تازہ تر ین

”میں نے یورپ میں کیا دیکھا‘ سنا“

نگہت لغاری …. ….سچ
میرے بہت سے قارئین یقینا کئی بار یورپ گئے ہوں گے۔ بہت کچھ وہاں دیکھا اور سنا ہو گا لیکن میرے خیال میں ہر ایک کے دیکھنے اور سننے کا اپنا الگ انداز ہو گا۔
میں زندگی میں جب ”سمجھ“ کی کلاس میں داخل ہوئی تومیرا” مضمون خاص“ ”جستجو“ تھا‘ پھر جب ”سمجھ“ کی میٹرک کلاس تک پہنچی تو اپنے اس ”مضمون خاص“ میں اتنی محنت کر ڈالی کہ بہت کم عمری میں ہی میں نے لکھنا شروع کر دیا۔ مختلف رسالوں میں چھپنے لگی اور انعام آنے لگے۔ جب ”سمجھ“ کے ماسٹرز میں داخلہ لیا تو اپنے وقت کے بہت اعلیٰ پائے کے رسالے ”فنون“ ”نقوش“ اور ”اوراق“ وغیرہ میں چھپنے لگی۔ مدیران حیرت میں خط لکھنے لگے اور اب جب ان تحریروں کو میں پڑھتی ہوں تو مجھے خود یقین نہیں آتا کہ یہ میری قلم سے نکلے ہیں۔ بہرحال اب میں اپنے اسی مضمون خاص میں ڈاکٹریٹ کر رہی ہوں۔ اب تک تو میرا ”تھیسس“ بہت دلچسپ جا رہا ہے‘ لیکن مجھے لگتا ہے کہ جب میں اس کی ڈگری لینے جاﺅں گی تو میرے ہاتھ میں میری تعلیم کی اس آخری ڈگری کی بجائے زندگی کی آخری ڈگری تھما دی جائے گی۔ خدا کرے طالبعلم میرے اس ”تھیسس“ سے فائدہ اٹھا کر زندگی کی کامیابیوں کی امتیازی ڈگریاں حاصل کریں۔ بہرحال میں کھوج کی سیڑھی کے ذریعے زندگی کی خندق میں بہت نیچے تک اتر گئی ہوں۔ جس طرح ”کان“ میں اتر جانے والے مزدور بعض اوقات زندگی بھی ہار جاتے ہیں مگر بعض اوقات زخم زخم جسموں کے ساتھ باہر نکلنے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔ اس جانکاہی میں‘ میں نے بھی بہت زخم کھائے ہیں مگر مرہم بھی خود ہی ایجاد کی ہے۔ اس لئے کوشش کرتی ہوں کہ میرا ایجاد کردہ مرہم لوگ بھی استعمال کرکے دیکھیں شاید کچھ شفا پالیں۔
بہرحال میں پچھلے دس سال سے یورپ آجا رہی ہوں (بیٹے کے پاس) بیٹا ڈنمارک میں رہتا ہے مگر وہ پورا یورپ گھما لایا ہے اس لئے میرا ٹارگٹ پورا یورپ ہوگا۔ پہلے سال تو ڈنمارک کی سردی‘ برفباری اور جسم کو چیرنے پھاڑنے والی سردی نے کچھ دیکھنے اور سننے نہ دیا‘ پھر جب آہستہ آہستہ آب و ہوا سے یگانگی پیدا ہوئی تو وہاں دیکھنے اور سننے کے لئے آنکھوں اور کانوں کو کھولا اور ”جستجو“ کی لاٹھی کے سہارے گھر سے باہر سڑکوں پر نکل آئی۔ زیادہ کام دیکھنے سے ہی لینا پڑتا ہے کیونکہ یہاں کوئی کسی کی نہ سنتا ہے نہ سناتا ہے۔ جب یہاں ”خانہ واحدی“ کا ہی تصور نہیں تو ہم غیر لوگ جن کی زبان‘ مذہب اور روایات ہی ان سے الگ ہوں تو ہم کس کھاتے میں۔ وہ تو شکر ہے ان کی بولی (زبان) میں کچھ دسترس رکھنے کی وجہ سے میں جرا¿ت کرکے کچھ انہیں کہتی اور سنتی تھی۔ جہاں خانہ واحدی کا تصور ہی موجود نہ ہو وہاں غیرکیسے سما سکتے ہیں۔ 15‘ 16 سال کی عمر میں بیٹا اور بیٹی اپنی بے پناہ خوشی سے اپنے والدین کو خدا حافظ کہہ کر اپنے اپنے ایک ایک کمرے کے گھر میں الگ رہنا شروع کردیتے ہیں چاہے انہیں سڑکیں صاف کرنی پڑیں‘ سٹوروں پر رات گئے کام کرنا پڑے یا بڑے بڑے اداروں کے واش رومز صاف کرنے پڑیں یہ سب وہ اپنی ذاتی ضروریات کیلئے کرتے ہیں۔ تعلیمی اخراجات بلکہ نوکری ملنے تک کے اخراجات حکومت عطا کرتی ہے۔ شادی کا ٹنٹا کوئی پالتا ہی نہیں۔ گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کاہی عام تصور ہے۔ ایک ہی کمرے میں بوائے فرینڈ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ مدتوں رہتا ہے۔ دونوں اپنا اپنا کام خود کرتے ہیں‘ اپنا اپنا خرچہ خود اٹھاتے ہیں۔ اگر بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کے درمیان کسی بات پر اختلاف ہو جاتا ہے تو نہ گالی گلوچ نہ مارکٹائی‘نہ طلاق اور خلع کی دھمکی اورنہ عدالتوں کے پھیرے‘ نہ جہیز اور بری واپس مانگنے کے مطالبے‘ دونوں ایک دوسرے کو وہ انگوٹھیاں جو نام نہاد شادی کے وقت دی ہوتی ہیں ایک دوسرے کو واپس کر کے خوش اسلوبی سے اپنی اپنی راہ لیتے ہیں۔ بچوں کا معاملہ بھی خوش اسلوبی سے طے ہو جاتا ہے جو فریق رکھنا چاہے بسم اﷲ۔ اﷲ اﷲ خیر صلا۔
یورپ میں اتنا ڈسپلن اتنی ایمانداری اور اتنی درستگی ہے کہ انسان کا دل اکتا جاتا ہے۔ آپ سڑک پر تھوک نہیں پھینک سکتے‘ چھلکا اور سگریٹ کا ٹکڑا نہیں پھینک سکتے۔لوگ اپنے اپنے پالتوجانوروں کو سڑک کے کنارے میں حاجت ضروریہ سے فارغ کراتے ہیں۔ ہاتھ میں شاپر پکڑ کر کھڑے آرام سے اس کی فراغت کا حوصلے سے انتظار کرتے ہیں جیسے ہی وہ فارغ ہوتا ہے یہ برق رفتاری سے اس فضلے کو شاپر میں ڈالتے ہیں اور اگر کوئی ڈسٹ بن دور ہے تو اس امانت کو بصد احترام ہاتھوں پر اٹھائے ڈسٹ بن کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ ہر شخص تیزرفتاری میں بھاگ رہا ہے۔ کوئی کسی کا راستہ نہیں کاٹتا، کوئی گاڑی ہارن نہیں بجاتی، ملک کی حاکم ملکہ عالیہ صرف دو موٹرسائیکل سوار دستے میں زوں سے اپنی گاڑی خود چلاتی ہوئی نکل جاتی ہے۔ الیکشن کے وقت کوئی امیدوار گلے میں اپنی مقدس کتاب لٹکائے ووٹ مانگنے نہیں جاتا اگر کوئی مطالبہ منوانا ہو تو کچھ لوگ گروہ کی صورت میں منہ پر ٹیپ لگائے اپنے مطالبات کا کاغذ ہاتھ میں پکڑ کر ملکہ کی رہائش گاہ کے سامنے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔
یہاں انسان نہیں ایک مشین یا روبوٹ کی طرح کام کرتا ہے۔ ایسی سائنسی ترقی کہ انسان کی عقل دنگ رہ جائے۔ سڑکوں پر انسان نہیں برف کے بلاک چل پھر رہے ہیں۔ کسی کے اندر جذبات یا احساسات کی تپش نہیں۔ اسی لئے تو یہاں کے بارے میں غیراخلاقی مظاہروں کی کہانیاں عام ہیں۔ دراصل یہ لوگ اتنے مصروف ہیں کہ اگر سڑک کے کنارے چلتے ہوئے یا کسی ریسٹورنٹ میں کافی سامنے رکھے یا دفتر میں فائل پر کام کرتے ہوئے کسی میں کوئی تحریک پیدا ہوتی ہے تو وہ اسے غنیمت سمجھ کر وہیں اسی جگہ عمل پیرا ہو جاتے ہیں۔ بھاڑ میں جائیں اردگرد کے دیکھنے والے۔ ایسے لگتا کہ صفائی ستھرائی اور زندگی کی سہولیات حاصل کرنے کا انہیں جنون ہو گیا ہے اور انسان کے ہاں اپنے اندر کے فطری جذبات احساسات اور محسوسات کو کوڑا سمجھ کر ڈسٹ بن میں پھینک دیا ہے۔ خدا نے انسان کو جن اجزائے ترکیبی سے بنایا ہے۔ انہوں نے اس میں سے بہت سے اجزا غیر ضروری سمجھ کر اپنے سائنسی چمٹوں سے پکڑ کر الگ پھینک دیئے ہیں۔ ابھی اور بہت سے پہلو ہیں جن پر لکھنا چاہتی ہوں جو میرے قارئین کیلئے رونے اور ہنسنے کے عجیب اسباب ہوں گے شاید کسی اگلی قسط میں لکھوں لیکن فی الحال اگلا کالم ملکی حالات پر ہوگا جنہوں نے بہت پریشان کر دیا ہے۔ بس اتنا ہی کہوں گی ” خان صاحب گھبرائیے مت“ قوم آپ کے ساتھ ہے، چور مچائے شور پر ہرگز کان نہ دھریں۔
(کالم نگارانگریزی اوراردواخبارات میں لکھتی ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved