تازہ تر ین

سی پیک اور موجودہ حکومت

کامران گورائیہ
پاکستانی حکومت نے ہمسایہ دوست ملک چین کی شراکت سے سی پیک ‘ون بیلٹ ون روڈ اور توانائی سمیت پاکستان میں درجنوں ایسے منصوبے شروع کیے جن کی تکمیل پاکستان کو خطے میں معاشی طور پر استحکام دینے کا باعث ہی نہیں بنے گی بلکہ یہ ملک اگلے چند برسوں میں ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو سکتا ہے۔ جہاں پاکستان نے آزادی ملنے کے بعد چین کو سب سے پہلے آزاد ریاست کی حیثیت سے تسلیم کیا وہاں چین نے بھی ہر مشکل وقت اور گھڑی میں پاکستان کی حمایت کی۔ ایٹمی قوت بننے کا معاملہ ہو ، مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم ہوں ، دہشت گردی کے واقعات ہوں یا پھر معاشی مسائل کا سامنا‘ چین نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کے حق میں آواز بلند کی۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے گذشتہ دورِ حکومت میں سی پیک کی صورت میں ایک تاریخ ساز ترقیاتی منصوبے کا آغاز بھی چین کی پاکستان سے محبت کا ایک ناقابل فراموش اقدام تھا۔
سی پیک منصوبہ شروع کرنے پر امریکہ اور بھارت سمیت بہت سے دیگر ممالک کو اس پر شدید اعتراض رہا مگر چین اور پاکستان ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے بڑھتے چلے گئے۔ گو کہ آج بھی سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ پراجیکٹ پر اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں مگر ان منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد جاری ہے لیکن اس حقیقت سے انحراف بھی نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان میں موجود کچھ سیاسی عناصر سی پیک کی اہمیت کو بالا طاق رکھے ہوئے ہیں۔ کچھ ایسی ہی حالت موجودہ حکومت کی بھی لگتی ہے تاہم چین کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کو نبھانا بھی اشد ضروری ہے لیکن یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ سی پیک منصوبہ کچھ عرصہ سے سست روی کا شکارہے جس پر برق رفتاری سے توجہ دینے اور کام کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کا انتہائی قابل اعتماد دوست چین دنیا کا نقشہ تبدیل کرنے کے لئے سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ کے نام سے ایک منصوبہ بنا رہا ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق اس منصوبہ کو مکمل کرنے تک تقریباً 9 سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اس منصوبہ میں پاکستان اور سری لنکا کی بندرگاہوں سمیت مشرقی افریقہ میں تیز رفتار ٹرینیں اور وسطی ایشیاءسے گزرنے والی گیس پائپ لائنوں سمیت بہت کچھ شامل ہے۔ عالمی ماہرین کا خیال ہے کہ چین عالمی سطح پر اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی خواہش رکھتا ہے دوسری طرف ملکی شرح نمو سست ہونے کے خدشات کے پیش نظر بھی یہ منصوبہ چین کی نظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس عظیم منصوبے کامقصد دو راستوں کے ذریعے تجارت کو فروغ دیناہے۔ ایک راستہ قدیم شاہراہ ریشم کی طرز کا ہوگا جو چین سے نکلتا ہوا وسطی ایشیااور مشرق وسطیٰ سے گزرتا ہوا یورپ پہنچے گا اور دوسرا راستہ چین کو سمندر سے مشرقی ایشیا اور مشرقی افریقہ سے ملائے گا۔ پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک کا منصوبہ بھی اسی کا حصہ ہے۔ سی پیک جو کہ مستقبل میں پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی اختیار کر جائے گا یہ منصوبہ ون بیلٹ ون روڈ کا گیٹ وے ہوگا۔ ایک اندازے کے مطابق چین پاکستان میں اگلے پندرہ سال میں ایک سو ارب ڈالر سے بھی زائدکی سرمایہ کار ی کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ سرمایہ کاری ناصرف چین کی معیشت کو سہارا دے گی بلکہ پاکستان میں بھی گیم چینجر کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ چین پاکستان میں 55 ارب ڈالر سے زیادہ منصوبوں کا آغاز کر چکا ہے جس میں 30 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری صرف پاور سیکٹر میں کی جارہی ہے جبکہ چین انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ موٹرویز اور ایل لنک پر بھی بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے اس کے علاوہ چین سب سے اہم گوادر پورٹ جو کہ سی پیک میں انتہائی اہمیت کی حامل بندر گاہ ہے اس کی تعمیر اوراسے آپریشنل کرنے تک اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہوگی۔ چین پاکستان میں زراعت، صنعت اورآئی ٹی کے شعبوں پر بھی بھاری سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اپنے دور حکومت میں دورہ چین پر گئے تھے جہاں چاروں وزرائے اعلیٰ سمیت وفاقی کابینہ کے اہم وزراءبھی ان کے وفد کا حصہ تھے۔ ان دنوں خوش آئند بات یہ تھی کہ ہمارے تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سیاسی اختلافات کے باوجود وزیراعظم کے ہمراہ دور ہ چین میں ان کے ساتھ کھڑے تھے اس سے ناصرف پاکستان بلکہ غیر ملکی طاقتوں کو یہ تاثر ملا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں سی پیک منصوبہ پر متحدہیں اور اسے خالصتاً پاکستان کا منصوبہ سمجھتی ہیں۔ اس عمل سے مخالف قوتوں کویہ پیغام بھی دیا گیا کہ پاکستانی قوم اپنے ملک کی تعمیر وترقی میں شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
ون بیلٹ ون روڈ کے حوالے سے منعقد کانفرنس میں 65ممالک کے نمائندوں کے علاوہ29ممالک کے سربراہان بھی اس کانفرنس میں شریک ہوئے تھے۔ اس کانفرنس میں پاکستان ایک نمایاں حیثیت کے طور پر ابھرامیزبان ملک چین کے صدر شی چن پنگ نے اس کانفرنس میں پاکستانی وزیراعظم کو اپنے ساتھ ساتھ رکھا جو اس بات کی نشاندہی کرتا تھا کہ چین ناصرف پاکستان کا عظیم دوست ہے بلکہ دونوں ملکوں کی ترقی ایک دوسرے سے جڑ ی ہے۔
پاکستان کو ملنے والی اس اہمیت سے ہمارے دشمن انتہائی ناخوش اور افسردہ ہوگیا۔ہمارا دشمن بھارت جو پاکستان کو ہر بین الاقوامی فورم پر تنہا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا اب پاکستان کی مخالفت میں خود تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ ون روڈ ون بیلٹ کانفرنس میں بھارت کا بائیکاٹ اس بات کی دلیل تھی کہ بھارت بین الاقوامی طور پر خود کو تنہاکر رہا ہے۔ بھارت نے اپنے نئے دوست امریکہ کے کہنے پر اس کانفرنس کا بائیکاٹ کیا اور یہ بہانہ بنایا کہ ون بیلٹ ون روڈ کا مین راستہ ایک متنازعہ علاقہ گلگت بلتستان سے گزرتا ہے جو کہ اس کا علاقہ ہے۔ بھارت کے اس دعویٰ کو چین نے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین ون بیلٹ ون روڈ کے تمام خشک اور پانی کے راستوں کو ناصرف بہتر بنائے گا بلکہ اس کی حفاظت بھی اس کی ذمہ داری ہو گی جس سے بھارت کی خارجہ پالیسی کو شدید دھچکا لگا تھا۔ اس ایشو پر بھارتی میڈیا کے ایک بڑے حصہ نے بھارت کی ون بیلٹ ون روڈ کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا کچھ میڈیا رپورٹ اور ماہرین نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے اوربھارت کو اس منصوبے سے الگ ہونے سے کہیں نقصان تونہیں ہورہا۔ بدقسمتی سے ان دنوں پاکستان میں کچھ عناصر نے سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ کو لے کر سیاست چمکانا شروع کر دی تھی۔ ہمارے عظیم دوست چین نے ہر برے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ وہ پاکستان کا مخلص اور با اعتماد دوست ہے اس کو بھی پاکستان سے دور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔موجودہ حکومت نے تاحال پاک چین اقتصادی راہداری کے ماسٹر پلان کو مکمل طور پر عوام کے ساتھ شیئر نہیں کیا اوروزیراعظم عمران خان کے دورہ چین کی تفصیلات بھی جاری نہیں کی گئیں۔ موجودہ حکومت کا یہ عمل ایسے خدشات اور افواہوں کو تقویت دے رہا ہے کہ پاکستان کا جھکاو¿ دیگر ممالک کی طرف ہے اگر یہ بات سچ ثابت ہوتی ہے تو یہ ہماری اور اس ملک کی بہت بڑی بدقسمتی ہوگی۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved