تازہ تر ین

چودھری سرور نہیں رکے گا

وجاہت علی خان….مکتوب لندن
گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کنٹرول ہوگا نہ رکے گا، کیونکہ اس کی سیاسی تربیت لندن کی اصلی ڈیموکریسی کے کھلے ماحول میں ہوئی ہے۔ اس لئے وہ نہ کنٹرولڈ ڈیموکریسی کا قائل ہے اور نہ ڈی فیکٹو آٹو کریسی کا حامی، وہ بطور گورنر اپنے قانونی و آئینی اختیارات سے واقف بھی ہے اور انہیں استعمال کرنے کا گر بھی جانتا ہے چنانچہ گورنر کو کنٹرول یا اسے روکنے کے منصوبہ سازوں کونوید ہو کہ آپ کی سیاسی منصوبہ بندی جہاں اختتام پذیر ہوتی ہے چودھری سرور کا سیاسی تانا بانا وہاں سے شروع ہوتا ہے کہ وہ مدر آف پارلیمنٹ ، برطانیہ کا ”تعلیم یافتہ“ ہے اور اب ایک عرصہ سے پاکستانی سیاست کی بھول بھلیوں اور سیاسی موشگافیوں سے بھی کماحقہ آشنا ہو چکا ہے، لہٰذا سیاسی بازیگری میں یہ لوگ چودھری سرور کے پائے کے نہیں ہیں۔
خبریا” سیاسی لیک“ کے مطابق مسلم لیگ (ق) کے رہنما چودھری طارق بشیر چیمہ جو وفاقی وزیر ہاﺅسنگ بھی ہیں‘ کی لاہور میں سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی اور تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین سے ملاقات ہوئی جہاں پرویز الٰہی اورطارق چیمہ نے جہانگیرترین سے درخواست کی ”یار اس سرور کو کنٹرول کرو“ طارق چیمہ نے یہ بھی کہا کہ ”آپ کے وزیراعلیٰ کو اس نے چلنے نہیں دینا“ مذکورہ ملاقات میں سینٹ الیکشن میں درپیش چیلنجز پر غور کے علاوہ جہانگیر ترین سے یہ شکوہ بھی کیا گیا کہ ترقیاتی فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے ارکان اسمبلی کے تحفظات بڑھ رہے ہیں‘اس ملاقات میں چوتھے شخص صوبائی وزیر معدنیات حافظ عمار یاسر بھی موجود تھے۔ اس ملاقات میں ہونے والی گورنر کے خلاف ”سازش“ کبھی منظر عام پر نہ آتی اگر اس موقع پر موجود کسی پانچویں شخص نے یہ چھوٹی سی ویڈیو فوٹیج عام نہ کی ہوتی۔ طارق بشیر چیمہ 1980ءسے 2002ءتک پاکستان پیپلزپارٹی میں تھے۔ اور پھر کئی دیگر چھوٹی سیاسی جماعتوں سے ہوتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور بعدازاں مسلم لیگ (ق) میں شامل ہوگئے۔ طارق چیمہ کو چودھری محمد سرور سے یہ شکایت بھی ہے کہ گزشتہ عام انتخابات میں بھی چودھری سرور گروپ نے انہیں ٹف ٹائم دیا تھا بلکہ طارق چیمہ بمشکل اپنی سیٹ جیت سکے تھے۔بعض واقفان حال بتاتے ہیں کہ چودھری محمد سرور کے خلاف سازش کے اصل منصوبہ ساز طارق بشیر چیمہ نہیں بلکہ چودھری پرویز الٰہی ہیں کیونکہ چودھری سرور کے گورنر ہوتے ہوئے چودھریوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں مل رہا۔ اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ گورنر کو عمران خان کی نظر میں متنازع بنایا جائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو یہ باور کرایا جائے کہ گورنر تمہارے اختیارات اور پاور پر حاوی ہو رہا ہے۔ چنانچہ اس قسم کے ماحول کو ترویج دیکر اپنا الو سیدھا کیا جائے کیونکہ چودھری پرویز الٰہی جانتے ہیں کہ چودھری محمد سرور بین الاقوامی طور پر تو جانی مانی شخصیت تو ہیں ہی لیکن وہ پنجاب میں بھی اپنا ایک مضبوط نیٹ ورک رکھتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ دور حکومت میں ہی یہاں اپنی ارائیں برادری کے حوالے سے اپنا مضبوط دھڑا بنا لیا تھا۔ چودھری پرویز الٰہی یہ بھی جانتے ہیں کہ عثمان بزدار ایک کمزور وزیراعلیٰ ہیں اور اگر وہ اپنی ذاتی حیثیت سے الیکشن لڑیں تو یقینا تونسہ سے تعلق رکھنے والوں سے بھی ووٹ نہ لے سکیں چنانچہ گزشتہ چند ہفتوں میں چودھری پرویز الٰہی اپنے بعض بااعتماد دوستوں کے ذریعے ڈسکریشن پاور رکھنے والے حکومتی افراد کو یہ باور کروانے میں کسی حد تک کامیاب ہو چکے ہیں کہ اگر پنجاب کی وزارت اعلیٰ میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی ہونا ضروری ہو تو اولین چوائس وہی ہوں۔ دوسرے لفظوں میں چودھری پرویز الٰہی کی نظر پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر ہے لیکن ان کی اس خواہش میں سب سے بڑی رکاوٹ اگر کوئی ہے تو وہ گورنر چودھری محمد سرور ہیں کیونکہ پورے پنجاب سے آنے والے وفود سے جس قدر ملاقاتیں چودھری سرور کرتے ہیں اتنی چودھری پرویز الٰہی کے بس میں ہے نہ عثمان بزدار کے۔
سیاسی تجزیہ کیا جائے تو اس کے مطابق چودھری سرور وقت کا درست استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ لاہور میں پکنے والی اس سیاسی کھچڑی سے بھی آگاہ ہیں جس کے ”شیف“چودھری پرویز الٰہی ہیں جو چاہتے ہیں کہ جونہی ن لیگ سے شریف فیملی کا مکمل صفایا ہو وہ ساری مسلم لیگ کے سربراہ بن جائیں اور یوں پنجاب کی وزارت اعلیٰ اپنے آپ ان کی جھولی میں آن گرے گی۔ لہٰذا اگر آج چودھری پرویز الٰہی کے دماغ کا سیاسی ایکسرے کیا جائے تو صاف نظر آئے گا کہ وہ پنجاب سے تحریک انصاف کی حکومت ختم کرکے اپنی مسلم لیگ کی حکومت قائم کرنےکی منصوبہ بندی کر چکے ہیںجسے اسٹیبلشمنٹ کی پس پردہ حمایت بھی حاصل ہو۔ شاید عمران خان حکومت کو اب یہ احساس شدت سے ہو رہا ہے کہ انہیں کم از کم سپیکر پنجاب اسمبلی کی کرسی پر چودھری پرویز الٰہی کو نہیں بٹھانا چاہیے تھا جو اقتدار کے پہلے چند ہفتوں میں ہی ”لڑاﺅ اور حکومت کرو“ کے فلسفے پر عمل پیرا ہو کر ”پی ٹی آئی“ حکومت کو کھوکھلا کر رہے ہیں، شاید ان کے سامنے چودھری منظور وٹو کی مثال ہے جو 1993ءمیں وزیراعلیٰ غلام حیدر وائیں کیخلاف ہونے والی تحریک عدم اعتماد کے بعد صرف 17 ووٹ رکھنے کے باوجود وزیراعلیٰ بن گئے تھے لیکن ہربار ایسا نہیں ہوسکتاہے۔ پرویز الٰہی صاحب میرا آپ سے سوال ہے کہ آپ ساجھے کی ہنڈیا بیچ چوراہے پر پھوڑنا، تو چاہتے ہیں لیکن آپ کی اس مہم جوئی میں نقصان کس کا ہوگا؟
لاہور میں سیاسی سازباز کا میدان سجانے والوں کو ادراک ہونا چاہئے کہ ان کا مقابلہ کسی نابالغ سیاسی بالشتیے سے نہیں بلکہ لندن پلٹ جہاندیدہ اور زیرک سیاستدان سے ہے جو تین دفعہ برطانوی پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہوچکا ہے اور پھر وہ یہ بھی نہ بھولیں کہ اس کا خمیر فیصل آباد جیسے مردم خیز شہر سے اٹھا ہے! آپ اسے روک نہیں سکتے۔ وہ تو 1997ءمیں جب پہلی بار ممبر برطانوی پارلیمنٹ منتخب ہوا تو اس بات پر بضد رہا کہ کہ وہ قرآن پر حلف لے گا۔ دوستوں نے بے حد طاقتور یہودی لابی سے ڈرایا کہ وہ مخالف ہوجائیں گے‘ تمہیں چلنے نہیں دیں گے لیکن وہ ڈرا نہ ہی رکا۔ کشمیریوں کے لئے حق خودارادیت کے لئے دبنگ آواز برطانوی پارلیمنٹ میں اٹھائی تو اسے متمول اور مضبوط ہندو لابی کی سازشوں کے خطرے کی دہائی دی گئی لیکن وہ پھر بھی اڑا رہا اور پارلیمنٹ کے اندر و باہر ”اونچی آواز“ میں بولتا رہا۔ وہ پہلی بار برطانوی پارلیمنٹ میں داخل ہوا تو برطانوی تاریخ کا پہلا مسلمان رکن پارلیمنٹ تھا اور مسلمان و پاکستانیوں کی پہلی آواز بھی۔ 1987ءمیں جب وہ پہلی بار گلاسکو کے علاقہ پولکشیلڈ سے کونسلر کا الیکشن لڑنے لگا تو اپنے پرائیوں سبھی نے اسے ڈرایا کہ تم کبھی یہ سیٹ جیت نہیں سکو گے کیونکہ برسوں سے اس پر کنزرویٹو پارٹی کا قبضہ ہے اور تم لیبر پارٹی سے تعلق رکھتے ہو لیکن چودھری سرور نہیں روکا بھاری اکثریت سے جیت گیا۔ امریکہ اور اتحادیوں نے عراق پر حملے کا پلان کیا تو چودھری سرور نے ڈٹ کر اپنی ہی پارٹی کے وزیراعظم ٹونی بلیئر کی اس جنگ میں شامل ہونے پر مخالفت کردی۔ اسے بہت روکا گیا لیکن یہ نہیں رکا بلکہ لیبر پارٹی کے ان 139 ارکان پارلیمنٹ کالیڈر بن گیا جو اس معاملہ میں اپنی ہی حکومت کی مخالفت کررہے تھے۔ 2005ءمیں برطانیہ کی نسل پرست و انتہاپسند جماعت ”برٹش نیشنل پارٹی“ نے مسلمانوں و پاکستانیوں کیخلاف زہر اگلنا شروع کیا تو سمجھانے کے باوجود چودھری سرور رکا نہ جھکا اور اس کے مقابلے پر الیکشن لڑتا رہا۔ 2013ءمیں اس نے پاکستان کی سیاست میں کودنے کا فیصلہ کرلیا۔ ”سیانوں“ نے اسے پاکستان کی لٹھ مار بے جادہ و منزل سیاست کا خوف دلا کر اسے اس فیصلے سے باز رکھنے کے بڑے جتن کئے لیکن چودھری سرور نہیں رکا‘ اسے صوبہ پنجاب کے 12 کروڑ افراد کا گورنر بنا دیا گیا۔ گو کہ یہ عہدہ انتظامی نہیں تھا لیکن وہ محرومیوں کے شکار عوام کیلئے کچھ کرنے کی دھن میں تھا اسے کافی سمجھایا گیا کہ وہ شہبازشریف کو ناراض نہ کرے‘ حمزہ شہباز کی مخالفت نہ کرے لیکن وہ کنٹرول نہیں ہوا۔ کبھی واٹر فلٹریشن پلانٹ‘ کبھی تعلیم اور کبھی میرٹ کا راگ الاپتا رہا۔ اسے سمجھایا تھا برطانوی شہریت مت چھوڑو لیکن وہ نہیں رکا۔ اسے کہا گیا سبھی اوورسیز پاکستانیوں کی طرف سے کہ گورنری نہ چھوڑو لیکن وہ نہیں رکا اور گورنری پر لات مار کر تحریک انصاف میں چلا گیا۔ لاہور کے ایچی سن کالج میں داخلہ ہو یا کسی دوسرے تعلیمی ادارے میں داخلے کا مسئلہ‘ وہ میرٹ پر ٹکا رہا۔ بڑے بڑے اثرانداز ہونے والوں اور وزیروں تک کے بچوں کی سفارش ماننے سے انکاری رہا لیکن وہ نہیں رکا۔ اسے حق گوئی سے کوئی نہ روک سکا نہ کنٹرول کرسکا۔ اپنے پہلے دور گورنری میں بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ نے بھی اسے بہت روکا کہ وہ ”جی ایس پی پلس“ کے معاملہ پر چپ رہے لیکن وہ بھی اسے کنٹرول نہ کرسکے‘ وہ نہیں رکا اور پاکستان کو ”جی ایس پی“ کا درجہ دلوا کر رہا۔ چنانچہ چودھری پرویزالٰہی خاطر جمع رکھیں وہ اپنی روایتی سیاست کی چیرہ دستیوں سے چودھری سرور کو روک سکیں گے نہ کنٹرول کرنا ان کے بس میں ہوگا۔ چودھری سرور درست کہتے ہیں کہ ان کی سیاسی بنیاد اصولوں کی سیاست ہے‘ میں ”سٹیٹس کو“ کے خلاف ہوں سوائے اللہ کے کسی سے ڈرتا ہوں نہ کسی کے روکے رکتا ہوں لیکن پھر بھی روک سکو تو روک لو!!
( کالم نگار”خبریں“ کے لندن میں بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved