تازہ تر ین

ہنڈی کی جدید شکل

اکرام سہگل ….توجہ طلب
کرپٹ افراد لوٹ کا مال اثاثوں اور جائیداد کی خریداری کے لیے ”ہنڈی مافیا“ کے ذریعے رقوم بیرون ملک بھجواتے ہیں، یہ بارسوخ لوگ ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 2004میں 14سے 15ارب ڈالر رقوم منتقل کرکے ہنڈی مافیا نے سالانہ1.2ارب ڈالر کمائے اور اس مافیا کے ذریعے ملک کو سالانہ 15ارب ڈالر کا نقصان پہنچتا ہے، جو کہ ساڑھے چار سے پانچ کروڑ روزانہ بنتا ہے۔ 2018تک کا حساب لگایا جائے تو یہ نقصان تین گنا بڑھ جاتا ہے۔ 1975ءمیں جب سویلین آمر اندرا گاندھی نے بھارت میں ایمرجنسی نافذ کی تو ساتھ ہی ہنڈی کا کاروبار کرنے والوں کو جیل میں ڈال دیا، ان کی جائیدادیں اور بینک اکاو¿نٹ ضبط کرلیے گئے اور جو رقوم ابھی ترسیل کے مرحلے میں تھیں وہ بھی ضبط کرلی گئیں۔ 2004ءمیں بیرون ملک بھارتیوں نے فی کس اوسطاً 4ہزار ڈالر بینکوں کے ذریعے اپنے ملک بھجوائے۔ 2004ءمیں بیرون ملک مقیم بھارتیوں کی تعداد 80سے 90لاکھ بتائی جاتی تھی اس حساب سے یہ رقم 30سے 35ارب ڈالر سالانہ بنتی ہے۔ آج یہ 70ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
بینک الفلاح کے چیئرمین عزت مآب شیخ نہیان بن مبارک النہیان نے اس حوالے ایک رپورٹ مرتب کروائی(2004میں یہ اس وقت کی بات ہے جب راقم ڈائریکٹر تھا)۔ اس رپورٹ میں اس بات کاجائزہ لیا گیا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے وطن رقوم کی ترسیل میں پیچھے کیوں ہیں۔ بینک الفلاح کے سینئر ایگزیکٹو پرویز شاہد کی سربراہی میں اسٹڈی گروپ نے پاکستان، سری لنکا، بنگلا دیش اور فلپائن سے متعلق تفصیلات جمع کیں۔ فلپائن کی حکومت نے بینک الفلاح کے اسٹڈی گروپ سے بھرپور تعاون کیا۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق 2003 ءبیرون ملک کام کرنے والے رجسٹرڈ فلپائنی شہریوں کی تعداد 32لاکھ بتائی گئی، جن میں سے 80فی صد خواتین تھیں۔ فلپائن کے مرکزی بینک نے متعدد بینکوں کی مختلف شاخوں میں فوری طور پر رقوم کی ترسیل کے لیے سافٹ ویئر تیار کروایا۔ یہ سافٹ ویئر تمام بینکوں کو بلامعاوضہ فراہم کیا گیا۔ فلپائن میں بینک 24گھنٹے اور ہفتے کے سات دن کھلے رہتے ہیں۔ دنیا میں کہیں سے بھیجی جانے والی رقم اگلے ہی دن وصول کنندہ کے اکاو¿نٹ میں منتقل ہوجاتی ہے۔ ان اقدامات نے بیرون ملک مقیم فلپائن کے شہریوں کا اپنے بینکاری نظام پر ایسا اعتماد بحال کیا کہ وہ رقوم کی منتقلی کے لیے اس سے ہٹ کر کسی اور ذریعے کا سوچتے بھی نہیں۔ 2003ءمیں بیرون ملک مقیم فلپائن کے فی شہری نے سالانہ 2700ڈالر اپنے وطن بھجوائے اور اس برس فلپائن کی غیر ملکی ترسیلات زر 8.6ارب ڈالر سالانہ تک پہنچیں۔ سری لنکا میں یہ نظام فلپائن جتنا مو¿ثر اور تیز رفتار نہیں لیکن اس کے باوجود بیرون ملک کام کرنے والے 9لاکھ سری لنکن 1.25ارب ڈالر سالانہ اپنے ملک بھیجتے ہیں اور 2003 میں سری لنکا کی غیر ملکی ترسیلات زر 14سو ڈالر فی کس رہیں۔ یہاں بھی ”ہنڈی“ پر بینکاری نظام کو ترجیح دی جاتی ہے اور دیگر ذرایع سے انتہائی معمولی رقم منتقل کی جاتی ہے۔
2003ءمیں بیرون ملک مقیم 23لاکھ بنگلا دیشیوں نے سال میں 80کروڑ ڈالر ملک بھیجے اور فی کس اوسط 350ڈالر رہی۔ اگرچہ بنگلا دیش میں ”ہنڈی“ کا دھندا کرنے والے بہت متحرک ہیں لیکن پاکستان میں حالات بدتر تھے اور اب تک چلے آتے ہیں۔ 2003ءمیں 35لاکھ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے سال میں 90کروڑ ڈالر وطن بھجوائے جو فی کس اوسط تقریباً 260ڈالر سالانہ بنتی ہے، یہ رقم فلپائنیوں کی بھیجی گئی رقوم کے دسویں اور سری لنکن شہریوں کی رقوم کے پانچویں حصے کے برابر بنتی ہے۔ بیرون ملک مقیم بھارتیوں(این آر آئی) نے سال 2003میں 4ہزار ڈالر فی کس سالانہ اپنے ملک بھیجے۔ 2003ءکے بعد بنگلا دیش میں اس حوالے سے بہتری آئی اور 25لاکھ شہریوں نے 2007میں 9ارب ڈالر کے قریب رقوم ملک ارسال کیں جو فی کس 3600ڈالر بنتی ہیں۔ یہ رقم مجموعی طور پر 2007ءمیں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے وطن بھیجے گئے6.1ارب ڈالر(فی کس 1650ڈالر) کے مقابلے میں دوگنا زیادہ بنتی ہے۔
پاکستان میں ہنڈی کے دھندے کے پھیلاو¿ میں صرف بددیانت فارن ایکسچینج ڈیلرزہی ملوث نہیں بلکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) کے قواعد میں پائے جانے والے سقم کی وجہ سے ٹیلکوز بھی اس غیر قانونی کاروبار میں معاونت کررہی ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے ضابطوں کے مطابق ایک سم پر زیادہ سے زیادہ 25000روپے بھجوائے جاسکتے ہیں لیکن پانچ سمیں استعمال کرنے والے کو روزانہ 1لاکھ 25ہزار روپے بھجوائے جاسکتے ہیں۔ ایک فرد سے دوسرے تک رقم پہنچانے کا ہنڈی کا نظام پرانا ہوچکا اور اس کی جگہ ”الیکٹرانک“ ہنڈی نے لے لی ہے۔ کیا ٹیلکوز کو کسی بھی ملک میں منی لانڈرنگ کا سہولت کار بننے کی یہ اجازت دی گئی ہے؟ عالمی بینک آسان موبائل اکاو¿نٹ کے ذریعے مالیاتی نظام سے باہر 85فیصد آبادی کو اس نظام کے دائرے میں لانا چاہتا ہے۔ دس کروڑ ”انبینکڈ“ یعنی بینکاری نظام کا حصہ نہ ہونے والے پاکستانیوں کو ٹیلکوز ای ایم اے کی فراہمی ایک نیا پنڈورا باکس ہے۔ یہ ضوابط یا اس کے نظام کار اور بیرونی نگرانی کی مخالفت کرتے ہیں۔ ٹیکس سے بچتے ہوئے انھیں حب الوطنی کا کوئی احساس نہیں ہوتا ، یہ جدید دور کی وہ ”ایسٹ انڈیا“ کمپنیاں ہیں جو بھاری رقوم ادا کرنے والے اپنے بابوو¿ں کی خاطر قواعد کو نظر انداز کردیتی ہیں۔
گزشتہ دو ماہ میں روپے کی قدر جس تیزی سے نیچے آئی ہے اسے روکنے کے لیے اب ہمارے پاس مزید وقت نہیں۔ تقریباً37لاکھ پاکستانی فی کس کے حساب سے سالانہ 8000ڈالر(ماہانہ جو 675ڈالر بنتے ہیں) بھیجے تو یہ رقوم مجموعی طور پر سالانہ 32ارب ڈالر بنتی ہے۔ اگر بھارت کی طرح فارن ایکسچینج ڈیلرز کو اس کاروبار سے باہر کردیا جائے تو 15سے 20ارب ڈالر کی خلاف ضابطہ ترسیلات کو نظام میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ پورے پندرہ برس بعد تمام کمرشل بینکوں کی جانب سے ڈیجٹلائز کردیے گئے ”ہوم ریمیٹنس اکاو¿نٹس“ سے متعلق عمران خان کی حکومت نے اپنے ابتدائی سو دنوں میں بڑی تیزی سے کام کیا ہے۔ عمران خان اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، انھیں اسد عمر اور طارق باجوہ کو دو امور کا مکمل اختیار دینا چاہیے۔ اول یہ کہ سمندر پار پاکستانیوں کو قانونی ذرائع سے ترسیلات زر کے لیے مراعات دی جائیں اور دوم یہ ہے کہ ٹیلکوز کے ذریعے ہونے والی رقوم کی منتقلی سے متعلق ضابطے تشکیل دیے جائیں تاکہ موجودہ قواعد کی وجہ سے FATFکی پکڑ سے بھی بچا جاسکے۔
(فاضل کالم نگار دفاع اور سکیورٹی امور کے تجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved