تازہ تر ین

دائیں بائیں

کامران گورائیہ
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اوروزیراعظم پاکستان عمران خان کو کپتان کا لقب 1981ءمیں بھارت کے خلاف ان کے ہوم گراو¿نڈ میں کرکٹ سیریز کھیلنے پر دیا گیا۔ دیکھا جائے تو عمران خان کو دنیائے کرکٹ اور فلاحی منصوبوں میں جتنی بھی کامیابیاں حاصل ہوئیں ان کے پیچھے ان کے اپنے فیصلے تھے جو وہ خود کرتے تھے اور ان پر عمل کرتے ہوئے کامیابیوں کی سیڑھیاںچڑھتے چلے جاتے تھے۔ عمران خان نے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے بھی جو کامیابیاں حاصل کیں ان میں سلیکشن کمیٹی کا رول نہ ہونے کے برابر ہوتا اور کھلاڑیوں کا انتخاب کپتان خود کرتے تھے تاہم سیاسی امور کے حوالے سے ان کے دائیں بائیں رہنے والے بہت سے مشیر اور شخصیات ان پر اپنے فیصلے مسلط کرنے لگیں اور وزیراعظم بننے کے بعد بھی یہی لوگ کپتان کو اپنے فیصلے خود نہیں کرنے دے رہے۔ وزیراعظم عمران خان کو 50 لاکھ گھر بنانے کا مشورہ بھی دیا گیا جس کا انہوں نے اعلان بھی کر دیا مگر یہ گھر کیسے اور کتنے عرصہ میں تعمیر کیے جائیں گے اس سوال کا جواب آج بھی وہ غریب عوام تلاش کر رہے ہیں جن کے لیے یہ گھر بننے ہیں۔ اسی طرح صوبہ پنجاب میں سردار عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ بنانے کا مشورہ بھی ان کے دائیں بائیں رہنے والے لوگوں نے دیا ہے جس کی وجہ سے انہیں شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ پنجاب میں ان کی اپنی جماعت مختلف دھڑے بندیوں کا شکار نظر آتی ہے اور ان کے اتحادی بھی مخالفت پر اتر آئے ہیں۔ عمران خان کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین جو ابتداءہی سے سردار عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کے خلاف تھے وہ اب کھل کر میدان میں اتر چکے ہیں اور انہیں پنجاب اسمبلی میں سپیکر اور ق لیگ کے مرکزی رہنما چوہدری پرویز الٰہی اور علیم خان کی حمایت بھی حاصل ہو چکی ہے۔ صوبہ پنجاب ہمیشہ سے قومی سیاست میں مرکزی کردار ادا کرتا آیا ہے اور اسے یہ اہمیت آج بھی حاصل ہے مگر وزیراعظم عمران خان کو ان کے دائیں بائیں کے لوگ اس حوالے سے درست مشورے نہیں دے رہے اور انہیں حقائق کی درست تصویر نہیں دکھائی جا رہی جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ عمران خان صوبہ پنجاب پر توجہ دیں اور اپنے دائیں بائیں کے لوگوں پر انحصار ختم کرتے ہوئے اپنے فیصلے خود کریں۔ بصورت دیگر ان کے اقتدار کو اور ان کی پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ماضی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے علاوہ ان کے تمام جاننے والے دوست احباب سب ہی ان کو کپتان کے نام سے پکارنے لگے۔اب بھی ان کے انتہائی قریبی دوست و عزیز و اقارب انہیں کپتان ہی پکارتے ہیں اس لئے مجھے بھی یہ نام پسند ہے اور جب میری اور عمران خان کے قریبی عزیزواقارب کے درمیان گفتگو ہوتی ہے تو ہم آپس میں خان صاحب کو کپتان ہی کہتے ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کے تاریخی فیصلے کے بعد سیاسی جماعتوں ،میڈیا اوردیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے عمران خان پر بہت تنقید کی اوران کے دھرنے کو ملک کے لئے نقصان قرار دیا۔ مختلف کالم نگاروں نے اپنی مختلف رائے جوڈیشل کمیشن کو دیں‘میں تھوڑا ان سے مختلف پہلو پر بات کرنا چاہتا ہوں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کپتان محب وطن اور سچے پاکستانی ہیں اور انہوں نے پاکستان کا نام روشن کیا‘دنیا میں پاکستان کرکٹ کا مقام انتہائی حد تک پہنچانا بھی کپتان کا ہی کارنامہ ہے اور ورلڈ کپ جیت کر بھی انہوں نے پاکستان کا نام روشن کیا۔ ان کی کامیابیوں کے پیچھے ایک اہم راز یہ ہے کہ وہ ہمیشہ سے اپنے فیصلے خود کرتے آئے ہیں انہوں نے قومی کرکٹ ٹیم کی کپتانی کی ذمہ داری سنبھالتے ہی کھلاڑیوں کے انتخاب کے حوالے سے فیصلے خود کرنا شروع کر دیئے جس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے۔کپتان فتح کی ذمہ داری پوری کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سلیکشن کمیٹی کو خاموش رہنے پر مجبور کر دیتے تھے۔ عالمی کرکٹ ورلڈ کپ 1992ءمیں فتح یاب ہونے کے بعد کپتان نے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال جیسا معجزہ بھی بخوبی پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
عمران خان کے کرکٹ ٹیم میں آنے سے پہلے قومی کرکٹ ٹیم جب بھی گوروں کے دیس میں جاتی تو ان کی کوشش ہوتی کہ وہ کسی طرح اِن سے میچ اور سیریز برابر کرلیں لیکن عمران خان نے ٹیم میں جیت کا جذبہ پیدا کیا‘ انہوں نے مو¿قف اپنایا کہ گوروں کو ان کے ملک میں ہرا یا جا سکتا ہے اور انہوں نے یہ کرکے بھی دکھایا۔ اسی طرح بھارت میں بھارت کو کرکٹ سیریز ہرانا تقریباً ناممکن تصور کیا جاتا تھا کیونکہ بھارتی کرکٹ ٹیم کے علاوہ ان کے ایمپائر بھی ان کے ساتھ کھیلتے تھے لیکن کپتان نے بھارت کی کرکٹ ٹیم کو ان کے ایمپائروں سمیت بھارت میں شکست سے دوچار کیا۔کسی شخص میں خود اعتمادی اس کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے لیکن ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ مجھے یاد ہے 97ءکے جنرل الیکشن سے پہلے کپتان کے بڑے بڑے جلسے دیکھ کر پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت خوف زدہ ہوگئی تھی اور انہوں نے کپتان کے ساتھ اتحاد کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔اس سلسلہ میں میری اطلاعات کے مطابق سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے عمران خان کو 13قومی اور 25سے 35صوبائی اسمبلی کی سیٹیں دینے کی پیشکش کی اور یہ ایک قابل قبول پیشکش تھی۔ عمران خان کو پارلیمانی سیاست میں قدم رکھنے کا ایک بھرپورموقع مل رہا تھا لیکن عمران خان کے دائیں بائیں رہنے والے لوگوں نے کپتان سے کہا کہ شیر کبھی کسی کا شکار نہیں کھاتا بلکہ اپنا شکار خود کرتا ہے اس لئے ہمیں سولو فلائٹ لینی چاہئے اس الیکشن میں عمران خان اپنی سیٹ بھی ہار گئے۔جنرل مشرف کی آمریت کے سایہ میں ہونے والے 2002کے جنرل الیکشن میں ایک سینئرصحافی سابقہ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات محمد علی درانی نے عمران خان سے ملاقات کی اور ان کو 15قومی اسمبلی کی اور 30کے لگ بھگ پنجاب اسمبلی کی سیٹوں کی آفر کی اور کہا کہ آپ جنرل مشرف کے زیر سایہ بننے والے کیپٹل الائنس کا حصہ بن جائیں انہوں نے کپتان کو یہ بھی بتایا کہ مختلف سروے رپورٹس کے مطابق آپ کا اِس سے نصف نشستوں پر کامیاب ہونا بھی ممکن نہیں لیکن جنرل مشرف کی خواہش ہے کہ آپ کو زیادہ سے زیادہ ACCOMMODATEکیا جائے لہٰذا ہم آپ کو یہ پیشکش کر رہے ہیں‘ لیکن کپتان نے یہ پیشکش بھی یہ کہہ کر مسترد کردی کہ میں اس سے کہیں زیادہ نشستیں جیت سکتا ہوں۔2002ءکے جنرل الیکشن میں کپتان میانوالی سے اپنی ایک قومی اور ایک صوبائی اسمبلی کی نشست پر خود ہی کامیاب ہوسکے بعد ازاں صوبائی سیٹ چھوڑنے کے بعد ان کے بہنوئی حفیظ اللہ نیازی نے وہاں سے الیکشن لڑا تو کپتان اس سیٹ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے اس فیصلے کے پیچھے بھی ان کے دائیں بائیں کے لوگوں کی مشاورت شامل تھی۔2008کے جنرل الیکشن سے قبل جب کپتان ڈیرہ غازی خان جیل میں تھے تو میرے ساتھ کپتان سے تعلق رکھنے والی ایک اہم شخصیت نے ڈیرہ غازی خان جیل میں ان سے ملاقات کی اور جیل میں ان کی کسی سے یہ واحد ملاقات تھی۔ اس ملاقات میں اِس اہم شخصیت نے خان کو کہا کہ آپ کے دائیں بائیں سے مجھے یہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ آپ الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کا سوچ رہے ہیں جو سیاسی طور پر ٹھیک فیصلہ نہ ہو گا میرے سامنے اس شخصیت کو کپتان نے یقین دلایا کہ اگرپیپلز پارٹی الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کرے گی تو تحریک انصاف بھی الیکشن میں بھرپور حصہ لے گی اس ملاقات سے چند روز بعد مجھے اپنی صحافتی مصروفیات کے باعث امریکہ جانا پڑا وہاں پر میں نے ٹی وی پر ایک پریس کانفرنس میں کپتان کو اپنے کاغذاتِ نامزدگی پھاڑتے ہوئے اور الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے دیکھاواپس آیا تو معلوم ہوا کہ کپتان کے اس وقت کے دائیں بائیں والوں نے خان کو کہا کہ یہ الیکشن غیر آئینی ہے اور سپریم کورٹ اس الیکشن کو غیر آئینی قرار دیدیگی لہٰذا ہمیں اس کا حصہ نہیں بننا چاہئے جس کے بعد کپتان نے یہ فیصلہ کیا اور وقت نے ثابت کیا کہ وہ کپتان کی ایک سنگین غلطی تھی۔قسمت کی دیوی کپتان پر پھر ایک دفعہ مہربان ہوئی اور2013ءکے الیکشن میں PTIایک بھرپور اور بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری اِس الیکشن میں اگرچہ کپتان کی جماعت ان کی توقع کے مطابق کامیابی نہ حاصل کرسکی لیکن ووٹوں کے اعتبار سے دوسری بڑی جماعت بن گئی اور خیبر پختونخوا کی حکومت بھی ان کے حصے میں آئی۔ اس وقت کپتان کے دائیں بائیں رہنے والوں نے کپتان کو یقین دلادیا کہ 2013کے الیکشن میں ان کے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے اور ان کی کامیابی کو منظم دھاندلی سے شکست میں بدل دیا گیا ہے جس کے بعد کپتان نے بھرپور تحریک چلائی 126دن کا دھرنا دیا اس دھرنے کے بعد حکومت نے کپتان کی خواہش پر چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں ایک جوڈیشل کمیشن بنایا جس نے کپتان کے الزامات کا بغور جائزہ لیا کپتان کے دائیں بائیں والے ہر پیشی کے بعد کہتے رہے کہ فیصلہ ان کے حق میں آئے گا لیکن ایسا نہ ہوا جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کے بعد کپتان کو اپنے دائیں بائیں رہنے والوں کے حوالے سے ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت تھی اور اہم تبدیلیاں اور فیصلے کرنا چاہئیں تھے لیکن انہوں نے ایک بار پھر اپنے دائیں بائیں رہنے والوں کے مو¿قف کو اپنی ترجیح بنایا اور جو ڈیشل کمیشن کے فیصلے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاتھا کہ جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ تو قبول لیکن انہوں نے اپنا کام ادھورا چھوڑ دیا ہے۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved