تازہ تر ین

کوہ نور ہیراکس کا؟

احمد خان چدھڑ….خصوصی مضمون
عالمگیر شہرت یافتہ عجائبات میں اہرام مصر، بابل کے معلق باغات، دیوار چین، تاج محل اور کوہ نور ہیرا قابل ذکر ہیں۔ اپنی اپنی جگہ ہر ایک کی اپنی اہمیت ہے۔ اِن کے حالات پڑھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا محاورہ عام استعمال ہوتا ہے جس کا عام فہم مطلب ہے کہ طاقتور جو چاہے چھین لیتا ہے۔ محاورے صدیوں کے تجربات، مشاہدات اور حالات کی روشنی میں بولے جاتے ہیں جو زمانے کے آئینہ دار اور صحیح عکاس ہوتے ہیں۔
تاریخ کے مطالعہ کے دوران کوہ نور ہیرا کی حیرت انگیز اور دلچسپ روداد سامنے آئی جو قارئین کی دلچسپی اور معلومات کیلئے پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ کوہ نور ہیرا جنوبی ہند کی ریاست اندھرا پردیش کے ضلع کولکنڈا میں واقع ایک کوہ نور نامی کان سے برآمد ہو کر راجہ کرن پانڈو کی ملکیت میں آیا۔ بعد میں راجہ بکرما جیت جس کا سن 36 سال قبل مسیح شروع ہوا‘ کی اولاد سے ملا، اس کی دریافت چار ہزار سال قبل ہوئی۔ ہند میں خاندان خلجی، خاندان تغلق اور پھر خاندان لودھی کے قبضہ میں آیا۔ سلطان ابراہیم لودھی پر مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر نے حملہ کر کے قتل کر دیا اس طرح کوہ نور ہیرا ظہیر الدین بابر کے ہاتھ لگ گیا‘ اس مغل خاندان میں نسل در نسل چلتا ہوا سلطنت کے آخری فرمانروا محمد شاہ رنگیلا کے ہاتھ آیا۔ جب نادر شاہ نے محمد شاہ رنگیلا سے دلی کا تخت چھینا تو کوہ نور اس کے پاس آیا ایک روایت یہ بھی ہے کہ محمد شاہ رنگیلا کے کسی درباری نے مخبری کر کے نادر شاہ کو بتلایا کہ قیمتی کوہ نور ہیرا محمد شاہ رنگیلا اپنی پگڑی کے بیچ کے اندر رکھتا ہے چنانچہ نادر شاہ نے ایک تقریب کا اہتمام کرایا کہ وہ تخت محمد شاہ رنگیلا کو واپس کرے گا تقریب میں نادر شاہ نے پگڑی بدل دوستی کے بہانے اپنی پگڑی محمد شاہ کے سر پر رکھ دی اور اس کی پگڑی اپنے سر پر رکھ لی نادر شاہ نے واپس جا کر پگڑی کھول کر کوہ نور ہیرا نکال کر اپنے قبضہ میں کر لیا اور دیکھتے ہی اس کا نام کوہ نور یعنی روشنی کا پہاڑ رکھا۔
1747ءمیں فتح آباد خراسان میں نادر شاہ کے قتل ہونے کے بعد یہ ہیرا نادر شاہ کے بھتیجے علی قلی خان کے پاس چلا گیا۔ علی قلی خان کو معزول اور اندھا کرنے کے بعد یہ ہیرا اس کے جانشین نادر شاہ کے پوتے شاہ رخ کے قبضہ میں آ گیا۔ شاہ رخ نے احمد شاہ ابدالی کو دے دیا جو اس کے بیٹے تیمور شاہ کی وراثت میں چلا گیا۔ 1793ءمیں تیمور شاہ نے اپنے بڑے بھائی شاہ زمان کے حوالے کر دیا اس کے بھائی شاہ محمود نے اسے معزول کر کے اندھا کر دیا اور کوہ نور ہیرا تیسرے بھائی شاہ شجاع کے پاس چلا گیا۔ احمد شاہ ابدالی کا یہ پوتا جب دوست محمد خان کے ہاتھوں اندھا ہوا تو پنجاب میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے پاس اپنی چہیتی بیگم وفا بیگم کے ساتھ مارچ 1813ءمیں مہمان قیدی ہو کر آیا اس دوران مہاراجہ رنجیت سنگھ نے شاہ شجاع سے کوہ نور ہیرا کے متعلق دریافت کیا تو اس نے بتلایا کہ ہیرا کابل میں رہن رکھا ہوا ہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ ناراض ہو گیا اس نے شاہ شجاع کے خاندان کو مبارک حویلی لاہور میں بند کر دیا اور شاہ شجاع کو ہیرا پیش کرنے کے لئے کہا بالآخر شاہ شجاع نے کوہ نور ہیرا مہاراجہ رنجیت سنگھ کے حوالے کر دیا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے شاہ شجاع سے اس کی قیمت پوچھی تو عبرت آموز جواب دیا کہ اس کی قیمت لاٹھی یعنی طاقت ہے‘ طاقتور اس کو بغیر قیمت ادا کئے طاقت کے ذریعہ حاصل کرتا رہا۔ 1839ءمیں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے مرنے سے پہلے حکم دیا کہ اس ہیرا کواڑیسہ کے مندر کو دے دیا جائے لیکن اس کی تعمیل نہ ہو سکی۔
1849ءمیں انگریز نے پنجاب پر قبضہ کر لیا تو یہ ہیرا ایسٹ انڈیا کمپنی کی تحویل میں آ گیا۔ سر لارنس گورنر پنجاب تھا اس نے یہ ہیرا لے لیا اس کو اس کی قدر وقیمت کا کوئی اندازہ نہیں تھا اس نے لاپرواہی سے ہیرے کی ڈبی کو اپنی جیب میں ڈال دیا۔ کپڑے دھوبی کے پاس چلے گئے۔ چھ ہفتے بعد لارڈ ڈلہوزی نے ہیرا ملکہ برطانیہ کو پیش کرنے کے لئے طلب کیا تو سر لارنس کو یاد آیا کہ ہیرا جیب میں ڈالا تھا‘ دھوبی سے پتہ کیا تو کپڑے اور ہیرا مل گئے لارڈ ڈلہوزی نے ہیرے کا مل جانا ہند کی فتح کا نشان قرار دیا۔ 1850ءمیں انگریز حکومت نے خفیہ طور پر ہیرا بذریعہ بحری جہاز برطانیہ پہنچایا۔ 3 جولائی 1850ءایسٹ انڈیا کمپنی کے ڈپٹی چیئرمین نے رسمی طور پر ملکہ برطانیہ کی خدمت میں پیش کیا جو بعد میں ملکہ برطانیہ کے تاج میں جڑ دیا گیا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بیٹے دلیپ سنگھ نے برطانیہ پہنچ کر ہیرا ملکہ برطانیہ کی خدمت میں پیش کیا۔ اس ہیرے کا وزن 37 گرام تھا جو بعد میں تراشنے پر 21 گرام رہ گیا۔
اس ہیرا کے متعلق مشہور ہے کہ یہ مردوں کے لئے نحوست اور عورتوںکے لئے خوش بختی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ملکہ برطانیہ کی خواہش پر آج کل ٹاور آف لندن میں رکھا گیا ہے۔ 1976ءمیں ذوالفقار علی بھٹو نے حکومت برطانیہ سے ہیرا کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا لیکن وہ نہ مانے اور ہیرا بدستور حکومت برطانیہ کے قبضہ میں ہے۔
(کالم نگارسابق ایس ایس پی اور ماہر تفتیش کار آفیسر ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved