تازہ تر ین

افغان عورتوں کی مزاحمتی شاعری

سلمیٰ اعوان …. لمحہ فکریہ
افغانستان میں عورتوں کی شاعری کبھی قابل قبول نہیںرہی ۔اِسے ماننا یا سراہنا یا اسکی حوصلہ افزائی کر نا تو بہت دور کی بات ٹھہری یہ اُن کیلئے شجر ممنوعہ ہی نہیں اسے ایک جرم اور گناہ گردانا جاتا رہا ہے۔ یہ کوئی طالبان دور کی بات نہیں ایسا صدیوں سے ہو رہا ہے ۔ حکومتی و ریاستی یا معاشرتی جبر تو رہا ایک طرف شاعرہ کے اپنے والدین اور عزیز و اقارب بھی اِس سلسلہ کی سب سے بڑی رکا وٹ شمار ہوتے تھے اور ابھی بھی ہیں۔سوال ہے کہکبھی یا کہیں ریاستی جبر ،پابندی اور سختی انسانی سوچ پر پہرے بٹھانے یا انکے دھارے بدلنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ےقےنا جواب نفی میں ہوگا ۔ گٹھن خواہ گھریلو ماحول کی ہے، ریت اور رواجوں کی ہے یا ریاست کی۔ تخلیق کے سر چشموں کے بہاﺅ کو کبھی کوئی بہنے سے روک نہیں سکا ۔انکا اظہار ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ لفظ جونہی ذہنی گچھاﺅں سے ذرا ہونٹو ں کی راہ سے باہر آئے۔ آپ ڈراور خوف کے پہروں میں اُنہیں جتنا مرضی قید کر لیںوہ قےد نہےں ہوں گے۔ انہیں ہوا کے جھونکوں کی طرح بکھرنا ہوتا ہے اور وہ بکھرتے ہےں۔ اِس حقیقت کی گواہی دینے کیلئے بّر صغیر کا ادب کیا دنیا کا ادب ڈھیروں ڈھیر مثالوں سے بھرا پڑاہے ۔ اظہار کے راستوں پر کبھی بند نہیں باندھے گئے اور یہ کبھی نہیں رُکے۔ کہیں سینہ بہ سینہ ،کہیں مُنہ سے مُنہ ، کہیں کان سے کان تک زمانہ قدیم کی افغانی دیہاتی عورتوں نے اپنے اندر کے جذبات و احساسات، سماج کی ناانصافیوں اور ظالمانہ رویّوں ،ناآسودہ جذبات و خواہشات کے اظہار کے راستے ڈھونڈ لیے تھے۔ مردانہ جبرکے تعّفن زدہ معاشرے نے انہیں اپنا ٹیلنٹ چھپانے کی ترغیب دی تھی ۔ کہیںانہوں نے مردوں کانام استعمال کیا ،کہیں اپنی شناخت پر پرد ہ ڈال دیا ۔ شاعری کی ایک خاص صنف جو افغانی پختون روایت سے جڑی ہوئی ہے۔ جسے لینڈی Landai کام نام دیا گیاہے ۔ پہلے پہل افغانی عورتوں نے شاعری کی اس صنف میں پناہ ڈھو نڈی ۔یہ نظم کی وہ قسم ہے جو دو شعروں پر مشتمل ہائیکو سے چھوٹی ہوتی ہے۔ اِسے پنجابیوں کے ٹپّوںسے بھی ملا سکتے ہیں۔عورتوں نے گمنامی کا سہارا لے کر اپنے جذبات کو اس میں ڈھالا اور اس نے سینہ بہ سینہ سفر کیا ۔ افغانی ادب ایسی شاعری سے بھرا پڑا ہے۔ اِسے کن عورتوں نے تخلیق کیا ؟ کون ا س کی خالق تھیں۔کوئی نہیں جانتا ۔ یہ راز اُن کے ساتھ ہی قبروں میںاُتر گیا ہے۔ذرا دیکھیئے ۔
کل تہوار ہے۔ نئے کپڑے سب نے پہنے ہیں
میں نے تو پرانے ہی پہنے ہیں
میرے محبوب کی خوشبو بھری ہے نا اُن میں
یہاں یہ بھی واضح نہیں ہوتا کہ وہ عورتیں جنہوں نے ایسی رومانوی چیزیں تخلیق کیں واقعی اُ ن کے صنف مخالف سے مراسم تھے یا یہ محض ان کی ذہنی اپچ تھی۔ تاہم یہ ماننا پڑے گا کہ وہ جی دار عورتیں تھیں ایک ایسے ملک میں ایک ایسے معاشرے میں جہاں محبت پر پہرے بٹھانے کی ریت تھی۔ انہوںنے اِس کے خلاف جدوجہد کی۔قدیم افغان نسوانی تاریخ کی بے شمار اور بے مثل شاعرات میں سے ایک دلیر اور جی دار شاعرہ ربیعہ بلخی سامنے آتی ہے ۔اپنے نام اور پہچان کے ساتھ۔ افغانستان کے جنوبی حصّے کے ایک چھوٹے شہر قصدادی کے امیر ترین حکمران کی بیٹی جسے اپنے بھائی کے نوکر سے جو اُسکا بچپن کا ساتھی تھا محبت ہوگئی تھی۔ یہ ربیعہ کا بھائی تھا جس نے علم ہو جانے پر نوکروں سے کہا کہ اِسے باتھ روم میں بند کر کے اُس کی نسیں کاٹ دیں۔ جسم سے بہتے خون سے اُسنے دیواروں پر اپنے جذبات کو لکھا اور خود کو امر کر لیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ افغان عورتوں نے ابھی تک وہ آز ا دی حاصل نہیںکی جس کی اُن کے ملک کو ضرورت ہے ۔ طالبان کا دورشاید اُن کیلئے حد درجہ ذہنی اذیت اور کرب کا تھا۔گرلز سکولوں پر پابندیاں انہیں بے کل رکھتی تھیں۔یونیورسٹیوں میں داخلے سے روکنے پر وہ اضطراب اور گھٹن کا شکار تھیں۔ اُن کے مدرسے مسجدوں میں بدل گئے تھے۔ وویمن ٹیچرز کی تنخواہیں بند ہو گئی تھیں۔اُن کے لٹریری حلقوں کے دروازے مقفل ہوگئے ۔ لیکن کیا انہوں نے ایسے جبر کے ماحول میں جہاں آنکھ جھپکنے کے وقفے میں درجنوں لوگوں کو تڑ تڑ کرتی گولیوں سے بھون دیا جاتا تھا ہتھیار ڈال دیئے ؟نہیں ایسی مسموم فضا میں بھی انہوں نے فکر و خیال کے نئے دیئے جلائے رکھے۔لٹریری حلقوں کے دروازوں کے باہر” زنانہ سوزن طلائی“ کے بوردڈلٹکا دیئے ۔اپنے اجسام پر طالبان کی مسلط کردہ یونیفارم جو ہلکے نیلے برقع کی صورت تھی پہن لی ۔بغیر ایڑی کے بھّدی وضع کے جوتے پاﺅں میں ڈال لیئے ۔ ہاتھ میں پکڑے کروشیے کے تھیلوں میں قینچی، کپ©ڑا ،سوئی دھاگہ، فریم تّلہ اور دبکے کے نیچے کاپی ،قلم ، کتاب ،رسالہ چُھپالیے او رزندگی کے سنگ موت کو بھی ساتھ ساتھ لے کر چلتے ہوئے ادبی مرکز میں داخل ہو جاتیں ۔ یہاں آتے ہی اُن کے سروں سے برقعے اُتر جاتے ، فرش پر بچھے گدّوں پر بیٹھ کر ممنوعہ مضامین یعنی ادبی تنقید ، جمالیات اور فارسی شاعری پر اپنے استاد سے لیکچر سُنتیں۔وہ شیکسپئر ،جیمز جائس، ورڈذ ورتھ سے بھی متعارف ہوتیں۔
افغانستان کی ابتر سیاسی حالت جس میںکسی اسلامی ملک نے انتہا پسندی کی مذمت میں ایک لفظ نہیں کہا۔مگر افغانی عورت کی جرا¿ت دیکھیئے ۔ اس کا اظہار سمیرا پوپلزئی کابل کی شاعرہ نے کس رنگ ڈھنگ سے کیا۔دل ڈھیروں ڈھیر داد دینے کو چاہتا ہے۔
سیاست نے اپنے مہیب سایوں کے ساتھ
ایک بار پھر اپنا جھنڈا بلند کیا ہے
یہ تمہارے نوجوانوں کے خون سے رنگا ہوا
ظالمانہ انتہاﺅں کو چھوتا ہوا
ہماری ہڈیوں کو چکنا چو ر کرتا ہوا
اور ہمیں مزید دھوکے دیتاہوا
راحیلہ یار جیسی شاعرہ جس کی شاعری کے تین مجموعے چھپ چکے ہیں ۔ وہ کہتی ہے۔
کوئی دھماکوں کےلئے سامان لاتا ہے
کوئی خود کش بمبار ہے
کسی نے میری ووٹ ڈالنے والی انگلی کا ٹ دی ہے
خدایا کیاتم میر ے درد کی آواز نہیں سنو گے۔
طالبان کے روبہ زوال سے افغانی عورت کو حوصلہ ملا ہے۔ وہ اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار کسی نہ کسی رنگ میں کر رہی ہے۔ آفرین ہے تم پر اے افغان عورت ۔ اُس نے مذہب سے لے کر سماجی موضوعات سب پر قلم اٹھا یا ہے ۔
دا د دیجئے افغان وویمنز رائٹنگ پروجیکٹ جیسی تنظیم کو جس نے عورتوں کو بہت حوصلہ ،دلیری اورجُرات دی ہے۔ اِس نے کم عمر بچیوں کو لکھنے پر مائل کیا ہے۔
آسمان ابابیلوں کا گھر ہے۔ یہ افغانی لڑکیوں اور عورتوں کی شاعری ، مضامین اور کہانیوںکا مجموعہ ہے۔ذرا پڑھیئے ۔ایک کم عمر بچی کیسے اپنے جذبات کا اظہار کرتی ہے۔
میں اپنا قلم لیتی ہوں لکھنے کیلئے ۔میں خوف زدہ ہو جاتی ہوں کہ کیا لکھوں او ر کس کے بارے میںلکھوں ۔ پھر لکھنے لگتی ہوں وہ سب جو میرے اندر ہے ۔ اس نے مجھے آواز دی حوصلہ دیا کہ میں اپنے دکھ درد لوگوں کے ساتھ شیئر کروں۔ اس نے مجھے افغان لکھاری کا ٹائٹل دیا ۔
رویاکہتی ہے یہ افغان عورتوں کی آواز ہے جو کم کم سننے میں آتی ہے۔
یہ کہانیاں ہیں خون ،ظلم، ناانصافی ،آنسوﺅں اور قہقہوں کی آزادی اور استحصال کی۔سولہ سال کی لڑکی کا قتل اسکی ما ں کے ہاتھوں ہوتا ہے ۔ایک پندرہ سالہ بچی کا اس کے بہنوئی کے ہاتھوں استحصال کی درد ناک داستان ہے۔ ایک شاعرہ اپنے جذبات کا اظہار کرتی ہے۔ ایک عورت سکول کھولتی ہے گلی کے بچوں کیلئے ۔ ہم برقعے کے پیچھے سے وہ کچھ سُنتے ہیں جو ہم نے کبھی نہیں سنا ۔
بہر حال شب ِ تاریک اب سحر میں بدلنے والی ہے۔سکولوں پر لگے قفل ٹوٹ رہے ہیں۔ادبی مرکز زندگی کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ہرات ثقافتی ، تمّدنی پس منظر اور تہذیبی ورثہ رکھنے والا شہر پانچ ہزار سال سے افغان تہذیب کا نمائندہ ، علم و فن کا مر کز کہ جس کے بارے میں پندرھویں صدی کے عظیم شاعر علی شیر نوائی نے کہا تھا۔ ہر ات علم سے بھر ا ہوا ایسا شہر ہے کہ کوئی آدمی یہاں اس لیے ٹانگ نہیں پسار سکتا کہ وہ کہیں آگے بیٹھے شاعر کی پشت سے نہ ٹکرائے ۔ یہ ملکہ گوہر شاد جیسی علم دوست کا شہر جسکے در دیواروں پر اگر آرٹ بکھرا ہو ا تھا تو علم و فن کے مظاہرے گھروں اور گلی کوچوں میں ہوتے تھے۔ بیٹھکوں میں ادبی نشستیں جمتی تھیںویسے ہی پھر آباد ہوگا ۔تخلیق کے وہ دیئے جو عورتوںنے جلائے، مزید جلیں گے۔ آفرین ہے تم پر اے افغان عورت۔ افغان عورت تو سلامت رہے اور جی داری کا جھنڈا لہراتی رہے اپنے حق کیلئے آواز اٹھاتی اور لڑتی رہے تاآنکہ تو کامیاب ہو جائے۔ آمین!
(کالم نگار معروف سفرنگار اورناول نگار ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved