تازہ تر ین

دہشت گردی کیخلاف امریکہ کی جنگ

علی سخن ور….فل سٹاپ کے بعد
افغانستان میں بحالی امن کے لیے، پاکستان کو نہایت اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ بات پینٹاگون کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں چیئرمین امریکی جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ ک اور امریکی سیکرٹری سٹیٹ مائیک پومپیو کے دورہ پاکستان کے حوالے سے کہی گئی۔ یہ دونوں صاحبان اس سال ستمبر کے پہلے ہفتے میں پاکستان آئے تھے۔رپورٹ میں امریکی سیکرٹری سٹیٹ کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے بیچ افغانستان میں امن کے حوالے سے بارہا بات چیت ہوئی ہے، معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے لیکن عملی طور پر کرنے کو ابھی بہت کچھ باقی ہے۔سوال یہ ہے کہ کئی دہائیوں کی قربت اور بہت سے امور میں سیاسی ہم آہنگی کے باوجود پاکستان اور امریکا ایک دوسرے کے قابل اعتماد اور لائق بھروسہ ساتھی ثابت کیوں نہیں ہوسکے۔پاکستان اور امریکا کے درمیان عدم اعتماد کا آغاز کب ہوا اس کا اندازہ لگانا تو شاید آسان نہ ہو لیکن یہ بات طے شدہ ہے کہ یہ عدم اعتماد کی فضا2001ءمیں نیویارک میں واقع ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر دہشت گردوں کے حملوں کے بعد ’ پوائنٹ آف نو ریٹرن‘ پر پہنچ گئی۔9/11کے بعد امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام سے ایک ایسی مہم جوئی کا آغاز کیا جس نے ہم پاکستانیوںسے ایسا بہت کچھ ضرور چھین لیا جس پر ہماری آئندہ ترقی اور خوشحالی کا بڑی حد تک انحصار تھا۔ہمیں ایک عجیب سا احساس عدم تحفظ ملا، ایک انجانا سا سیکیورٹی تھریٹ۔ہماری صنعت، سیاحت، سیاست اور بالعموم ہمارا معاشرتی رویہ، ہم نے اس جنگ کے نام پر بہت کچھ گنوا دیا۔، جدھر دیکھو، اونچی اونچی دیواریں، خاردار تاریں، آنے جانے والوں کو گھورتے کلوز سرکٹ کیمرے اور جگہ جگہ وردی والے بندوق بردار سیکیورٹی گارڈ۔ یہ سب اسی نام نہاد جنگ کے ثمرات ہیں جو امریکا نے اصل میں ہمارے ملک میں لڑی۔ اسلام آباد سے نیو یارک کا فضائی فاصلہ11073کلومیٹر کے لگ بھگ ہے، لیکن 2001ءمیں نیویارک ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملے کے اثرات نے پاکستان اور امریکا کے پیچ یہ فاصلہ پلک جھپکتے میں یوں طے کیا کہ خود پاکستانیوں کو شبہ ہونے لگا کہ یہ حملہ امریکا میں نہیں پاکستان میں ہوا تھا۔ہمارے خیال میں امریکا میں ہونے والے اس خوفناک واقعے کی تفصیلات امریکیوں سے زیادہ پاکستانیوں کو ازبر ہیں وجہ صرف یہی ہے کہ امریکیوں کو اس سانحے سے اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا پاکستان اور پاکستانیوں کو پہنچا ہے۔ایک اندازے کے مطابق ورلڈ ٹریڈ سنٹر سانحے میں 2996کے لگ بھگ افراد جان سے گئے جبکہ 6000کے قریب زخمی ہوئے۔اس سانحہ کے بعد شروع کی جانے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ستمبر 2001ءسے مئی 2011ءتک 35000سے زائد پاکستانی اپنی جان سے گئے اور پاکستان کو 68بلین امریکی ڈالرز کا اقتصادی نقصان بھی ہوا۔ دلچسپ بات یہ کہ اس ساری قربانی کے بعد بھی امریکا ہم سے راضی نہیں ہوسکا اور آج تک ہم سے ڈو مور کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ نے صرف پاکستان کو ہی نہیں افغانستان کو بھی نہایت خوفناک نقصان پہنچایا۔افغانستان میں آپ کو کوئی گلی محلہ ایسا نہیں ملے گا جہاں امریکی طیاروں کی بمباری اور ڈرون حملوں سے معذور ہونے والے لوگ نہ ملیں۔ اور شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں اس ظلم و ستم کے نتیجے میں کوئی جان ضائع نہ ہوئی ہو۔لوگوں کے کاروبار ختم ہوگئے، مکان تباہ ہوگئے، کھیت کھلیان جل گئے، مختصر یہ کہ سارے کا سارا معاشی اور معاشرتی ڈھانچہ زمین بوس ہوگیا۔لیکن دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ آج بھی جاری ہے۔اس پر امریکی ہٹ دھرمی یہ کہ امریکا آج بھی افغانستان میںمعاملات کو اپنی مرضی سے چلانے کا خواہشمند دکھائی دیتا ہے اور اس کی یہ بھی خواہش ہے کہ پاکستان اپنے مفادات کو پس پشت ڈال کر امریکی خواہشات کی تکمیل کرتا چلا جائے۔پاکستان کے لیے اس طرح کی ذہنی غلامی نہ تو پہلے کبھی ممکن تھی اور نہ ہی آئندہ کبھی ممکن ہوگی۔افغانستان کے بارے میں پاکستان کا پہلے دن سے ایک ہی نظریہ ہے کہ افغانستان میں موجود تمام غیر ملکی فوجوں کو فوری طور پر افغانستان چھوڑ دینا چاہیے۔ افغانستان کا سارا نظام مقامی لوگوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے، طالبان بھی وہاں کی مقامی آبادی کا حصہ ہیں، انہیں کسی بھی امن پراسس سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔حکومت پاکستان بارہا اس حقیقت کا اظہار کر چکی ہی کہ افغانستان کے امن اور خوشحالی سے پاکستان کا امن اور خوشحالی براہ راست منسلک ہے۔وہاں موجود غیر ملکی طاقتیں چاہے وہ نیٹو فورسز کی شکل میں ہوںیا پھر بھارتی قونصل خانوں میں تعینات را کے ایجنٹوں کی صورت میں، پاکستان کے لیے ہمیشہ خطرہ ہیں۔پاکستان اپنے ہمسایہ برادر ملک افغانستان میں غیر ملکی عناصر کی موجودگی کے بہت سے نقصانات سہہ چکا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ 26نومبر2011ءکو مہمند ایجنسی کے علاقے میں واقع سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی قیادت میںنیٹو طیاروں نے اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میںہمارے 28بہادر بیٹے شہید ہوئے اورپندرہ کے قریب زخمی بھی ہوگئے تھے۔پاکستان کے شدید احتجاج پر امریکی حکومت کی طرف سے اس وقت کی سیکرٹری سٹیٹ ہلیری کلنٹن نے یہ کہہ کر معاملہ نمٹانے کی کوشش کی کہ یہ سب کچھ غلط فہمی کی بنا پر ہوا ہے، ہم معذرت خواہ ہیں۔تاہم پاکستان نے ایک خود مختار ملک ہونے کے ناطے امریکا کو اس’ غلط فہمی ‘پرسبق سکھانے کے لیے نہ صرف نیٹو سپلائی لائن کو روک دیا بلکہ امریکا سے شمسی ائیر فیلڈ بھی خالی کروالیا۔دونوں ملکوں کے تعلقات انتہائی کشیدگی کی نہج پر پہنچ گئے۔ اس زمانے میں امریکا افغانستان سے اپنی فوجوں کے انخلاءکے لیے بھی بے چین دکھائی دیتا تھا، پاکستان سے معاملات بگاڑنے کے بعد اس کا یہ پروگرام بھی بری طرح متاثر ہوا۔پاکستانی قوم نے سلالہ چیک پوسٹ پر اپنے فوجیوں کی شہادت پر جس شدید رد عمل کا اظہار کیا،وہ امریکی صاحبان اختیار کو ہمیشہ یاد رہے گا۔صرف نیٹو فورسز ہی نہیں ، بیرونی عناصر کے پروردہ بہت سے دہشت گرد گروہ بارہا صدر اشرف غنی حکومت کی عدم توجہی کے باعث پاکستان کو اسی انداز میں نقصان پہنچانے کی کوشش کر چکے ہیں۔اگر معاملات کی ڈور صرف افغانستان کے ہاتھ میں ہو تو افغانستان کے روابط اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کبھی خراب ہو ہی نہیںسکتے۔جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے۔پاکستان ہمیشہ ہر ایسی کوشش کا حصہ رہا ہے جس کے نتیجے میں افغانستان میں امن اور خوشحالی کے قیام کا امکان ہو۔ یہ مطالبہ کہ پاکستان افغانستان میں بحالی امن کے لیے اپنا مو¿ثر کردار ادا کرے، نہایت بے معنی محسوس ہوتا ہے کیونکہ پاکستان اس حوالے سے پہلے ہی ہر ممکن کوشش کرتا رہا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان کے لوگوں پر اپنی مرضی تھونپنے کی خواہش میں امریکا اپنا وقت ضائع نہ کرے،افغانوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں،انہیں دوست بناکر ساتھ رکھنا ممکن ہے مگر انہیں غلام بناکر زیر کرنا سورج کو ململ سے ڈھانپنے کے مترادف ہے۔
(کالم نگار اردو اور انگریزی اخبارات میں
قومی اور بین الاقوامی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved