تازہ تر ین

عاشقِ پاکستان

خدا یار خان چنڑ ….بہاولپور سے
1960میں سندھ طاس معاہدہ کے بعدپاکستان کے اندرجتنی بھی حکومتیں آئیں کسی کوبھی یہ توفیق نہ ہوئی کہ پانی کے مسئلہ پرکسی بھی فورم پرآواز اٹھائے۔ جوبھی حکومت آئی اپنے مستقبل کوسنوارتی رہی یہ خیال تک بھی کبھی کسی کونہ آیاکی پانی کے بغیرزندگی ناممکن ہے پانی صرف انسانوں کے لئے ہی ضروری نہیں ہوتابلکہ چرند،پرند،حیوانات ،نباتات اورماحولیات کے لئے بے حدضروری ہے پانی کے بغیرزندگی ناممکن ہوجاتی ہے ۔تاریخ گواہ ہے دنیامیں جتنے بھی شہرآبادہوئے ہیں دریاﺅں کے کنارے کے ساتھ ساتھ آبادہوئے تھے۔ پہلے کچھ ایسے شہرآبادتھے جو وقت کے ساتھ ساتھ پانی کے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے بربادہوچکے ہیں ان کانام ونشان ہی مٹ چکاہے ان کودیکھ کربھی ہمیں کوئی احساس نہیں‘ ہرشخص کی سوچ محدودصرف اپنی زندگی کی حدتک رہ گئی ہے۔ آنے والی نسلوں کے لئے تووہی شخص ہی سوچ سکتاہے جوانسان پرست ہو‘درددل رکھنے والاشخص ہو‘اپنی ذات سے بالاترہوکرخداکے خوف سے خداکوراضی کرنے کے لئے مخلوق خداکے لئے آسانیاں پیداکرے‘ اللہ تعالیٰ پھرایسے انسانوں کوچن لیتاہے ایسے انسانوں سے اللہ پاک بہت بڑاکام لیتاہے جوہمیشہ ہمیشہ کے لئے امرہوجاتے ہیں ۔
مخلوق خداکوراضی رکھنے کے لئے اللہ پاک کچھ لوگوں کاانتخاب کرلیتاہے اپنی مخلوق کی بھلائی کے لئے ان سے کام لیتاہے ۔ضیاشاہدکے ساتھ جب میری پہلی ملاقات ہوئی تومیں بھی یہ سوچ کرملنے گیاکہ بس ایک بڑے نامورصحافی سے مل کرملکی حالات پرچندباتیں ہونگی اورفوٹوسیشن کے بعد واپسی گھرکارخ کروں گا۔میں ایسے علاقہ سے تعلق رکھتاتھاجہاں محرومیاں ہی محرومیاں تھیں۔ملاقات کے دوران علاقہ میںتعلیم کی کمی ،سڑکوں کی کمی،ہسپتالوں کی کمی ،کاروباری مراکزکی کمی یہ ساری باتیں کرتے کرتے جب دریاﺅں کے پانی کی بات شروع ہوئی توراوی ،بیاس کے بعد جب انہوں نے دریائے ستلج کی یادوں کے قصے کوچھیڑاتوان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ انہوں نے کہاکہ کافی عرصہ سے میں حکومت پاکستان اورہرطبقہ فکرکے لوگوں میں پانی کی قلت کی بات کررہاہوں کہ اگراس طرف توجہ نہ دی گئی تو2030ءتک پاکستان پانی کی ایک ایک بوندکوترسے گا۔لیکن کسی کے کان تک جوں بھی نہیں رینگ رہی پاکستان کی 70فیصد آبادی کاذریعہ معاش زراعت پرمبنی ہے اگرابھی سے پانی پرتوجہ نہ دی گئی توآنے والی نسلیں تباہ ہوجائینگی ۔ میں دریاﺅں کی بحالی کے لئے ہرجگہ جانے کے لئے تیارہوں سوئی ہوئی قوم کوشعوردینااوراپنے حق کے لئے کھڑاکرنامیں اولین اپنافرض سمجھتاہوں‘ ضیاشاہدصاحب کی یہ باتیں سن کران کے دل میں انسانیت کادرد دیکھ کرمجھے یقین ہوگیاتھاکہ اللہ پاک ان سے کوئی بڑاکام لیناچاہتاہے۔ ضیاشاہد صاحب نے پہلاپروگرام حاصل پوراور بہاولنگرکیا۔ سردیوں میں شدیددھندکے باوجودصبح دس بجے ہیڈاسلام پرپہنچ گئے تھے ‘لوگوں نے جگہ جگہ ان کااستقبال کیا عوام نے ان کواپنامسیحاسمجھ کران کی گاڑی پراتنے پھول نچھاورکئے کہ سڑکیں لال ہوگئی تھیں حاصل پورکاپروگرام کرکے آگے چاربجے بہاول نگرپروگرام تھابہاول نگرپروگرام تقریباً رات9بجے ختم ہوا اس وقت بارش اورتیزہوا تھی سب لوگوں نے کہاکہ موسم شدیدخراب ہے آپ رات کوٹھہرجائیں صبح چلے جانا۔ضیاشاہد نے کہاکہ میراجانابہت ضروری ہے کہ صبح سندھ طاس کمشنرکے ساتھ ملاقات رکھی ہوئی ہے میراان سے ملنابہت ضروری ہے لہٰذا مجھے ضرورجاناپڑے گا۔ضیاشاہدکی عمراوراس حال میں بھی ان کے جذبے کودیکھ کرمجھے یقین ہوگیاکہ کوئی عاشق ہی اپنی معشوق کی خاطراتنی پریشانی جھیل سکتاہے اورضیا شاہدکی معشوق توپاکستان ہے۔انہوں نے لاہورمیں کئی پروگرام کرائے۔ چیف جسٹس صاحب کوملے،وزیراعظم پاکستان کوملے‘ سپریم کورٹ میں کیس لڑرہے ہیں کوئی ایسی جگہ نہیں ،کوئی ایسافورم نہیں جہاں ضیاشاہدصاحب نے دریاﺅں کی بحالی کی آوازنہ اٹھائی ہو۔اس ساری محنت کاصلہ انسانوں کے پاس نہیں ہے صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ ضیا شاہدآواز نہ اٹھاتے توآج بھی حکومت اورقوم سوئی ہوئی ہوتی ۔ضیا شاہدکی آوازبلندکرنے سے آج بچہ بچہ بلکہ ہرطبقہ فکرکے لوگ دریاﺅں کی بحالی کی بات کررہے ہیں۔
چیف جسٹس ثاقب نثارصاحب کے دل میں بھی پاکستان اورپاکستانی قوم کے لئے محبت ہے‘ وہ بھی ڈیم بنانے کاعلم اٹھاکرپاکستان کی آنے والی نسلوں کے بھی مسیحابن گئے ہیں آج تک سابقہ حکومتیں یاکسی ادارہ کے سربراہ کویہ توفیق نہ ہوئی کہ کبھی ڈیم بناناتودورکی بات اس کے بارے میں کبھی کسی نے سوچاہی نہیں تھااللہ پاک جس شخص کوجتنے بڑے عہدے سے نوازتاہے اس سے کام بھی اتنابڑالیتاہے ۔پچھلے دنوں ایک پروگرام میں چیف جسٹس ثاقب نثارصاحب ایک روائتی پگڑی باندھ کرتقریرکررہے تھے کہ مجھے پاکستان کے ساتھ عشق ہے‘ میں عاشقِ پاکستان ہوں اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ پاکستان کے لئے دن رات ایک کرکے کام کررہے ہیں نہ اپنے اوپرتنقیدکی پرواہ کرتے ہیں نہ اپنی تعریف پرخوش ہوتے ہیں ۔عاشق تعریف اورتنقیددونوں چیزوں سے مبرہ ہوتاہے عاشق کی منزل صرف اورصرف مقصدکوپاناہوتاہے باقی تمام چیزیں اس کے لئے غیرضروری ہوتی ہیں ۔اب پوری پاکستانی قوم پانی کے مسئلہ پرجاگ اٹھی ہے پوری قوم چیف جسٹس کے ساتھ کھڑی ہے ہماری دعاہے کہ اللہ پاک ضیاشاہدصاحب اورچیف جسٹس صاحب کو لمبی عمرعطاکرے تاکہ آنے والی نسلوں کے لئے دریاﺅں کی بحالی اورڈیم کاخواب پوراہوسکے۔اللہ تعالیٰ ان دونوں کاپاکستان کے ساتھ عشق سلامت رکھے۔
(کالم نگارچیئر مین تحریک بحالی صوبہ بہاولپور ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved