تازہ تر ین

ایس پی طاہر داڑو کا قتل سازش ، مشترکہ تحقیقات کیلئے افغانستان تیار ہے، باڑ لگانے سے دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جاسکتا، طاہر داوڑ کی میت کو عزت و احترام کے ساتھ حوالے کیا : افغان سفیر کی چینل ۵ کے پروگرام ”ڈپلومیٹک انکلیوژ“ میں خصوصی گفتگو

اسلام آباد(انٹروےو:ملک منظور احمد ، تصاوےر: نیکلس جان) ا فغان صدر کے معاون خصوصی و پاکستان مےں افغانستان کے سفےر ڈاکٹر حضر ت عمر زاخیلوال نے چند روز قبل دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جانے والے ہونہار پولیس آفےسر ایس پی طاہر داوڑ کے قتل کی تحقےقات کےلئے مشترکہ تحقےقاتی ٹےم بنانے کی پیش کش کردی ہے او ر کہا ہے کہ طاہر داوڑ کا قتل افغانستان اور پاکستان کے درمےان تعلقات کو خراب کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے انہوںنے انکشاف کیا کہ طاہر داوڑ کو قتل کرنے کے بعد پاک افغان بارڈر کے قرےب ایک دیہات مےں دیہاتےوں نے دفنا دےا تھا جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کے قتل کا علم ہوا تو قبرکشائی کی گئی اسی کیس سے متعلق ایک اور انکشاف کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ جس علاقے سے ایس پی طاہر داوڑ کی میت ملی وہاں دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکنے کےلئے پاکستان کی جانب سے باڑ لگائی گئی تھی افواج پاکستان کے ترجمان مےجر جنرل آصف غفور کے بےان کو افسوس ناک قرار دےتے ہوئے افغان سفےر نے کہا کہ اس قتل مےں افغانستان حکومت کا کوئی ادارہ ملوث نہیں ہے افغانستان بارڈر پر باڑ لگانے پر ےقےن نہیں رکھتا اور نہ ہی باڑ لگانے سے دہشت گردی پر قابو پایا جا سکتا ہے دونوں ممالک کے درمےان تعلقات کو اس واقعہ سے بڑا دھچکا لگا ہے افغانستان کی حکومت اےس پی طاہر داوڑ کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کےلئے پاکستان کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنے کو تےار ہے طاہر داوڑ کی مےت کو انتہائی احترام کے ساتھ پاکستانی حکام کے حوالے کےا گےا ہے اور اس مےں اگر کچھ تاخےر ہوئی ہے تو اس کی وجہ سے الزامات تراشی افسوس ناک ہے ، پاکستان اور افغانستان کے عوام بہت جذباتی ہیں ہمیں احتےاط سے کام کرنے ہوتے ہےں ،انہوںنے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف افغانستان اور پاکستان کو مشترکہ آپرےشن کرنا چاہئے تاکہ خطے کو امن کا گہورا بناےا جا سکے ان خیالات کا اظہار انہوںنے چےنل فائےو کے پروگرام ”ڈپلومیٹک انکلیو“ میں خصوصی انٹروےو دےتے ہوئے کیا ۔انہوں نے اےس پی طاہر داوڑ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے ہم طاہر داوڑ کو جانتے ہی نہیں تھے وہ ایک سےنئر پولیس افسر تھے اور نہ انہوںنے افغانستان کو کوئی نقصان پہنچاےا غےر رےاستی عناصر دونوں ممالک کے دشمن ہیں بےان بازی ، الزامات دونوں ممالک کے مفاد مےں نہیں اور بےانات دےنے سے پہلے اس کے نتائج کے حوالے سے سوچنا چاہئے دونوں ہمسایہ ممالک ہیں اورہمسائے کبھی تبدےل نہیں ہو سکتے دونوں ممالک کی قےادت کو سنجےدہ کوشش کرکے تعلقات کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ مستقبل مےں اےسے افسوسناک واقعات رونماءنہ ہوں جب ان سے پوچھا گےا کہ پاک فوج کے ترجمان نے اپنے اےک بےان مےں کہا ہے کہ یہ کام کسی دہشت گرد تنظےم کا نہیں ہے بلکہ اوپر کا ہے تو انہوںنے کہا ہمیں اس بےان پر بہت افسوس ہوا ہے اور ماےوسی بھی ہوئی ہے افغانستان کی حکومت کا کوئی ادارہ اےسے گھناﺅنے کام مےں ملوث نہیں ہو سکتا ۔مےں خود متعلقہ حکام سے رابطے مےں تھا اور مےں نے ٹےلی فون پر رابطہ کرکے کہا کہ ایس پی طاہر داوڑ کی میت کے احترام اور وقار کو ہر صورت ےقےنی بناےا جائے اور اےسے ہینڈل کیا جائے جےسے وہ ہمارا اپنا آفےسر تھا اور مےں ےقےن سے کہتا ہوں کہ اس کیس مےں اےسا ہی کیا گےا ہے اور اس سلسلے مےں افغان حکومت نے پاکستانی حکام کی ہر لحاظ سے مدد کی ہے ایک سوال کے جواب مےں انہوںنے کہا کہ یہ میت قبائلی عمائدےن کے پاس تھی اور وہ اپنی رواےات کے مطابق مےت کو حوالے کرتے ہےں اور قبائلی عمائدےن نے پاکستانی اداروں کے ساتھ تعاون کیا ہے انہوںنے کہا کہ طاہر داوڑ سترہ دنوں سے لاپتہ تھا اور ان کی میت کتنے دن وہاں رہی اور کےسے انہیں وہاں لے جایا گےا اس بارے مےں ابھی ہمیں معلومات نہیں ہیں تاہم تمام حقائق کو سامنے لانا چاہئے حقےقت یہ ہے کہ طاہر داوڑ کی مےت وزےر مملکت برائے داخلہ شہرےار آفرےدی کے حوالے کی گئی اور ان کی نمازہ جنازہ افغانستان کی سرزمےن پر بھی ادا کی گئی اور پاکستان مےں بھی ادا کی گئی شہرےار آفرےدی کو مےت لے جاتے وقت واضح دےکھا جاسکتا ہے افغان سفےر نے کہا کہ جب تک ہم اپنے خیالات نہیں بدلےں گے تب تک اعتماد بحال نہیں ہوگا اگر دونوں ممالک دشمنی دےکھاتے رہیں گے تو یہ دونوں کےلئے ٹھےک نہیں ہوگا مےں گزشتہ تےن سا ل سے بطور سفےر دونوں ممالک کے درمےان تعلقات کو بہتر بنانے کے حوالے سے پاکستان کی سےاسی اور عسکری قےادت کے ساتھ مسلسل رابطے مےں رہا ہوں اور دونوں اطراف سے مثبت اقدامات کےے گئے ہےں جس کے نتےجے مےں اعتماد بھی بحال ہوا ہے اور تعلقات بھی بہتر ہوئے ہیں لیکن طاہر داوڑ جےسے واقعات ہمارے باہمی تعلقات کو خراب کردےتے ہےں طاہر داوڑ کا سانحہ بلکل خلاف توقع ہے اور مےں سفارتی مدت مکمل ہونے کے بعد بہت خوشی خوشی افغانستان جا رہا تھا لیکن اس سانحہ نے مجھے بہت افسردہ کردےا ہے اور مےں اب افسردہ ہوکر پاکستان سے روانہ ہو رہا ہوں امن اور استحکام کے علاوہ ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے ہم پہلے ہی بہت وقت ضائع کرچکے ہےں اور دونوں ممالک دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں ہم دس سال پہلے ہی ضائع کر چکے ہیں دونوں ممالک کی تارےخ اور اقدار مشترکہ ہیں اور مقاصد بھی ایک ہیں اور ہمارے دشمن بھی مشترکہ ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ جوش کے بجائے ہوش سے کام لیا جائے الزامات برائے الزامات سے اجتناب کرنا ہوگا سی پیک کے حوالے سے انہوںنے کہا کہ یہ ایک عظےم الشان منصوبہ ہے اور اس منصوبے سے افغانستان کو بھی بہت فائدہ ہوگا پاکستان اور افغانستان کے راستے سے جنوبی ایشیاءتک تجارت کی جا سکتی ہے ہمیں ا س پر توجہ دینی چاہئے اور افغانستان اس منصوبے کی حماےت کرتا ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہےں کہ سی پیک جےسے منصوبوں سے غربت و افلاس کو ختم کرنے اور خوشحالی لانے مےں بہت مدد ملے گی ۔آپ کو علم ہے کہ اس خطے مےں داعش ، ٹی ٹی پی ، القاعدہ اور دےگر دہشت گرد تنظےموں کا گٹھ جوڑ ہے اغواءبرائے تاوان اور قتل و غارت کے افسوسناک واقعات ہوتے ہےں اور یہ نےٹ ورک دونوں ممالک کے خلاف کام کرتے ہےں انہوںنے اےک سوال کے جواب مےں کہا کہ بہت سار ے اےسے واقعات ہو چکے ہےں کہ افغان باشندوں کو اغواءکرنے کے بعد پاکستان مےں لا کر مار دےا گےا اور پاکستانےوں کو اغواءکرکے افغان سر زمےن پر قتل کیا گےا ہمارے ایک سفارتکار کو کراچی سے اغواءکےا گےا اور آج ڈےڑھ سال ہو گئے ہےں اس کا آج تک کوئی پتا نہیں چل سکا ۔دونوں ممالک مےں اےسے غےر رےاستی عناصر موجود ہےں لیکن اےسے واقعات رےاست کی سطح پر اثر انداز نہیں ہونے چاہئے اور نہ ہی ایک دوسرے پر عدم اعتماد کرنا چاہئے کیونکہ ایک عرصہ سے خود کش حملے ، دھماکے اور دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں اور ہزاروں لوگ اس مےں جانوں کا نذرانہ دے چکے ہےں اےسے بزدلانہ واقعات سے ہمارے ارادے پست نہیں ہونے چاہئے اور نہ اےسے واقعات سے اپنے بڑے مقاصد سے توجہ ہٹانی چاہئے جب ان سے پوچھا گےا کہ امرےکہ سمےت دنےا بھر کے ممالک کی افواج گزشتہ کئی سالوں سے افغانستان مےں موجود ہے لیکن ایک کابل میں بھی حکومتی رٹ نظر نہیں آتی تو انہوںنے اعتراف کےا کہ افغانستان کی حکومت اپنی رٹ کو قائم کرنے مےں کامےاب نہیں ہو سکی اور اس حوالے سے خدشات بجا ہیں لیکن اس کے راستے مےں کئی رکاوٹےں ہیں جب ان سے سوال کیا گےا کہ ہر بار افغانستان کی سرزمےن کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے تو انہوںنے کہا کہ افغانستان کی حکومت اپنی سرزمےن کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی سکتی اگر اس بارے مےں پاکستان کے پاس ثبوت ہےں تو ہمارے حوالے کےے جائےں ۔انہوںنے وزےراعظم عمران خان کی طرف سے اےس پی طاہر داوڑ کے قتل کی تحقےقات کےلئے بنائی گئی تحقےقاتی ٹےم اور بےان کو خوش آئندقرار دےا اور امےد کا اظہار کیا کہ وزےراعظم عمران خان کی قےادت مےں دونوں ممالک کے درمےان تعلقات کو بہتر بنانے مےں مدد ملے گی۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved