تازہ تر ین

توہین اور قانون

جاوید کاہلوں….اندازِفکر
چودھری فواد حسین نے بجا کہا کہ آسیہ مسیح کی رہائی کے بعد پھوٹنے والے فسادات میں حکومت نے فقط آگ ہی بجھائی ہے یا صرف فائر فائٹنگ ہی کی ہے۔ مسئلے کا دیرپا حل ڈھونڈنا ابھی باقی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے دیگر ذمے داران کی ملک میں عدم موجودگی کے باعث صرف فابر فائٹنگ ہی ہو سکتی تھی جبکہ ناموس رسالت کے مسئلہ کی صحیح نشاندہی، اس کی حد بندی، تعین ‘حدود و قیود اور مستقبل کی پیش بندیوں سے متعلق حکومت کو اعلیٰ اختیاراتی کمیٹیاں بنا کر نہ صرف مزید قانون سازی بلکہ اس پر عمل درآمد کروانے کے سلسلے میں بھی ایک واضح لائحہ عمل مرتب کرنا ہو گا۔ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ جب جی چاہے کوئی لاٹھی بردار گروہ اٹھے اور وطن کی گلیوں محلوں تک میں فسادات بھڑکا دے، توڑ پھوڑ کرے قتل و غارت گردی کو ہوا دے اور جو جی میں آئے ویسے فتوے چھوڑتا پھرے۔ اس قسم کی صورتحال تو کوئی ”بنانا ری پبلک“ بھی برداشت نہیں کرتی چہ جائیکہ ایک ایٹمی قوت میں ایسا کھلواڑ کھیلا جائے۔ موجودہ بدامنی کی لہر میں پنجاب میں بالخصوص کافی کربناک مناظر دیکھنے کو ملے۔ یہاں تک کہ ذاتی املاک کی آتش زنی کے علاوہ بے گناہوں کے خون سے بھی ہاتھ رنگے گئے۔ ناموس رسالت کے نام پر اسی رحمتہ اللعالمین کے ماننے والے دس بارہ برس کے بچے کی ریڑھی کے اوپر پڑے کیلوں تک کولوٹ لیا گیا۔ ایک بڑے شہر کے چوک پر ایک باریش شخص ہاتھ میں ننگی تلوار پکڑے راہگیروں سے الجھتے پائے گئے جس سے کہ ٹریفک آناً فاًنا بلاک ہو گئی۔ کسی دل جلے نے یہ منظر سوشل میڈیا پر ڈال دیا۔ کہنا یہ مقصود ہے کہ بعض اوقات مذہبی نعروں میں ایسی آگ بھری نظر آ سکتی ہے کہ سرکار علیہ السلام کا امتی بھی وہ روپ اختیار کر لے جیسا کہ بابری مسجد کی شہادت کے وقت انتہا پسند ہندو ہاتھوں میں ننگی تلواریں لہراتے نظر آتے تھے۔ حالانکہ کہاں اس سراپا رحمت کا نام لیوا اور کہاں یہ ہندو بت پرست، ان دونوں انتہاﺅں کے پیروکار ایک سے کیونکر نظر آ سکتے ہیں؟ ہمارے خیال میں یہی وہ سوال ہے کہ جس پر اہل علم کو غورو فکر کر کے اب ایک جائز مذہبی راہ نکالنی ہے۔ کیا سرکار مدینہ کا نام لیوا، آپ کے نام مبارک کی ناموس کی آڑ میں مزدور بچے کے کیلے لوٹ سکتا ہے؟ یا پھر ایک شرع پوش عمامہ پہنے، سڑکوں پر کھڑے ہو کر بے گناہوں پر ننگی تلوار سونت سکتا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایسے لوگوں کا تحریک لبیک سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔ اور اگر یہ بات فی الحقیقت بھی ایسی ہی ہے تو پھر تحریک کے ذمے داروں کو ایسی گندی مچھلیوں کو اپنی صفوں سے علیحدہ کر کے قانون کے حوالے کر دینا چاہئے اور مقدمات کی واپسی کی لسٹ میں سے بھی ایسے ناخلفوں کے نام باہر نکال دینے چاہئیں۔
بہر حال! یہ تو تصویر کا فقط ایک رخ ہے۔ اس کا دوسرا رخ حکومت اور تیسرا ہماری عدالتوں سے متعلق ہے۔ جہاں تک حکومت کا تعلق ہے تو اس کو ہر طریقے سے ، سب سے پہلے تو اس معاہدے کی ہر شق پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنانا ہو گا۔ یہ نہ ہو کہ ”آگ بجھائی“ کی آڑ میں وہ اس معاہدے سے روگردانی کریں یا اس کی کسی بھی شق پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنے سے کنی کترائیںجو ان کے وزراءاور تحریک کے رہنماﺅں کے درمیان طے پا چکا ہے۔ اور جو کہ ٹیلی وژن اور اخبارات کے علاوہ سوشل میڈیا کے توسط سے ہر کس و ناکس کے اب علم میں ہے۔ یاد رہے کہ یہ نہ صرف حکم نبی ہے بلکہ تو اتر سے سنت نبی بھی ہے کہ عہد کو ہر حال میں نبھایا جائے۔ دوسرے حکومت کو چاہئے کہ تجربے سے سیکھے۔
ہم نے ابھی ماضی میں دیکھا کہ ن لیگ کے ناعاقبت اندیشوں نے نہ جانے کس کو خوش کرنے کے لئے ختم نبوت کے حلف نامے کو چھیڑا تو ملک میں آگ لگ گئی اور حکومت کو اگلے ہی روز نہ صرف اس تحریف کو حذف کرنا پڑا بلکہ رسوائی کے ساتھ اپنے وزیر قانون سے بھی استعفیٰ لینا پڑ گیا۔ تحریک لبیک نے جب عام انتخابات میں حصہ لینے کا سوچا تو پاکستانیوں نے انہیں سینکڑوں نہیں‘ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں جوق در جوق ووٹ بھی ڈالے۔ سو جب حالات ایسی ڈگر پر تھے تو ابھی جو کچھ آسیہ کیس کے فیصلے پر ردعمل آیا ہے‘ وہ کچھ بھی عجب نہیں‘ ایسا تو ہونا ہی تھا۔ ہاں اب اگر یہ آگ کچھ ٹھنڈی پڑی ہے تو اس پرنہ تو اب سونے کا وقت ہے اور نہ ہی اس معاملے پر مٹی ڈالنے کا۔ اس پر حکومت کو مزید کیا کرنا چاہئے؟ اس پر انہی صفحات میں مزید علیحدہ عرض ہوگی۔
اب رہ گئی بات عدالتوں کی تو عدالتوں کا وجود اسی معاشرے کی مرہون منت ہوتا ہے‘ جس میں کہ وہ رہتی بستی ہیں۔ یہ درست ہے کہ قوانین کا اطلاق بے لچک اور یکساں ہونا چاہئے مگر کوئی وطن‘ ملک اور معاشرہ سلامت رہے گا تو ہی قانون و آئین چلے گا۔ وگرنہ آئین و قانون تو فقط کاغذوں ہی میں لکھا جاتا ہے ۔ موٹی سی مثال بنگلہ دیش کے قیام کی ہے۔ حالات بگڑے تو مشرقی پاکستان ہنگاموں اور لاقانونیت کی زد میں آگیا۔ آئین و قانون کے مطابق شیخ مجیب وغیرہ گرفتار ہوئے تو اگلے روز ذوالفقار علی بھٹو نے بھی بیان داغا کہ شکر کریں کہ قانون کے نفاذ سے ملک بچ گیا ہے۔ عدالتوں نے سزائیں سنانا شروع کردیں سو قانون تو نافذ ہوگیا مگر چند ہی ماہ بعد بنگلہ دیش بن گیا۔ پھر ڈھاکہ اور گردونواح میں آخر دسمبر 1971ءتک نہ تو کوئی پاکستانی قانون رہا اور نہ پاکستانی آئین۔ ڈھاکہ آج بھی اُدھر ہی ہے‘ یہ کیا فائدہ ہوا۔ کہنا یہ مقصود ہے کہ قانون کا بے لچک نفاذ اپنی جگہ مگر ہر معاشرے کی عدالتوں کو اپنے معروضی حالات پر بھی گہری نظر رکھنا چاہئے۔ عدالتیں اپنے فیصلے خلاﺅں میں نہیں بلکہ جیتے جاگتے معاشروں میں کرتی ہیں‘ جن کے عمومی رویے بسااوقات قوانین کے تابع نہیں رہتے۔ سوایسے فیصلے جن سے فساد فی الارض پھیلنے کا خطرہ ہو یا جن کے نفاذ میں دشواریاں پیش آسکتی ہوں‘ ان کو اس تناظر میں بھی پرکھ لینا چاہئے۔ اس نقطے پر خصوصی طور پر اس عدالت کو ضرور نظر رکھنی چاہئے جس کے بعد تمام قانونی اور آئینی راستے ختم ہوجاتے ہوں کیونکہ ماتحت عدالتوں میں اگر قوانین کے بے لاگ اطلاق سے کچھ ایسے فیصلے ہو بھی جائیں تو ”اپیل“ کے کھلے راستے کی وجہ سے معاشرتی رویے کو کنٹرول میں رکھنا قدرے آسان ہوتا ہے۔ موجودہ فیصلے ہی کو دیکھیں تو اگر اس کے بعد ایک ”نظرثانی اپیل“ کی گنجائش باقی نہ ہوتی تو آج معاملہ کدھر ہوتا؟ اللہ بہتر جانتا ہے۔ تلوار اٹھائے اس نام نہاد مولوی کے سامنے آپ آئین و قانون کی کتاب کیسے کھولتے اور وہ اس کتاب میں کیا پڑھتا۔اس لئے میرے خیال میں عدالتوں کو اپنے فیصلے سنانے سے قبل اپنے معاشرتی رویوں کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے ۔قانونی و آئینی باریک بینیوں کا ایک غیرمعمولی ادراک ہونا ایک اعلیٰ بات ہی سہی مگر مت بھولیں کہ زمینی حقائق اور قانونی باریکیاں ملا کر ہی ایک اعلیٰ فیصلہ ہوسکتا ہے۔ فقط کسی ایک فیکٹر سے نہیں۔
اب آنے والے دنوں میں نظرثانی اپیل پر انشاءاللہ پیش رفت ہوگی۔ اس پر فیصلے سے قبل جہاں پر علماءاور معاشرے کو اپنے ہیجان انگیز معاشرتی رویے اور عدالت میں دلائل سے اپنے مقدمے کو ”ری وزٹ“ کرنا ہوگا‘ وہیں پر حکومت کو اپنا عہد نبھانے اور قوانین میں بہتری لانے کی طرف توجہ کرنا ہوگی۔
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved