تازہ تر ین

جرمن معیشت اور پاکستان

مرزا روحیل بیگ ….مکتوب جرمن
یورپی ممالک نے ایک دوسرے کو اٹھارویں اور انیسویں صدی میں بالعموم اور بیسویں صدی میں بالخصوص جنگوں کی شکل میں شدید نقصان پہنچایا تھا۔ آخر کار اپنے خونریز ماضی سے پیچھا چھڑانے کے لیے جنگ عظیم دوئم کے بعد یورپ نے معاشی بنیادوں پر متحد ہونے کا فیصلہ کیا اور 1958 میں European Economic Community کی بنیاد ڈالی تاکہ یورپ کو معاشی مفادات کی بنیاد پر ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جائے جو انہیں مجبور کر دے کہ آپس کے اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کی سرحدوں کا احترام کریں اور اپنی عوام، جو کہ صدیوں کی جنگوں اور ناقص معاشی پالیسیوں سے بیزار تھی، کی خوشحالی اور مادی ترقی کے لیے کام کریں۔ اگر یہ کہا جائے کہ یورپ کے اکٹھا ہونے کے بعد سے بالعموم اور یورپی یونین کے قیام کے بعد سے بالخصوص پورے یورپ کی منڈیوں میںسے سب سے زیادہ معاشی ترقی جرمنی نے کی اور اپنی عوام کے لیے خوشحالی کے دروازے کھول دیئے تو بے جا نہ ہو گا۔ جرمنی معاشی اعتبار سے یورپی یونین اور یورو زون کا سب سے طاقتور ملک ہے۔ اس کی مضبوط معیشت کا سارا دار و مدار اس کی برآمدات پر ہے جو کہ اس کے GDP کا 40 فی صد ہےں۔ جرمنی دنیا کا دوسرا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔ یورپ Free Trade Zone ہونے کی وجہ سے 500 ملین سے زائد لوگوں کی ایک وسیع مارکیٹ ہے۔ جرمنی ایک ایسا ملک ہے جس کی زرعی اور صنعتی پیداوار انتہائی بڑے پیمانے پر تیار ہونے کے بعد ایک وسیع مارکیٹ چاہتی ہیں۔ جرمنی کی وسیع برآمدات نے یورپ کے تمام ممالک کی منڈیوں پر اجارہ داری قائم کر رکھی ہے جس کے باعث جرمنی پورے یورپ سے مفادات سمیٹتا ہے۔
دوسری طرف معاشی اعتبار سے یورپ کا سب سے زیادہ مضبوط ملک ہونے کی وجہ سے یورپین سینٹرل بینک میں سب سے زیادہ حصہ جرمنی کا ہے جس کی وجہ سے اس کے مفادات ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں۔ اگر جرمنی سینٹرل بینک میں سب سے بڑا حصہ دار ہے تو وہ اس کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور اس طرح وہ اس بینک کے ذریعے پورے یورپ کی مالیاتی پالیسی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ دوسری جانب پاکستانی معیشت کو چیلنج درپیش ہیں جن میں سر فہرست بھاری بیرونی قرضے ہیں، ان قرضوں کا حجم کم نہیں ہو رہا بلکہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ وطن عزیز کی کمزور معیشت کا یہ عالم ہے کہ یکے بعد دیگرے بر سر اقتدار آنے والی حکومتیں قرضوں کے حصول کو اپنی اعلی کارکردگی کے طور پر اجاگر کرتی رہی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق غیر ملکی قرضوں کا بوجھ 30 ہزار ارب تک پہنچ چکا ہے، 16 ارب ڈالر کا کرنٹ اکا¶نٹ خسارہ ہے۔ سوئی گیس 157 ارب، سٹیل ملز 187 ارب، ریلوے 37 ارب، پی آئی اے 360 ارب اور یوٹیلٹی سٹورز کا خسارہ 14 ارب تک ہے۔ ملکی معیشت بری طرح قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، نئی حکومت کو چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے بلاشبہ ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے جس سے مشکلات کا شکار معیشت کو سہارا مل سکے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل حالات میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے، اب بھی سعودی عرب نے پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کے لیئے مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر کے پیکج کا اعلان کیا ہے۔ ایک سال کے لیئے 3 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک میں رکھوائے جائیں گے، جبکہ تین سال میں 9 ارب ڈالر کا تیل ادھار بھی دیا جائے گا۔ معاشی تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان کو جن معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس میں فوری طور پر پاکستان کے لیے رقم کا بندوبست کرنا بہت ضروری تھا، اور ایسے وقت میں دوست ملک سعودی عرب سے رقم کا ملنا کسی نعمت سے کم نہیں۔ وزیراعظم عمران خان چین کے سرکاری دورہ کے بعد وطن واپس آچکے ہیں اوراس دورہ کے مثبت اثرات آئندہ چند دنوں میں ظاہر ہوناشروع ہو جائیں گے۔ اس وقت چین پاکستان میں سی پیک کے 22 منصوبوں پر 19 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، جبکہ سی پیک کے ماتحت جاری توانائی کے تمام منصوبے 2022 تک مکمل کرنے کا چین کی جانب سے پہلے ہی عزم ظاہر کیا جا چکا ہے۔ قطر کی جانب سے بھی پیکج کی خبریں آ رہی ہیں۔ وزیراعظم نے سعودی عرب اور چین کے دوروں سے بہت کچھ حاصل کر لیا ہے جس کے ثمرات آہستہ آہستہ پاکستانی معیشت پر ظاہر ہونا شروع ہوں گے اور مالی مشکلات کم ہوں گی تاہم اس میں وقت لگے گا جس کے لیے قوم کو انتظار کرنا پڑے گا۔ پاکستان کو یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کرنی چاہئیے، کیونکہ جرمنی یورپی یونین میں خاص اہمیت کا حامل ملک ہے۔ جرمنی کے ساتھ مضبوط معاشی و سفارتی تعلقات سے پاکستان کے لیے ترقی و خوشحالی کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔
ایک کامیاب معاشی ملک بننے کے لیے پاکستان کو اپنے ہاں روزگار کی منڈیوں کو زیادہ بہتر بنانے کی کوششیں کرنی چاہئیں۔ اس کے علاوہ ریاستی قرضوں میں کمی کے لیے بہت زیادہ بچت کی پالیسیاں بھی اپنانا ہوں گی۔ ماضی میں انہی پالیسیوں پر عمل پیرا ہو کر پرتگال، سپین، یونان اور اٹلی شدید مالیاتی بحرانوں سے نکلنے میں کامیاب رہے تھے۔
وطن عزیز کو معیشت کے استحکام کے لیے مستحکم سیاسی فضا کی ضرورت بھی ہے۔ سی پیک جیسا بڑا منصوبہ ہو یا ملک کے اندر سرمایہ کاری ہو یا پھر تعمیر و ترقی کا منصوبہ ان سب کے لیئے امن و امان کی صورتحال کیساتھ مستحکم سیاسی فضا کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر معاشی پالیسیاں پائیدار اور زمینی حقائق کے مطابق ہوں اور ان پر ایمانداری سے عمل بھی کیا جائے تو دنیا کی کوئی طاقت معاشی استحکام اور ترقی سے نہیں روک سکتی مگر ناقص اور غیر پائیدار پالیسیوں پر چلنے کا نتیجہ وہی ہوتا ہے جو آج پاکستان کا ہو رہا ہے۔ اگر ہم نے دنیا کا ایک باعزت، باوقار اور خودمختار ملک بننا ہے تو قدرت نے جو ہمیں بیش بہا قدرتی و معدنیاتی خزانے دیئے ہیں ان کو بغیر کسی بیرونی و اندونی دبا¶ کے بروئے کار لائیں، کیونکہ ہمارے ملک میں کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہے۔
(کالم نگارجرمنی میں مقیم ،بین الاقوامی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved