تازہ تر ین

میرا دوست نواز شریف

اختر سردار چودھری….اظہار خیال
چیف ایڈیٹر خبریںضیا شاہد کی پندر ھو یںکتاب میرا دوست نوازشریف 30سالہ دوستی کی ایک داستان ہے ،دوستی کی کہانی اس سے آگے مزید چل سکتی تھی مگر بدلتے حا لات اور گزرتے شب وروزنے ایک نیا موڑ لیا اور دو بہترین اور اچھے دوستوں نے ایک دوسرے کے گلے لگ کر اپنی اپنی راہیں جدا کر لیںاور دونوں دوست سیاست اور صحافت میں اپنے اپنے وقت کے بادشاہ رہے مگر ان کی شہنشاہ زندگی میں عروج و زوال آتا رہا،ایک وہ جس نے اپنے دوست کے ہر پل ہر لمحے کو قید کر کے قلم سے امر کر دیا تاکہ آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی دوستی کی اس کہانی کو یاد رکھا جائے اور دوسرا وہ جس نے دوستی جیسے اس عظیم رشتے کو دوبارہ زندہ نہ ہونے دیا ،حالانکہ زندگی میں اسے بے شمار ایسے مواقع میسر آئے تھے کہ اس پاکیزہ رشتے کو نئے سرے سے قائم رکھا جاسکتا تھا مگر اس کی قسمت میں اچھے اور مخلص دوست کہاں۔
کتاب نواز شریف اور ضیا شاہد کی30سالہ دوستی کی ایک زندہ مثال ہے ۔اس میں نوازشریف،پاکستان کی سیاست،حکمرانوں کے بے شمار واقعات درج ہیں۔کتاب معلومات اور دلچسپی سے بھر پور ہے۔ دلچسپ اور منفرد رنگین تصاویر سے مزین چار سو صفحات پر مشتمل اس کتاب نے تاریخ رقم کر دی۔صاحب کتاب نے انتساب بھی اپنے دوست کے نام کچھ یوں کیا ہے ۔
غیروں سے کہا تم نے
غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا
کچھ ہم سے سنا ہوتا
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی دور میں نواز شریف اور ضیاشاہد بہترین اور بے تکلف دوست رہے ہوں گے مگر آج دونوں ایک دوسرے سے کوسوں دور ہیں۔ضیا شاہد وہ دوست ہی تھا جس نے اپنا فرض نبھاتے ہوئے اپنے دوست نواز شریف کو ایک حقیقی انسان بنانے کے لئے بھی محنت کی ، وہ لکھتے ہیں کہ ”میں جس نوازشریف کی بات کرنے جارہا ہوں وہ کبھی میرا دوست تھا اور میں اس سے پیار کرتاتھا ۔اُن دنوں میرا یہ خیال تھا کہ اتنی محبت اور دوستی کے جواب میں شایدوہ بھی مجھ سے پیار کرتا ہوگا“۔
ضیا شاہد نے کتاب میں نواز شریف کے اساتذہ،دوست احباب اور عمران خان کی دوستی کا بھی ذکر کیا جبکہ ان کے کھانے پینے،رہن سہن، سیروتفریح کا بھی تفصیل سے ذکر کیا۔سب سے بڑھ کر ضیا شاہد نے نواز شریف کی زندگی کے بہت سارے راز افشا کیے ہیں جو آپ کو بہت کم ملیں گے۔ جن سے نواز شریف کی جبلت اور فطرت سے بھی آشنائی ملتی ہے ۔ اس داستان دوستی لکھنے کا سبب دکھ درد اور غم ہوسکتے ہیں جو ایک مخلص دوست اپنے دوسرے دوست کو کھوکر محسوس کرتا ہے۔
اب سب اپنے اپنے مفادات کے دوست ہیں، کام کی دوستی ہے ،مال کی دوستی ہے ،مفادات کی دوستی ہے ۔شائد ہم سے بھی وہی غلطی ہوتی رہی جو فراز سے ہوئی تھی کہ ۔
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
یہ کتاب صرف دوستی کی کہانی نہیں بلکہ اس میں پاکستان کی تاریخ کی 35سالہ تاریخ رقم ہے جس میں ملکی سیاسی تاریخ کے مد و جزر،تلخ و شیریں حقائق ، حیرت انگیز چشم کشا قصے کہانیاں بھی موجود ہیں اور سب سے بڑھ کر اس میں ایک دوست کا دوسرے دوست کیلئے درد محسوس کیا جا سکتا ہے ۔ضیا شاہد یہ چاہتے تھے کہ نواز شریف میرا دوست میرا بھائی وہ راستہ اختیار کرے جو حق اورسچ،حُب الوطنی اور حلال حرام کی تمیز کا راستہ ہو،لیکن آج نواز شریف اور اس کی فیملی پر جو الزامات لگے، ان کی رسوائی ہوئی ، ان کے حالات اور ان کے دوست احباب کو دیکھ کرسب باتوں نے ضیا شاہد کے درد میں مزید اضافہ کر دیا ۔
کتاب کے چار سو صفحات میں بے شمار کہانیاں اور ان گنت سیاسی اور غیر سیاسی لوگوں کا تذکرہ موجود ہے جو کسی نہ کسی حوالے سے پاکستان کی سیاست،میاں نواز شریف اور ان کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں،شریف خاندان پر موجودہ زوال کے اسباب اگر تلاش کرنے ہوں تو اس کتاب کا مطالعہ لازمی کیجئے جو حقائق او ر سچے واقعات اس کتاب میں بیان کیے گئے ہیں۔ اپنے دوست نواز شریف کے بچپن سے لیکر جوانی تک، پاکستانی سیاست سے لیکر عالمی دنیا کی سیاست تک ضیا شاہدنے جو اپنی آنکھوں سے دیکھا ،زمین سے لیکر آسمان تک جتنے بھی رنگ دیکھے ،ان رنگوں کو لفظوں کا پیرہن پہنا کر قرطاس پر بکھیر دیا۔ضیا شاہد کی کتاب سیاست سے وابستہ تمام افراد اور سیاست کے طالب علموں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوگی ۔
ضیا شاہد جیسے صاحب علم ،محب وطن ،دور اندیش دانش ورصدیوں کے بعد ہی پیدا ہوتے ہیں ۔وہ ملکی استحکام، ترقی اور عوام کی خوشحالی چاہتے ہیں ۔لیکن یہ سب وہ ماورائے قانون کسی اقدام کے ذریعے نہیں چاہتے ۔ترقی و خوشحالی کیلئے وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ تمام جدوجہد آئین کے اندر رہ کر کی جائے اسی طرح ملک میں حکمرانوں کا طرز حکومت آئین کے تابع ہونا چاہئے، اگر نظام حکومت کا موجودہ ڈھانچہ درست نہیں،ترقی و خوشحالی کے راستے میں رکاوٹ ہے تو آئینی اداروں کے ذریعے ،آئینی طریقہ کار کے ہی مطابق اس میں رد و بدل کیا جائے۔ آئین سے بالا کوئی بھی اقدام ملک و قوم میں انارکی پھیلانے کا باعث بنے گا جس کی کسی بھی طرح حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی ۔
میری ضیا شاہدسے کبھی ملاقات نہیں ہوئی لیکن میں ان سے واقف ہوں ،ان کی تحریروں کی بدولت، ان کے کالمز کو پڑھ کر ۔وہ پرانے رسم و رواج کو ماننے والے لیکن وہ اپنے عہد کے ہی نہیں آنے والے عہد کے مسائل و انسان کی پریشانیوں سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ ان کے حل بھی جانتے ہیں ۔جانتے ہیں تو بتاتے بھی ہیں ۔دورغ گوئی ان کی طبیعت میں نہیں ۔جو دل میں ہو صاف لکھتے ہیں ۔کہتے ہیں تحریر شخصیت کی آئینہ دار ہوتی ہے تو ضیا شاہد بارے بھی یہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ ان چند ایک لکھاریوں میں سے ایک ہیں شہرت و چاپلوسی جن کا مقصد نہیں ہے ۔وہ وہی لکھتے ہیں جو محسوس کرتے ہیں ۔
ضیا شاہدجیسے اخبار نویس ہماری صفوں میں انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔کالم نگار اور تجزیہ کار کی حیثیت سے وہ اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔ ان کا شمار ارض وطن کی ان شخصیات میں شامل ہوتاہے جن کی بدولت صحافت کا بھرم قائم ہے۔ضیا شاہد ملکی سیاست میںہونے والی تبدیلیوں اور ان کے اثرات پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔اس کے حوالے ان کی تحریروں اور کالموں میں جا بجا بکھرے ہوئے ملتے ہیں ۔ وہ اپنی صحافت کا باوقار سفر تاحال جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں۔دوستی انسان کے عزیز ترین رشتوں میں سے ایک ہے۔جناب ضیا شاہد صاحب نے جس برق رفتاری سے کتابیں لکھیں اور شائع کرائیں ہیں یہ پاکستان میں کسی ایڈیٹر کے لیئے باعثِ فخر بھی ہے قابلِ رشک بھی ہے ان کی کتاب ”امی جان“ ہر طالب علم اور استاد کیلئے مشعل راہ ہے جس طالب علم نے سکول ،بورڈ ،یا یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن لینی ہے وہ یہ کتاب ایک بار ضرور پڑھے اس کتاب میں سو فیصد شرح خواندگی کا راز پنہا ںہے کہ پاکستانی قوم مکمل ترقی یافتہ کیسے بن سکتی ہے ،گاندھی کے چیلے اور پاکستان کے خلاف سازش ہر محب وطن کیلئے انمول تحفہ ہے ،باتیں سیاستدانوں کی ۲۲بڑے لوگوں کے خوبصورت تذکرے ہیں یادیں ہیں سنہری باتیں ہیں بقول ڈاکٹر محمد اجمل خان نیازی اس کتاب میں ۹۰ فیصد واقعات ضیا صاحب نے پہلی بار انکشافات سے بھر پور لکھنے کی جرا¿ت کی ہے ،”قلم چہرے “ان بڑے لوگوں کی عجیب و غریب واقعات ہیں جنہوں نے اپنا آج ہمارے کل کیلئے قربان کر دیا یہ لوگ واقعہ ہی ہمارے ہیرو ہیں ،”سچا اور کھرا لیڈر ہر “سچے پاکستانی کیلئے زندہ و جاوید تحفہ ہے،”سدا بہار تحریریں“ اور” میرے بہترین کالم “ضیا صاحب کی قلمی توانائی کا جوہر ہے” نور جہاں دلیپ اور دوسرے فلمی ستارے“ پاکستانی تفریح کے ماخذ ہیں ،”ستلج راوی اور بیاس کا سارا پانی بند کیوں؟“ یہ کتاب بیس کروڑ عوام کے دلوں کی ترجمان ہے ،” میرا دوست نواز شریف“ ضیا صاحب نے پوری قومی ذمہ داری اور خلوص نیت سے یہ کتاب لکھی ہے کہ پاکستان ستر سالوں سے ترقی کیوں نہیں کر رہااس کی ترقی کی راہوں میں کون کون سی رکاوٹیں ہیں یہ رکاوٹیں دانشور ،علما ءاکرام ،سیاستدان بھی پیدا کر رہے ہیں ،یہ کتاب حقیقت میں ایک قومی تھرما میٹر ہے آپ اس کتاب کو پڑھ کر دیکھ سکتے ہیں کہ قومی لیڈروں نے کن کن طریقوں سے ملک کو نقصان پہنچایا اس حمام میں صر ف قومی لیڈر ہی نہیں بلکہ وہ باشعور پاکستانی بھی ننگا ہے جس کو اللہ تعالی نے شعور دیا لیکن وہ اپنا شعور سیاستدانوں کے نعرے لگانے میں ضائع کرتا رہا اور اپنا وقتی طور پر چولہا گرم کرتا رہا یہ ایک بہت بڑا قومی المیہ ہے یہ کتاب اتنی اہم ہے کہ جس نے جاننا ہوکہ قوم کی بنیادوں کو کھوکھلا کیسے کیا گیا اور ترقی کا راستہ کیسے روکا ؟وہ ضروراس کتاب کامطالعہ کرے انگلش ،پشتو ،سندھی،بلوچی زبانوں میں ترجمہ ہو کر زیادہ سے زیادہ عوام تک پہنچنی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی بھی لیڈر قوم کاوقت اور پیسہ ضائع کرنے کی جرا¿ت نہ کر سکے۔کتاب پاکستان کے ہر شہر میں موجود ہے نہ ملنے کی صورت میں قلم فاو¿نڈیشن انٹر نیشنل ،بینک سٹاپ ،والٹن روڈ ،لاہور کینٹ ،یا 0321-4788517 / 0300-0515101 یا [email protected]پر رابطہ کریں ۔
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گ±سار ہوتا
(کالم نگارسماجی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved