تازہ تر ین

آسیہ کی بیرون ملک روانگی بارے جھوٹی خبر کی تحقیقات شروع پیچھے کون ؟ محرکات کی تلاش جاری

لاہور (خبر نگار) دفتر خارجہ نے آسیہ کی بیرون ملک روانگی کی بی بی سی خبروں کی تردید کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق ملتان وویمن جیل سے رہائی کے بعد آسیہ پاکستان میں ہی ہیں۔ ان کی بیرون ملک روانگی کی خبریں درست نہیں۔ یاد رہے کہ رات گئے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی نے دعوی کیا تھا کہ آسیہ بیرون ملک روانہ ہوگئی ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ ملتان جیل سے آسیہ کو راولپنڈی کے نور خان ایئر بیس لایا گیا جہاں وہ اپنے خاندان سمیت نیدرلینڈز کے لیے روانہ ہوگئی ہیں اس خبر کو کچھ پاکستانی میڈیا نے بھر پور طریقے سے نشر کیا ان خبروں بارے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر آسیہ کے بیرون ملک جانے کی خبروں کی تردید کر دی۔ اپنے ٹویٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ہیڈ لائنز کے لیے بغیر تصدیق کیے ہی خبریں نشر کرنا ٹی وی چینلز کا وطیرہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسیہ کا کیس ایک حساس معاملہ ہے، میڈیا نے آسیہ کی بیرون ملک منتقلی کی خبر نشر کر کے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میری میڈیا سے درخواست ہے کہ خبروں کے معاملے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ ذرائع نے دعوی کیا تھا کہ آسیہ کو نور خان ائیربیس سے اسلام آباد کے کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بی بی سی کی خبر میں کوئی صداقت نہیں تھی یہ صرف مفروضہ پر مبنی تھی اس سے ملک میں اشتیال پھیلنے کا خدشہ تھا اس کی تحقیقات کی جارہی ہیں اس خبر کے پیچھے کون سی محرکات کار فرماں تھیں۔ آسیہ کو گزشتہ رات ملتان وویمن جیل سے رہا کیا گیا۔ جہاں سے انہیں سیکورٹی میں ملتان ائیرپورٹ لے جایا گیا اور خصوصی طیارے سے انہیں اسلام آباد روانہ کر دیا گیا۔ اس موقع پر سوشل میڈیا پر خبریں گردش میں تھیں کہ شاید آسیہ کوگزشتہ رات ہالینڈ منتقل کر دیا گیا ہے۔ آسیہ گزشتہ 8 سال سے سینٹرل جیل ملتان میں قید تھیں۔ انہیں توہین رسالت کے کیس میں پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔ جس کو لاہور ہائیکورٹ نے برقرار رکھا۔ تاہم 31 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے آسیہ پر لگنے والے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ آسیہ کیخلاف کسی قسم کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جاسکا تھا، اسی باعث ان کی پھانسی کی سزا ختم کرتے ہوئے انہیں رہا بھی کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے مظاہرے کئیے جارہے تھے۔ ملک کے بڑے شہروں میں حالات کئی روز تک کشیدہ رہے۔ تاہم بعد ازاں حکومت اور مظاہرین میں معاہدہ طے پا گیا۔ 5 نکاتی معاہدے کے بعد حکومت اور مظاہرین میں اتفاق پایا گیا ہے کہ حکومت عدالتی فیصلے پر نظر ثانی اپیل میں حائل نہیں ہو گی۔ آسیہ مسیح کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ مظاہروں میں ہونے والی شہادتوں پر قانونی کاروائی کی جائے گی۔ معاہدے میں طے پایا ہے کہ گرفتار کئیے جانے والے کارکنان کو رہا کیا جائے گا۔ تحریک لبیک کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اس سارے واقعے میں اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو تحریک کے قائدین اس پر معذرت خواہ ہیں۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved