تازہ تر ین

50 لاکھ گھر

افتخار خان ….اظہار خیال
آج کل حکومت پاکستان کی طرف سے 50 لاکھ گھر بنانے کا قصہ بڑے زور و شور سے چھڑا ہوا ہے اور اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کو پورا وقت دیں گے تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ کیسے 50لاکھ گھر بنتے ہیں۔ سب لوگ یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ 50 لاکھ گھر بنانا 5 سال میں بہت بڑاکارنامہ ہوگا لیکن اس کے لئے مناسب منصوبہ بندی بھی درکار ہے۔ سب سے بڑی مشکل تو اتنی تعداد میں اینٹیں (Bricks) موجودہ سسٹم سے میسر نہیں ہونگی۔ ایک اور بات جو بہت ضروری ہے کہ ہمار ی اینٹیں کسی لحاظ سے گھر بنانے کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ گاو¿ں میں تو بالکل ہی کچی اینٹیں ملتی ہیں۔ نہ ان کا سائز ٹھیک ہے ۔ ہماری اینٹیں بہت مہنگی ہیں ‘ ان کی قیمت آدھی ہونی چاہیے۔ آج کا بھاو¿ 11.5 روپے کی ایک اینٹ ہے۔ ہمیں سب سے پہلی اپنی (1) اینٹوں کی کوالٹی کو بہت زیادہ بہتر کرنا ہوگا۔ (2) اس کو بہت سستا کرنا ہوگا۔ (3) اس کی مقدار (quantity)کو بہت زیادہ بڑھانا ہوگا۔
میں واپس آتا ہوں گھر بنانے کی طرف، سب سے پہلے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ گھر کون بنائے گا۔ حکومت خود تو شایداتنے گھر نہیں بنا سکتی۔ ہمیں یہ پتہ کرنا ہوگا کہ گھر کیسے بنتے ہیں۔ پچھلے 20 سالوں میں لاہور کے مضافات میں 500 سکیموں میں گھر بنے ہیں جن کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ یہ گھر زیادہ تر پرائیویٹ سیکٹر نے منافع کمانے کے لیے بنائے ہیں۔ اس کے علاوہ DHA میں جو 10سکیمیں ہیں ان میں بھی دو لاکھ کے قریب پلاٹ ضرور ہوںگے۔ ان تمام پلاٹوں اور گھروں پر حکومت کا ایک پیسہ بھی نہیں لگا ہے۔ اس سے ایک بات ثابت ہوگئی کہ حکومت کے 50لاکھ گھروں پر حکومت کا پیسہ نہیں لگے گا۔
اب یہ دیکھنا ہے کہ یہ پروجیکٹ لوگوں کے لیے گھر بنا کے پیسے کمانے تک نہ رہ جائے۔ پھر تو 50لاکھ سے 1.50 کروڑ کا پانچ مرلہ کا 3 بیڈ کا گھر مل رہا ہے۔ لیکن اس قیمت سے حکومت کا مقصد حل نہیں ہوتا۔ غریب کو چھت نہیں ملے گی۔ غریب آدمی کی حیثیت کیا ہے۔ وہ تو 2000 روپے مہینہ قسط پر گھر خریدناچاہتا۔ اس کے ساتھ شروع میں تھوڑی سی رقم بطور Down Payment ادا کرنی ہوگی۔ یہ رقم ایک لاکھ روپے مقرر کی جاسکتی ہے۔ جو شخص بہت غریب ہے اور وہ ایک لاکھ روپے نہیں دے سکتا تو وہ عدالت سے اپنی غربت کی ڈگری لے گا اور پھر یہ رقم حکومت دے گی۔ خیال رہے ہم نے اس شخص کو سب سے پہلے گھر دینا ہے جو اپنے بچوں کے ساتھ کھلے آسمان کے نیچے فٹ پاتھ پر سوتا ہے۔ سارا دن بھیک مانگتا ہے اور رات کو فٹ پاتھ پر سوجاتا ہے۔
اب یہ طے کرنا ہے کہ 5 مرلہ کا 3 بیڈ روم کا اکیسیویں صدی کا ڈبل سٹوری گھر کتنے کا بنے گا۔ اس قیمت میں گھر کے باہر کی سروسز بھی شامل ہونگی۔ سروسز میں پانی، بجلی، سڑکیں، مسجدیں، گیس ، گراو¿نڈز وغیرہ شامل ہیں۔ عوام کو یہ گھر 7 لاکھ روپے میں میسر ہونا چاہیے اور وہ بھی 2000 روپے ماہانہ قسط پر ۔ایک بات کو نوٹ کرلیں کہ زمین حکومت مفت دے گی اس کے لیے ہماری تجویز بہت معقول ہے۔ اب یہ کوشش کرنی ہے کہ کس طرح 7 لاکھ کا گھر بنے گا۔ (1) زمین فری مل جائے گی‘جو حکومت دے گی۔ (2) وافر مقدار میں اعلیٰ ترین کوالٹی کی اینٹیں ملک میں پیدا کریں اور ان کی قیمت بھی بہت کم ہونی چاہیے۔ (3) ایسے گھروں کے لئے بلڈنگ میٹریل کی قیمتیں بھی آدھی ہونی چاہئیں۔ (4) سود صفر ہوگا ہمیشہ کیلئے ۔ یہ کام کرنے سے گھر 7 لاکھ میں آسانی سے بن جائے گا۔ اب ذرا دیکھیں 5 مرلہ پلاٹ کا سائز ہے 23″x45″۔ آگے 16 فٹ جگہ چھوڑی جائے گی۔ پیچھے 10 فٹ جگہ چھوڑنی ہے جہاں سارا سال سبزیاں لگائیں اور تازہ مفت سبزی کھائیں گے۔ درمیان میں 23×23 ڈبل سٹوری کا گھر ہوگا۔ گراو¿نڈ فلور پر ڈرائنگ، ڈائننگ، باورچی خانہ اور سیڑھی ہوگی۔ اوپر 3 بیڈ ہونگے جن کے لیے دو باتھ ساتھ ساتھ ہونگے۔ غریب آدمی آسانی سے خود محنت مزدوری کر کے اس جگہ پر 2 لاکھ روپے میں گھر مکمل کرلے گا۔ ہم اکیسیویں صدی کے گھر کی بات کرتے ہیں تو وہ 4لاکھ روپے میں بن جائے گا۔ شہر، گاو¿ں، چک یا چند گھروں والی جگہ کے قریب اگر گھر بنانے ہیں تو ایڈمنسٹریشن اس جگہ کے گرد ایک دائرہ لگائے گی۔ اس دائرہ میں جو زمین آئے گی وہ حکومت کی ہوجائے گی اور مالک کو اس سے اچھی زرعی زمین دی جائے گی۔ اس میں کسی سے زیادتی نہیں ہوگی۔ کسی کا روزگار نہیں چھینیں گے۔لوگوں کو زمین کئی ہزار گنا قیمت بڑھا کر بیچ کر غریب کے سر سے چھت نہیں چھیننے دیں گے۔ اس سے زمین کی قیمتیں فوراً کم ہونا شروع ہوجائیں گی۔ میرے اندازے کے مطابق جو زمین لاکھ روپے فی مرلہ ہوگی وہ چھ ہزار روپے پر آجائے گی۔ میں یہ بات ہوا میں نہیں کہہ رہا بلکہ حقیقت پر مبنی ہے۔ حکومت یہ زمین گھروں ، سڑکوں، پارکوں، سکولوں، جیلوں، قبرستانوں، مسجدوں کے لیے مفت دے گی۔ حکومت کے پاس اس مد میں 30 کھرب روپے 5سال کے لیے ہیں۔ اس طرح غریب کا مکان 7لاکھ روپے یعنی 2000 روپے ماہانہ قسط پر پاکستان میں دستیاب ہوگا اور پانچ سالوں میں 50 لاکھ سے زیادہ گھر بن جائیں گے۔
آج کل جو خبریں حکومت جاری کر رہی ہے کہ باہر سے کچھ لوگ آئیں گے وہ ڈالر بھی ساتھ لائیں گے اور 50 لاکھ گھر بنائیں گے۔ مجھے کوئی کہہ رہا تھا کہ حکومت کا 3 مرلہ کا گھر 20 لاکھ میں ملے گا۔ میری سمجھ سے یہ بات بالاتر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ غریب کے لیے کچھ نہیں ہوگا۔ بلکہ دوسرے منصوبوں کی طرح یہ بھی منافع بخش کاروبار بن کر رہ جائے گا۔ سستی اینٹیں بنانے کا منصوبہ کچھ اس طرح ہے کہ حکومت نے اینٹوں کا آٹو میٹک پلانٹ امپورٹ کرنا ہے۔ پاکستان کے چاروں اطراف میں سرحد کے قریب 50 جگہوں پر چھوٹے سے چھوٹا واٹر پاور پلانٹ بنائے گی جہاں صرف اتنی بجلی پیدا ہو کہ وہ اینٹوں کا پلانٹ چلا سکے۔ یہ پلانٹ حکومت اینٹیں بنانے والوں کو مفت دے گی جو بجلی بنا کر استعمال کرے گا۔ لیبر اور پاور کی قیمت صفر ہوگی تو باقی کیا رہ جاتا ہے وہ ہے مٹی۔ اس طرح ہم پاکستان میں آدھی قیمت یعنی 4000 روپے فی ہزار اینٹ بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ پلانٹ میں جو مٹی آج ڈالی جائے گی اس مٹی کی تیار اینٹ آج سے مل جائے گی۔ اس طرح ہم اتنی زیادہ اینٹیں بنا سکیں گے کہ ان کو ایکسپورٹ کر کے ڈالروں کے انبار لگا لیں گے۔ اس طرح 50 لاکھ گھر آسانی سے 5سالوں میں بن جائیں گے۔ ہمارا پُر امن انقلاب تو پہلے ہی ہر چیز کی قیمت آدھی کرنے کی بات کرتا ہے۔ میری یہ باتیں لوگ کیوں نہیں سمجھتے خاص کر اینکرز آئیں میرا چیلنج قبول کریں۔
(کالم نگارقومی وسماجی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved