تازہ تر ین

دیہی ترقی کب اور کیسے؟

چوہدری ریاض مسعود….نقطہ ِ نظر
پاکستان کی ساٹھ فیصد سے زائد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے اور زیادہ تر زرعی شعبے سے وابستہ ہے۔ ہمارا کسان دن رات محنت کرکے وطن عزیز کیلئے خوراک اور صنعتوں کیلئے خام مال فراہم کرتا ہے۔ اس وقت ہماری برآمدات کا تقریباً 60 فیصد سے زائد حصہ براہ راست یا بالواسطہ زرعی شعبے کا ہی مرہون منت ہے۔ مقامی سطح پر روزگار کی فراہمی میں بھی یہ شعبہ اپنا بھرپور کردار ادا کررہا ہے۔ ملک کی اقتصادی‘ مالی‘ معاشرتی صورتحال کوترقی دینے اور اسے مستحکم بنانے میں زرعی شعبے کا ہمیشہ سے ہی قابل ذکر حصہ رہا ہے اس کی سالانہ شرح نمو دوسرے شعبوں کی نسبت اوسطاً بہتر رہی ہے۔ اس کے باوجود زرعی شعبہ ہمیشہ سے حکمرانوں کی نظروں میں عملی طور پر غیر اہم رہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ نعروں اور دعوﺅں میں ہمیشہ زرعی اور دیہی ترقی کا خواب دکھایا جاتا رہا ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ آپ پاکستان کے کسی بھی دیہی علاقے میں چلے جائیں آپ کو 16 ویں صدی یاد آجائے گی۔ گھپ اندھیروں میں ڈوبے دیہات آپ کو یقیناً پتھر اور غاروں کے زمانے کی یاد دلا دینگے۔ شہروں میں چند گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ سے ہر طرف طوفان برپا ہوجاتا ہے جبکہ دیہی علاقوں میں بجلی صرف اپنی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے آتی ہے یہی حال تعلیم‘ صحت‘ پانی‘ نکاسی آب‘ سڑکوں ‘ صفائی اور دوسرے شعبوں کا ہے۔ بارش کے موسموں میں ایک دیہات کا دوسرے دیہات کے ساتھ رابطہ ممکن ہی نہیں رہتا ہے۔ ہر گاﺅں کے اردگرد گندے پانی کے تالاب اور گندگی کے ڈھیر حکومت اور ماحولیاتی آلودگی کے ماہرین کو پکار پکار کر کہتے ہیں کہ یہاں بھی تو انسان بستے ہیں تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حالت زار‘ اساتذہ کی کمی اور تعلیمی معیار‘ خواندگی کی شرح کے بڑھتے ہوئے جعلی گراف کو بے نقاب کرنے کیلئے کافی ہے۔ صحت عامہ کی اگر اصل صورتحال سامنے آجائے تو لوگ دانتوں میں اپنی انگلیاں دبالیں گے اور سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ ایسے ماحول میں دیہی عوام زندہ کیسے ہے؟ پینے کا آلودہ پانی دیہی عوام کو کینسر‘ جگر‘ معدے‘ ہیضے ‘ ہڈیوں اور کئی جان لیوا بیماریوں کا شکار کررہا ہے۔ زچہ بچہ کی صحت کے نام پر عالمی اداروں سے قرضے اور امداد بٹورنے والوں کو شاید دیہی علاقوں میں بڑھتی ہوئی شرح اموات اس لئے نظر نہیں آتی کہ ان کی ترجیح صرف بڑے بڑے شہر ہی ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ زچہ بچہ کی صحت کے بارے میں جو بھی سیمینار مذاکرے یا سمپوزیم ہوتے ہیں وہ شہر کے بڑے بڑے فائیوسٹار ہوٹلوں میں ہی ہوتے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی کے ماہرین کو دیکھ لیں ان کی سرگرمیاں اور حیران کن کارکردگی سب بڑے اور کبھی کبھی چھوٹے شہروں تک ہی محدود نظر آتی ہے۔ شہری علاقوں کے نوجوانوں کو کس حد تک کھیلوں کے میدان اور ان ڈور سپورٹس کی سہولتیں میسرہیں لیکن دیہی علاقوں کے نوجوانوں کو کچھ بھی تو میسر نہیں وہ بے چارے کسی کھیت میں جاکر اپنا یہ شوق پورا کرلیتے ہیں۔آپ حیران ہونگے کہ حکومت ہر سال دیہی ترقی کے نام پر بیرون ممالک سے قرضے اور امداد تو حاصل کرلیتی ہے لیکن وہ کہاں خرچ ہوتے ہیں اس سے دیہی علاقوں میں کون کون سے منصوبے شروع ہوئے‘ دیہات میں کس قدر ترقی ہوئی یہاں کے رہنے والوںکے لائف سٹائل میں کیا تبدیلی آئی ہے۔ یہاں سے بیروزگاری کی شرح میں کس قدر کمی ہوئی کسی کو کچھ نہیں پتہ۔کیونکہ نام نہاد اور نمائشی کارکردگی انسانی آنکھ سے کبھی بھی نظر نہیں آتی۔ ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں نے ہمیشہ اپنے مخصوص سیاسی مفادات کے حصول کیلئے دیہی ترقی کے بلند بانگ دعوے کئے ان غریب عوام کی ہمدردیاں اور ووٹ حاصل کئے اور پھر انہیں یکسر فراموش کردیا جس سے دیہی ترقی کا خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ اس وقت پاکستان 30 ہزار ارب روپے کے بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اس کے علاوہ ملکی معیشت کو چلانے کیلئے بارہ ارب ڈالر کی فوری ضرورت تھی جس کے حصول کیلئے ہمیں جو کچھ کرنا پڑا وہ سب کے سامنے ہے۔ ہمارے حکمرانوں اور اقتصادی ماہرین کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کا ہر راستہ زرعی شعبے کا مرہون منت ہے لیکن بدقسمتی سے یہ شعبہ کبھی بھی ہماری ترجیح نہیں رہا۔ ہم یہ راگ تو اکثر الاپتے رہتے ہیں کہ ہماری معیشت کا زیادہ تر دارومدار زراعت پر ہے لیکن عملاً کچھ بھی نہیں کرنا چاہتے۔ آپ حیران ہونگے کہ اس وقت پاکستان میں صرف 23.25 ملین ہیکڑ رقبے پر کاشتکاری ہورہی جبکہ 8.25 ملین ہیکڑ رقبہ قابل کاشت ہونے کے باوجود زیراستعمال نہیں ہے۔ زرعی ماہرین کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اگر ہم 8.25 ملین ہیکڑ قابل کاشت رقبے کا صرف ایک چوتھائی بھی استعمال میں لے آئیں تو ہماری خود کفالت کا خواب حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے اس سے ہماری زراعت‘ دیہی علاقے اور کاشت کار سب خوشحال ہوجائیں گے۔ یہ قومی مفاد پر مبنی کام آخر کون کرے گا؟ ہمارے سیاست دانوں کو اپنے مفادات اور سیاسی لڑائی جھگڑوں سے فرصت ہوگی تو وہ ملک و قوم کیلئے کچھ کرنے کے قابل ہونگے۔ ملکی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ زرعی شعبے کی ترقی کیلئے کسی بھی حکومت نے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جو کچھ بھی کیا فرضی اور گمراہ کن اعداد و شمار پر مبنی رہا۔ پاکستان کا اقتصادی جائزہ جو حکومت پاکستان ہر سال باقاعدگی سے جاری کرتی ہے اسے پڑھ کر ایسے لگتا ہے کہ ہمارے دیہی علاقوں میں ہر سطح پر ترقی ہوچکی ہے۔ یہاں سے غربت کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے کیونکہ اس سرکاری جائزے کے مطابق غربت مکاﺅ فنڈ کا 80 فیصد حصہ دیہی علاقوں کو فراہم کیا گیا ہے۔ دیہاتوں میں پیشہ وارانہ تربیت نہایت وسیع پیمانے پر دی جارہی ہے۔ لہٰذا ان علاقوں میں غربت میں کمی آرہی ہے۔ صحت کی سہولتیں 5600 بنیادی مراکز صحت اور 676 دیہی مرکز صحت نئے کھلنے سے بہتر ہوچکی ہیں سماجی تحفظ کیلئے دیہی علاقوں میں بے پناہ کام ہوا ہے تعلیم‘ صحت‘ پینے کے صاف پانی کی فراہمی‘ نکاسی آب اور پیشہ وارانہ تربیت کے فراہمی کیلئے خصوصی پالیسی اور سکیمیں بنائی گئی ہیں۔ اگر ہم ان سب دعوﺅں کو صحیح بھی مان لیں تو پھر ہمیں حقیقت میں کچھ نظر بھی تو آنا چاہئے؟ ایشین ڈویلپمنٹ بنک (ADB) اور دیگر عالمی اداروں سے ہم نے زراعت اور دیہی علاقوں کی ترقی کیلئے جو قرضے اور فنڈ لئے تھے وہ کہاں گئے؟ عرصہ دراز سے دیہی علاقوں میں لائیوسٹاک کیلئے یو ایس ایڈ کاشتکاروں کو قرضے کیوں اور کس کی اجازت سے دے رہا ہے؟ غربت مکاﺅ سکیم کے دیہی علاقوں پر کیا مثبت اثرات پڑے ہیں؟ ملک میں عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے شروع کی جانے والی سکیمیں دیہی علاقوں میں کیوں شروع نہیں کی جاتیں؟ آخر ہمارے ”خیرخواہ سیاستدان“ دیہات میں رہنے والوں کو کب ”انسان“ سمجھیں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ زراعت اور دیہی ترقی کے تمام فسانے کسی ڈرامے سے کم نہیں ہیں۔ وہ کون سا ظلم اور زیادتی ہے جو دیہی عوام کے ساتھ روا نہیں رکھا جارہا؟ ملک میں بجلی کی کمی ہوجائے تو دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے طویل دورانئے کو طویل تر کردیا جاتا ہے۔
ملک میں فوڈ سکیورٹی کا مسئلہ ہوجائے تو کاشتکاروں کی اجناس زبردستی حاصل کرلی جاتی ہے۔ ملک کے خزانے کو بھرنا ہو تو زرعی شعبے میں استعمال ہونے والی مشینری پر ٹیکسوں کی رقم میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔ کسان اجناس کی فروخت کیلئے منڈی جاتا ہے تو مارکیٹ کمیٹی کی فیس میں کئی بار اضافے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
دریاﺅں میں سیلاب آجائے تو شہری علاقوں کو بچانے کیلئے حفاظتی بند توڑ کر کھیتوں اور دیہاتوں کو سمندر میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔ جو قیمتی انسانی جانوں فصلوں ‘ باغوں ‘ جانوروں اور مکانات کی تباہی کا باعث بنتا ہے۔ حکومت ان سارے نقصانات کے ازالے کے بلند بانگ دعوے کرتی ہے لیکن بے چار ے کاشتکار کو کچھ نہیں ملتا وہ مجبور ہوکر سرکاری حکام اور پٹواری کے پیچھے پھرتا ہے لیکن کوئی اس کی بات نہیں سنتا۔ ہاں ان متاثرہ علاقوں میں حکمران‘ سیاست دان‘ سرکاری حکام خاص کر وزراءکی فوج ”فوٹوسیشن“ کیلئے ضرور آتی ہے یہ الگ بات ہے کہ ہمارے سیاست دان اپنے جلسوں کی رونق بڑھانے کیلئے دیہی عوام کو تھانیداروں‘ پٹواریوں اور بااثر افراد کے ذریعے جلسہ گاہ ضرور لے آتی ہے اور یہ بھی درست ہے کہ سادہ لوح دیہاتی اپنے ووٹ کی طاقت سے جاگیرداروں اور بااثر افراد کو حکومتی ایوانوں تک پہنچادیتے ہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت قومی اسمبلی اور ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ممبران کی نصف سے کہیں زیادہ تر دیہی علاقوں سے تعلق رکھتی ہے۔ جنہوں نے اپنے حلقے کے دیہی عوام کے مسائل کو حل کروانے اور بالخصوص زراعت کی ترقی کیلئے کبھی آواز نہیں اٹھائی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب دیہی ترقی کیلئے متحد ہوکر آواز بلند کریں۔ ذرائع ابلاغ پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک کی اس اکثریتی آبادی کے مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے بھرپور کوششیں کریں۔ حکومت کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ دیہی ترقی کیلئے ٹھوس جامع اور قابل عمل منصوبہ بندی کرے۔ زراعت کو ترقی دینے کیلئے کاشتکاروں کو زیادہ سے زیادہ مراعات اور سہولتیں دے۔ ارزاں نرخوں پر ٹیوب ویل‘ ٹریکٹر اور زرعی آلات کی فراہمی کو یقینی بنانے‘ کاشتکار کی پیداوار کو خریدنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے اور اسے مڈل مین (آڑھتیوں) کی چیرہ دستیوں سے ہر صورت میں بچائے۔ زراعت کیلئے پانی کی فراہمی کیلئے جامع منصوبہ بندی کرے۔
کاشتکاروں کو تھانیدار اور پٹواریوں کی زیادتیوں اور من مانیوں سے بچائے۔ دیہی علاقوں میں تعلیم ‘ صحت‘ پینے کے صاف پانی فراہمی‘ نکاسی آب‘ روزگار کی فراہمی‘ دیہی پیداوار سے متعلقہ صنعتوں کے قیام‘ مقامی طور پر فنی تربیت دینے اور خاص طور پر کھیت سے منڈی اور گاﺅں سے گاﺅں تک پختہ سڑکوں کے ذریعے ملانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر کام کرے۔ حکومت کو یہ بھی چاہئے کہ وہ زرعی مقاصد کیلئے کاشتکاروں کو انتہائی آسان شرائط اور کم سود پر زرعی قرضے زیادہ سے زیادہ فراہم کرے تاکہ کاشتکار زیادہ وسیع رقبے پر فصلیں کاشت کرکے ملک کو زرعی خودکفالت کی منزل تک پہنچا سکے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ ہم اپنی زراعت‘ دیہات اور دیہی عوام کی کو ترقی اور خوشحالی سے ہمکنار کرکے ہی پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ بیرونی قرضوں سے نجات اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونے کیلئے زرعی شعبے کی ترقی بے حد اہم ہے۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved