تازہ تر ین

سول رجسٹریشن‘ایک قومی تقاضا

فیصل مرزا……..اظہار خیال
”سول رجسٹریشن اور ضروری اعداد و شمار“کے حوالے سے پنجاب میں پہلا تعارفی سیمینار چند روز قبل لاہور میں منعقدہوا۔ سیمینار کا انعقاد محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ، محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، وزارت منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کے اشتراک سے ہوا۔ سیمینار میںمختلف اداروں کے نمائندوں نے پیدائش اور اموات کی بروقت رجسٹریشن کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔
سول رجسٹریشن سسٹم درحقیقت ایک میکنیزم ہے جس میں شہریوں کی زندگی کے چار اہم پہلو¶ں پیدائش، اموات، شادی اور طلاق سے متعلقہ اعدادوشمار کا ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے۔ ان چار پہلو¶ں کے اعدادو شمار کسی بھی حکومت کو علاقائی ترقی اور صحت و تعلیم کے حوالے سے بہترین پالیسی کی تشکیل کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ کیونکہ سول رجسٹریشن سسٹم ایک قابل اعتبار شماریات مہیا کرنے کا ذریعہ ہے اوریہ تمام اعدادوشمار درست طریقہ اور کم قیمت میں ترتیب دینے یا اکٹھا کرنے کے حوالے سے قابل اعتبار نظام ہے۔
صحت کے قومی نظام اور حکومت کے دیگر شعبوں کو موثر بنانے کیلئے ایک مضبوط سول رجسٹریشن سسٹم ہر ملک کی بنیادی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں بد قسمتی سے پیدائش اور اموات کو بروقت رجسٹر کرانے کا رجحان بہت کم ہے۔ پاکستان میں پیدائش اور اموات کے بروقت انداراج نہ کروانے کی وجہ سے اموات کے صحیح سبب، اعداد و شمار اور عمر، جنس، مقام اور / سماجی اقتصادی حیثیت سے متعلق درست معلومات بھی دستیاب نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں بچوں کی پیدائش اور شادیوں کی بر وقت رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے پیدائش اور ازواجی حیثیت کے اعدادو شمار بھی درست میسر نہیں ہیں۔
اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی کمیشن برائے ایشیا اینڈ پیسفک نے پاکستان کو ایشیا کے ان 6ترجیحی ممالک میں شامل کیا ہے جہاں آنے والے برسوں میں سول رجسٹریشن سسٹم کو بہتر بنانے پر کام کیا جائے گا۔ درحقیقت سول رجسٹریشن سے متعلقہ ضروری اعدادو شمار فطری لحاظ سے کثیر شعبہ جاتی امر ہے۔ سول رجسٹریشن وائٹل سٹیٹسٹکس کی ترقی و تشکیل کے لئے مجموعی طور پر تعاون کا کام وزارت منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات کو تفویض کیا گیا ہے۔ جو کہ پاکستان میں سی آر وی ایس کی تیز رفتار اور جامع تشخیص‘ صوبائی محکموں، نادرا، عالمی ادارہ صحت کے علاقائی دفاتر، یونیسیف اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون سے اہتمام کرتا ہے۔
پاکستان میں سی آر وی ایس میں سنگین کمزوریاں پائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے قومی اعداد و شمار برائے پیدائش اور موت کی رجسٹریشن غیر معمولی کم ہیں۔ پاکستان میں دیہاتی علاقوں میں، بہ نسبت شہری علاقوں کے، پیدائش اور اموات کے انداراج کی شرح انتہائی کم ہے مجموعی طور پر صرف 30 فیصد پیدائش ریکارڈ بروقت درج کیے جا رہے ہیں۔ جبکہ اموات کے اندراج کا کوئی باقاعدہ میکنیزم اس وقت موجود نہیں پاکستانی شہریوں کی اکثریت موت کے کافی عرصہ بعد صرف اس وقت اموات کا اندراج کرواتی ہے جب ان کو وراثت کے انتقال کیلئے ڈیتھ سرٹیفیکٹ کی ضرورت پڑتی ہے جس وجہ سے موت کے واقعات بہت کم ریکارڈ ہوتے ہیں اور اموات کی وجہ کے تعین کے درست اعدادوشمار حاصل نہیں ہوتے، جس کے نتیجے میں میں خودکار طریقہ سے مردم شماری اور دیگر مقاصد کے حصول کی خاطراعدادو شمار حاصل کرنے کیلئے انتہائی مہنگے سروے کروائے جاتے ہیں جس میں نہ تو معتبر اعدادوشمار حاصل ہوتے ہیں بلکہ کثیر قومی سرمایہ کا بھی ضیاع ہوتا ہے۔
پاکستان میں سی آر وی ایس کی ترقی و فروغ کیلئے صوبائی اور قومی سطح پر مضبوط تعاون کے میکنیزم کی تشکیل انتہائی ضروری ہے۔ موجودہ علاقائی قوانین کی جگہ سی آر وی ایس کی ترقی کیلئے یکساں قومی قانون کی تشکیل اور اس پر عملدرآمد کی سفارش کی جاتی ہے اور اموات کے سبب کے تعین کیلئے آئی سی ڈی کوڈنگ (بیماریوں کی عالمی شماریاتی درجہ بندی) پر عملدرآمد انتہائی ضروری ہے جس کیلئے نجی ہسپتالوں کو بھی دائرہ کار میں لا کر سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں آئی سی ڈی کوڈز پر عملدرآمد کروا کر وجہ اموات کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے۔
سول رجسٹریشن اور ضروری اعدادوشمار کی اہمیت کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو چاہیے کہ عوامی شعور کیلئے مقامی سطح پر بھی سیمینار منعقد کئے جائیں اور عوام کو سول رجسٹریشن کے فوائد اور اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ بروقت پیدائش، اموات، شادی اور طلاق کا اندراج عوام کو بعد میں پیش آنے والی مشکلات اور پیچیدگیوں سے محفوظ رکھتا ہے اور بوقت ضرورت ان سرٹیفیکیٹ کا فوری طور پر حصول بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ سی آر وی ایس کسی بھی ملک کی صنعتی، معاشی، تجارتی و سماجی اور زرعی ترقی کیلئے بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ انسانی زندگی کے چار اہم پہلو¶ں پیدائش سے لیکر موت تک کی ساری زندگی کا احاطہ کرتا ہے یعنی پیدائش، اموات، شادی اور طلاق سے متعلقہ اعدادوشمار کے ذریعے ریاست کو مختلف شعبوں صحت، تعلیم، آبادی اور رہائش وغیرہ سے متعلق عوامی ترقی و سہولیات اورترقیاتی منصوبے اور پالیسیاں بنانے میں مدد ملتی ہے۔ نیز عوامی و سماجی زندگی کو مہذب اور منظم بنانے کے لئے ایک گڈ گورننس کی تشکیل میں بھی سی وی آر ایس کا بنیادی کردار ہے۔
حکومت کو چائیے کہ سول رجسٹریشن سسٹم کو موثر بنائے اور پرانے چوکیدارہ نظام کو بحال کیا جائے۔ یہ نظام دو دہائیوں پہلے تک بآحسن کام کر رہا تھا اس نظام کے تحت تمام دیہات میں اور شہری علاقوں میں ایک یونین کونسل کے ماتحت چوکیدار کا عہدہ تھا جو ہر گا¶ں میں پیدا ہونے والے اور فوت پا جانے والوں کا اندراج متعلقہ یونین کونسل میںباقاعدگی اور ذمہ داری سے کرواتا تھا ، اس نظام کے تحت 80فیصد تک کے اندراج بروقت ہوتے رہے ہیں۔ ہم سول رجسٹریشن نظام کو مستحکم اور مربوط کر کے ہی ملک بھر کے اعدادو شمار بغیر قیمتی سرمایہ لگائے سروے کروانے کے درست اور معتبر اعدادو شمار حاصل کر سکتے ہیں۔علاوہ ازیں ووٹ رجسٹریشن، حلقہ بندی، پاپولیشن کنٹرول اور کرائم کنٹرول کیلئے بھی سی آر وی ایس انتہائی موثر ہو سکتا ہے۔ اس نظام کو مستحکم اور مربوط کرنے سے ایک فائدہ یہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے کہ مردم شماری میں کروائے جانے والے روایتی سروے میں صرف ہونے والے قیمتی سرمایہ کو بچایا جا سکتا ہے ، روایتی مردم شماری کے طریقہ کار سے درست اعدادوشمار بھی حاصل نہیں ہوتے جبکہ سول رجسٹریشن کے نظام سے درست اور معتبر اعدادو شمار حاصل کئے جا سکیں گے۔
(کالم نگارسماجی اورمعاشرتی امورپر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved