تازہ تر ین

کائنات کاسب سے بڑا سچ

نوین روما……..اظہار خیال
بچپن میں میری خالہ مجھے ستاروں کی چال ، ان کے نام، ان کے اثرات بتایا کر تی تھیں۔ گرمیوں کی راتوں کو چھت پر لیٹے کھلے آسمان تلے وہ نا جانے کتنے دیسوں کی کہانیاں سنا دیتی تھیں، اور ہم ستاروں کی مدد سے وقت دیکھنے کی کوشش کرتے، دیکھتے دیکھتے ہم ستاروں کے ایک جھرمٹ کی طرف پہنچ جاتے تھے جسے کہکشاں بھی کہتے ہیں ۔ میں خالہ سے پوچھتی کہ ستاروں کاجھرمٹ کیسا ہے ؟جیسے کہ سارے ستارے کسی کی جانب لپک رہے ہیں بھاگ رہے ہیں تو وہ مجھے ایک رواےت سناتی کہ جب ہمارے پیارے نبی معراج پر گئے تو جیسے وہ عالم ارواح کی طرف روانہ ہوئے تو ساری کا ئنات وہ منظر دیکھ رہی تھی جس پتھر پر پاﺅںرکھنے کے لیے قدم اٹھایا وہ حضور کی شان اقدس میں خود اوپر کو اٹھ گیا اور آج بھی فلسطین کی سر زمین پر وہ پتھر موجود ہے ،اور جب وہ براق پر روانہ ہوئے تو یہ چاند ، ستارے بھی دیکھ رہے تھے حضور کا دیدار مبارک کر نے کے لیے بہت سے ستارے بھی ان کے راستے کی طرف لپکے تاکہ ان کا دیدار کر سکیں اور ےہ ستاروں کاجھرمٹ جسے پروین بھی کہتے ہیں وہیں رک گیا اور آج بھی اسے دیکھنے سے یہی لگتا ہے کہ یہ سارے بے تاب ہو کر اپنی اپنی جگہ سے دوڑتے ہوئے دیدار مصطفی کے واسطے گئے اور وہیں ساکت ہو گئے اور خالہ کہتی کہ نبی کریم سراپا رحمت ہیں اورآپ کاوجود پوری کائنات کیلئے خیروبرکت کاباعث ہے اور آپ کا وجودکائنات میں روشنی پھلانے والاہے ۔ تصور میں اس روشنی کو محسوس کرتے ہوئے میں ماضی کے روشن خیالوں سے باہر آگئی اور آج میر ے سامنے ستاروں کی روشنی نہیں تھی بلکہ بے شمار رنگ وہ سارے رنگ جو کائنات میں موجود ہیں ، ان رنگوں سے اور بڑی عقیدت اور احترام سے آپ کا اسم مبارک محمد لکھا گیا تھا ۔میں الحمراءآرٹس کونسل کی گیلری میں تھی ، یہاں یہ ماضی کی کچھ باتےں ےاد آگئیں، اس مصورانہ مقابلہ کو دیکھتے ہوئے جو کہ لاہور آرٹس کونسل نے منعقد کیا تھا۔ انفارمیشن اینڈ کلچر کے صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے جب الحمرا آرٹ گیلری کا پہلا دورہ کیا تو انہوں نے ایک تجویز پیش کی کہ، آپ کی محبت ہم سب کے دلوں میں ہر لمحہ موجود ہے لہذا ناموس رسالت اور حرمت رسول کواجاگر کرنے کے لیے آپ کے اسم مبارک پر مصورانہ خطاطی کے مقابلے کا انعقاد کیا جائے، اوراس کا عنوان سرور کائنات کا اسم مبارک ©© محمد ہو گا۔
کچھ عرصہ پہلے نیدر لینڈ میںایک ناپاک مقابلے کا انعقا کیا جانا تھا، جس میں نعوذ باللہ آپ کی شان میں گستاخی کیے جانے کا امکان تھا، موجودہ حکومت نے اور پاکستانی عوام نے ملکر اس کے خلاف ہر محاذ پر بھرپور احتجاج کیا اور کیلی گرافی کی یہ نمائش درحقیت آپ کی خدمت میں ایک اظہار عقیدت تھا ، ہماری محبت کا نذرانہ تھا جو اس ناپاک مقابلہ کروانے کے ردعمل کے طور پر ہوا، اور ہماری اعلی قیادت کا یہ فیصلہ کتنا خوبصورت تھا کہ ان سے محبت عشق اور احترام کے اظہار کے لیے ہمیں ایک نہاےت خوبصورت طریقہ اپنانا ہے اور آج اس نمائش کی کامیابی اس بات کی دلیل ہے پاکستان کے ہر شہر ، قصبے اور گاﺅں سے فن پارے آئے تھے، جن میں مرد اور خواتین نے شرکت کی۔ 310 مصوروں نے اس میں شرکت کی اور 350 سے زائد فن پارے آویزاں کے گئے۔ اتنا خوبصورت کام اور اتنی محبت میں ڈوبے رنگ ، فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ کسے بہترین انعام دیا جائے۔ دس مصوروں کو نقد انعام اور ایوارڈ دیا گیا۔ عقیدت میں ڈوبی یہ نمائش جاری تھی کہ کچھ دن بعد گیلری کے باہر مال روڈ پر لاٹھیوں اور پتھروں کی آوازیں آنی شروع ہوگئی ، سڑکیں بند ، روزمرہ زندگی مفلوج ہوگئی، کاروبار ، دوکانیںبند‘ مزدور سب گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ،سلسلہ کچھ بڑھا، لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچایا جانے لگا، گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں کو آگ لگائی جانے لگی۔ جن گاڑیوں میں بچے ، خواتین موجود تھے ان کی موجودگی میں ان پر لاٹھیاں برسائی گئیں ، آگ لگائی گئی،یہ بھی ایک ردعمل تھا جو کہ ایک کیس کافیصلہ آنے کے بعد سامنے آیا، بہت سے لوگ زخمی ہوئے، حکومت کے ساتھ عوام کا نقصان ہوا کچھ لوگ سڑکوں پر مرگئے کیونکہ راستے بند ہونے کی وجہ سے بر وقت طبی امداد میسر نہ آسکی، زندگی کچھ دنوں کے لیے مفلوج ہوگئی۔کھانے پینے کی اشیا ءکی ترسیل مشکل نظر آنے لگی، حکومت نے انتہائی دانشمندی سے مذاکرات کامیا ب تو کروادیئے، لیکن جو نقصان ہو ا وہ؟ یہ سب کرنے والوں کو اندازہ ہے کہ جسکی بائیک جلی اس نے کس طرح خریدی ہو گی؟ رعایا سے زیادتی تو کسی بھی مذہب میں جائز نہیں۔ ہمارے پیارے حبیب آقا ئے کا ئنات حضرت محمد نے تو کفار سے جنگ کرتے ہوئے بھی کہا تھاکہ بچوں ،عورتوں ،بوڑھوںاور جانوروں یہاں تک کہ کھیتوں اور درختوں کو بھی نقصان نہ پہنچانا،یہ تو ہماری اپنی کھیتی تھی، ایک معصو م کی کیلوں کی ریڑھی کو لوٹا گیا۔ ایک طرف اسلام کے نعرے دوسری طرف توڑ پھوڑ کر تے ہوئے غلیظ گالیاں دینا یہ کس طرح کا احتجاج تھا؟ حضور اقدس ایک مرتبہ سجدے میں گئے تو کفار نے ان پر جانور کی اوجڑی ڈال دی، مگر آپ نے ایک لفظ بھی نہیں کہا، اور جو یہاں ہو ا وہ رعاےا پر ظلم تھا، اور بے قصور رعایا کے ساتھ زیادتی تو میرے مولا کی عدالت میں کسی طرح بھی معاف نہیں۔ میرے نبی کو امن ومحبت کا راستہ پسند ہے۔نبی کریم کی محبت اور عقیدت میں تو پوری کائنات مبتلا ہے۔ ایک ایک ذرہ ان کی تعریف کرتاہے۔ لفظ کم پڑجاتے ہیں یہ سیاہی ختم ہو جائے گی،مگرہم آپ کی عظمت کو بیان نہیں کر سکتے۔ یکدم مجھے سونے چاندی سے لکھی گئی ایک عمدہ خطاطی یاد آگئی جس میں سارے رنگ تھے، یعنی جوکائنات میں موجود ہیں،چمکتے ہوئے،باتےں کرتے ہوئے،اُس پر تحریر تھا۔
جب بھی محمد کہتا ہوں
تو یوں لگتاہے
میں اس کائنات کا سب سے بڑا
سچ بول رہا ہوں۔۔۔۔۔
اس کے بعد کچھ کہنے کی ضرورت نہیںپڑی ،میں نے بس آنکھیں بند کرلیں اور آسمان پر وہ آفتاب دیکھنے لگی جس نے پوری کائنات کو روشن کر رکھا تھا۔
(کالم نگارقومی و سماجی موضوعات پرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved