنے کیلئے زیادہ تر وقت اورتوانائیاں اپنے سیاسی مخالفین کو ”چور اور ڈاکو “ ثابت کرنے میں صرف کررہی ہے۔ سنجیدہ طبقے برملا کہہ رہے ہیں کہ ہوم ورک کے بغیر اقتدار میں آنے سے ان کے ہاتھ پاو¿ں پھول گئے ہیں اورمحض ٹامک ٹوئیاں ماررہے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر فیصلے تبدیل کرتے رہنے سے اس جماعت کی صفوںمیں شدید ابتری اور سراسمیگی دکھائی دیتی ہے۔ ریاض میں ہونیوالی سرمایہ کاری کانفرنس میں وزیراعظم عمران خان نے ہمارے وطن میں کرپشن، لوٹ مار اور بڑے بڑے گھپلوں کی جو تصویر کشی کی ہے اس نے ہر شہری کا دل پژمردہ کردیا ہے، تاہم یہ امرقابل ستائش ہے کہ مشکل کے وقت پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور اس نے یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شکایت پر بین الاقوامی فورم پر سعودی عرب کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ سعودی عرب نے کمال فیاضی سے پاکستان کو بارہ ارب ڈالر کے پیکیج کے علاوہ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا عندیہ بھی دیا ہے ۔ جناب وزیراعظم نے ”مڈل ایسٹ آئی “ کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکہ سے بہت صحیح مطالبہ کیا ہے کہ ایران پر سے پابندیاں اٹھائی جائیں اور اسرائیل کو ایران کیساتھ تصادم سے روکا جائے ، مبادا کوئی بڑا انسانی سانحہ پیش آجائے۔ ہمیں قوی امید ہے کہ اگر تحریک انصاف کی قیادت اپنی صلاحیتوں کا درست استعمال کرنے ، اپنا قیمتی وقت مثبت کاموں میں صرف کرنے اور دھیمے لہجے میں بات کرنے کو اپنا شعار بنانے پر صرف کریگی تو اس کے یہاں اعتدال بھی آجائیگا، وہ آداب جہانگیری بھی سیکھ جائیگی اور سیاسی طور پر تنے ہوئے ماحول میں قدرے سکون آجانے سے استحکام کی منزل تک پہنچنا نسبتاً سہل ہوجائیگا۔
(بشکریہ:ماہنامہ اردوڈائجسٹ)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved