تازہ تر ین

اے ٹی ایم سے جعلی نوٹ نکلنے کا انکشاف ،ایم ایس جنرل کا اکاﺅنٹ ہیک

لاہور(کرائم رپورٹر) ہیکنگ کا سلسلہ رکنے کی بجائے تیزی پکڑ گیا ،رہی سہی کثر بینکوں کی اے ٹی ایم سے نکلنے والے بغیر سیریل نمبر جعلی نوٹوں نے پوری کر دی ، ڈی ایم ایس جنرل ہسپتال اور محکمہ اوقاف کا سکیورٹی گارڈ جمع پونجی سے محروم ، ڈی ایم ایس کو ہیکروں نے پہلے حساس ادارے کا افسر اور پھر نجی بینک کا افسربن کر کال کی اور اسکے متعلق تمام معلومات بتا کر بن کوڈ حاصل کر لیا ، سکیورٹی گارڈ اپنی تنخواہ نکلوانے نجی بینک کی اے ٹی ایم پر گیا تو مشین سے بغیر سیریل نمبر جعلی نوٹ نکلے ، دونوں واقعات میں بینک انتظامیہ کا تعاون سے انکار ، ایف آئی اے کا راستہ دکھاتے ہوئے سکیورٹی کے نام پر آن لائن ٹرنزیکشن اور اے ٹی ایم کارڈز بلاک کرکے مزید پریشانی میں مبتلاءکر دیا، لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں ہیکنگ کے واقعات کے بعد ایف آئی اے بھی متحرک، سابقہ ریکارڈ یافتہ سائبر کرائم میں ملوث ملزمان کو ٹریس کرنا شروع کردیا ۔ ذرائع کے مطابق صوبائی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں جاری حالیہ ہیکروں کے حملوں کا سلسلہ نہ صرف بدستور جاری ہے بلکہ یہ قانون نافذ کر نے والے ا داروں کے حرکت میں آنے کے بعد کم یا ختم ہونے کی بجائے مزید شدت اختیار کر تا جارہاہے ۔ہیکنگ اور بینک فراڈ کے 2 مزید واقعے لاہور شہر میں اس وقت پیش آئے جب نجی بینک کی 2مختلف شاخوں سے ایک سرکاری ڈاکٹر اور ایک محکمہ اوقاف کا سکیورٹی گارڈ لُٹ گیا ۔جنرل ہسپتال کے ڈی ایم ایس اور ایم ایس کے پی ایس او ڈاکٹر خرم شاہنواز بٹ کونامعلوم ملزمان نے پہلے حساس ادارے کا افسربن کر اکاﺅنٹس کی سکیورٹی کے نام پر کال کی جس پر ڈاکٹر خرم شاہنواز نے جب انفارمیشن نہیں فراہم کی تو انھوں نے یہ بول کے فون بند کر دیا کہ آپ کو تب ہی یقین آئے گا جب آپ کو بینک کی ٹال فری ہیلپ لائن سے کال آئے گی اور پھر اس کے بعد بینک کے ٹال فری نمبر 021111267200سے ڈاکٹر خرم شاہنواز بٹ کو کال آئی جنہوں نے ان سے پہلے اے ٹی ایم کا بن کوڈ مانگا جو انھوں نے دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں کیسے مان لوں کے آپ بینک انتظامیہ ہی ہیں تو انھوں نے ڈاکٹر خرم شاہنواز کا بین اکاﺅنٹ نمبر ، اے ٹی ایم کارڈ نمبر ، کارڈ کی مدت معیاد وغیرہ فراہم کیں جس کے بعد ان کو یقین ہوگیا کہ یہ تمام ڈیٹا کسی ہیکر کے پاس تو نہیں ہوسکتا لہذا کالر بینک انتظامیہ کا ہی اہلکار ہے جس پر انھوں نے اپنے اے ٹی ایم کا پن کوڈ ان کو بتا دیا جس کے بعد بھی ڈاکٹر خرم شاہنواز کو بینک کے آفیشل4 نمبروں کے ڈیجٹ 8267سے تصدیقی میسج موصول ہوتے رہے کہ آپ کا تصدیقی عمل مکمل ہوگیا ہے تاہم کچھ ہی دیر بعد ڈاکٹر خرم شاہنواز کو انکے اکاﺅنٹس سے رقم نکلوانے کے میسج آنے شروع ہوگئے جس پر انھوں نے جب نجی بینک کی ہیلپ لائن 021111267200پر رابطہ کیا تو بینک انتظامیہ نے انھیں کسی بھی قسم کی کال کرکے ریکارڈ طلب کر نے کی تردید کر تے ہوئے کہا کہ آپ کا اکاﺅنٹ ہیک کر کے اس میں سے 9مختلف ٹرانزیکشنز کے ذریعے 4لاکھ 51ہزار روپے نکلوالئے گئے ہیں تاہم آگ کے اکاﺅنٹ سے مزید رقم نہ نکلوائی جاسکے اسکے لئے ہم آپ کا کارڈ بلاک کر رہے ہیں ۔ اس حوالے سے ڈاکٹر خرم شاہنواز بٹ نے جب اپنی متعلقہ نجی بینک کی جنرل ہسپتال برانچ سے رابطہ کیا تو انھوں نے انکی کوئی بھی مدد کر نے سے انکار کرتے ہوئے انھیں ایف آئی اے سے رابطہ کر کے ا پنی کمپلینٹ کروانے کا مشورہ دیدیا ۔ دوسری جانب محکمہ اوقاف کا سکیورٹی کلیم اللہ بھی اسی نجی بینک کی اے ٹی ایم مشین سے سے اپنی تنخواہ نکلوانے کیلئے گیا تو مشین سے نکلنے والے نوٹوں میں سے بیشتر پر سیریل نمبر ہی موجود نہ تھے جس پر کلیم اللہ نے بینک کی انتظامیہ سے رابطہ کیا تو انھوں نے یہ ماننے سے ہی انکار کردیا کہ یہ نوٹ ان کی مشین سے نکلے ہیں تاہم کلیم کی جانب سے احتجاج کرنے پر بینک انتظامیہ نے انکوائری کا کہہ کر اسے ٹال دیا ۔ایک طرف اے ٹی ایم کارڈز کو ہیک کر کے شہریوں کی جمع پونجی لوٹنے کا سلسلہ عروج پر ہے تو دوسری جانب بینک انتظامیہ کی جانب سے ہیکروں کا تدارک کر نے کی بجائے شہریوں کی آن لائن رقوم منتقلی اور اے ٹی ایم کارڈز کو بلاک کرکے مزید پریشانی میں مبتلاءکر دیا ہے ۔ان تمام واقعات کے متعلق ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ BISPاور جیتو پاکستان سمیت حساس اداروں اور بینک انتظامیہ بن کر کال کرنے والے نوسر باز ہیکروں کی شکایات تو گذشتہ کئی سالوں سے موصول ہورہی ہیں لیکن اب حالیہ دنوں سندھ میں ہونے والی ریکارڈ ہیکنگ کے واقعات کے بعد ان تمام واقعات کو بھی ہیکنگ کی اسی لہر سے منسوب کیا جارہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی بھی شہری خود ہی کسی ہیکرکو اپنے پن کوڈ سمیت تمام ڈیٹا دینے کے بعد کہے کہ اسے لوٹ لیا گیا ہے اور قانون نافذ کر نے والے ادارے کچھ نہیں کررہے تو یہ سراسر غلط ہے ۔ یہ تو اب بہت پرانی احتیاطی تدابیر ہوچکی ہیں کہ کسی بھی نمبر سے آنے والی کالزپر کالر کو اپنی یا اپنے اکاﺅنٹ کی معلومات فراہم نہ کریں تاہم پنجاب میں ہیکنگ کے واقعات کی اطلاعات کے بعد سابقہ ریکارڈ اور سزا یافتہ ملزمان کی دوبارہ سے ریکی شروع کر دی گئی ہے تاکہ ان کی غیر قانونی نقل و حرکت اور اپنے گھر ، شہر ، صوبے یا ملک میں غیر موجودگی کی صورت میں نیٹ ورک تک پہنچا جاسکے ۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved