تازہ تر ین

اعمال کادارومدار نیتوں پر

جاوید کاہلوں….اندازِفکر
مذہبی جذبات کی رو میں بہہ کر اکثر اوقات بنی آدم جان سے گزر جانے کو بھی سعادت سمجھتے ہیں۔ ایسا جذبہ صرف دین اسلام میں ہی نہیں، بلکہ تمام مذاہب کی دنیا میں موجود ہوتا ہے۔ کہیں تھوڑا، کہیں زیادہ۔ عیسائی دنیا کے پادری، یہودیوں کے ربی، ہندوﺅں کے مہمنت، بدھ مت کے راہب اور سکھوں کے گرنتھی وغیرہ اپنے اپنے ماننے والوں کو اکثر مذہبی تقریروں سے گرما کر آگ تک میں جھونک ڈالنے میں بہت مہارت رکھتے ہیں۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو اس میں تو جہاد و قتال اور غازی و شہید سے متعلق ایک مکمل فلسفہ اور قرانی بیان موجود ہے۔ سو ہمارے بعض مولوی اور واعظ حضرات اسی قرانی حکم کی ایسی ایسی تاویلات بیان کردیتے ہیں کہ وہ آناً فاناً خواندہ و نیم خواندہ ماننے والوں کے جسموں میں بجلیاں بھر کر گرانے بھی بھیج سکتے ہیں۔ کیونکہ بچ گئے تو غازی، مارے گئے تو شہید کے متبرک قرانی فکر کی موجودگی میں واعظ اپنی لفاظی و بیان سے کچھ بھی ثابت کرسکتا ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ ہر عمل کا دارومدار کرنے والے کی نیت سے مشروط ہوتا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کے ضمن میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ واعظ بے شک لفاظی و غلوہی میں مبتلا ہو، دو چار ہاتھ پیچھے سے اس پر لگا ڈالر و روپیہ ہی سارا کچھ بھلے سے کیوں نہ کروا رہا ہو۔ ہمیں امتہ المسلمین کے عقیدوں ارادوں اور نیت کے متعلق ہمیشہ حسن ظن رکھ کر ان کیلئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعاگو رہنا چاہئے۔ کیونکہ ان کے اعمال تو ان کی نیتوں سے ہی وابستہ ہوتے ہیں۔
مسئلہ ختم نبوت اور توہین رسالت، دو ایسے موضوعات ہیں کہ یہ کسی نہ کسی رنگ میں دور رسالت میں بھی موجود رہے۔ ایک قبائلی معاشرہ ہونے کے ناطے سرکار مدینہ نے اپنی مقدس حیات ارضی میں ایسے منافقوں یا کافروں سے معاملات بھی کئے۔ جوکہ آنے والے مہ و سال اور صدیوں میں دیگر مسلمانوں اور بالخصوص حکمرانوں کے لئے مشعل راہ بھی بن گئے۔ فتح مکہ کے وقت جہاں پر شقی القلب کافروں تک کو امان مل گئی تھی اور بدترین سردار عرب ابوسفیان کے گھر کو بھی دارالامن قرار دیدیاگیا تھا، وہیں پر کچھ نصف درجن کے قریب ایسے مجرم بھی تھے کہ جن کے قتل کا واضح حکم دیاگیا تھا۔ کیونکہ ان کے جرائم ”ناقابل معافی“ تھے۔ ان ناقابل معافی جرائم میں سے ایک ”توہین رسالت“ بھی تھا۔ حالانکہ اس سراپا رحمتہ اللعالمین نے ذاتی وجہ سے کسی سے بھی کبھی کوئی انتقام نہیں لیا تھا، اسی طرح سے آپ کے پردہ فرما جانے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اس وقت کے ”ختم نبوت“ کے سب سے طاقتور منکر مسیلمہ کذاب پر پے درپے لشکر کشی کی۔ یہاں تک کہ حضرت خالد بن ولیدؓ کی سربراہی میں اسلامی لشکر نے ایک خونریز جھڑپ کے بعد اس کذاب کو یمامہ اس کے باغ میں واصل جہنم کرکے دم لیا۔
اب نقطہ زیر غور یہ ہوا کہ حالات و واقعات کے مطابق اسلامی حکومت کسی دوسرے جرم کو معاف کرنے کا اختیار تو بھلے رکھ سکتی ہے۔ ختم نبوت کا انکار یا ناموس رسالت کے مجرم کیلئے دونوں جہانوں میں کوئی معافی نہیں، بلکہ وہ ختم نبوت ہو یا توہین رسالت، ان کے مجرموں کے سر فی الفور تن سے جدا کردینے چاہئیں اور اس کیلئے کسی کا مسلمان یا غیر مسلم ہونا، منافق یا کافر ہونے پر بھی کوئی بحث نہیں ہوسکتی۔
ہاں، مگر صرف ایک فیکٹر ایسا ہے جس پر بحث کی گنجائش موجود ہے۔ حضور سرکار مدینہ کے وقت اکثر دنیا میں قبائلی نظام پایا جاتا تھا۔ معاشرہ ابھی غیر ترقی یافتہ تھا۔ لہٰذا تفتیش و تحقیق اور عدالتی ضابطے ابھی تشکیل نہیں پائے تھے۔ سرسری سماعت اور گواہوں کے بعد ”ذمے داران“ فیصلہ سنادیا کرتے تھے۔ جبکہ بنی نوع انسان کی معاشرتی ترقی اور جدید ریاستوں کی تشکیل کے ساتھ ہی اب صدیوں سے باقاعدہ عدالتیں اور ان کے دیوانی و فوجداری ضابطے نہ صرف معرض وجود میں آچکے ہیں بلکہ دن رات نئی سائنسی تحقیقات اور ایجادات کی بدولت ان میں ہمہ وقت جدت بھی ہوتی رہتی ہے۔
سو! آج کے ماحول میںجب کبھی بھی مسئلہ ختم نبوت یا توہین رسالت کاکسی پر الزام لگے تو لازم ہے کہ ایسے الزام کی عدالتی چھان پھٹک اور گواہوں کے بعد اس پر موت کاحکم نافذ ہو۔ تا کہ مبادا کوئی بے گناہ پھانسی پر جھول نہ جائے۔ خوش آئند بات ہے کہ اس نازک مسئلہ پر ستر کی دھائی میں آئین میں مناسب ترمیم بھی کر دی گئی تھی اور صدر ضیاءالحق کے دور میں اس پر مزید قوانین بھی تشکیل دے دیئے گئے تھے۔ اب یہ علیحدہ بات ہے کہ وطن عزیز میں جاری عدالتیں اور ہمارا نظام انصاف و تفتیش ایسے ملزموں سے کیونکر عہدہ برآ ہورہے ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ ہمارا نظام انصاف معاشرے کو انصاف کی مکمل فراہمی میں ناکام نظرآتاہے۔ اس کیلئے فوجداری یا دیوانی کی بھی کوئی شرط نہیں۔ کسی بھی عدالتی کارروائی کا سارا دارومدار گواہوں پر ہوتا ہے اور ہمارے ہاں بنے بنائے پیشہ ور جھوٹے چشم دید گواہ کچہریوں میں موجود رہتے ہیں اور معمولی چائے پانی پر دستیاب ہوتے ہیں۔
بہر حال! واپس ختم نبوت اور توہین رسالت کی طرف لوٹتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ ایک ملزمہ کے کیس کی بریت پر پاکستانی معاشرے میں کیا ردعمل ہوا۔ یہ آخری فیصلہ ہوتے ہوتے بھی برسوں بیت چکے ہیں۔ وہ تو بھلا ہوا کہ نظر ثانی کی مد میں ابھی ایک مدھم سی کھڑکی عدالت کی بدستور کھلی تھی۔ جس سے کہ کھولتے جذبات وقتی طور پر ٹھنڈے ہو گئے۔ اگر یہ بھی نہ ہوتی تو نہ جانے یہ آگ کس کس کو خاکستر کر گئی ہوتی۔ کیوکہ ادھر کھولتے جذبات زیادہ اور عقل و دلیل کا معاملہ بہت کم رہ جاتا ہے۔ ایساردعمل برسہا برس سے برصغیر میں بدستور ہے۔ کوئی اچنھبے یا اچانک والی بات نہیں تھی۔ مگر پھر بھی ہمارے ذمے داران ہاتھ پر ہاتھ دھرے حسب معمول سوئے رہے اور کچھ نہیں تو مذہبی امور کی ایک مکمل وزارت مرکز کیساتھ ساتھ صوبوں صوبوں میں بھی موجود ہے۔ جن کی بنیادی ذمے داری ایسے مرحلوں سے معاشرے کو خوش اسلوبی سے نکالنا بھی ہوتا ہے۔ لیکن یہ خانقا ہوں اور مزاروں پر موجود لبالب بھرے خزانے گننے میں ہی مصروف نظر آتی ہیں۔ کچھ وقت بچے تو ان خانقاہوں سے متعلق زمینوں اور جائیدادوں کی آمدنیاں سنبھالنے میں بہت مگن ہو جاتی ہیں۔ اور علیٰ ہذالقیاس۔ تھوڑے لکھے کو ہی زیادہ جانیں۔ اگر اس ملزمہ ملعونہ کے معاملے میں ان وزیروں نے اپنے بھائی بندھ علماءکرام سے کچھ راہ ورسم اور تحفہ و نذر بحال رکھی ہوتی تو معاملے کو اس انتہا تک پہنچنے سے روکا جا سکتا تھا۔ ہم نے دیکھا کہ ساری کی ساری ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سپرد رہی۔ مگر مت بھولیں کہ ان جانفشاں اداروں میں بھی کثرت سے سوشل میڈیا پر موجود تقاریر ان کے نوجوان بھی سنتے ہیں جو کہ اسی معاشرے کے سادہ لوح مسلمان ہوتے ہیں۔
سو! فی الوقت‘ نظر ثانی اپیل کے اس دورانیے میں حکومت وقت کو دو کام فی الفور کر دینے چاہئیں۔ ایک تو انہیں مرکز اورصوبوں‘ بالخصوص پنجاب کے مذہبی امور کے تمام ذمے داروں کا محاسبہ کرنا چاہئے کہ وہ اپنا اصل کام سرانجام دینے سے مکمل ناکام کیوںنظر آئے۔ یہ محاسبہ چھوٹی سطح کی بجائے سیکرٹریوں اور وزراءکا ہونا چاہئے۔ دوسرے انہیں اپنے سارے نظام انصاف پر بالعموم اور ختم نبوت و توہین رسالت کے بارے میں بالخصوص اصلاحات لے کر آنی چاہئیں تا کہ ایسے مقدمات کا فیصلہ نہایت سرعت سے اپیل تک انجام پائے اور ملزم معاشرے کی بجائے تیزی سے عدالتوں کی طرف سے اپنے انجام کو پہنچیں اور اگر ابھی بھی ایسا نہ ہوا تو حکومت یاد رکھے کہ عوام ایسے الزامات پر اکثر فی الفور بھیانک فیصلے کر دیتے ہیں جو کہ مہذب دنیا پسند نہیں کرتی۔
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved