تازہ تر ین

میڈیا اور سیاستدان ذرا سوچیں

احمد خان چدھڑ….خصوصی مضمون
میڈیا خواہ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا دونوں ایسے طبقے ہیں جن کا شمار پڑھے لکھے‘ ذی شعور‘ معاملہ فہم‘ تہذیب یافتہ اور دانشور طبقے میں ہوتا ہے اور ملکی حالات‘ سیاست اور سماج کے اندر ان کا انتہائی اہم رول اور کردار ہوتا ہے۔مورخہ 2 نومبر کو ایک T.V چینل پر خبر نشر ہوئی کہ مولانا سمیع الحق ایک قاتلانہ حملہ میں زخمی ہوئے یقینا یہ ایک انتہائی اہم اندوہناک اور افسوسناک خبر تھی کیونکہ مولانا سمیع الحق صف اول کے عالم دین‘ نامور مذہبی سکالر اور سیاستدان تھے۔ ایک مشہور دینی درسگاہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مہتمم اور سربراہ بھی تھے۔
میں اس واقعہ کی تفصیل میں نہیں جاﺅں گا کہ کیوں ہوا‘ کیسے ہوا اور کس نے کیا‘ میں صرف ان خبروںکا ذکر کروں گا جو اس واقعہ کے متعلق وقتاً فوقتاً پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر نشر ہوئیں۔ ایک T.V چینل پر خبر چلی کہ دو موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے قاتلانہ حملہ کیا‘ پھر پٹی چلی کہ گھر کے اندر واش روم میں مولانا صاحب زخمی حالت میں پڑے پائے گئے‘ پھر خبر نشر ہوئی کہ ملزم دیوار پھلانگ کر اندر آئے‘ گن مین اور ڈرائیور کسی کام کے لئے گئے ہوئے تھے‘ مولانا صاحب انتقال فرما گئے۔مورخہ 3 نومبر کو ایک اخبار میں خبر شائع ہوئی کہ مولانا صاحب زخمی حالت میں بیڈ پر گھر کے اندر پڑے تھے اور ملزم پہلے بھی آتے رہتے تھے۔ اسی روز ایک T.V چینل پر تبصرہ میں بتایا جارہا تھا کہ مولانا صاحب کے گھر راولپنڈی میں دو شخص آئے‘ انہوں نے کہا کہ ہم نے مولانا صاحب سے علیحدگی میں بات کرنی ہے۔ 4 نومبر کو ایک اخبار میں خبر شائع ہوئی کہ ملزم نے کچن سے چھری اٹھا کر اس کے وار کرکے مولانا صاحب کو شہید کیا۔ دونوں اشخاص میں سے ایک کی عمر 19 سے 21 سال اور دوسرا معمر تھا۔ مولانا صاحب نے پی اے اور ڈرائیور کو بازار سے کچھ کھانالانے کے لئے بھیجا۔ 5 نومبر کو ایک خبر میں بتایا گیا کہ مولانا نے زخمی ہونے کے بعد ایمبولینس کے لئے ٹیلیفون کیا اور ان کی وفات بھی ایمبولینس کے اندر ہی ہوئی۔
قارئین کرام! آپ نے اندازہ لگا لیا ہوگا کہ ان خبروں میں کتنا تضاد پایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ بعض رپورٹر حضرات ایک دوسرے سے سبقت لینے کے لئے خبر کی مکمل تصدیق کئے بغیر جلد بازی میں خبر شائع یا نشر کرا دیتے ہیں۔ ان کو مکمل چھان بین اور تصدیق کے بعد خبر دینی چاہئے کیونکہ بعد میں ان متضاد خبروں کی وجہ سے مقدمہ کی تفتیش اور سماعت پر کافی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور عوام میں بھی کوئی اچھا تاثر پیدا نہیں ہوتا جو خبروں پر بہت بھروسہ رکھتے ہیں۔
اب کچھ قابل احترام سیاستدانوں کے متعلق ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔سیاستدان عوام کے نمائندے ہوتے ہیں جو لاکھوں انسانوں سے ووٹ حاصل کرکے ان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ معاشرہ کی کریم سمجھے جاتے ہیں۔ صوبائی اسمبلیاں ہوںیا قومی اسمبلی یا سینٹ ہو ان میں ان کا اہم کردار ہوتا ہے۔ سینٹ ایوان بالا کا مقام بلند ہوتا ہے کیونکہ اس کے ممبران کو ممبران صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی منتخب کرتے ہیں یعنی ان کا مقام ایسے ہے جیسے کریم میں سے پھر کریم نکالی جائے۔ ممبران صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ اجلاس میں قانون سازی کریں۔ عوام کی فلاح و بہبود اور ان کے مسائل حل کرنے کیلئے بہترین منصوبہ بندی کریں۔ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں اور اپوزیشن ارکان سرکاری ارکان کی منصوبہ بندی اور پالیسیوں پر مثبت تنقید کریں۔ دونوں کا مقصد صرف یہ ہو کہ ملک کی گاڑی کو صحیح سمت چلا کر ملک کو ترقی کی منزل پر لے جانا ہے۔ اپنی ذات اور انا کی نفی کرکے باہمی اتحاد سے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کو ترجیح دیں لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ کچھ سیاستدان اسمبلیوں کے اجلاس کے دوران‘ پریس کانفرنسز اور T.V ٹاک شوز میں جس طرح غیرپارلیمانی زبان استعمال کرتے ہیں ایک دوسرے پر الزامات‘ طعنہ زنی اور ذاتیات پر حملہ کرتے ہیں کہ ہمارے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ بے حیا اور بے شرم کے ا لفاظ تو اب چھوٹے لگتے ہیں۔ یہ اس سے کہیں آگے نکل گئے ہیں۔ ان کو یہ پتہ ہی نہیں کہ اسمبلیوں میں یہ کسی مقصد کیلئے آئے ہیں۔ اسمبلی ہال مچھلی منڈی کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔ ریاست ان پر کروڑوں روپے خرچ کررہی ہے اور ان کی کارگزاری صرف یہ ہے کہ سوکن عورت کی طرح ایک دوسرے پر طعنہ زنی کرتے رہتے ہیں۔ غریب سادہ اور معصوم عوام ان سیاستدانوں کے رویہ سے تنگ آچکے ہیں‘ کمر توڑ مہنگائی اور ملکی ناسازگار حالات سے ذہنی دباﺅ کا شکار ہیں۔ سیاستدان یہ سوچیں کہ ان کے اس طرزعمل سے سیاست کی ساری مشینری پر کتنے منفی اثرات پڑ رہے ہیں اور قابل عزت اور مقدس ایوانوں کے تقدس کو کس طرح پامال کیا جارہا ہے۔
عوام ہاتھ جوڑ کر سیاستدانوں اور حکمرانوں کو اللہ کا واسطہ دیتے ہیں کہ بہت ہوگیا اب بس کریں‘ اس ملک اور عوام پر رحم کریں۔ منجھے ہوئے اور باوقار ہونے کا ثبوت دیں۔ ایوانوں کے ماحول کو سازگار بنائیں۔ وزیر دفاع کی تجویز پر عمل کریں اور ضابطہ اخلاق بنا کر اس پر عمل کریں جو کہ یہ خوش آئند تجویز ہے۔
جٹ‘ آرائیں‘ راجپوت‘ نیازی‘ چودھری‘ اتحادی اور غیراتحادی سب کارڈ ختم کرکے صرف پاکستانی کارڈ استعمال کریں اور نیشنل ایجنڈا کے ساتھ آگے بڑھیں۔ ایک تجویز یہ ہے کہ ارکان اسمبلی و سینٹ کو پندرہ روزہ کورس کرایا جائے جس میں ضابطہ اخلاق اور ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے تاکہ ان کو پتہ جل جائے کہ ان کی اصل ذمہ داریاں اورفرائض کیا ہیں۔
(کالم نگارسابق ایس ایس پی اور ماہر تفتیش کار آفیسر ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved