تازہ تر ین

یہ باولے لوگ

الطاف حسن قریشی….خصوصی مضمون
ہر ملک اور ہر عہد کی کہانی جدا جدا ہے، مگر ہمارے معاشرے میں باولے افراد کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ لوگ تاریخ سے نابلد اور سیاسی حرکیات سے یکسر بے خبرہیں۔ ہر معاملے میں کیڑے ڈالنا ان کا بنیادی نصب العین ہے۔ یہی دیکھیے کہ عمران خاں کو اقتدار میںآئے ابھی فقط دو ماہ ہوئے ہیں، مگر ان کا محاسبہ اس طرح کیا جارہا ہے جیسے انہوں نے پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرلی ہو۔ ایک طرف سے آواز آتی ہے کہ تمہارے وہ وعدے کیا ہوئے جو تم نے قوم سے کیے تھے اور قسم کھائی تھی کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس جانے کے بجائے خودکشی کو ترجیح دیں گے اور ان کے اقتدار میں آتے ہی تارکین وطن ڈالروں کی بارش کردیں گے۔ دوسری طرف سے آواز آتی ہے کہ عمران خاں نے کہا تھا کہ وہ آٹھ ہزار ارب کا ٹیکس جمع کریں گے، ان کے دور حکومت میں تیل، گیس اور بجلی کی قیمتیں میںکوئی اضافہ نہیں ہوگا، مگر آج سب کچھ ان یقین دہانیوں کے خلاف ہورہا ہے۔ تیسری طرف سے آواز آتی ہے کہ آپ نے انتخابات میں کامیابی کے فوراً بعد تقریر میں کہا تھا کہ میں انتقام کی سیاست کے بجائے سب کو ساتھ لے کر چلوں گا، لیکن اب ہر اقدام سے انتقام اور خودنمائی کی بو آرہی ہے۔ یہ آواز چاروں طرف سے سنائی دے رہی ہے کہ تحریک انصاف کے پاس کوئی ٹھوس پروگرام ہے نہ باصلاحیت اور دیانت دار ٹیم جس کے باعث بار بار یوٹرن لیے جا رہے ہیں۔
یہ لوگ جو بڑھ چڑھ کر باتیںکر رہے ہیں، ان میں سے بیشتر عقل سے پیدل ہیں۔ بھلا دوماہ میں ہتھیلی پر سرسوں کیونکر جم سکتی ہے اور پختہ عادتیں کیونکر چشم زدن میں بدلی جاسکتی ہےں۔ یہ باولے لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ اپوزیشن اور حکومت کے کردار میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اپوزیشن میں آپ حکومت پر دباﺅ قائم رکھنے کے لیے بے رحم تنقید کرتے اور عوام کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے انہیں سہانے خواب دکھاتے ہیں، جبکہ حکومت میں ایک ایک قدم احتیاط سے اٹھانا پڑتا اور بڑے تحمل سے کام لینا ہوتا ہے۔ یہ سبب ہے کہ عمران خاں حکومت میں آنے کے بعد بڑی حدتک تبدیل ہوگئے ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو وعدوں اور دعوﺅں کے شکنجے سے آزاد کرلیا۔ اب اپوزیشن ان پر پہلو بدل بدل کر تیر چلا رہی ہے۔ اور یہ ثابت کر رہی ہے کہ ان کا اخلاقی دیوالیہ نکل چکا ہے اور حالات ان کے قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔وہ چونکہ زیادہ باولے افراد پر مشتمل ہے، اس لیے اس کے وار خالی جا رہے ہیں۔ یہ نادان اس حقیقت کا سراغ ہی نہیں لگاسکے کہ حکومت کی اصل طاقت کیا ہے اور وہ اس کا تحفظ کن ہتھیاروں سے کر رہی ہے۔
بلاشبہ بشریٰ بی بی سے شادی نے عمران خاں کی فیروز مندی کی راہیں کشادہ کیں۔ بی بی صاحبہ نے پیشین گوئی کردی تھی کہ خان صاحب کو وزیراعظم بننے سے کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔ تب کائنات کی ساری طاقتیں تحریک انصاف کو اقتدار میں لانے لیے کے فعال ہوگئی تھیں، مگر مسلم لیگ ن سخت جاں ثابت ہوئی اور ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ ووٹرکشاں کشاں پولنگ اسٹیشن تک پہنچے۔ اب اسی ’جرم‘ کا کڑا احتساب ہو رہا ہے اور ایک عمومی تاثر کے مطابق نیب کو ایک انتظامی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ عمران خاں اپنے جیالوں میں مقبول رہنے کے لیے کرپشن کے نام پر اپنے مخالف سیاست دانوں کو تختہ مشق بناتے اور یہ نعرہ بلند کرتے رہیں گے کہ کرپٹ عناصر ان کی پکڑ سے بچ نہیں پائیں گے۔ یہ باولے لوگ یہ بھی نہیں سمجھ پا رہے کہ اس نعرے کے ذریعے تمام سیاسی طاقتوں کی بیخ کنی مقصود ہے جو مانگی تانگی بیساکھیوں پر چلنے والی حکومت کے لیے چیلنج بن سکتی ہیں۔
میں نے اخبار میں پڑھا کہ عظیم خاتون جسٹس (ر) ناصرہ جاوید کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے جب کسی صحافی نے ان سے ولید اقبال کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے بڑے باوقار لہجے میںجواب دیا کہ اس کی پارٹی نے اس کی قربانی اور جاں فشانی کی قدر نہیں کی۔ ولید اقبال کا قصور یہ تھا کہ اسے انتخابات جیتنے کے لیے وافر وسائل میسر نہیں تھے، چنانچہ اس کی شب و روز کی سیاسی ریاضت اور سالہاسال کی وفا شعاری اکارت گئی۔ ان کے مقابلے میں ہمایوں اختر خاں انتخابات سے ذرا پہلے تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔ ان کے پاس دولت کی ریل پیل کے ساتھ انتخابات جیتنے کی مہارت بھی ہے، لہٰذا وہ ٹکٹ سے نوازے گئے۔میرے خیال میں عمران خاں نے گھسے پٹے اصولوں کے ساتھ بندھے رہنے کے بجائے غیر معمولی سیاسی فہم وفراست کا ثبوت دیا ہے کہ وہ اقتدار میں رہنے کے لیے اپنے جاں نثاروں کو قربانی کا بکرا بناتے اور موقع پرستوں کو سینے سے لگاتے رہیں گے۔
آج نیب حد درجہ بے لگام ہوگیا ہے اور اس نے قومی شخصیتوں، سیاسی رہنماﺅں اور علم کی دولت سے مالا مال اساتذہ کرام کو ذلیل و رسوا کرنا شرروع کردیا ہے۔ محترم پروفیسر ڈاکٹر اکرم چودھری جنہوں نے زندگی بھر نیک نامی کمائی، آٹھ سال سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے اور اسے اوج ثریا تک پہنچایا، انہیں نیب نے یونیورسٹی کے بعض معاملات کی تحقیقات کے سلسلے میں اپنے دفتر بلایا۔ وہ پہلے بھی اپنی صفائی پیش کرتے رہے ہیں۔ اس بار وہ گرفتار کرلیے گئے اور انہیں ہتھکڑیاں لگاکر احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس خبر کو سنتے ہی میرا پورا وجود لرز اٹھاکہ بارالہٰ میرے عزیز وطن میں یہ سانحہ بھی پیش آنا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ میری قوم صاحبان علم کی یہ ذلت و رسوائی برداشت نہیں کرے گی۔ اساتذہ کی تنظیمیں،اہل قلم اور اہل علم سراپا احتجاج بن جائیں گے اور نیب کے متعلقہ افسران کی گوشمالی کریں گے۔
ارباب حکومت کو بھی ہوش کے ناخن لینا ہوں گے، ورنہ اداروں کا احترام کم ہوتا جائے گا جس سے معاشرے میں افراتفری پھیلے گی اور جبر کے اندھیرے گہرے ہوتے جائیں گے۔ اس نوع کے بندوبست ماضی میں بھی کیے جاتے رہے ہیں، مگر چشم فلک نے دیکھا کہ وہ آخر کار مکڑی کا جالا ثابت ہوئے اور ہماری تاریخ میں باولے لوگ ہی معمار قوم کے طور پر جگمگا رہے ہیں۔
(بشکریہ:ماہنامہ اردوڈائجسٹ)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved