تازہ تر ین

حکومت کا نواز ، شہباز ، مریم کے 4 کیس نیب کو بھجوانے کا فیصلہ

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں) موجودہ حکومت نے ( ن )لیگی سا بق حکومت کیخلاف مزید چار کیسز قومی احتساب بیورو(نیب) کو بھیجنے کا اعلان کر دیا ۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعلی پنجاب نے سرکاری خزانے سے 60 کروڑ کا ہیلی کاپٹر استعمال کیا اور مجموعی طور پر ہوائی سفر پر 340 ملین روپے غیر قانونی خرچ کیے گئے۔ شہباز شریف کے ہیلی کاپٹر پر آنے والے خرچے کا کیس نیب کو ریفر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے بھی وزیراعظم کا ہیلی کاپٹر غیرقانونی طورپر استعمال کیا، یہ کیس بھی مزید تحقیقات کیلئے نیب کو بھجوایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر وزیراعظم کیلئے ہے اگر کوئی دوسرا استعمال کرتا ہے تو اسے وضاحت دینی پڑی گی۔ انہوں نے کہا پرائم منسٹر ہاوس اور چیف منسٹر ہاوس کا ریکارڈ بھی مزید تحقیقات کیلئے نیب کے حوالے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2016-2017 میں وزیراعظم ہاﺅس کا 34 کروڑ خرچہ تھا جب کہ صرف رائے ونڈ کی سکیورٹی پر 60 کروڑ خرچ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے مجموعی اخراجات کا ریکارڈ بھی نیب کے حوالے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب تحقیقات کرکے تمام کیسز میں ریفرنس دائر کرے گا۔انہوں نے کہا کہ برطانوی اخبار نے شریف خاندان کی جائیداد کے بارے میں تحقیقی خبر شائع کی ہے اور ہم نے جائیداد سے متعلق دستاویزات حاصل کر لیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ پراپرٹی 2016 میں حسن نواز کے نام کی گئی تھی۔وزیراعظم کے معاون خصوصی نے بتایا کہ نیب قوانین کو بہتر کرنے کیلئے ایک ٹاسک فورس بنائی گئی ہے، لیکن ہم ایسے شخص کو کبھی بھی پی اے سی کا سربراہ نہیں بنائیں گے جو خود کرپٹ ہو۔ وفاقی حکومت نے رائے ونڈ میں شریف خاندان کی رہائش گاہ اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ہوائی سفری اخراجات کے کیس کو قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھجوانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہاہے کہ سابق حکمران بہت بے دردی کے ساتھ سرکاری پیسہ استعمال کرتے رہے ¾ اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ¾مریم نواز نے بھی 3 کروڑ روپے کے اخراجات سے سرکاری طیارے کا استعمال کیا تھا ¾ شریف خاندان کے اخراجات پر نیب ریفرنس دائر کرے، تمام ثبوت فراہم کیے جائیں گے ¾ نیب کے قوانین میں ترمیم کےلئے تیار ہیں ¾ ادارے کو کمزور نہیں کریں گے، نیب پر مزید نگرا نی کا ادارہ بٹھانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ہفتہ کو یہاں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر برائے میڈیا افتخار درانی نے کہا کہ رائے ونڈ میں شریف خاندان کی رہائش گاہ اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ہوائی سفری اخراجات کے کیس کو قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے انہوںنے کہا کہ اب تک ان کی حکومت وزیر اعظم ہاو¿س کے اخراجات میں 11 کروڑ روپے کی کمی لاچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ہاو¿س کی گاڑیوں کے پیٹرول کا خرچہ 49 لاکھ روپے کم کیا گیاجبکہ مجموعی طور پر حکومت نے 43 کروڑ روپے سے کم کرکے 27 کروڑ روپے تک پہنچادیا ہے۔افتخار درانی نے بتایا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 60 کروڑ روپے اپنے ہوائی سفر پر خرچ کیے اور رائے ونڈ کی سیکیورٹی پر 60 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔انہوںنے کہاکہ حکمران بہت بے دردی کے ساتھ سرکاری پیسہ استعمال کرتے رہے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے بھی 3 کروڑ روپے کے اخراجات سے سرکاری طیارے کا استعمال کیا تھا۔وزیرِاعظم کے مشیر برائے میڈیانے بتایا کہ ان معاملات کے کیسز نیب کو بھجوائے جارہے ہیں۔وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ شریف خاندان کے اخراجات پر نیب ریفرنس دائر کرے، تمام ثبوت فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب ہاو¿س میں بڑی تعداد میں بھاری رقوم کے تحفے تحائف دیے گئے۔شہزاد اکبر نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا 14-2013 کے دوران تحائف کے بجٹ میں218 فیصد اضافہ ہوا، 15-2014 میں یہ اضافہ 135 فیصد تھا، 16-2015 میں 193 فیصد اضافہ ہوا اور 17-2016 میں تحائف اور انٹرٹینمنٹ کی مد میں 256 فیصد رقوم ادا کی گئیں۔انہوںنے کہاکہ یہ وہ تمام بجٹ ہے جنہیں اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے دیا گیا اور اب حکام کو دیکھنا ہوگا کہ وہ کیا تحائف ہیں جو اس دوران دئیے گئے۔وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی کے مطابق نیب کو قومی احتساب آرڈیننس کے تحت ان اخراجات سے متعلق کارروائی کرنی ہے۔ذرائع ابلاغ میں جاری خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے شہزاد اکبر نے بتایا کہ شریف خاندان کی لندن میں ایک اور جائیداد کا انکشاف ہوا ہے اور اس معاملے کو دیکھا جارہا ہے۔انہوںنے کہاکہ سینٹرل لندن میں موجود شریف خاندان کی جائیداد مرحومہ بیگم کلثوم نواز کے نام پر تھیں جنہیں چھپایا گیا اور یہ نواز شریف کی ذمہ داری تھی کہ وہ ان اثاثوں کو ظاہر کرتے۔انہوںنے بتایا کہ شہباز شریف کے ہیلی کاپٹر پر آنے والے خرچے کا کیس نیب کو ریفر کیا جا رہا ہے۔ایک سوال پر افتخار درانی نے کہا کہ مقاصد کی تکمیل کےلئے متبادل حکمت اختیار کرنا پڑتی ہے، اسٹریٹجی میں تبدیلی اگر یو ٹرن ہے تو یہ ہے۔اس موقع پر وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ گزشتہ دور میں وزیراعظم کے جہاز کا غیر قانونی استعمال ہوا، شہباز شریف اور مریم نواز نے سرکاری ہیلی کاپٹر اور جہاز کا غیر قانونی استعمال کیا، شہباز شریف نے 60 کروڑ کا ہیلی کاپٹر پر سرکاری پیسوں سے سفر کیا، ہوائی سفر پر 34 کروڑ روپے غیر قانونی خرچ کیے گئے۔ وزیراعظم اوروزیراعلیٰ ہاو¿س کا ریکارڈ نیب کے حوالے کررہے ہیں۔شہزاد اکبر نے کہا کہ تحقیقی صحافت احتساب کے عمل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، برطانوی اخبار نے شریف خاندان کی جائیداد کے بارے میں تحقیقی خبر شائع کی، جس میں نوازشریف کی اہلیہ کےنام برطانیہ میں ایک فلیٹ کی اونرشپ بتائی گئی ہے۔ اس فلیٹ کا ذکر الیکشن کمیشن یا ویلتھ فارمزمیں نہیں کیا گیا، برطانوی اخبار نے جس جائیداد کا ذکر کیا نواز شریف نے اسے چھپایا حالانکہ بطور وزیراعظم اور رکن پارلیمنٹ نواز شریف کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے اثاثوں کے بارے میں بتاتے، برطانیہ سے شریف خاندان کی جائیداد سے متعلق دستاویزات حاصل کی گئی ہیں، فلیٹ کی تازہ خریداری کی تاریخ مارچ 2018 ہے جو حسین نواز کو منتقل کی گئی ہے۔ سوال ہے کہ وسائل کہاں سے آئے اورجائیدادکب اورکیسے خریدی گئی؟ اس کیس کی نوعیت بھی دیگرکیسزکی طرح آمدن سے زائداثاثے کی ہے۔وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ تحائف و تفریح کی مد میں کئی گنا اخراجات کیے گئے، گزشتہ دور حکومت کے 5 سال میں تحائف پر کیے گئے اخراجات کا بھی پتا لگا لیا ہے ¾ نیب کے قوانین میں ترمیم کے لیے تیار ہیں لیکن ادارے کو کمزور نہیں کریں گے، نیب پر مزید نگرا نی کا ادارہ بٹھانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ایک سوال پر وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی نے کہا کہ امریکی ریڈیو کو انٹرویو کے وقت افغانستان میں قتل ہونے والے ایس پی طاہر داوڑ سے متعلق صورت حال مختلف تھی۔ایک سوال کے جواب میں شہزاد اکبر نے کہا کہ ہم صاف اور شفاف لوگوں کو کمیٹی کے چیئرمین بنائیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا جہاز ان کا کوئی بچہ استعمال کرے گا تو پھر ان سے پوچھا جائے گا، ہمارے دور میں بھی اگر اسی طرح ہوا تو ہم بھی احتساب کے لئے تیار ہیں، سسٹم کو تبدیل کرنے کے لئے تمام وزارتوں، ڈویژنوں اور اداروں کو شفافیت کی ضرورت ہے۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved