تازہ تر ین

حکومتی رٹ برقرار رکھنا ہوگی

سجادوریا……..گمان
گزشتہ دنوں پاکستان ملکی اور عالمی میڈےا کی توجہ کا مرکز بنارہا ،اس کی وجہ سپریم کورٹ کا فےصلہ تھا جس مےں عدالت نے آسےہ مسیح کو رہا کرنے کا حکم دیا۔تحریک لبےک کے علامہ خادم رضوی نے اپنے کارکنوں کو حکم دیا کہ احتجاج کیا جائے۔احتجاج کے نام پر شروع ہو نے والے اس مظاہرے نے کہیں کہیںدنگا فساد اور توڑپھوڑ کی شکل اختےار کر لی۔تحریک لبیک کی قیادت نے ان شرپسند عناصر کی سرگرمیوں سے لاتعلقی کااظہار کیا جو خوش آئند امر تھا۔
میرا سوال یہ ہے کہ کےا جن لوگوں کی دکانےں ،گاڑےاں اور کاروبار جلائے گئے اور لوٹے گئے ،وہ مسلمان نہیں تھے؟کیا وہ نبی محترم سے محبت نہیں کرتے تھے؟۔ہنگامے‘جلاﺅگھےراﺅ اور توڑ پھوڑ کرنے والے نبی کی عزت و ناموس کا کےسا دفاع کر رہے تھے؟
جےسا کہ تاریخ گواہ ہے کہ اس نازک موضوع پر ہر طبقے کو حساس اور محتاط ہو نا چاہیے۔عیسائی برادری اور دوسری اقلیتوں کو بھی پاکستان کے مسلمانوں کے اسلامی اور مذہبی عقائد کا احترام کرنا چاہیے۔اےک آسیہ کیس نے پوری پاکستانی قوم کو ہیجان مےں مبتلا کر رکھا ہے۔اربوں روپے کی املاک کا نقصان الگ ہے۔اب آتے ہےں اس معاملے پر کہ کیارےاست کی عملداری ہو گی؟ےا پھر جتھوں کی حکمرانی ہو گی؟ڈنڈا بردار جب باہر نکل آئےں ہر چیز تہس نہس کر دےں تو حکومت جا کر ان سے معاہدہ کر لے؟ حکومت کو کمزوری نہیں دکھانی چاہیے اپنی رِٹ قائم کرنا ہو گی ۔ہر صورت مےں قانون و آئین کی بالا دستی قائم کرنا ہو گی ورنہ رےاست اور حکومت کا تصور ختم ہو جائے گا۔ےہ منظر اےسا ہی ہو جائے گا جےسے ماضی میںالطاف حسےن کراچی مےں اپنے جتھوں کے ذریعے ملک سے باہر بےٹھ کر حکمرانی کرتا رہالیکن جب اداروں نے اپنا وجود منواےا،الطاف حسےن تو کیا اب اےم کیو اےم بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے،کوئی الطاف حسےن کا نام لےنے کو تےار نہیں ہے۔تحریک لبےک سے مذاکرات کیے گئے اس مےں کوئی بری بات نہیں ،اس مےں ےہ حکمت شامل تھی کہ بڑے جانی نقصان سے بچا جا سکے۔برائی اس بات مےں ہو گی کہ ان کے سامنے رےاست و حکومت لےٹ جائےں۔ان سے کیے گئے معاہدے کی پاسداری کی گئی لےکن توڑ پھوڑکرنے والوں سے حساب ضرور لےنا چاہئے۔ان پر مقدمات قائم کیے جائےں‘ ان کو عدالتوں مےں پےش کرنا چاہئے۔ان کے خلاف اےکشن لےنا حکومت اور رےاست دونوں کی ذمہ داری ہے۔
قرآن پاک مےں اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ”اے مےرے محبوب،ہم نے آپ کاذکر بلند کر دیا ہے“۔ہر مسلمان کا یہ ایمان ہے کہ نبی کریم آخری نبی ہیں اورہر مسلمان تحفظ ناموس رسالت کے لئے اپنا تن من دھن قربان کرنے کے لئے رہتا ہے۔میں سمجھتاہوں اہلسنت والجماعت برےلوی مسلک پاک وہند کے سب سے زیادہ پر امن لوگ تھے اور ہےں۔انہوں نے کبھی بھی قانون کو ہاتھ مےں نہیں لیا۔ےہ متشدد طبقہ اپنے ذاتی مفاد وتشہیر کے لیے نبی کا نام استعمال کر رہا ہے۔کیا وزیراعظم مسلمان اور رسول کا غلام نہیں؟اس کا عمل اس بات کی گواہی نہیں کہ وہ مدینہ پاک کی سر زمین پر ننگے پاﺅں حاضر ہو تا ہے؟کیا اسے کسی سے عشق نبی کا سرٹیفکےٹ لےنا ہو گا؟کیا اداروں کے سربراہان کوبھی کسی سے سرٹیفکیٹس لینا ہوں گے؟
مےں سمجھتا ہوں کہ کچھ بھی ہو حکومت کو اپنی رٹ حکمت سے بحال کرنا چاہئے۔پرتشدد کارروائیاں کرنے والوں سے سے تباہ ہونے والے کاروبار اور املاک کا نقصان پورا کیا جائے۔مےں دےکھ رہا ہوں کہ بعض لوگ اےک نئی راگنی پر اےک نےا راگ الاپ رہے ہےں کہ معاہدے پر عمل کرنا چاہئے،معاہدے کے بعد کےسز نہیں کرنا چاہئےں۔اس طرح رےاست کا اعتبار قائم نہیں ہو گا ،مےں تو ان ”دانشوڑوں“ کی دانش پر حےران ہوں کہ کیا حکومتوں نے طالبان سے مذاکرات نہیں کیے تھے؟کیا رےاستِ پاکستان اور حکومتِ پاکستان نے سوات مےں طالبان سے معاہدہ نہیں کیا تھا؟پھر کیا ہوا ؟ طالبان کہاں ہےں؟کیا پھر آپرےشن نہیں ہوئے اور رےاست کی رِٹ قائم نہیں ہوئی؟مےرے خےال مےں تو کئی قلمکار بغض عمران مےں دھت ہےں اور ان کا مشن ہی مخالفت ہے،اگر اچھا بھی ہو رہا ہو تو بھی ان کی سانسےں پھولی رہتی ہےں اور ہر کام کی مخالفت کر نے کے لئے ادھار کھائے بےٹھے ہےں۔
تحریک لبےک کے معاہدے پرقائم رہتے ہوئے بھی ،حکومت اپنا کام جاری رکھ سکتی ہے۔مذہبی معاملات کو چھےڑنے کی ضرورت نہیں،صرف انتظامی اور قانونی معاملات مےں ان کی گرفت کی جائے۔بلوائیوں سے نقصان پورا کیا جائے۔ان کے رہنماﺅں سے بد زبانی کا حساب لیا جائے۔ان کی گرفت نہ کی گئی تو ےہ اےک رسم چل پڑے گی ، فسادیوں کو کٹہرے مےں لاےا جائے۔جب پوری قوم متفق ہے کہ آئین ہی بالا دست ہے اور آئین بھی اسلام کی چھتری مےں ہے،اس مےں اسلامی دفعات ہےں۔ پاکستان کا مسئلہ ےہ ہے کہ کو ئی بھی شعبہ لے لےں ،ادارے اور قانون چھوٹے اور شخصےات بڑی ہو چکی ہےں۔سےاسی جماعتےں ،مذہبی جماعتےں،جتھہ بردار گروپس ،سب ہےں کہ شخصےات کے گرد گھوم رہے ہےں ،جمہوری کہلانے والی شخصےات بھی اپنے کرپشن مےں ڈوبے لیڈروں کا دفاع کرتے نظر آتے ہےں۔اب وقت آ چکا ہے کہ ان شخصےات کے بتوں کو توڑا جائے اور قانون کی عملداری قائم کی جائے۔الطاف حسےن سے اس کا آغاز ہو چکا ہے‘نواز شریف اورزرداری کے بعد دیگر شخصیات کے بتوں کو بھی پاش پاش کرنا ضروری ہے۔تاکہ آئندہ نسلےں اےک روشن خےال پاکستان کی وارث بن سکےں ۔رےاست اور آئین کی رٹ ہی پاکستان کو روشن دریچے دکھا سکتی ہے۔
(کالم نگارقومی اور بین الاقوامی ایشوز پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved