تازہ تر ین

عثمان بزدار کو قبول کریں

انجینئر افتخار چودھری …. باعث افتخار
وزیر اعظم پاکستان اس بار بھی لاہور گئے تو بات کا آغاز ہی وزیر اعلیٰ پنجاب کے بارے میں توصیفی کلمات سے کیا اور کہا پارٹی کے اندر لوگ آپ کے مخالف تھے لیکن میں نے پاکستان کے بڑے صوبے کو ایک اور انضمام اور وسیم اکرم دیا ہے۔عمران خان کی ایک اچھی یا بری عادت یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں پر جلد اعتماد کر لیتے ہیں‘سنا ہے عثمان بزدار انہیں اس وقت پسند آئے جب وہ امیدواروں کے انٹرویو کر رہے تھے تو ایک چپ چاپ سے رکن صوبائی اسمبلی نے جاتے ہوئے کہا سر میرا علاقہ بڑا غریب ہے اسے بس ایک ہسپتال دے دیجئے اور سنانے والے نے سنایا کہ عمران خان نے انہیں بٹھا لیا یہ میٹنگ آدھ گھنٹے تک چلی‘ اعلان کر دیا وزیر اعلیٰ دیہاتی علاقے سے ہو گا پڑھا لکھا ہو گا۔یار لوگوں نے اپنی ڈگریاں دیکھیں سوشل میڈیا پر چڑھ دوڑے وہ بھی اس صف میں شامل ہو گئے کہ ہو سکتا ہے ہم وزیر اعلیٰ بن جائیں۔
عثمان بزدار کا انتخاب اب مخالفین کے لئے ایک چیلنج بن گیا ہے کچھ نے تو بزدار صاحب کو گرانے میں ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا ہے۔ نون لیگئے توعثمان بزدار کی جگہ جناب چودھری سرور کی حمایت میں اتر چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ عثمان بزدار کا جانا عمران خان کو شکست دینے کے برابر ہے۔ عمران خان اب عثمان بزدار کو ان کے حال پر چھوڑ دیں وہ میدان میں ہیں اور انہوں نے کمال دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑے بڑے جغادریوں پر ہاتھ ڈال دیا ہے جس سے ان کی مقبولیت میں گراں قدر اضافہ ہوا ہے ۔لگتا یوں ہے کہ بیوروکریسی تو یہ مان چکی ہے کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار ہی اول و آخر چوائس ہیں۔ پارٹی کے داخلی حلقوں میں ہی کوئی کھسر پھسر ہو رہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کو بار بار کہنا پڑتا ہے کہ بزدار بہت اچھے ہیں اور پنجاب کے لئے ان کا ہونا ضروری ہے۔ماضی میں دیکھا جائے تو ایک ایسی ہی کھینچا تانی غلام مصطفی کھر اور حنیف رامے کے درمیان ہوئی تھی۔رامے صاحب لاہوری ارائیں تھے دانشور ادیب اور مصور تھے اس کے مقابلے میں مظفر گڑھ سے سوہنا منڈا جو بھٹو کے قریب تھے۔ستر کی دہائی میں ان دونوں کے درمیان گھمسان کا رن پڑا‘ کالجوں میں ان کے دھڑے بن گئے ایک طرف بھٹو کو اپوزیشن کی مزاحمت کا سامنا تھا دوسری جانب ان کی توجہ کا بڑا حصہ ان دو پہلوانوں کی کشتی پر تھا۔
یہاں صورت حال قدرے مختلف ہے یہاں طاقت کا سرچشمہ گرچہ ایک ہی ہے جس کا اظہار ہمارے دوست فیاض الحسن چوہان بھی کر چکے ہیں لیکن صف مخالفاں سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے‘ نہیں جی نہیں‘ طاقت کے کئی مراکز ہیں۔ایک گورنر چودھری سرور ہیں‘ دوسرے علیم خان ،تیسرے بزدار صاحب اور چوتھے جناب سپیکر۔پارٹیوں میں اختلافات ہوتے رہتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں چودھری سرور طبیعتاً اپنی طاقت کا استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔آج وجاہت علی خان نے لکھا ہے چودھری سرور رکے گا نہیں‘ تو بھائی جان اگر رکیں گے نہیں تو یہ بھی لکھ لیجئے وہ ٹکیں گے بھی نہیں۔اس پارٹی میں جناب باغی آزما چکے ہیں کوئی اور کوشش بھی نہ کرے۔انہوں نے نون لیگی گورنری چھوڑی ایک مشکل راستہ اپنایا وہاں بھی ان کو اسی قسم کی شکایات تھیں کہ میں کچھ کر نہیں سکتا میرے ہاتھ بندھے ہیں۔انہوں نے دلیرانہ فیصلہ کیا اور پی ٹی آئی میں آ گئے۔تحریک انصاف میں انہوں نے بے حد محنت کی۔وہ ساری عمر انگلینڈ میں رہے ۔وہاں کے ماحول سے پنجاب میں آئے لیکن ایسا لگا کہ وہ اب بھی پرانے پنجابی ہیں جو برادریوں کی سیاست پر یقین کامل رکھتے ہیں جس کا پارٹی کو فائدہ بھی ہوا اور اب نقصان بھی ہو رہا ہے۔سینیٹر بننے کی لڑائی میں انہوں نے یہ کارڈ استعمال کیا بعض حلقوں کو شکایت رہی کہ سرور صاحب کو جس جگہ سے جس طرح کا بھی برادری کا بندہ مل جائے وہ اسے گلے لگا لیتے ہیں۔اس قسم کے کام دیکھا دیکھی دیگر برادریوں کے لوگوں نے بھی اپنائے اور ایک ہی خاندان کے تین تین لوگوں کو ٹکٹ دے دئیے ظاہر ہے اس کا نقصان بھی ہوا۔سرور صاحب اپنے آپ کو گورنر ہاﺅس میں مقید نہیں رکھنا چاہتے جس سے کچھ لوگوں کو یہ غلط فہمی ہو گئی ہے کہ وہ قوت اور طاقت کا مرکز گورنر ہاﺅس کوبنانا چاہتے ہیں۔چودھری صاحب کے بارے میں یہ بھی شنید ہے کہ وہ دوستوں کا بھی خیال رکھتے ہیں چاہے انہیں مرکز میں بھی مداخلت کرنا پڑے۔دوسرے صاحب علیم خان ہیں وہ لاہوری ہیں ان کا خیال تھا کہ طاقت لاہور ہی میں رہے وہ پنجاب کے سینئر وزیر بنائے گئے۔وزیر اعلیٰ سے زیادہ وزراءکی میٹنگ کرتے ہیں۔ان کو زعم ہے کہ لاہور کے تخت کا وارث ایک لاہوری کو ہونا چاہئے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے پی ٹی آئی کو لاہور اور سنٹرل پنجاب سے ملا ہی کیا ہے۔لاہور میں پارٹی کے بڑے بڑے برج الٹے جو جیت کے آئے ان سے بھی سوال بنتا ہے کہ وہ کتنے آدمی اسمبلیوں میں لائے۔حالیہ ضمنی انتخابات میں لاہور کا رزلٹ مایوس کن تھا ۔مری کے لوگوں نے سابق وزیراعظم کی خوب دھنائی کی انہوں نے لاہور جا کر بریک لگائی اور وہاں سے منتخب ہو کر اسمبلی پہنچے۔ساتھ میں لوہے کے چنے بھی اسمبلی آ گئے۔ان دو افراد سے اسمبلی کا ماحول مکدر ہوا اور ہوتا رہے گا یہ لاہوری تحفے شایدقوم کو مہنگے پڑیں گے۔ایسے میں سچ پوچھیں شمالی پنجاب ایک ایسا علاقہ تھا جس نے پنجاب میں سب سے زیادہ سیٹیں دیں یہیں سے جنرل الیکشن میں کامیابی ملی اور ضمنی الیکشن میں بھی ایک کمزور امیدوار کے باوجود پی ٹی آئی جیتی ۔پرفارمنس کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پنڈی کو طاقت کا مرکز بنانا چاہئے تھا۔کاش عامر کیانی صوبائی اسمبلی میں جاتے اور وہ وزیر اعلیٰ بنتے جس جانفشانی سے عامر کیانی،عطاءاللہ شادی خیل نے کامیابی دلائی یہ تاریخ کا حصہ ہے۔لیکن اگر اس بات سے ہٹ کر دیکھا جائے تو لاہور کو عمران خان کے لئے ٹھنڈک کا باعث ہونا چاہئے۔انہیں بار بار کیوں کہنا پڑتا ہے کہ عثمان بزدار کو عزت دو اسے قبول کرو۔راولپنڈ ی خان کے اشاروں پر چلتا ہے جبکہ لاہور اشاروں پر نچانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ میڈیابھی عثمان بزدار کو قبول نہیں کر رہا۔ان کے ذہنوں میں مدت دراز سے ایک تصور ہے کہ وزیر اعلیٰ وہ ہوتا ہے جو صبح و شام غصے کی حالت میں نتھنوںسے شعلہ اگلتا ہو‘ لوگوں کو نوکریوں سے نکالتا ہو‘خوش ہو تو بادشاہ سلامت کی طرح نواز دے‘مائیک کے سامنے آئے تو ترنگ میں انقلابی شاعری کرے‘کپڑے ایسے پہنے کہ لوگ دیکھتے رہ جائیں۔یہ ہے مائینڈ سیٹ وزیر اعلیٰ کا اور ادھر سیدھی مانگ نکالنے والا ایک سیدھا سادہ وسیبی شخص جسے بس کام سے فکر ہے تشہیر کی نہیں۔اب اگر ایک پسماندہ علاقے سے ایک محنتی پڑھا لکھا شخص آیا ہے تو اسے برداشت کریں۔عثمان بزدار نے پاکستان کی ٹاپ آٹھ یونیورسٹیوں میں سے ایک سے ایم اے پولیٹیکل سا ئنس کی ڈگری حاصل کی ہے وہ لاءگریجوئیٹ بھی ہیں‘ تحصیل ناظم بھی رہے ہیں۔اب اگر انہیں عمران خان نے چن لیا ہے تو اس کی سو دن کی پر فارمنس بھی دیکھ لیجئے پنجاب میں قبضہ مافیا کے خلاف بے دریغ آپریشن کیا وہ کسی سے ڈرا نہیں ۔اس دن ایم پی اے فرح آغا مجھے بتا رہی تھیں ہم سے چار میٹینگز ہو چکی ہیں انفرادی طور پر جب چاہیں ان کا گھر ہمارے لئے کھلا ہے۔ہمارے شہر کے ایم پی اے شاداں ہیں اسی طرح وہ ڈسٹرکٹ لیول کے ایم پی ایز سے ملتے ہیں ایم این ایز سے بھی ملتے ہیں لوگوں کے کام ہو رہے ہیں۔ہاں وہ ہیٹ نہیں پہنتے‘ کیمروں کے سامنے اچھل کود نہیں کرتے‘ قومی لیڈروں کو للکارتے نہیں ہیں۔عثمان بزدار صاحب کے حوصلے کا مجھے علم ہے۔ویسے بھی انہیں فیاض الحسن چوہان،راجہ راشد حفیظ،یاور بخاری جیسے معاون ملے ہیں ۔یہ دن بھی گزر ہی جائیں گے۔البتہ یہ جو پاور حب بننے کے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ عمران خان کا چناﺅ آپ بھی ہیں اور عثمان بزدار بھی بہتر ہے پارٹی چیئرمین کی خواہش کو مان لیا جائے باقی وہ سب گر جانتا ہے اگر ٹی وی پر آ کے ٹر ٹر کرنا ہی وزارت اعلی ہے تو وہ کبھی ایسا نہیں کرے گا۔بس آپ اسے قبول کریں۔بزدار صاحب کو لکھے دیتا ہوں اپنی نیت درست رکھیں۔اللہ سے ڈر کر انصاف کریں کسی مخالف کو نہ کچلیں۔آخرت کی فکر کریں وسیب کے غریب لوگوں کو اٹھائیں ۔شاکر شجاع آبادی کا شعر سامنے رکھیں۔
توں ڈیوا بال کے رکھ چاء
ہوا جانے خدا جانے
( تحریک انصاف کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved