تازہ تر ین

”والدین بے خبر ہیں“

عامر بن علی….مکتوب جاپان
ماں باپ کو کوئی خبر نہیں ہے۔ یہ اعلان نما بیان کسی نگری کا نام بھی ہوسکتا ہے اور نگر بھی کوئی معمولی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے اسے عالمی ورثہ قرار دے رکھا ہے ۔میں جاپان کے عین وسط میں واقع ”اویاشی رازو“ شہر کا تذکرہ کررہاہوں، فطرتی حسن سے مالامال یہ خطہ زمین ارض و سماءسے ماورا معلوم ہوتا ہے ، ہماری دھرتی کا حصہ تو بالکل معلوم نہیں پڑتا، یوں گماں ہوتا ہے کسی اور ہی سیارے پر آگئے ہیں، یہ ایک اساطیری شہر ہے ،سمندر کے کنارے بلند و بالا چٹانوں کے درمیان ایک چوٹی پر ٹھیک پچاس سال پہلے ایک خوبصورت پارک تعمیر کیاگیاتھا، آپ اسے ”درشن باغ“ کہہ سکتے ہیں۔ دور دراز سے آئے سیاح اس چھوٹے سے پارک میں کھڑے ہوکر قدرت کے اس شاہکار کا نظارہ کرتے ہیں، جاپان کی سب سے بلند چٹان اپنے پورے شکوہ کے ساتھ ایستادہ یہاں سے سامنے نظر آتی ہے ۔
والدین نہیں جانتے ہیںنامی اس علاقے کا نام کیسے پڑا؟ یہ ایک تاریخی واقعہ اور دردناک کہانی ہے ۔ قصہ بارہویں صدی عیسوی کا ہے، مگر ہزار سال گزرنے کے باوجود آج بھی مشہور ہے۔ ایک جنگجو سردار اپنے مخالف قبیلے سے لڑتے ہوئے جنگ ہار گیا، اس تاریخی معرکے میں متذکرہ جنگجو سورما کا قبیلہ تہہ تیغ کردیاگیا، یہ اپنی بیوی کے ساتھ بڑی مشکل سے جان بچا کر پسپا ہوگیا، میدان جنگ سے فرار ہوکر یہ سورما اپنی بیوی اور ننھے بچے کے ساتھ ٹھیک اسی مقام پر پہنچا جو ہماری گفتگو کا موضوع ہے۔یہاں ایک طرف ٹھاٹھیں مارتا ہواسمندر اور اس کی غصیلی لہریں تھیں تو دوسری طرف بلند و بالا پتھریلی چٹانیں، اس ساحل کو آپ دنیا کے خطرناک ترین ساحلوں میں شمار کرسکتے ہیں، چٹانوں سے سر ٹکراتی لہریں جھاگ سے ساحل کو ڈھانپے جاتی ہیں۔ جب شکست خوردہ جنگجو سردار اور اسکی بیوی اپنے بچے کے ساتھ اس مقام سے گزررہے تھے تو ساحل پر ان کا ننھا بچہ کھوگیا، اس کمسن کے غائب ہونے پر لہروں میں بہہ جانے پر بچے کی غمزدہ ماں نے ایک مختصر سی نظم لکھی، یہی نظم اس شہر کی وجہ تسمیہ ہے ۔
والدین کو کچھ پتا نہیں
اس ساحل کی لہروں پر ایک بچہ
جھاگ میں غائب ہوجاتا ہے ، کوشن جی راہ کنارے
اس دکھ بھر داستان اور نظم کی یاد میں پچھلی صدی کی ابتداءمیں ایک نامور سنگ تراش نے ممتا کے جذبے کو اجاگر کرنے والا ایک مجسمہ تراشا، قد آدم مجسمے میں خاتون نے ایک بچہ گود میں اٹھارکھا ہے جبکہ اس کا دوسری بچہ ماں کی ٹانگ کو تھامے کھڑا ہے ، ماں اور بچے کی نگاہیں چٹانوں کی سمت اٹھی ہوئی ہیں، یہ مجسمہ درشن باغ میں نصب کیا گیا ہے ۔
جاپان جزیروںکا جھرمٹ ہے جن کی تعداد 6853ہے مگر ان میں سے بڑے جزائر چار ہیں، یہ چار جزائر ملک کے مجموعی رقبے کا 97فیصد ہیں، جیسا منظر مذکورہ علاقے کا ہے ، یہی جاپان کاعمومی لینڈ سکیپ ہے۔ ملک کا 73فیصد رقبہ پہاڑوں ، جنگلوں یا ایسے علاقوں پر مشتمل ہے جہاں کاشتکاری ممکن نہیں، نہ ہی صنعتیں ہیں اور نہ ہی آبادی ممکن ہے۔ اس دیس کی تمام آبادی بقیہ 27فیصد رقبے پر ہی آباد ہے، یہ علاقہ صدیوں سے اپنی نوکیلی چٹانوں کی خطرناکی اورساحلوں کی تندی کے سبب مشہور رہاہے، جدید شاہراہوں کی تعمیر کے بعد اب یہ راستے ویسے خطرناک نہیں رہے، کافی کشادہ سڑکیں بن گئی ہیں اور بل کھاتی خونخوار چٹانوں اور گہری کھائیوں کی جگہ سرنگوں نے لے لی ہے جو پہاڑوں اورچٹانوں کے اندرسے گزرتی جاتی ہیں۔
مجھے جس چیز نے اس خوبصورت علاقے کے سفر کیلئے تحریک دی ، وہ عہد ساز جاپانی صوفی شاعر اور سفرنامہ نگار ماتسو باشو کی شاعری اور نثر میں ”والدین نہیں جانتے ہیں “میں انکے قیام کا تذکرہ ہے ، سترہویں صدی عیسوی کے اس شاعر اور ادیب کی تخلیقات کا ترجمہ دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں ہوچکا ہے ، سند قبولیت بھی حاصل کرچکا ہے ۔ میری نظر میں باشو مولانا روم اورعمر خیام کے پائے کا شاعر ہے۔خیال، فنی پختگی اور گہرائی کے اعتبار سے وہ دنیا کے بڑے شعراءکرام کی فہرست میںنمایاں مقام رکھتا ہے ، کچھ عرصے سے میں ماتسو باشو کی شاعری کا پنجابی زبان میں ترجمہ کرنے کاکام کررہاہوں، تصوف کا رنگ اس کے کلام میں غالب ہے۔ برصغیر پاک وہند میں ایسی شاعری کی مثال تلاش کرنا چاہیں تو سچل سرمست کو پڑھ لیں، سچل اور باشو کی شاعری کا رنگ بڑی حد تک ایک جیسا ہی ہے، اپنے شہرہ آفاق سفر نامے میں باشو نے اس علاقے کا بڑی تفصیل اور محبت سے ذکر کیا ہے ، یہاں پر اس کا قیام ایک سرائے میں تھا، اسی سرائے میں اس نے ایک لافانی ہائیکو لکھی، یہ ہائیکو عالمی ادب کا قیمتی حصہ سمجھی جاتی ہے ، آپ بھی پڑھیے کہ اتنے کم الفاظ میں ایسی بڑی باتیں کیسے کی جاسکتی ہیں، سرائے کا منظر ذہن میں رکھیے ۔
ایک ہی چھت کے تلے
طوائفیں بھی ہوتی ہیں
جنگلی گھاس اور چاند
ٍویسے تو جاپانی زبان میں ”اویاشی رازو“ عقب داڑھ کو بھی کہتے ہیں مگر یہ غیر رومانوی سی بات ہے، بہتر ہے کالم تمام کرتے ہیں۔
(کالم نگار جاپان میں خبریں کے بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved