تازہ تر ین

ہزارہ بے چارہ

انجینئر افتخار چودھری …. باعث افتخار
ہزارہ ہی تھا جس نے بھاگتے صوبہ سرحد کو پختونستان بننے سے روکا۔شائد اسی لئے اسے اسی ”جرم“ کی سزا دی جا رہی ہے۔ہزارہ بے چارہ کس طرف جائے۔نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔لوگ ایسے ہی نہیں الگ ملک،صوبہ مانگتے ،اس لئے کہ جب ان کی کوئی سنتا نہیں تو شور تو اٹھے گا۔ہزارہ صوبہ کی تحریک تو خون بھی دے چکی۔ اے این پی کے دور میں ۱۲ اپریل کے خونیں دن کو کوئی نہیں بھول سکتا۔اس تحریک کے بھگوڑے مختلف پارٹیوں میں مزے لوٹ رہے ہیں۔اور صوبہ ہزارہ ادھر کا ادھر ہی ہے۔سردار حیدرزمان جو اب اس دنیا میں نہیں ہے ‘ان کا تخت خالی ہونے کے بعد لگتا ہے مدتوں خالی ہی رہے گا۔ مجھے دکھائی دیتا ہے جنوبی پنجاب کوبھی شناخت مل ہی جائے گی۔وسیب سے عثمان بزدار ان استعماری قوتوں کے لئے پیغام ہے جو ہر اچھی چیز کو اپنا نصیب سمجھ کر ہڑپ کر لیتے تھے ۔شائد یہی وجہ ہے کہ عمران خان کو دو ماہ میں چار مرتبہ لاہور آ کر بتانا پڑا کہ سورج اب ادھر سے نکلے گا جو برس ہا برس دبے رہے۔ مگر ہمارے لیڈروں کو چھوٹی موٹی گولی مل جائے تو ڈکار مارتے نظر آتے ہیں۔
روشنیوں کے شہر اسلام آباد کے سر پر بھی روشنیاں راج کرتی ہیں۔چراغ تلے اندھیرا تو آپ نے سن ہی رکھا ہو گا اگر نہیں تو میں آپ کو دکھائے دیتا ہوں ۔پیر سوہاوہ ٹاپ کے پیچھے ایک نگر آباد ہے جہاں کے لوگوں کو رات گئے اسلام آباد کی روشنیاں تو نظر آتی ہیں مگر وہ خود اس سے مستفید نہیں ہیں ۔یہ علاقہ ہری پور میں واقع ہے جہاں سے ہری پور پہنچنے کے لئے دو گھنٹے لگتے ہیں اور اسلام آباد کے پچھواڑے کے لوگ دارالحکومت میں ایک گھنٹے میں پہنچ جاتے ہیں۔ایک سڑک جو ایوب دور میں شروع ہوئی تھی وہ چند سال پہلے ہی پایہ تکمیل تک پہنچی ہے۔ وہاں تک پہنچی ہے جہاں تک اسلام آباد ہے‘ تھانہ مکھنیال میں داخل ہوں تو لگتا یوں ہے کہ موئنجو دڑو کے زمانے میں اپنی گاڑی اس وقت کی بیل گاڑی بن گئی ہے۔ بجلی کا میں نے ذکر کیا ہے وہ اب ہے تو سہی مگر سرگی کے تارے کی مانند ہے جس طرح یہاں کے لوگ اس سے لو مانگتے رہتے ہیں ایسے ہی بجلی کو بھی ساکنان علاقہ ترس جاتے ہیں۔دم آیا آیا نہ آیا۔ دو روز پہلے جبری میں ایک شادی پر وزیر توانائی جو نقشہ کھینچ رہے تھے اس سے امید کی کرن پیدا ہو گئی ہے۔دیکھیں کیا ہوتا ہے۔اس علاقے کی ساری سیٹیں ترینوں کے پاس ہیں اگر بدل دیا تو ٹھیک وگرنہ یہاں کے لوگوں کا کیا پہلے بھی اندھیروں میں رہے اب بھی رہ لیں گے۔آپ میری یہ بات جان کر حیران ہوں گے کہ اس علاقے میں کوئی کالج نہیں ہے ،کوئی ٹیکنیکل ادارہ نہیں ہے۔ یہاں کے لوگوں کا ذریعہ معاش اسلام آباد میں آ کر چھوٹی موٹی مزدوری کرنا‘ فوج کی ملازمت اور اب کچھ عرصہ سے خلیج کی ریاستوں اور سعودی عرب میں محنت مزدوری کر کے گھر کا چولہا جلانا۔ان کی اس بد قسمتی کی ذمہ داری اس علاقے کی قیادت پر ڈالتے ہوئے مجھے کوئی باک محسوس نہیں ہوتا‘ یہاں راجہ سکندر زمان ایک عرصہ تک بے تاج بادشاہ رہے‘ ان کے پاس گورنری وزارت اعلی پانی بجلی کی وزارت رہی۔سینئر منسٹر بھی رہے ۔لیکن افسوس کہ وہ اس پورے علاقے کی تقدیر بدلنا تو کیاان کی شب تاریک کو سیاہ تر کرتے رہے۔یہی بد قسمتی ان لاکھوں لوگوں کے مقدر میں لکھی رہی۔ہری پور کے اس پسماندہ ترین علاقے کی قسمت آج بھی راہنما کی منتظر ہے جو اس علاقے کے مقدر جگا سکے۔آپ حیران ہوں گے اس خوبصورت وادی جسے ہرو ندی نے چار چاند لگا رکھے ہیں جبری پل سے لے کر خانپور ڈیم تک جو15 کلو میٹر کا فاصلہ ہے اس پر کوئی اور پل نہیں۔بارش میں ندی کے اس پار کے لوگ ادھر نہیں آ سکتے اور ادھر کے ادھر نہیں جا سکتے۔یہ ندی ہر سال چند حرماں نصیبوں کی جان لیتی ہے۔خانپور ڈیم جو اپنے پانیوں سے میدان پنج کٹھہ سے لال سرخ مالٹے پیدا کرتا ہے مجھے لگتا ہے بھاٹی ببھوتری بوکنہ اور دیگر دیہات کے ان لوگوں کے خون کی سرخی ریڈ بلڈ مالٹوں میں منتقل ہو جاتی ہے۔اس علاقے کے لوگ مریضوں کو چارپائیوں پر لاد کر خانپور یا لورہ ہسپتالوں میں لے کر جاتے ہیں۔بہت سوں نے راجاﺅں کے اس دیس میں جہاں کبھی کبھی ترین بھی اقتتدار کا مزہ لوٹتے ہیں بلکہ اب تو قومی اور صوبائی کی سیٹیں ایک ہی گھر میں ہیں ہیں یہاں مختےار گجر اور بیدار شاہ نے انقلاب لانے کی کوشش کی مگر پہاڑ جیسے مسائل جو قیام پاکستان کے وقت کے تھے انہیں حل کرنا ان کے بس کی بات نہیں تھی۔ماﺅں کے بچے صرف دو وقت کی روٹی کے لئے پنڈی اسلام آباد سے کراچی تک تلاش رزق کے لئے ہی نہیں گئے دنیا کے کونے کونے میں پہنچے مجھے 2004ءمیں ملائیشیا جانے کا اتفاق ہوا وہاں جنگ عظیم دوم کے شہداءکی ایک یاد گار پر جانے کا موقع ملا میں نے دیکھا کالا خان میرداد اور اس قسم کے ناموں سے مزین تختی مجھے پکار پکار کہہ رہی تھی روٹی کے متلاشی تمہارے ہی گرائیں تھے۔اب بھی فوج میں اس علاقے کے جوانوں کی بڑی تعداد ہے۔ آئے دن ان دیہات کے بچوں کی لاشیں آتی ہیں جو کبھی کراچی میں کسی لسانیت پرست کی بوری میں بند ہوتا ہے یا سیاچین وانا وزیرستان میں کام آتا ہے۔میں تو اس حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں شہداءکی اس دھرتی پر سڑکیں‘ ہسپتال اورتعلیمی ادارے بنائے جائیں۔یہاں ریڈ بلڈ مالٹے ہی نہیں لال سرخ خون دینے والوں کی کمی نہیں ہے۔فاٹا بلوچستان کی طرح فوج یہاں ہسپتال اور ٹیکنیکل ادارے بنائے۔
پی ٹی آئی کی حکومت ہوا کا ایک تازہ جھونکا ہے۔لیکن لوگ چاہتے ہیں کہ اس علاقے میں صوابی‘ نوشہرہ اور پشاور جتنے فنڈز خرچ کئے جائیں۔صوبے کے حکمران اٹک کے اس پار بھی دیکھ لیا کریں خاص طور پر پے کے اکتالیس کی یہ پہاڑی یونین کونسلیں آپ کی توجہ چاہتی ہیںاس علاقے کو سیاحتی علاقہ بنایا جائے۔میں اپنے دوست یوسف ایوب سے بھی گزارش کروں گا کہ الیکشن کے دنوں میں کئے گئے وعدے پورے کریں ۔لوگوں نے خونی رشتے بالائے طاق رکھ کر بلے کو ووٹ دیا ہے اس نشان کی لاج رکھیں۔ نیلاں بھوتوکوہالہ درکوٹ جبری نلہ جنڈی ببھوتری اور اپر خانپور انصاف مانگتا ہے۔جبری بنگلہ سے نجف پور روڈ کو اگر نہ بنایا گیا تو اس علاقے کے ساتھ بڑا ظلم ہو گا۔ترناوہ کوہالہ روڈ کی حالت کسی بیوہ کی اجڑی ہوئی مانگ سے کم نہیں۔پتہ نہیں لوگوں کو اسلام آباد سے موئن جو دڑو کیوں لے جایا جاتا ہے انہیں اس سڑک کی زیارت کرا دی جائے تو مقصد پورا ہو جائے گا۔اس اندھیر نگری پر کیا لکھوں بس اتنا لکھے دیتا ہوں کہ حق دار را حق رسید ہونا چاہئے۔ اگر تحریک انصاف لوگوں کو انصاف نہ دے سکی تو یاد رکھئے ہزارہ کے دیگر علاقوں کا تو پتہ نہیں اس علاقے سے ایک بار سخت شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مسند اقتدار پر بیٹھے لوگوں کو اس دنیا میں جواب تو دینا ہی ہو گا آخرت میں بھی پوچھے جائیں گے۔ کسی نے ہزارے وال سے پوچھا کہ آپ کے ہاں کون سی فصل ہوتی ہے جواب دیا شہداءکی۔یہاں دوسری جنگ عظیم سے لے کر پینسٹھ اکہتر‘ کارگل، وانا، سوات،کراچی کے شہید پائے جاتے ہیں ۔ وطن کے لئے قربانی دینا ہمارا اعزاز ہے لیکن یہاں ہسپتال،سکول،کالج،سڑکیں ہونا بھی ضروری ہے۔ایک ہزارے وال ہونے کے ناطے میرا دکھ کسی دوسرے سے مختلف نہیں ہے۔ہمارے سانجے دکھ مدتوں دکھ ہی رہیں گے۔ہزارہ دیس اگر ہزارے والوں کو نہیں ملتا۔تو شاید ہماری نسلوں کے نصیبوں میں کراچی،گجرانوالہ،پنڈی کے قبرستان ہوں گے۔میں دو روز پہلے اپنے ماموں زاد کو بکسے میں دیکھ کر آیا ہوں جس نے تیس سال کراچی میں گزارے اور مرتے وقت کہا مجھے موضع لسن جو یو سی لنگڑیال میں ہے لے جاﺅ وہاں سونا چاہتا ہوں۔ہزارہ تو خوبصورت تو بہت ہے مگر تیرے بیٹے کم ہی واپس آتے ہیں۔(میرا ہزارہ کے پروگرام جو اسلام آباد پریس کلب میں ہوا وہاں پڑھا گیا)
( تحریک انصاف کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved