تازہ تر ین

کو ہ ہمالیہ!

محمد صغیر قمر….چنار کہانی
صبح دم سوشل میڈیا پر ان کی تصویر نظر آئی۔ایک ویل چیئر پر انہیں ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔دل تڑپ کر رہ گیا۔بر صغیر کی مسلم تاریخ کا کوہ ہمالیہ جس کی زندگی انقلاب اور آزادی کے لیے صرف ہوئی اور ہر دوسرا دن زندانوں کی نذر ہو گیا۔
وہ کون ہے ‘ جس کی آواز مردہ دلوں میں امیدوں کے دیے روشن کرتی ہے ؟ جس کی زندگی اول تا آخر جذبوں اور ولولوں کی کہانی ہے ۔ جس نے تخت و تاج کو پاﺅں کی ٹھوکروں میں رکھا ۔ بھارت کی صدارت پر جیل کی طویل اور اذیت ناک زندگی کو ترجیح دینے والا شخص کون ہے ؟
وہ کون ہے ؟ جس کی جراتوں نے رزم آرائی سے نا آشنا کشمیر کو معرکے کا میدان بنا دیا ۔ جس کی ہمتوں کے سامنے ہمالیہ سر نگوں ہو گیا ‘ جس نے ببانگ دہل جبر کی سیاہ رات کو للکارا‘ ایسے وقت میں جب کشمیر کے طول و عرض میں شیخ عبداﷲ خاندان خدا کا اوتار کہلاتا تھا ۔
وہ مرد حق آگاہ ، کشمیر کا وہ مرد حر سید علی گیلانی ہے:جوبھارت کے لیے لوہے کی چٹان بن گیا ہے ‘ جس نے تمام تر سازشوں اور ہزار ہا رکاوٹوں کے باوجود للکار کر کہا ۔
” اگرکشمیرکے پہاڑوں پر کالی برف بھی پڑنے لگے‘ تب بھی ہم شہیدوں کے لہو سے غداری نہیں کریں گے ‘ اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔“
سید علی شاہ گیلانی ‘ کشمیر کا مرد حر ‘ آزادی کی تحریک کا بے لوث اور ہر دلعزیز قائد جن کی زندگی کا ہر لمحہ ‘ ہر پل حق خودارادیت کی جدوجہد کے لیے وقف رہا ۔ یہ کون ہے کہ جب بہت سے دعوے دار کڑی دھوپ میں پگھل گئے …. تو وہ عزم و ہمت کا ہمالہ بن کر ڈٹا رہا۔ کون ہے آخری سید علی شاہ گیلانی ….؟
سید علی شاہ گیلانی 82 برس قبل ولر جھیل کے کنارے زوری منس گاﺅں میں پیدا ہوئے ‘ آپ کے والد سید پیر شاہ گیلانی ایک عام مزدور تھے ۔ سید علی شاہ گیلانی نے غربت میں آنکھیں کھولیں ۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاﺅں سے حاصل کی ۔ بعد ازاں لاہور اور سری نگر میں زیر تعلیم رہے ۔تعلیم سے فراغت کے بعد کشمیرکی اسلامی تحریک سے وابستہ ہوئے ۔ کشمیر کے مرد درویش پیر سعد الدین سے حریت و انقلاب کا سبق پڑھا ۔ حکیم غلام نبی ‘ قاری سیف الدین ‘ مولانا امین شوپیانی ‘ مولانا غلام احمد احرار جیسے مردان حر کی صحبت نے آپ کے اندر قافلہ عشاق کے رہرو اور رہبری کے جوہر پیدا کر دیے ‘ بہت جلد آپ کشمیر کے بچوں ‘ بوڑھوں ‘ نوجوانوں اور ماﺅں بہنوں کی زبان بن گئے ۔ حق گوئی و بے باکی ان کا شعاربن گیا ۔خواب غفلت میں مد ہوش قوم کے تن بدن میں آگ لگانے والے کی ضرورت تھی ۔ آپ نے کشمیر پر بھارتی جابرانہ اور غاصبانہ قبضے کو گلی کوچے ‘ بستی بستی ‘ شہر شہر اور گاﺅں گاﺅں نہ صرف چیلنج کیا بلکہ عوام الناس کو بھارت کے کھلے جبر اور شیخ عبداﷲ کی مکاریوں سے آگاہ کیا ۔ آپ کی قوت گفتار کا اعجاز تھا کہ کشمیر کے پیر وجواں آپ کی صدا کے ہمنوا ہوتے چلے گئے ۔ کشمیر کے کوچہ و بستی گیلانی کی پکار کے گواہ بن گئے ۔
انہوں نے للکار کر کہا : ” میں بھارت کے ساتھ کشمیر کے الحاق کو نہیں مانتا ۔ میں بھارتی سامراج کا باغی ہوں ۔ اس بغاوت کے جرم میں مجھے پھانسی کے پھندے کو بھی چومنا پڑا تو اسے اپنی سعادت سمجھوں گا ۔“
ابتلا و آزمائش کی بھٹی سلگائی گئی ‘ سید علی گیلانی سب سے بڑھ کر تعذیب و تعزیر کے مستحق ٹھہرے ۔ آپ کے دو ٹوک لہجے اور واضح موقف کو جبر ‘ ستم اور بہیمانہ تشد کے ذریعے بدلا نہ جا سکا ۔
28اگست 1962ءکو آپ پہلی بار گرفتار کیے گئے ‘ جس کے بعد دارو گیر کے ایک طویل سلسلے کا آغاز ہو گیا ۔ 31 برس کے دوران وقفے وقفے تک جیل آپ کا مسکن ‘ ہتھکڑی زیور اور بھارتی تشدد مقدر ٹھہرا ۔ بر صغیر کی تاریخ میں سید علی گیلانی واحد شخصیت ہیں جن کی سیاسی زندگی کا ہر دوسرا دن جیل میں گزرا ۔ طویل عرصہ اسیری میں آپ کو جھکانے ‘ مٹانے اور ورغلانے کا ہر حربہ استعمال کیا گیا۔ ہر بار صدائے حریت بلند آہنگ ہوتی چلی گئی ۔ شیخ عبداﷲ اور اس کے حواریوں نے ہزار جال بچھائے لیکن یہ شاہین زیر دام نہ آیا ۔
شیخ عبداﷲ نے کہا :” حق خود ارادیت کا وقت گزر چکا ہے ۔اب تو دریائے جہلم کے پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا ہے ۔“ سید نے کہا :” دریائے جہلم میں پانی ہی تو بہا ہے ‘ کشمیر کا حق آزادی تو نہیں بہہ گیا ۔“ انسانی حقوق تو نہیں بہہ گئے ‘ تو پھر ہم اپنے حق سے دست بردار کیوں ہوں ۔“
سید ہمیشہ اس ٹھوس مطالبے پر ڈٹے رہے کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ حق کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے ۔ جمہوری و آئینی جدوجہد کی طویل کہانی کے ہیرو سید علی شاہ گیلانی ریاستی اسمبلی کے شعلہ بار رکن اور ایک عرصے تک قائد حزب اختلاف رہے ۔ مسلسل گرفتاریاں ‘ لاتعداد مقدمات ‘ درجنوں قاتلانہ حملے ‘ جسم و جان کے مختلف عارضے آپ کی زندگی کے شب و روز کی یہی کہانی ہے ۔ آپ نے اندھیروں میں بھٹکتی ہوئی کشمیری ملت کی انگلی پکڑ کر اسے آزادی کی راہ پر گامزن کیا ‘ بھارتی حکمرانوں اور ان کے ریاستی حواریوں سے کہا ۔
” تمہارے خیال میں اگر کشمیر ی ملت نے بھارت کے ساتھ رہنا منظور کر لیا ہے ‘ تو یہ تمہاری بھول ہے ۔ جبر سے زبانیں بند کی جا سکتی ہیں لیکن تمہیں اس روز کا انتظار کرنا چاہیے جب آج ماﺅں کی گودوں میں پلنے والے بچے جوان ہوں گے ۔ یقین رکھو ‘ کل یہی نسل میرا ساتھ دے گی ‘ یہی نسل تم سے اپنی آزادی چھین کر لے گی ۔“
نئی نسل میں آزادی کی روح پھونکنے کے لیے آپ اور آپ کے ساتھیوں نے ریاست جموں و کشمیر میں چار سو سے زائد ماڈل سکول قائم کیے ۔ ایک ہزار سے زائد مثالی بستیاں قائم کر کے ماﺅں کی گودوں میں پلنے والے معصوم بچوں کو آزادی کا سبق سکھایا ۔ آج پون صدی بعد پوری تین نسلیں بھارتی غلامی کے خلاف صف آراءہیں ‘ تب ماﺅں کی گودوں میں پلنے والے آج میدان وغا میں کھڑے ہیں ۔
سید علی شاہ گیلانی کی جدوجہد کی کہانی طویل اور اذیت ناک بھی ہے اور صبر آزما بھی ۔آزادی کی جدوجہد سے باز رکھنے کے لیے بھارت کے سابق وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی نے آپ کو بھارت کا صدر بننے کی پیش کش کی ۔ آپ نے اس پیش کش کو پائے حقارت سے ٹھکراتے ہوئے کہا ۔
”مادام گاندھی ! اب کشمیرمیں کوئی شیخ عبداﷲ نہیں رہا جو کرسی کی خاطر دین و ملک سے غداری کرے ۔“
کشمیرکے گلی کوچے ہوں یا شہر و دیہات ‘ بلند و بالا پہاڑوں پر آباد گاﺅں ہوں یا دور دراز برف زاروں میں بسی آبادیاں‘ جیل کا تاریک سیل ہو یا ریاستی اسمبلی کا ایوان …. سید علی گیلانی کی جدوجہد اور بے باکی کی داستان ہر سو پھیلی ہوئی ہے ۔یہ ان کا فیضان نظر ہے کہ کل تک شیخ عبداﷲ کو اوتار ماننے والی ملت آزادی کی راہ میں اپنے خون کے چراغ جلا رہی ہے اس چومکھی جنگ نے ایک پوری نسل کو بھارت کی غلامی کو تقدیر سمجھنے کے بجائے لڑنا سکھایا ۔ یہ آپ ہی تھے کہ سب سے پہلے کشمیریوں کو ٹی وی اور دوسرا گھریلو سامان بیچ کر بندوق خریدنے کی تلقین کی ۔31 برس سے زائد عرصے تک جیلوں میں رہنے ‘ حق آزادی کی جدوجہد سے باز نہ آنے اور پورے عزم و حوصلے سے ملت کشمیرکی رہنمائی کے اعتراف کے طور پر ایمنسٹی انٹر نیشنل نے ” ضمیر کا قیدی “ قرار دیا ہے۔
سید علی شاہ گیلانی آج ایک مرتبہ پھرہسپتال میںہیں۔ بھارتی حکمران اس پہاڑ کو اپنے سامنے جھکانا چاہتے تھے وہ کبھی بھارتی جبر کے سامنے نہیں جھکا۔ اسے پاکستان سے بے مثال محبت کی سزا دینا چاہتے ہیں ۔اس نے اپنے ناناﷺ کی آبرو رکھ لی ۔ پورا پاکستان ان کا شکر گزار ہے کہ انہوںنے اہل پاکستان کی تمناﺅں کو بھی توقیر بخشی ۔ اہل پاکستان ان کی صحت و سلامتی کے لیے دعا گو ہیں۔سید علی شاہ گیلانی کی جدوجہد جاری ہے تو جیلوں اور تعذیب خانوں کے دروازے بھی کھلے ہیں ‘ مصائب سید علی شاہ گیلانی سے اور سید گیلانی ان سے خوب واقف ہیں ۔ انہیں پاکستان سے دور نہیں کیا جا سکتا ہے ‘ نہ اہل کشمیر سے ۔ ان کا ماضی اور حال ان کے مستقبل پر گواہ ہے ۔
وہ کڑی دھوپ میں ایک گھنے اور ٹھنڈے سائے کی طرح جلوہ گر ہیں اور رہیں گے ۔ایسا سایہ جس میں راہ حریت کے مسافر آسودگی پاتے ہیں ۔
ہمیں خوب جانتی ہیں یہ عزیمتوں کی راہیں
کئی بار آ چکے ہیں ‘ کئی بار جا چکے ہیں
( متعدد کتابوں کے مصنف ‘شعبہ تعلیم
سے وابستہ اورسماجی کارکن ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved