تازہ تر ین

وزیراعظم سچے عاشق رسول ہیں : فواد چودھری

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ مذہبی قیادت کو ملک میں جاری نظریاتی جنگ کو اپنانا ہوگا، پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کی سربراہی پی ٹی آئی کو ملنی چاہیے، جب کہ زرداری اور شریف خاندانوں سے پیسے نکلوانے سے قرضوں کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے لاہور میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا جس کو نبی کریم سے عشق نہیں وہ مومن ہی نہیں، وزیراعظم عمران خان سچے عاشق رسول ہیں، موجودہ حکومت مذہبی قیادت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلے گی، مذہبی قیادت کو ملک میں جاری نظریاتی جنگ کو اپنانا ہوگا، یہ لڑائی نظریات کی لڑائی ہے جو دلیل سے جیتی جاتی ہے، دلیل کی بنیاد پر بات کرنے والے علما کو شہید کیا گیا، صوفیاء کرام کے عبادت گاہوں پر حملے کیے گیے، ماضی میں ریاست نے اس سب کو تماشائی بن کر دیکھا، ریاست لمبے عرصے تک غیر روایتی جنگ میں شریک رہی ہے۔ فواد چوہدری نے کہا آسیہ کیس کے بعد پیدا ہونے والا بحران حکومت کا نہیں بلکہ معاشرے کا بحران ہے، توہین آمیز خاکے ہوں یا کسی کو مشیر لگانا ایک طبقہ ہر مسئلے پر سیاست کرتا ہے، ہمارے مذہبی اکابرین کو اس نظریاتی جنگ میں اپنا کردار اداکرنا ہوگا، ماضی کے برعکس حکومت مذہبی قیادت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہوگی، نظریات کی لڑائی کو ان ہاتھوں میں جانے سے روکیں گے جو ہمارے مذہب کی خدمت نہیں کررہے، ریاست جب تک تمام مسالک کو برابری کا ماحول نہ دے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ سیمینار میں وفاقی وزیرمذہبی امور پیر نور الحق قادری اور چیف ایڈیٹر خبریںضیا شاہد نے بھی سیمینار میں شرکت کی۔ بعدازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ 1988 کے بعد پہلا موقع ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں، حکومت کی گاڑی ڈیزل کے بغیر اچھی چل رہی ہے، اب ہم ہائبرڈ اور آٹومیٹک ہوگئے ہیں،، کرپشن پر نرمی دکھائی تو ووٹر سے غداری ہوگی، بلکہ آئندہ دنوں میں کرپشن کے خلاف کارروائی میں تیزی آئے گی، پی اے سی کی سربراہی پی ٹی آئی کو ملنی چاہیے، گورنر پنجاب چوہدری سرور اور ق لیگ کے درمیان کوئی اختلافات نہیں اور پارٹی میں کوئی بحرانی کیفیت نہیں۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کی پارٹی کے لوگ کہتے ہیں کہ حکومت باہر جاکر بھیک مانگ رہی ہے، تو ایسا کرتے ہیں پاکستان کا جو 84 فیصد قرضہ پی پی پی اور ن لیگ نے لیا ہے، وہ ان دونوں خاندانوں سے نکلوالیتے ہیں، ملک کے قرضے کا مسئلہ حل ہوجائے گا اور ہمیں باہر جانے کی ضرورت نہیں رہے گی، ان کے پاس بہت پیسے ہیں جو پاکستان کے عوام کے ہیں، پاکستان جمہوری ملک ہے، دیگر جگہوں پر پیسہ نکلوالنے کے جو طریقے آزمائے گئے ہیں، بدقسمتی سے یہاں نہیں کر سکتے، اس لیے دیر لگ رہی ہے۔ وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ڈی جی نیب لاہور نے جیسے ہی شہباز شریف کو گرفتارکیا تو کہا گیا کہ ان کی ڈگری جعلی ہے، اگر ڈگری جعلی تھی تو سابق حکومت نے کیوں کارروائی نہیں کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چوہدری نے آنے والے دنوں میں احتساب کے عمل میں مزید تیزی آنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن کے خلاف اقدامات نہ کرنا پی ٹی آئی کے ووٹرز سے غداری ہو گی ، کچھ ممالک میں پیسے نکلوانے کےلئے جو طریقے اپنائے جاتے ہیں جمہوری ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان میں ان طریقوں کو استعمال نہیں کیا جا سکتا اس لئے کچھ دیر لگ رہی ہے ،حکومت کو ادائیگیوںکے بحران کا سامنا تھا لیکن اب کچھ آسانیاں پیدا ہوئی ہیں ، (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں کہ ہم بھیک مانگتے پھر رہے ہیں پھر اس کا حل یہ ہے کہ (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے ادوار میں پاکستان پر چڑھنے والا 84فیصد قرضہ دونوں سیاسی خاندانوں میں بانٹ دیتے ہیں اور ان سے نکلوا لیتے ہیں پھر باہر کی ضرور ت نہیں رہے گی،پارٹی میں کوئی بحرانی کیفیت نہیں ،صرف عمران خان لیڈر ہیں اورباقی تمام لوگ ورکرز ہیں ، پیپلز پارٹی سے ہونے والی ملاقات میں یہ کہا تھاکہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ بڑے بھائی کے منصوبوں کا چھوٹا بھائی آڈٹ کرے اس لئے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ پی ٹی آئی کو ملنی چاہیے ، اگر لازماًچیئرمین شپ اپوزیشن کو ہی دینی ہے تو بلاول یا کسی اور کودیدیں ،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والا معاملہ حکومت یا ریاست کا نہیں بلکہ معاشرے کا بحران ہے ، کچھ لوگ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر سیاست کر رہے ہیں اور ان سر گرمیوں کا مذہب سے قطعاً کوئی تعلق نہیں، نظریات کی لڑائی بندوق سے نہیں بلکہ دلائل سے جیتی جاتی ہے ،مذہبی قیادت اس نظریاتی لڑائی کی آنر شپ لے موجودہ حکومت ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں ” عدم برداشت کاپھیلتا رجحان اور ریاست کی ذمہ داریاں “ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔فواد چوہدری نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی کوشش ہے کہ پاکستان کو مدینہ کی ریاست کا نمونہ بنایا جائے اور اس کےلئے عملی اقدامات شروع کر دئیے گئے ہیں ۔ اگر ریاست میں اقلیتوںکے حقوق محفوظ نہ ہوں تو یہ مدینہ کی ریاست سے کوسوں دور ہونے والی بات ہے ۔ ایسی ریاست کی شرائط میں سب سے اہم ترین شرط اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہے اور انشا اللہ پاکستان حقیقی معنوں میں پراگریسو اور فلاحی ریاست ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح وزیر اعظم عمران خان سوچتے ہیں اس طرح کوئی بھی نہیں سوچتا ،کیا کسی دوسرے وزیر اعظم نے مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے 25لاکھ بچوں کے بارے میں سوچا تھا۔کیا کسی وزیر اعظم نے مزدوری کرکے رات کو بغیر سائبان رات بسر کرنے والے مزدوروں کے بارے میں سوچا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان نے فیصلہ کیا کہ ہمیں غریب ترین لوگوں کو اوپر اٹھانا چاہیے اور ہم ان کا معیار زندگی بلند کرنا چاہتے ہیں ۔ وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ کچی آبادیوں کے رہائشیوں کو سہولیات دینا میرا کام ہے ، کیا ہزاروں روپے تنخواہ لینے والا کوئی شخص ساری عمر اپنا گھر بنا سکتا ہے اسی لئے وزیر اعظم عمران خان نے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا ۔ انہوں نے کہا کہ فلاحی ریاست ذاتی ایجنڈا نہیںجبکہ اپوزیشن کا سارا یجنڈا ذاتی ہے ۔ اپوزیشن کا رویہ یہ ہے کہ بڑا بھائی جیل جائے تو چھوٹا بھائی اپوزیشن لیڈر بنے اسے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا چیئرمین شپ دی جائے تاکہ وہ بھائی کا آڈٹ کرے ، عمران خان کی یہ سوچ نہیں ہے کہ اپنے خاندان کو نوازنا ہے ۔ اپوزیشن اور عمران خان کی سوچ اور سیاست میں یہی فرق ہے ۔ عمران خان کی سیاست ملک او رقوم کے لئے ہے جبکہ اپوزیشن کی سیاست ان کےلئے گھر کے لئے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کئی سال کشمیر کمیٹی کے سربراہ رہے ان کے دور میں کیا کیا واقعات نہیں ہوئے لیکن انہوں نے کبھی احتجاج نہیں کیا ۔ جب وہ حکومت میں ہوں تو حکومت ، آئین ہر چیز صحیح ہوتی ہے لیکن جیسے ہی حکومت سے باہر جائیں تو انہیں جان کے لالے پڑ جاتے ہیں ۔ یہ پہلا موقع ہے کہ 1988ءکے بعد مولانا فضل الرحمن کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ۔ موجودہ حکومت کی گاڑی ڈیزل کے بغیر اچھی چل رہی ہے کیونکہ اب ہائبرڈ گاڑیاں آرہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹی چھوٹی باتیں اور اختلافات ہو جاتے ہیں ،پی ٹی آئی میں لیڈر شپ کا کوئی بحران نہیں اور عمران خان ہی حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور اس کے بعد پوری پارٹی اس پر متحد اور متفق ہوتی ہے اس لئے کسی کو غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔ کسی نے وزیر اعلیٰ کے بارے میں بات کر دی ، گورنر کے بارے میں بات ہو گئی اس سے کوئی بحران کھڑا نہیں ہوا ۔ گورنر ، وزیر اعلیٰ ، وزیر سب ورکر زہیں اور صرف عمران خان لیڈر ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کےلئے سب سے اہم بحران ادائیگیوں کاتوازن تھا او رہم نے 12ارب ڈالر دینے تھے لیکن اب اس میں آسانیاں پیدا ہوئی ہیں۔ نواز شریف اور آصف زرداری کی جماعت کے لوگ کہتے ہیں کہ ہم بھیک مانگتے ہیں ، ملک پر مجموعی قرضے کا 84فیصد دونوں جماعتوں کے ادوار میں لیا گیا ، اس قرض کو دونوں سیاسی خاندانوں میں بانٹ دیتے ہیں اور ان سے نکلوا لیتے ہیں اور پھر ہمیں باہر کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ باہر کے ممالک میں پیسے نکلوانے کے اور طریقے ہیں لیکن پاکستان میں جمہوریت ہے اس لئے یہاں یہ طریقے آزمائے نہیں جا سکتے اس لئے تھوڑی دیر لگ رہی ہے ۔ یہ پاکستان کے لوگوں کے پیسے ہیں ۔ یہ کہتے ہیں کہ ایوان میں ماحول اچھا رہنا چاہیے جس کا مطلب ہے کہ ان سے مک مکا کر کے چلنا چاہیے اور کرپشن پر بات نہ کی جائے ۔ اگر کرپشن پر بات کی تو ماحول خراب ہو جائے گا اس لئے ان کے کیسز پر بات نہ کریں ۔ میرا موقف ہے کہ اگر پی ٹی آئی نے کرپشن کے خلاف بات نہیں کرنی اگر ہم نے اس سے پیچھے ہٹ جانا ہے اور ان پر ہاتھ ہولا رکھنا ہے جو ان کی خواہش ہے تو یہ پی ٹی آئی کے ووٹرز کے ساتھ غداری ہو گی ۔ اس حوالے سے وزیر اعظم کا واضح موقف ہے ہم نے احتساب کے لئے جو اقدامات کئے ہیں ان میں تیزی آئے گی ۔ حکومتیں آنی جانی چیزہوتی ہے ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اگر کرپشن کرنے والو ں کو روکا گیا یا ان پر ہاتھ ڈالا گیا تو معیشت خراب ہو جائے گی ، انہی لوگوں کی وجہ سے تومعیشت تباہ ہوئی ہے ۔ یہاں امیر اور غریب کے لئے الگ الگ قانون ہے ،جب تک طاقتور طبقہ احتساب کے شکنجے میں نہیں آئے گا ملک آگے نہیں چل سکتا ، احتساب کے سامنے سب جوابدہ ہیں ۔ ہماری عدالتوں نے بھی اس مشن کو جس طرح لیا ہے وہ قابل ستائس ہے اور اب ماضی والا معاملہ نہیں ہوگا ۔ ماضی میں یہ ہوتا تھاکہ آپ بڑا وکیل کر سکتے ہیں تو حکومت کو شکست دے سکتے ہیں اور ماضی میں حکومت کے وکیل بھی ایسے ہی ہوتے تھے بلکہ بعض اوقات دونوں طرف ایک ہی وکیل جیسی صورتحال ہوتی تھی ۔ ریاست کا بیانیہ ہے کہ ہم نے پاکستان کا وقار بحال کرنا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان فلاحی ریاست کے قیام، قانون کے نفاذ کے لئے اقدامات اٹھا رہے ہیں ، ہم پاکستان کے دشمنوں سے فکری پاکستان کا بیانیہ واپس لیں گے اورریاست کا بیانیہ چلے گا ۔ ہم مربوط پالیسی کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں اور ایک نیا پاکستان ہوگا جس کا وعدہ پی ٹی آئی نے کیا تھا ۔ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کرپشن کے حوالے سے انکشاف بارے کہا کہ کچھ انوسٹی گیٹرز کا کہنا ہے کہ ابھی تفصیل میں جانا مناسب نہیں ہوگا ۔ میری وزیر اعظم سے بات ہوئی ہے کہ اس پر بات کرنی ہے یا اسے التواءمیں رکھنا ہے ،کچھ قانونی پہلوﺅں پرمشورہ ہو رہا ہے ۔ انہوںنے ڈی جی نیب لاہور کی ڈگری کے معاملے پر کہا کہ وہ تقریباً بیس سال سے نیب میں ہیں اور دس سال زرداری کی حکومت بھی رہی ۔ پہلے ان کی ڈگری اصلی تھی لیکن جب انہوںنے سابق وزیر اعلیٰ کو گرفتار کیا تو ان کی ڈگری جعلی ہو گئی ، جب بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالا جائے تو ڈگری جعلی ہو جاتی ہے ۔ جب مافیا پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو یہ خاموش نہیں رہتا ۔ یہ تو دل گردے کی بات ہے کہ نیب کے افسران اس کارخیر میں حصہ ڈال رہے ہیں انہیں سپورٹ کرنا چاہیے لیکن جہاں غلط بات ہو گی اس کی مخالفت بھی کریں گے۔انہوں نے گورنے اور سپیکر کے معاملے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ سب کوکہا گیا ہے کہ احتیاط ہونی چاہیے کیونکہ ”موبائل فون بھی ہوتا ہے “۔ انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی واضح ہدایات ہیں کہ کچی بستیوں اور غریب علاقوں میں آپریشن نہیں ہوگا اور جہاں سے شکایات ملی ہیں وہاں آپریشن روک دیا گیا ہے ۔ انہوںنے میڈیا کے اشتہارات کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے پیسے کہاں سے دینے ہیں ، اگر اشتہارات دیتے ہیں تو پیسوں کی ادائیگی کےلئے قرض لینا پڑے گا یا عوام پر ٹیکس لگائیں گے ،ہم نے دیکھنا ہے کہ ہماری جیب اجازت کتنی دیتی ہے ۔ گزشتہ حکومت نے اشتہارات کو کرپشن او راپنی تشہیر کے لئے استعمال کیا اور مہذب معاشروں میں اس کی اجازت نہیں ہوتی ۔ ہم نے یہ اقدام کیا ہے کہ رجسٹرڈ صحافیوں کے لئے چار لاکھ مالیت سے زائد کے ہیلتھ کارڈ دے رہے ہیں ۔ انہوںنے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی چیئر مین شپ کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ راجہ پرویز اشرف کی ایک تحریک کے معاملے پر پیپلز پارٹی والوں سے بات ہوئی ۔ اس موقع پر ہمارا موقف تھا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ چھوٹا بھائی بڑے کے منصوبوں کا آڈٹ کرے ، اصولاً یہ پی ٹی آئی کا حق ہے، اگر لازما اپوزیشن میں ہی چیئرمین شپ دینی ہے تو بلاول یا کسی اور کو دیدیں اور یہ سمجھ میں آنی والی بات ہے ۔ 2016سے 2018ءجب نوزاز شریف وزیر اعظم تھے ان منصوبوں کا آڈٹ ہونا ہے ، خورشید شاہ کی اپوزیشن سب کے سامنے ہے خود پیپلز پارٹی والوں کوان کے بارے میں پتہ نہیں کہ وہ ان کے ساتھ ہیں بھی یا نہیں ۔ہم نے کہا ہے کہ جب ہمارے منصوبوںکا آڈٹ آئے گا تو (ن) لیگ کو دیدیں ۔ ویسے بھی کیا شہباز شریف کوٹ لکھپت جیل میں پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی صدارت کریں گے ، کمیٹی کے سارے ممبران کا جیل میں جانا مناسب نہیں کیونکہ وہاں پر خطرناک مجرم بھی ہوتے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت کہیں نہیں جارہی اور کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے ۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان 29نومبر کو حکومت کے 100 روز کے منصوبوں کے حوالے سے عوام کو آگاہ کریں گے۔ قبل ازیں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والا معاملہ حکومت یا ریاست کا نہیں بلکہ معاشرے کا بحران ہے ، کچھ لوگ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر سیاست کر رہے ہیں اور ان سر گرمیوں کا مذہب سے قطعاً کوئی تعلق نہیں، نظریات کی لڑائی بندوق سے نہیں بلکہ دلائل سے جیتی جاتی ہے ،مذہبی قیادت اس نظریاتی لڑائی کی آنر شپ لے موجودہ حکومت ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے ،جغرافیے کی وجہ سے افغانستان میں ہونے والے واقعات کے اثرات پاکستان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ فواد چوہدری نے کہا کہ جب تک کسی شخص کا سرور کونین حضرت محمد ﷺ سے عشق نہیں ہے وہ مسلمان ہو ہی نہیں سکتا ۔ کسی کلمہ گو کے محمد ﷺ کی ذات پر عشق کے حوالے سے کوئی دورائے نہیں ۔ کیوں ایک طبقے کو ضرورت پڑی کہ وہ اس معاملے کو اپنی سیاست کے لئے استعمال کرے ۔ یہ طبقہ ہر ہفتے اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں ملک میں واقعہ ہو گیا ، اس کو ایڈوائزر کیوں لگایا ۔ ان کی ووٹ کی سیاست ان معاملات سے جڑی ہوئی ہے ۔ ان کے خلاف سب سے پہلے بغاوت مذہبی طبقے میں ہونی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ ایسا اس لئے نہیں ہوا کیونکہ پاکستان میں طویل عرصے سے ایک المیہ ہے ۔ یہ نظریات کی لڑائی ہے ، یہ بندوق کے زور پر نہیں جیتی جا سکتی بلکہ اسے دلیل سے جیتا جا سکتا ہے ۔ پاکستان میں مسئلہ یہ ہوا ہے کہ بہت طویل عرصے پہلے سوویت یونین نے افغانستان پر قبضہ کیا کیا یہ پاکستان سے پوچھ کر کیا گیا ، اسامہ بن لادن نے نائن الیون پاکستان سے پوچھ کر کیا ، کیا امریکہ ہم سے پوچھ کر افغانستان میںآیا لیکن ان تمام واقعات کے اثرات پاکستان کو سہنے پڑے ہیں ۔ اپنے جغرافیائی حدود کی وجہ سے پاکستان پر ان واقعات کا اثرپڑا اور پڑ رہا ہے ۔ ایک روایتی جنگ میں ریاست کو شامل ہونا پڑا اور جو فکری سوچ تھی جس کی وضاحت ریاست تھی وہ مانند پڑ گئی ۔ انہوں نے کہا کہ جو مذہبی طبقہ دلیل کی بنیاد پر کھڑا ہوا انہیں اس سفر مین شہید ہونا پڑا ۔ انہوںنے کہا کہ اپنے دور کے بادشاہ بھی صوفیائے کرام کے مزارات میں آنکھیں نیچی کر کے حاضری دیتے تھے لیکن ان صوفیائے کرام کے مزارات پر دھماکے ہوئے ، بے ادبی ہوئی ۔ یہ ناکامی تھی کہ ریاست نے ان واقعات کو تماشائی بن کر دیکھا ۔ دلیل کے مقابلے میں دلیل نہ دے سکی۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھا ہی نہیں کہ اصل بات کیا ہے ا س سے ایک فکریہ المیہ پیدا ہوجاتاہے ۔ یہاں ریاست دلیل کے مقابلے میں دوسری دلیل کے لوگوںکو بچا نہیں سکی جن کے پاس بندوق تھی اور دوسرا نہتا تھا ۔ جب تک ریاست یقینی نہیں بنائے گی اور برابری کا ماحول نہیں دے گی مسئلہ حل نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں بہتری آرہی ہے اور ہم مایوسی نہیں بلکہ بہتری کی طرف جارہے ہیں ۔ مذہبی طبقات اور معاشرے کو نظریاتی جنگ کی آنر شپ لینا ہو گی ۔ ریاست کا فرض ہے کہ ایسا ماحول دے جہاں بات دلیل سے ہو سکے اگر بندوق والے اورنہتے کے درمیان بات ہو گی تو پھر لڑائی ہو گی ۔ مذہبی قیادت سے درخواست ہے کہ ماضی میں ریاست ان کے ساتھ نہیں کھڑی تھی لیکن یہ حکومت مذہبی قیادت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے ۔حکومت پہلی بار سرکاری سطح پر ربیع الاول کو منا رہی ہے ۔ 20نومبر کو منعقد ہونے والی رحمت اللعالمین کانفرنس کا افتتاح وزیر اعظم عمران خان کریں گے جس میں دنیا بھر سے علمائے کرام کو مدعو کیا گیا ہے ۔ ہم نے مل کر اس لڑائی کو ان ہاتھوں میں جانے سے روکنا ہے جو مذہب اور معاشرے کی خدمت نہیں کر رہے۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved