تازہ تر ین

جسٹس جاوید اقبال کی قےادت میںنیب کامےابی کا سفر

ناصر عباس
جب مجھے معلوم ہوا کہ نیب اب تک 297ارب قومی خزانے میں جمع کرا چکا ہے تومجھے بڑا عجیب لگا۔ میں نے نیب کے اسلام آبادآفس کا وزٹ کیا، وہاں آفیسرز سے ملاقاتیں کیں -نیب کے طریقہ کار کو سمجھا-مجھے اندازہ ہوا کہ جب سے جسٹس جاوید اقبال نے نیب کے چئیر مین کی ذمہ داری سنبھالی ہے اس کی کارکردگی میں بے پناہ اضافہ ہو ا ہے۔ قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین جناب جسٹس جاوید اقبال نے نیب کے چیئر مین کی ذمہ داری کس طرح پوری کی اس کا اندازہ نیب کی شاندار کارکردگی سے لگایا جاسکتا ہے جس میں قیام سے اب تک قوم کے تقریباً297 ارب روپے بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے نہ صرف قومی خزانے میں جمع کرائے بلکہ نیب کی آپریشنل رقم اس پر صرف10ارب روپے خرچ ہوئی جو کہ کسی بھی بدعنوانی کے خاتمے کیلئے کام کرنے والے ادارے کی طرف سے خرچ کی جانے والی رقم سے کم ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ یہ آٹے میں نمک کے برابر ہے تو کم نہ ہوگا ۔ نیب نے یہ تمام رقم قومی خزانے میں جمع کرائی اور اس میں نیب کے افسران کو کوئی حصہ نہیں ملتا بلکہ نیب کے افسران اپنا کام قومی فریضہ سمجھ کر سرانجام دیتے ہیں۔
جناب جسٹس جاوید اقبال نے چیئرمین نیب کا منصب سنبھالنے کے بعدنیب کی ذمہ داریوں کو جہاں ایک چیلنج سمھتے ہیں وہاں وہ اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ ادارے افراد سے بنتے ہیں اگر افراد محنت ایمانداری اور لگن کے ساتھ قانوں کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں تو نہ صرف ان اداروں کی عزت اور ساکھ میں اضافہ ہوتا ہے وہاں معاشرے کے تمام طبقوں کے افراد اس ادارے پر اعتماد کا اظہار کرنے کے علاوہ ادارے سے منسلک افراد افسران اہلکاروں کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ میں جب معزز سپریم کورٹ آف پاکستان کے قائمقام چیف جسٹس کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہا تھا تو اس وقت میں نے کہا کہ ”انصاف سب کیلئے“ اور آج میں جب چیئرمین نیب کی حثیت سے اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہاہوں تو میری پالیسی ہے کہ” احتساب سب کیلئے“ ملک سے بد عنوانی کا خاتمہ میری اولین ترجیح اور ہم زیرو ٹالرنس اور خود احتسابی کے پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہونگے انہوں نے نیب کے افسران سے مزید کہا کہ ان کا تعلق کسی سیاسی پارٹی سے نہیں کیونکہ نیب کسی سے انتقام کیلئے نہیں بنا آپ ریاست کے ملازم ہیں اور بلاتفریق قانون کے مطابق اپنا کام کریں اور کسی دبا¶ اور سفارش کو خاطر میں نہ لائیں اب نیب کی تمام انکوائریاں انوسٹی گیشن قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مکمل کی جائیں گی اور سالہا سال تک فائلوں اور الماریوں میں بند نہیں پڑی رہیں گی کیونکہ جس شخص کے خلاف انکوائری یا انوسٹی گیشن ہورہی ہوتی ہے اس کا پورا خاندان انکوائری یا انوسٹی گیشن کا سامنا کرتا ہے اس کے علاوہ معاشرے میں بھی اس کی عزت پر حرف اٹھائے جاتے ہیں حالانکہ قانون کی نطر میں جب تک کسی پر الزام ثابت نہ ہوجائے وہ شخص بے گناہ ہوتا ہے۔نیب نے احتساب سب کیلئے کی پالیسی کے تحت 503بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی قومی دولت کی واپسی کیلئے کارروائی کی ہے اور اکتوبر 2017ئسے لیکر ستمبر 2018 کے اختتام تک بد عنوان عناصر کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔سال 2018ئکے دوران نیب کو 44ہزار315شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 1713شکایات کی ویریفیکیشن، 877انکوائریاں اور 227انوسٹیگیشنز کی گئیں، جن کے نتیجہ میں نیب نے قومی دولت لوٹنے والے بدعنوان عناصر سے 2580ملین روپے کی وصولی کی جو ملک میں بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والے کسی بھی ادارے کی کارکردگی سے کہیں بہتر ریکارڈ ہے۔
ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ پورے ملک کی آواز بن چکا ہے ۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے نیب کو ایک متحرک ادارہ بنا دےا ہے جو ہمہ وقت بدعنوان عناصر کے خلاف بلا تفریق قانون کے مطابق کاروائی کرنے کے لئے متحرک ہے۔ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی دباﺅ اور پریشر کو خاطر میں نہیں لاتے بلکہ میرٹ ، شواہد اور قانون کے مطابق بدعنوان عناصر کے خلاف کاروائی پر ےقین رکھتے ہیں۔
قومی احتساب بیورو نے ایک موثر مانیٹرنگ اینڈ اےلیویشن نظام بناےا ہے جس کے تحت تمام شکایات کوجلد نمٹانے کےلئے انفراسٹرکچراورکام کرنے کے طریقہ کار میں جہاں بہتری لائی وہاں شکایات کی تصدیق سے انکوائری اور انکوائری سے لے کر انویسٹی گیشن اوراحتساب عدا لت میںقانون کے مطابق ریفرنس دائر کرنے کے لئے ((10 دس ماہ کا عرصہ مقرر کیا ہے، سٹیزن فرینڈلی نیب کا بنیادی مقصد نہ صرف شکایت کنندہ کو احسن انداز میں اپنی شکایت سے متعلق پیشرفت پر آگاہی فراہم کرنا ہے بلکہ اس سے نیب میں شکایت کنندہ کے ساتھ رابطہ کے تناظر میں شفافیت اور ذمہ داری پیدا ہو گی جس سے نیب پر اعتماد سازی میں اضافہ ہوا ہے اور نیب میں شفافیت اور میرٹ کو فروغ دینے میں مدد ملی ہے۔ ےہی وجہ ہے کہ قومی احتساب بیور و کا مجموعی طور پر Conviction Rate تقرےباََ77 فیصد ہے۔قومی احتساب بیورو کی کاوشوں کی بدولت ہاﺅسنگ سوسا ئیٹیوںکے افراد کی لوٹی ہوئی رقوم برآمد کرکے جب ان کو با عزت طریقے سے واپس کی گئیں تو انہوں نے نہ صرف چےئرمین نیب کا شکرےہ ادا کےا۔ مزید برآںپاکستان اور چین کے درمیان بدعنوانی کے خاتمہ سے متعلق امور میں تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے جس کے تحت چین اور پاکستان سی پیک کے تحت منصوبوں کی شفافیت کے لئے مل کر کام کریں گے۔ قومی احتساب بیورو ملک کا سب سے بڑا بدعنوانی کے خاتمہ کےلئے کام کرنے والا ادارہ ہے اگر صیح معنوں میں دیکھا جائے تو ےہ ایک قومی ادارہ ہے جس کا مقصد ملک سے بدعنوانی کے خاتمے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ بدعنوان عناصر سے عوام کی کرپشن کے زریعے لوٹی ہوئی رقم کو نہ صر ف واپس دلانا ہے
نیب نے مختلف احتساب عدالتوں میں بد عنوانی کے 440ریفرنسز دائر کئے جبکہ اس وقت احتساب عدالتوں میں قانون کے تحت 1210ریفرنسز زیر سماعت ہیں۔ یہ بات قابل فخر ہے کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے کام کرنے والے ادارے نیب کا کردار نہ صرف دیگر اداروں کیلئے رول ماڈل ہے بلکہ پورے سارک ممالک میں نیب کی کارکردگی متاثر کن ہے۔نیب کی کارکردگی کی وجہ سے پاکستان میں بدعنوانی کی شرح کا انڈیکس175ویں پوزیشن سے کم ہوکر 116ویں پوزیشن پر آگیا ہے۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں پر بدعنوانی کے انڈیکس میں مسلسل کمی ہو رہی ہے َ۔پاکستان اور چین نے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے (ایم او یو) پر بھی دستخط کئے ہیں اور پاکستان اور چین سی پیک منصوبے میں شفافیت یقینی بنانے کیلئے ملکر کام کر رہے ہیں۔ ۔ نیب بلا تفریق بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہے اور ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے قانون کے تحت جامع حکمت عملی کے مطابق اقدامات جاری ہیں ۔ جسٹس جاوید اقبال سرکاری پروٹوکول لیتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی مراعات۔انہوں نے آتے ہی ہر طرح کے سرکاری کھانوں، دفاتر میں چائے اور بسکٹ پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی اور یہ ہدایت کی تھی کہ اگر کوئی افسر اپنے دفتر میں چائے بسکٹ سے مہمانوں کی تواضع کرے گا تو وہ اپنی جیب سے بل ادا کرے گا، اب نیب میٹنگز کے دوران بھی چائے، ریفریشمنٹ اورکھانا پیش نہیں کیا جاتا -افسران سے اضافی سرکاری گاڑیاں واپس لے لی تھیں۔ انہوں نے ایبٹ آباد کمیشن کی سربراہی کے عوض ملنے والے61لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروا دیئے تھے۔
٭٭٭

قومی احتساب بیورو کی کاوشوں کی بدولت ہاﺅسنگ سوسا ئیٹیوںکے افراد کی لوٹی ہوئی رقوم برآمد کرکے جب ان کو با عزت طریقے سے واپس کی گئیں تو انہوں نے نہ صرف چےئرمین نیب کا شکرےہ ادا کےا۔ مزید برآںپاکستان اور چین کے درمیان بدعنوانی کے خاتمہ سے متعلق امور میں تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے جس کے تحت چین اور پاکستان سی پیک کے تحت منصوبوں کی شفافیت کے لئے مل کر کام کریں گے۔ قومی احتساب بیورو ملک کا سب سے بڑا بدعنوانی کے خاتمہ کےلئے کام کرنے والا ادارہ ہے اگر صیح معنوں میں دیکھا جائے تو ےہ ایک قومی ادارہ ہے جس کا مقصد ملک سے بدعنوانی کے خاتمے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ بدعنوان عناصر سے عوام کی کرپشن کے زریعے لوٹی ہوئی رقم کو نہ صر ف واپس دلانا ہے بلکہ اس میں نیب کے افسران کوئی حصہ وصول نہیں کرتے۔ نیب کے افسران بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہیں ےہی وجہ ہے کہ قومی احتساب بیورو کے موجود چیئرمین جسٹس جاوید اقبا ل نے اپنے موجودہ دور میں قوم کے لوٹے ہوئے تقریباََ 2500 ملےن روپے قومی خزانہ میں جمع کروائے جس سے بہت سے متاثرین اور اداروں کو ان کی لوٹی ہوئی رقم واپس ملی۔
قومی احتساب بیورو نے اب تک کے سفر میں جو نماےاں کامےابےا ں حاصل کیں ہیںوہ قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی قےادت میں نیب افسران کی انتھک محنت اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہیں کیونکہ قومی احتساب بیورو کے موجودہ چئیرمین بھی ٹیم ورک پر ےقین رکھتے ہیں وہ اپنے فرائض کو ہمیشہ میرٹ اور ایمانداری کے ساتھ سرانجام دیتے ہیںاور اس کا درس وہ اپنے تمام افسران اور اہلکاروں کو بھی دیتے ہیں۔ وہ کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کو اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہیں۔ پاکستان کے کرپشن پرسپشن انڈےکس مےں کمی قومی احتساب بیورو کی کاوشوںکا نہ صرف نتیجہ ہے بلکہ ایک واضح ثبوت ہے جسکو قومی احتساب بیورو پاکستان کے لئے ایک اعزاز تصور کرتا ہے ۔۔نیب نے اسلام آباد میں فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک، دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیئے کی جدید سہولیات میسر ہیں۔ فرانزک سائنس لیبارٹری کے قےام کا مقصد جہاں نیب کو جدید آلات سے لیس کرنا تھا وہاں نیب کی انکوائری اور انویسٹیگیشن کی کوالٹی کو بھی بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ایک طرف تو وقت کی بچت کرنا مقصود ہے وہاںسکریسی بھی برقرار رہتی ہے۔قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے اپنی تعیناتی سے ابتک قومی احتساب بیورو کی کامےابی کے سفر کو جاری رکھا ہے ۔ آپ کی قےادت میں قومی احتساب بیورو ایک قابل اعتمادقومی ادارے کے طور پر ابھر کر سامنے آےا ہے ۔جس کا برملا اظہارمعاشرے کے تمام طبقوں نے کےا َ ِہے۔ قومی احتساب بیورو کے موجودہ چئیرمین
کی شاندار قےادت مےں نےب نے اپنی کامےاب انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی کے تحت پاکستان سے بد عنوانی کے خاتمہ کے لئے جس طرح منظم اور مربوط انداز میں بھر پور کوشےش کی ہیں جس کے انتہائی مثبت نتائج سب کے سامنے ہیں۔قومی احتساب بیورو اپنی کامےاب حکمت عملی کے تحت پاکستان سے بد عنوانی کے خاتمہ کے لئے بھر پور کوشےش جاری رکھے گا۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved