تازہ تر ین

عثمان بزدار اور….خونی شاہراہ

عثمان احمد کسانہ…. بولتے الفاظ
25 جولائی 2018ءکے انتخابات کے بعد سے ہم نئے پاکستان میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہ نئے پاکستان کا ہی کرشمہ ہے کہ 12 کروڑ آبادی والے صوبے کی باگ ڈور ڈیرہ غازی خان کے پہاڑوں اور قبائلی علاقے سے تعلق رہنے والے ایک سادہ منش اور خاموش طبع زیرک شخص کے حوالے کی گئی ہے۔شروع شروع میں تو وزیراعلیٰ پنجاب کی سادگی اور ناتجربہ کاری کو بنیاد بنا کر متعدد ناقدین اور بزعم خود اس پوزیشن کے منتظرین نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ شاید انکی بات بن جائے تاہم جب ایسے سب دانشوروںاور سیاسی جغادریوں کو اپنی سعی لاحاصل لگنے لگی اور انہیں یقین ہو چلا کہ دال گلنے والی نہیں تو اب پھر سے 100دن کے ایجنڈے اور جنوبی پنجاب صوبے کو موضوعِ مشق بنا کر نشانے پر لے لیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے گذشتہ روز اپنے ہوم ڈسٹرکٹ میں جس طرح سے دبنگ انٹری ڈالی ہے اس سے کافی حد تک دھند چھٹ گئی ہے، مطلع بھی صاف نظر آنے لگا ہے اور دھندلا ہوا منظر نامہ بھی صاف دکھائی دینے لگا ہے۔ وزیراعلیٰ کے خیالات میں چھپی ان کی خالص نیت اور کچھ کر گزرنے کی دھن انہیں مزید نکھارتی ہے۔وہ وزیراعلیٰ پنجاب کس طرح بنیں ‘یہ باتیں دلچسپ ضرور ہیں مگر اب غیر اہم ہوچکی ہیں۔اب اہم یہ ہے کہ حکومت پنجاب کتنا ڈیلیور کر پارہی ہے۔پچھلی حکومت کی کوتاہیوں اور غلطیوں سے آپ نے کیا سبق سیکھا اور اپنے آپ کو ان قباحتوں سے کس قدر بچارہے ہیں۔ کچھ بھی کہیئے ماضی کو حال سے جوڑ کر کارکردگی کا اندازہ ضرور لگایا جائےگا۔
موجودہ حکومت کے وژن اورکام کا مقابلہ و موازنہ گذشتہ دس سال سے بہر حال کیا جاتا رہے گا۔ 100دن میں صوبہ جنوبی پنجاب کا قیام کیوں نہیں ہوا۔ یہ سوال کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔البتہ یہ ضرور پوچھا جانا چاہئے کہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے وزیراعلیٰ نے پہلے سو دن میں اپنے علاقے اور خطے کیلئے کیا کیا؟ ہم یہ نہیں کہتے کہ لاہور ہمارا نہیں یا گوجرانوالہ‘ فیصل آباد ‘ روالپنڈی اور دوسرے بڑے شہروں کو جیسا ہے ،جہاں ہے چھوڑ دیا جائے۔ نہیں ہر گز نہیں۔ بات تو دعوے کی ہے۔ ترجیحات کے تعین کی ہے۔وزیراعلیٰ بننے کے بعد اپنے پہلے دورے کے موقع پر عثمان بزدار صاحب نے ڈیرہ غازیخان میں اربوں روپے کے جن منصوبہ جات کا اعلان کیا ہے اس سے ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا نظر آ رہا ہے۔ شُنید بلکہ قوی اُمید ہے کہ یہ علاقہ اب محرومیوں کا قبرستان بننے کی بجائے نئے پاکستان کا حسین گلستان بنے گا۔ یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ صحت ، تعلیم اور مفاد عامہ کے دیگر منصوبوں کی اہمیت اپنی جگہ لیکن ذرائع آمدورفت کی اہمیت سے بھی کسی طور پر انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ میانوالی کو ملتان سے ملانے والی اہم سٹرک (ایم ایم روڈ ) پنجاب کی ایک اہم شاہراہ ہے۔اسے جنوبی پنجاب کی اہم ترین ،مصروف ترین اور معیار تعمیر کے اعتبار سے اعلیٰ ترین بھی کہا جاسکتا ہے۔یہاں سے گزرنے والی ٹریفک میں بھاری تعداد مال بردار ٹرکوں اور بسوں کی ہے۔ جب یہ جہازی سائز گاڑیاں اور انکے پائلٹ نما ڈرائیورز یہاں سے فراٹے بھرتے ہوئے گزرتے ہیں تو نواحی چکوک اور مضافاتی بستیوں سے نکلنے والی سائیکلیں ،موڑ سائیکلیں اور چھوٹی گاڑیاں انکو جیسے نظر ہی نہیں آتیں اور آئے روز یہ سڑک خون سے نہا جاتی ہے ۔ اس کی حالت زار، اس پر رُونما ہونے والے خوفناک حادثات اور آئے روز ہونے والی اموات کی شرح کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس شاہراہ کو ”خونی سٹرک“ قرار دیاجاتا ہے۔ اسے مطالبہ سمجھا جائے یا درخواست بہر صورت اس مصروف و معروف شاہراہ کو فی الفور ون وے کر دیا جائے اور یہاں ہائی وے اتھارٹی کا عملہ بھی تعینات کیا جائے جو تیز رفتاری کی حد اور دیگر قوانین پرعملدرآمد کروائے۔تاکہ یہاں بسنے والے یہ سمجھیں اور یقین کر لیں کہ واقعی تبدیلی آ چکی ہے اب ان کا احساس کرنے والا دردمند شخص وزیرعلیٰ پنجاب ہے۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved