تازہ تر ین

”اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر “

مریم ارشد……..میری آواز
کیسا مذاق ہے ؟کہیں تو قلفے والا ، رکشے والا ، کوڑا اُٹھانے والی، غریب بے روزگار نوجوان کے اربوں روپے کے جعلی بینک اکاﺅنٹس نکل آتے ہیں تو کہیں غریب استادوں اور سائنس دانوں کے اکاﺅنٹس ہیک ہوکر ساری زندگی کی جمع پونجی کا صفایا ہوجاتا ہے۔ واہ رے آدم زاد!تیری سرگزشت بھی عجیب ہے اور اگر تُو مفلس ہے تو اور بھی عجیب ۔ غریب آدم زاد سے کوئی نہیں پوچھتا ”تم پہ کیا گزری ؟“وہ اپنی زندگی کے روزو شب کیسے گزارتا ہے کوئی اسے پوچھتا نہیں۔ ےہ دنیا غریبوں کی نہیں ہے ، ےہ دنیا کام والوں کی ہے ، نام والوں کی ہے۔ جدھر بھی دیکھو لوگ بھیس بدل بدل کر چوری کرتے ہیں۔ ان غریبوں کے دلوں میں نہ تو جذبات ہیں نہ جیب میںسکے۔ ےہ بیچارے تو بینک کو جاتی ہوئی راہوں سے بھی ناواقف ہیں ۔ کیسا مذاق ہے کہ ایک دن اچانک خبر آتی ہے کہ ےہ لوگ اربوں کے مالک ہیں ، ےہ تو بنا چھری کے گلا کاٹنا ہوا۔ کیا کریں؟کہاں جائیں؟انصاف کس کے ہاتھ پہ تلاش کریں۔ ان مفلسوں کو تو سڑکوں پہ چمچماتی ہوئی گاڑیوں کے نام بھی معلوم نہیں ہوں گے۔ جب کبھی سیلاب یا زلزلہ آجائے تو وزراءہیلی کاپٹر پہ سوا ر ہوکر اُن جگہوں کا جائزہ لینے جاتے ہیں۔ کتنی محبت کرتے ہیں ہمارے حکمران اپنی رعایاسے!غریبوں کے لیے توگزارے کا معمولی سامان عیش و عشرت کے لیے کافی ہوتا اور موسم کے مطابق تو شاید ہی کبھی میسر ہو۔ فاقہ کشی اور مفلسی کے باعث موت جیسی باوفا حسینہ سے گلے مل لیتے ہیںمحلے والے چندہ اکٹھا کر کے گوروکفن کا سامان کردیتے ہیں۔ اللہ اللہ ! خیر سلّا!
ایک وقت تھا پوری دنیا پہ شخصی حکومتوں کا دور دورہ تھا۔پھر دھیرے دھیرے وقت بدلا جمہوریت ، مساوات اور خود مختاری کے علم بلند ہونے لگے۔ ےہ سب یورپ میں تو چلنے لگا وہاں کے لوگوں نے دوسروں کی برتری کو گوارا کرنا چھوڑ دیا مگر ہمارے ہاں غلام ذہنیت غلام گردشوں کی طرح حویلی در حویلی گھومنے لگی۔ ےہاں جو ہڑتال کرے، اپنے حقوق کی بات کرے اسے غنڈوں اور موالیوں کی صف میں کھڑا کر دیا جاتا ہے ۔ ہر طرف نفرت کا بازار گرم ہے۔کیا دلوں کو جھگڑوں سے صاف کیا جاسکتا ہے۔ دو دن پہلے ٹی وی پہ خبر چلتی ہے کہ بینکوں سے شرفاءکے بینک اکاﺅنٹس بڑے پیمانے پر ہیک ہونے لگے۔ غریب سائنس دان جس نے دھیلا دھیلا جوڑ کر زندگی کی پونجی جمع کی اک روز اُچکوں نے اس کی ساری پونجی اُچک لی ۔ نارووال سے بھی ہیکر نے ریٹائرڈ پولیس کانسٹیبل کے اکاﺅنٹ سے 3لاکھ روپے نکال لیے۔ بوریوالہ سے ہیکر نے فون پر اکاﺅنٹ کا ڈیٹا حاصل کر کے سرکاری ٹیچر کے اکاﺅنٹ سے لاکھوں روپے دَھر لیے۔ان غریبوںنے پیٹ کاٹ کاٹ کر ےہ رقم جمع کی ہوگی نوسرباز انہیں چند سیکنڈوں میں لے اُڑے۔ بینک منیجر کے مطابق متاثرہ شہری سے دھوکہ ہونے کی شکایت ہیڈ آفس تک پہنچا دی گئی ہے۔ لیکن اہم ےہ ہے کہ اس غریب کے پیسے کب لوٹائے جائیں گے۔ واضح رہے بینک تما م قیمتی اشیاخواہ وہ روپوں کی شکل میں ہوں یا زیورات ان کے محافظ ہیں۔ بتائیے اگر لوگ گھروں میں اپنی رقوم رکھنا شروع کر دیں تو سماج میں لُوٹ مار کی وارداتیں بڑھ جائیں گی مال کے ساتھ ساتھ لوگوں کی عزت اور جانیں بھی محفوظ نہ رہیں گی۔
ایف آئی اے کے مطابق بینک فراڈ میں ملوث اہم ملزم کو حافظ آباد سے گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ یاد رہے جب سے جعلی بینک اکاﺅنٹس نے مفلسوں کی غربت کا مذاق اُڑایا ہے تب سے اکاﺅنٹ ہیکنگ کی وارداتیں پورے ملک میں بڑھ گئی ہیں۔ جھنگ جیسے ترقی پذیر شہر سے بھی ایک غریب لڑکا جو اپنے خاندان کا واحد کفیل تھا ، تعلیم سے فارغ ہوکر انجینئرنگ کی ڈگری ہاتھوں میں لیے نوکری جیسی بے وفا محبوبہ کی تلاش میں ٹھوکریں کھا رہا تھا۔ کہیں کسی روز اچانک اس کے بینک اکاﺅنٹ میں اربوں روپے آگئے وہ بے چارہ بوکھلا کر رہ گیا ۔ ایف ۔ آئی ۔ اے والے اسے لے گئے تین چار روز اپنے پاس رکھا پُوچھ پَاچھ کر چھوڑ دیا لڑکا اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ اس کے دل میں ےہ خیال تو ضرور آیا ہوگا کہ ےہ کون شہنشا ہ ہے جو یوں راتوں رات مسیحا بن کر ہماری شناخت سے اکاﺅنٹ کھلو اکر اتنی کثیر رقم جمع کراتا ہے مگر پیسے ظاہر ہونے پر غائب ہوجاتاہے۔ لکھتے ہوئے خیال آیا کہ وہ اربوں روپیہ تو تحقیقات کے بعد قومی خزانے میں چلے جاناچاہیے۔ ہم جو غیروں کے در پہ پیسوں کے لیے مانگتے پھرتے ہیںہمارے قومی خزانے کو اس رقم کی اشد ضرورت ہے ۔ ےہاں مجھے ساحر یاد آرہا ہے۔
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اُڑیا ہے مذاق
غریب توبے چارہ محبت بھی نہیں کر سکتاکہ اس کے لیے بھی پیسہ درکار ہے ۔ اس کی حیات تو ناخوشگواریوں کے اونچے نیچے راستوں پر لڑھکتی جارہی ہے وہ پیٹ کا دوزخ بھر ے یا محبت کا ۔ چوراہوں پہ رکتی ہوئی موٹر گاڑیوں پہ بھکاری لپکتی ہوئی آندھیوں کی طرح چپک کر بے باک ترانے گانے لگتے ہیں۔ منی لانڈرنگ کو ہر صورت روکنا ہوگا غیر ممالک میں پاکستانیوں کی املاک اور اثاثوں کی تلاش میں تقریباً 700ارب روپے کا سراغ ملا ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ ہنگامی طور پر غیر قانونی اکاﺅنٹس کو منجمند کر کے ان رقوم کی بازیابی کی جائے۔اس حکومت سے ےقینا قوم کی جُڑی اُمنگیںشمعوں نہیں بلکہ بڑی بڑی مشعلوں کی صورت میں ہیں۔ حکومت مت بھولے کہ مشعلیں دونوں طرح سے کام آتی ہیں۔ حکومتی اداروں کی نااہلیت پہ فوری قابو پانا سیاسی و انتظامی مسائل کاحل ہے ۔ پاکستان کو بنانے والوں نے دل و جان سے محنت کرکے ایک علیحدہ شناخت بنائی ۔ آزادی ملی ملک بنا تو وسائل کی کمی تھی ، بھارت نے اپنی ازلی کمینگی دکھاتے ہوئے پاک و ہند کے مشترکہ خزانے سے پاکستان کو پورا حصہ دینے سے انکار کر دیا ۔ مگر اس وقت کے لوگوں نے ہمت نہ ہاری اور ملکی اثاثوں کو پانی کے ذخائر اور صنعتوں کی شکل میں اُٹھایا۔انگریز کے چھوڑے ریلوے کومزید بہتر بنا یا گیا ۔ فولاد، اسٹیل ، اسلحہ، قیمتی پتھروں کے کارخانے لگائے گئے۔ قومی افتخار کی شکل میں پی ۔آئی۔ اے کا شاندار فلیگ کیرئیر بنایا گیا۔ ابھی ہم ترقی کی اُڑان بھر ہی رہے تھے کہ بُری نظر لگ گئی ایسے حکمران بننے لگے جو قومی اثاثوں کو لُوٹنا فرضِ اولین سمجھنے لگے۔ موٹر وے ، بجلی کے نجی پاور پلانٹ ، نجی کارخانوں کے لائسنس دے کربااثر افراد کو سیاسی حامی بنایا گیا۔ اربوں کھربوں روپے کے قرضے بینکوں سے لے کر معاف کروالیے گئے۔ ترقیاتی کاموں کی مَد میں اپنوں کو ٹھیکے دینے کی رسم ڈالی گئی ۔ سرکارکی نوکریاں بِکنے لگیںاور قابلیت والوں کے خواب اُن کی آنکھوں میں چُھبنے لگے ۔ بھتہ خوری ، ناجائز تجاوزات ، قبضہ گروپ اور بدعنوانی چاروں طرف ناچنے لگی ۔ لیکن حکومتی شہزادے اپنی ناجائز دولت کی چکا چوند میں مفلسوں کے تاریک گلی کوچوں میں ایک بار بھی نہ گئے۔ انہیں ان گھروں میں دہکتی ہوئی آگ بھی دکھائی نہ دی، اور ےہ جمہوریت کی بِین بجاتے رہے ۔ انصاف، آزادی اور جمہوریت پہ ناانصافی کا دھواں چھاتا رہا۔ےہ سلسلہ روکنے کے لیے موجودہ حکومت کو سردھڑ کی بازی لگانا ہوگی۔
(کالم نگارقومی وسماجی ایشوزپرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved