تازہ تر ین

نیا عمرانی معاہدہ……..(1)

ناصرقریشی….کل سے پہلے
ہم لوگ تارک طریق اسلاف بنتے توجاتے ہیں مگر اپنے گھر اندر در آتے اس سیلاب طریق نو اور سیل روایات جدید کے ہم پر من حیث المجموع بحیثیت قوم کیا اثرات اور پھر کیا “SIDE EFFECTS” پڑنے والے ہیں‘ ہم ان سے یکسر نابلد ہیں۔
ہم نے‘ ہماری نسل نے‘ اپنے بچوں تک کے کھلونے اس تہذیب سے مستعار لئے ہیں سو اب آپ کو ننھے منے بچے بھی کمال مہارت سے موبائل فون چلاتے نظر آئیں گے اور نہال ہوتے ماں باپ صدقے واری جاتے نظر آئیں گے کہ ہمارا نونہال کتنا باکمال ہو گیا ہے‘ یہ فوراً یوٹیوب‘ گوگل‘ فیس بک‘ واٹس ایپ اور دیگر APPS کو کس قدر روانی سے چلا لیتا ہے۔
مگر ذرا اپنے اردگرد نظر ڈالیں‘ ایک لمحے کو تصور کیجئے کہ آپ کسی اور سیارے سے آئے ہیں تو آپ کو ایک ایسی نسل انسانی دکھائی دے گی جو اپنے ہاتھ میں پکڑے ذریعہ ابلاغ میں سے ایک‘ یعنی موبائل ٹیلیفون میں اس قدر کھو چکی ہے کہ لگتا نہیں یہ وہی نوع انسانی ہے کہ جس کی مائیں بلاقید زماں و مکاں‘ اپنے بچوں کو اپنے ملکوں کی‘ راجا کی‘ رانی کی کہانی سنایا کرتی تھیں۔
آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ یہ وہی نوع انسانی ہے کہ جو اپنی عفت و عصمت و آبرو کے معاملے میںاس قدر حساس تھی کہ کسی گھر کی لڑکی یا عورت کی طرف نظر اٹھانے یا فقط نام جان جانے پر ماضی قریب تک بلاتفریق ملک و تہذیب‘ افراد معاشرہ خصوصاً مرد حضرات‘ خواہ والد ہو یا کہ شوہر‘ وہ آمادہ¿ قتل ہو جاتے تھے اور پھر قتل بھی ہوجاتے تھے مگر آپ جب فیس بک پر لائیکس (LIKES) دیکھیں گے‘ انسٹاگرام پر FOLLOWERSدیکھیں گے تو آپ پوچھیں گے کہ اگر پہلا بیانہ درست ہے تو اب FOLLOWS کرنے پر اور لائیک (LIKE)کرنے پر اور دل پسندی کا اظہار کرنے پر یا فرینڈ ریکوئسٹ بھیجنے پر کوئی بھی سوال کیوں نہیں اٹھا رہا؟
کیا وجہ ہوئی کہ ممالک کی معاشرتی طور پر درمیانہ طبقہ سمجھی جانے والی تہہ اپنے ہونے کے ان اصولوں سے دور ہوتی چلی جا رہی ہے کہ جن سے وہ اپنے دور میں روایات اور معاشرتی اقدار کی امین سطح بن کر معاشرہ معاشرہ جلوہ گر رہی اور تاریخ اقوام میں جس درمیانے طبقے نے ثقافت کی نمائندگی کی تھی‘ وہ اب درجہ بہ درجہ ایک نئے عالمی عمرانی معاہدے کا حصہ بن چکی ہے جہاں اور جس معاہدے میں اب کسی شخص کے پاس بھی ذاتی شخصی آزادی یا پھر PRIVACY نہیں رہی‘ بلکہ وہ کیا‘ اس کے تعلقات تک طشت ازبام نظر آتے ہیں، اس کے احباب کون ہیں اور گھر کے افراد کون ہیں؟ اس کی سب سے زیادہ ترسیل پیغامات کس سے ہے اور سب سے زیادہ پسند کون کرتا ہے ان کی تصاویر کو، آراءکو، یا ذہنی رجحان کو! یہ سب کچھ اب سربازار پڑا ہے۔
یہاں رک کر ذرا پلٹ کر چند دہائیوں پہلے کی دنیا کی تصویر دیکھئے، ملکوں میں افراد ایک حکومت کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں، اس کو جاننے کیلئے جاسوسوں کی ضرورت پڑتی تھی۔ اب انٹرنیٹ کل آبادی کے ایک بڑے حصے کے بارے میں سروے رپورٹ ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصے میں مرتب کردیتا ہے۔ کون مقبول ہو رہا ہے؟، کون کس علاقے کا مکین ہے؟ ایک خاص علاقے کے لوگ کیا سوچ رہے ہیں یا پھر کیا کھوج رہے ہیں؟ ان کی عمر کتنی ہے؟ ان کو تلاش کس شے کی ہے؟ ان کی سرچ میں زیادہ کیا لفظ ابھر کر آتا ہے؟ یہ الفاظ جنہیں ایک علاقے کے لوگ سرچ کرتے ہیں ان کی اجتماعی سوچ کیا عکاس ہونے کے علاوہ ایک اور حیرت انگیز حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہے اور وہ یہ کہ اس علاقے کے لوگ اس وقت چاہتے کیا ہیں؟ یعنی ڈیمانڈ کس چیز کی کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر امریکہ میں شادی مہنگا سودا ہوگیا ہے تو چائنہ نے ان کی سرچ کے مطابق ایسی زندہ دِکھنے والی گڑیائیں بنادیں کہ جوان کے ساتھ بات چیت بھی کریں اور ایک زندگی کے ہمسفر کی حیثیت سے یا ازدواجی زندگی کے ساتھی کے طور پر ان کے کام آ سکیں۔
ڈیمانڈ یا طلب اگر معلوم ہو تو کوئی شخص بھی فوراً سے سوداگر بن سکتا ہے اور تجارت ہے کیا؟ مگراب جو زمانہ آ چکا ہے، وہ بھی خصوصاً یہ دور کہ جس میں ڈیمانڈ یا طلب پیدا کی جا سکتی ہے۔ جہاں اشتہارات چھاپے یا چلائے تو یہ کہہ کر کے یہ آپ کا ”حق چناﺅ ہے“ یا ”Advertisement :Your Right to Choose“ کا نعرہ لگایا جاتا ہے۔ پر اس کے درپردہ طلب پیدا کی جاتی ہے اور اسے ہی مارکیٹنگ کہتے ہیں۔ یہ مارکیٹنگ کتنی بھیانک ہو چکی ہے، اس کی ایک مثال اور فقط ایک جہت پر ذراغور فرمائیے۔
آپ اورآپ کے احباب فیس بک استعمال کرتے ہیں۔ مگر کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ جو میرے سامنے اشتہارات آ جاتے ہیں یہ کس وجہ سے آتے ہیں او رکون سی قوت، کون سا مارکیٹنگ کا عملہ ان کو میرے لئے چنتا ہے اور کہاں سے واضح ہوتا ہے کہ میری سکرین پر کس کمپنی کا اشتہار آنا چاہیے؟
یہ سب ہوتا ہے”Fair Marketing“ کے ذریعے جس میں کہ آپ کے قریبی رفقاءاور احباب کی تفصیلات اور ان کے پسند کردہ اشتہارات دیکھے گئے ویڈیو یا پھر کلک کیے ہوئے یا لائیک کیے ہوئے پیجز اس کی اصل وجہ بنتے ہیں۔ یوں سمجھیے کہ آپ ایک اشتہار پر کلک کرتے ہیں جس میں کسی کپڑے کی کمپنی کا ذکر ہے، تو ہو گا یہ کہ آپ کے احباب میں سے جو بھی شخص آپ کا قریبی ترین ہوگا، یہ اشتہار خود بخود اس کی سکرین پر بھی دکھایا جائے گا کہ ”کبوتر بہ کبوتر باز بہ باز“ کی مصداق آپ کے جیب کو بھی آپ کی قماش کا سمجھا جائے گا اور یہ وجہ بنے گی کہ وہ ایک خاص اشتہار بنا حصہ ڈالے دیکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اگر آپ کے علاقے میں کہ جس میں آپ رہائش پذیر ہیں یا انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں تو علاقے کے مطابقت سے بھی یہ اشتہارات آپ کے سامنے آ سکتے ہیں۔
ذرا سوچیے، ہم اپنے بچوں کو موبائل فون تو دیتے چلے جا رہے ہیں کیونکہ یہ نئے دور کے ایک نئے عمرانی معاہدے کی بنیاد ہے کہ ہم ریشہ ریشہ اس ”Online“ جال میں پھنس چکے ہیں۔ یہ اب ہمارا ہی نہیں ہماری آنے والی نسلوں کا معاہدہ بن چکا ہے کہ وہ High Techماحول میں ایک عالمی شہری بن کر جئیں گے، ان کا PTV سے یا کسی بھی TV سے تعلق کم اورTube کے نام سے چلنے والی ویڈیوز کے ذخیرہ سے زیادہ تعلق ہے۔ میں بھی اولاد رکھتا ہوں اور اللہ کی اس عنایت و رحمت، اس کی اس کھیتی کا نگہبان ہوں مگر جب میں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھوں تو میں خود کو ایک احساس گناہ میں ڈبویا ہوا شخص پاتا ہوں کیونکہ میں خود اس Information کے ہائی وے پر آگے بڑھنا چاہتا ہوں۔ میں اطلاع چاہتا ہوں اور پھر اس کے ابلاغ کا ذریعہ بننا چاہتا ہوں، مگر اطلاع، لازماً علم نہیں اور یہ جو معلومات نیٹ پر، وٹس ایپ پر دستیاب ہیں، انہیں تو کسی طور ”علم“ یا حصول علم کا حصہ نہیں مانا جاسکتا۔
مگر تسلیم کرلیجئے کہ ہم نے لاشعوری طور پر ایک نیا، منفرد اور ظالمانہ عمرانی یا معاشرتی معاہدہ کرلیا ہے اور اب ہم اس پرکار بند ہیں اور اس نئے معاشرتی ڈھانچے کے اولین نقاط میں سے ایک یہ ہے کہ شخصی آزادی کاحق سب کا ہے اور یہ بھی کہ شخصی آزادی کا کوئی وجود نہیں۔ بظاہر متضاد دکھائی دیتے یہ پہلے نقطے کے دو حصے بلکل متضاد نہیں۔ آپ کو، مجھے، میری اولاد کو یہ حق حاصل ہے کہ اس کا فیس بک پروفائل ہو اور وہ میری نگاہوں سے بھی اوجھل ہو کیونکہ یہ اس کی Privacy ہے مگر ساتھ ہی ساتھ یہ حقیقت بھی تسلیم کر لیجئے کہ ذاتی یا Private کچھ بھی نہیں، نہ آپ کا Status ، نہ آپ کے خیالات کا محور، نہ آپ کی ذاتی تصاویری، نہ آپ کے دوست، نہ آپ کی کوئی نادانی اور نہ ہی کسی کی آپ کے بارے میں یا آپ کی اس کے بارے میں رائے ذاتی یا Private حیثیت رکھتی ہے۔ آپ اپنے ہوتے ہوئے یہ دیکھتے ہیں کہ آپ خود یا آپ کا بیٹا کسی کو فرینڈ ریکویسٹ بھیج رہا ہے۔ ”فالو“ کر رہا ہے، یا پھر خدا نخواستہ آپ کی اپنی اولاد کے ساتھ یہ ہو رہا ہو۔ مگر بہت جلد۔ اگر یہ سب اب تک نہیں ہوا تو پھر جلد ہی۔ آپ اس میں سے کسی بات پر اعتراض نہیں اٹھا پائیں گے۔ اب ایک لاتعداد افراد جن کو آپ جانتے تک نہیں ٹھیک سے، وہ آپ کے دوست کہلاتے ہیں اور اس جھوٹی دنیا میں Likes کی جنگ کیوں جاری ہے؟ اس لئے کہ آپ کو ساتھ ساتھ بزنس کی آفر ہو رہی ہے…. مسلسل یہ بتایا جا رہا ہے کہ آپ کی رائے سے پیدا ہونے والے ایک تسلسل سے، یا Ripple Effect، سے جتنے لوگ کسی اشتہار پر آپ کی رائے کے مطابق مہر تصدیق ثبت کرتے جائیں گے، آپ کچھ نہ کچھ کما سکتے ہیں!
یہ ایک اور مصیبت بن کر ابھرتا ہے، ہندوستان میں کچھ عرصہ قبل ایک شخص کی خبر آئی کہ وہ قتل کرنے پر خود کومجبور اس لئے سمجھنے لگا تھا کہ اس کی بیوی اس سے زیادہ فیس بک کو وقت دے رہی تھی۔ پریوں کا سا دیس اور بھیس کس کو اچھا نہیں لگتا؟ مگر یہ ٹیکنالوجی جنہوں نے بنائی ہے۔ وہ خود تو اس سے راہ فرار ڈھونڈ رہے ہیں اور ہمیں اس دلدل میں دھکیل رہے ہیں۔
کیا یہ اہم معلومات نہیں کہ کسی ملک کے صدر کا کس کس سے تعلق ہے اورکتنا گہرا اور سنجیدہ تعلق ہے؟ کیا کسی تحریک کو شروع کرنے اورجاری رکھنے میں اس کے استعمال سے انکار کیا جاسکتا ہے؟
اگر نہیں تومان لیجیے کہ ایک نیا عمرانی معاہدہ جنم لے چکا ہے۔ اب آتے ہیں اس کے نقاب کے پیچھے چھپے اصل مقاصد پر۔ (جاری ہے)
(کالم نگارقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved