تازہ تر ین

بگڑیاں تگڑیاں دا ےار ڈنڈا

سلمیٰ اعوان …. لمحہ فکریہ
کچھ رولا رپا تو اِس جہالت کا تھا جو اکہتر سالہ اِس پاکستانی وجود پر ابھی بھی آکٹوپس کی طرح چمٹی ہوئی ہے۔کچھ کو برصغیر کے صدیوں پرانے طبقاتی تقسیم کے اُس نظرئےے کے کھاتے مےں ڈال دےں جہاں شودر اور دلت جیسی ذاتےں برہمن کے پاﺅں سے نکلی ہوئی ہوتی ہےں۔ پچاس برس قبل کی اپنی دادی کے گاﺅں پر گزاری ہوئی گرمائی چھٹےوں کی تفصیل مےں جاﺅں تو ےاد آتا ہے کہ جون جولائی کی دوپہر مےں اُن کی زمےنوں کے مزارے کی کٹےا کے گھڑے سے پانی پےنے کی بات پر وہ ذرا دھےمے لہجے مےں منع کرتیں۔ضد پر کہتےں ۔ناں۔بندہ عیسائی ہوجائے گا۔پر مجھ جیسی چوری چھپے گھنے درخت کے نےچے رکھے کچے گھڑے سے کئی بار پانی پےتی اور خود سے کہتی لو بھلا پانی پےنے سے کےا ہوتا ہے۔
اب ذرا تین دل جلوں کے شکوے شکائتےں بھی سن لےں جو بے چارے ان پرانے اور نئے حکمرانوں کے ستم رسیدہ اورغم گرفتہ تھے۔
چلو بسم اللہ تو اپنے آپ سے کرتی ہوں۔جو شومئی قسمت سے بھتےجی کی عےادت کے لےے علی پور چٹھہ چلی گئی۔ سال تو ےہی تھا اور اپرےل کے ٹھنڈے مےٹھے دن ۔ شام چار بجے نکلے۔ خےال تھا کہ دو گھنٹے مےں گھر پہنچ جائےں گے۔مگر ہوا کےا؟کامونکی مےں گھےراﺅ کی سی کےفےت تھی۔تاہم گلےوںکے پُر پےچ راستوں سے گاڑی اور اپنی سلامتی کی دعائےں مانگتے نکل گئے۔مرےدکے اور کالا شاکاکو کا پل صراط بھی مرتے کھپتے پار کےا۔ مگر راوی رےان مےں ڈنڈے سوٹوں کی زد مےں تھے۔بارہ کا وقت اور جس گلی سے گزرتے مسجدوں سے ملحقہ مدرسوں کے بچے جتھوں کی صورت گھومتے پھرتے نظر پڑتے۔عمر رسےدہ عورت جو مسلسل گاڑی مےں بےٹھی بےٹے اور اپنے جیسے مسافروں اورملک کی سلامتی کی دعائےں مانگتی واش روم جانے کی حاجت روکے اضطراب مےں تھی۔اِدھر اُدھر ایک عذاب۔ کہاں پناہ لےں ۔ایک واقف کار ذہن مےں آےا۔ ایک بجے۔فون۔درخواست ۔صد شکر ٹھکانہ ملا۔ تےن بجے اذن ملا کہ معاہدہ ہوگےا۔ اب کےا کہوں۔
چلئےے آگے چلتے ہےں۔اب دو بے چاروں کی سرگزشت سُنےے جو سڑک کنارے جلے دل کے پھپھولے پھوڑتے تھے۔ مےں بے چارہ ماٹھا سا غرےب سا بندہ‘سچی بات ہے اُس گےند کی طرح ہی ہوں جسے نٹ کھٹ شرارتی بچے ٹپا ٹپا کر اس کی کھلڑی اُدھیڑنے کے درپے ہوتے ہےں۔خدا لگتی کہوں آپ کو بھی پتہ ہی ہے کہ کہےں مذہبی لےڈر دل تو چاہتا ہے کہوں ٹھےکےدار ےا پھر مُلّا مگر نہ تو مےں علامہ اقبال ہوں کہ جو ڈنکے کی چوٹ پر کہے دےن مُلّانی سبےل اللہ فساد۔اب لہراتی ڈانگ سوٹوں کی زد مےں رہتا ہوں۔سائےکل بڑی چھلانگ ماروں تو موٹر سائےکل اتنی ہی مےری اوقات ہے۔اس کا بھی بےڑہ غرق۔ویسے کہےں کہےں اب چوٹ آپ بڑے لوگوں کو بھی لگ جاتی ہے وگرنہ پہلے تو یہ ہمارے ہی مقدر تھے۔ ےوں ایک بات ہے اگرلگ بھی جائے تو کےا۔ مرہم پٹی کروانی بڑے لوگوں کے لےے کون سا مشکل۔
کوئی پوچھے انہےں پالتے کےوں ہےں؟انہےں ڈھےل کےوں دےتے ہےں؟پہلے تو مجھ جیسے بے عقل کو سمجھ ہی نہےں تھی۔اب سمجھا ہوں۔پھر ایک دن ایسے ہی دعا بھی کر بےٹھا۔تم بڑے لوگوں کے گھروں مےں آگ لگے تو پھر تمہےں پتہ چلے گا۔یوں ہم غرےب تھڑدلے بھی ہوتے ہےں ویسے ہم مےں کچھ ظالم بھی بن جاتے ہےں۔مےں تو کلّے پےٹنے اور اللہ سے معافیاں مانگنے لگ جاتا ہوں کہ اللہ میاں سب کی خیر کر ۔کسی کے صدقے میر ی خیر ہو۔
اب ایک اور نئی افتاد کا احوال بھی سُن لےں جو ہم غرےبوں پر پڑی۔ بے چارے سےدھے سادھے لوگ کہےں قرضوں پر ، کہےں قسطوں پر رکشے ٹےکسےاں لےں توبےنک اکاﺅنٹ کھول لےتے ہےں۔ہمارے تو فرشتوں کو بھی خبر نہےں کہ یہ بڑے بڑے لوگ کیسے ہمےں ککھ پتی سے لکھ پتی اور کروڑ پتی بنادےتے ہےںپل جھپکتے مےں۔پر ہم اندھوں کو یہ عقل ہی نہےں آتی کہ کبھی اپنے حساب کتاب بھی چےک کرلےں۔ اس کا بھی کےا فائدہ ؟تاہم تمہارا کیا خیال ہے یہ کام اِن بےنکوں والے بڑوں کے تعاون کے بغےر ہوتے ہےں۔نہےں ہرگز نہےں۔ یہ سب ان کے ساتھ ملے ہوئے ہوتے ہےں۔گھپلے ےونہی تو نہےں ہوتے ۔کمیشن، حصّے سب طے ہوتے ہےں۔ مےں تو افسوس کرتا رہا۔ ہائے نہ ہوئے مےرے اکاﺅنٹ مےںکروڑوں۔ نکلوا لےتا تو کتنا مزہ آتا۔ شکرگزار ہوتا نےلی چھت والے کا کہ کیسے چھپر پھاڑ کر مجھے دےا۔مگر نہےں جی۔یہ معجزے ہم جیسے بے چاروں کے ساتھ ممکن نہےں۔وہ اکاﺅنٹ اُن کی اپنی اصطلاح مےں ریڈ الارمنگ ہوتے ہےں۔غرےب کو تو بھنک نہےں پڑتی اور کالادھن دودھ جیسی صورت کے ساتھ باہر آجاتا ہے۔
دوسرا بھی پھٹ پڑا اب دےکھو نا۔کوئی بات ہے ۔بھلا گھر مےں آگ لگی ہواور بندہ باہر بھاگا پھرے۔ٹھےک ہے ۔پیسے کی ضرورت تھی۔ہاتھ پےر مارنے تھے پرپڑھے لکھے بندے کو کچھ تارےخ سے بھی سبق سےکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ملک کچھ اتنا گرا پڑا بھی نہ تھاکہ جتنا سووےت ٹوٹتے وقت تھا۔ابھی کچھ بہت پرانا واقعہ بھی نہےں کہ بندہ کہے کہ صفحوں کو کھول کر کون پڑھے۔ہمارے سامنے کا ہی تو ہے۔
اللہ رحم کرے لوگوں کو ڈبل روٹی کے لےے گھنٹوں قطاروں مےں لگنا پڑا تھا۔اعلیٰ فوجی جرنےل رےڈ سکوائر مےں کھڑے اپنے تمغے بےچتے تھے۔ آلو،انڈے ،گوشت سب مارکےٹوں سے غائب۔ مگر ہوا کےا؟ سمجھدار لےڈروں نے یلسن کو اٹھا کر باہر پھےنکا اور پےوٹن نے باگ دوڑ سنبھالی۔ مقامی صنعتےں مےدان مےں اُترےں اور حالات بہتر ہوتے چلے گئے۔
اب کرپشن کرپشن کی رٹ لگا رکھی ہے۔احتساب احتساب کا رولا ہے۔ میاں تیل دےکھو ،تیل کی دھار دےکھو۔کرپشن مےں کون سا ملک ملوث نہےں۔اب چین جیسا ملک جو رول ماڈل کی صورت سامنے ہے کرپشن تو وہاں بھی ہے۔ہمارا ہمسایہ جس سے اٹ کتے والا بےر ہے اور جس کی ہر ترقی ہمےںبھونڈ کی طرح لڑتی ہے۔وہ بھی کرپشن سے خالی نہےں۔
ہوجائے گااحتساب بھی پہلے گھر تو ٹھےک کرلو۔سچی بات ،سو باتوں کی ایک بات۔ ڈنڈا قانون کی سخت عملداری۔ ےہاں کےا ہے؟ انتظامےہ ہاتھ ڈالنے سے گرےزاں۔ سخت اےکشن لےنے مےں ہچکچاتی ۔قانون کی دھجیاں سڑکوں پر بکھر رہی تھےں۔چےن گئے تو ہےں‘ اُن سے ہی پوچھ لےتے کہ آپ کے پاس کون سی گےڈرسنگھی ہے کہ چھلانگےں مارتے اوپر ہی اوپر چڑھتے چلے جارہے ہےں۔ےقینا بتاتے کہ وہ جب فےصلہ کرنے پر آتے ہےں تو ڈےنگ ےاﺅ پےنگ جیسے لےڈر ٹےنک توپےں چلا دےتے ہےں چاہے پھر نوجوان نسل کے خون سے چوراہے بھےگ جائےں پلٹ کر نہےں دےکھتے ۔
لو اب ایک اور سنو۔ٹی وی چےنلز کو اخلاقی کوڈ پہنانے کی تجاوےز پر غور ہورہا ہے۔
مانتے ہےں کچھ باتےں بھلی نہےںہےں اِن کی بھی۔ مگراِن بڑے لوگوں کی باتےں اچھی ہےںکےا ؟ان کے لےے سب جائز۔چلو وہ اپنی رےٹنگ کے لےے اپنے چےنلز کو ہائی لائٹ کرنے کے لےے، نمبر ون بننے کی دوڑ مےں کونے کھدروں سے خبرےں نکالتے ہےں،اچھالتے ہےںپھر کسی قاضی اعلیٰ کے علم مےں کوئی بات آجاتی ہے اور وہ نوٹس لے لےتا ہے اور غرےب کی شنوائی ہوجاتی ہے۔
کم ازکم لوگوں کو پتہ تو چل جاتا ہے وگرنہ تو غرےب کا جےنا حرام کردےں۔گو جےنا تو اس کا ابھی بھی حرام ہے۔پھول جیسی بچےاں ان بڑے لوگوں کے ستم کا نشانہ بنتی ہےں۔اور داد نہ فرےاد۔ عام لوگوں کو اسی ذرےعے سے پتہ چلتا ہے تو وا وےلا ہونے لگتا ہے۔
اب اسے بھی یہ ہم سے چھےننا چاہتے ہےں۔
کوئی بات ہے بھلا ۔اب آپ کو اس لےے تو نہےں لائے تھے۔ووٹ تو تبدےلی کو دےا تھا۔ اگر غرےب کے مقدر مےں ےہی ستم لکھے ہوئے ہےں کہ اس کا بے زبان جانور کھل کر آپ کی پارٹی کے کسی بڑے کے گھر گھس جائے تو اس کی سزا اتنی ظالمانہ کہ پورے ٹبر کو کولہو مےں پسوا دو۔اُن کے محل نما گھروں کے ہمساےوں مےں ہم غرےبوں کی جھگیاں ناقابل برداشت۔ بس نہ چلتا تھا کہ کیسے مخمل مےں ٹاٹ کے اِن پےوندوں کو اکھاڑ کر پھےنک دےں۔اُونگھتے کو ٹےلے کا بہانہ‘ بے چارے جانور کی منہ ماری تو ایسے ہی بےچ مےں آگئی۔نکالنے کے درپے تو وہ مدت سے تھے۔اب سنوائی کہاں ہونی تھی۔غرےب جےل مےں بند نہ داد، نہ فرےاد۔بھلا ہو اس سوشل مےڈےا کا جس نے دہائی مچائی تو لوگ چونکے۔اب یہ اُسے بھی اخلاقےات اور تہذےب کے لباس پہنانے کا سوچ رہے ہےں۔
(کالم نگار معروف سفرنگار اورناول نگار ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved