تازہ تر ین

گیٹ و ے ٹو سنٹرل ایشیا

ضیاءالحق سرحدی….یقیں محکم
صوبہ خیبر پختونخوا ایک ایسے خطے میں واقع ہے جو ساری دنیا کے ساتھ رابطے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے افغان خیبرپختونخوا سے متصل صوبہ خیبرپختونخوا کا دارلحکومت پشاور وسطی ایشیاءکا گیٹ وے رہا ہے ماضی میں یورپ و ہندوستان مشرق بعید اور جنوبی ایشیاءکی تمام تجارت اسی راستے سے ہوتی رہی ہے تجارتی قافلے اسی تاریخی شہر میں پڑاﺅ ڈالتے تھے صوبے کی بد قسمتی یہ رہی ہے کہ سمندر سے دوری نے اس علاقے کی صنعتوں کو مضبوط خطوط پر استوار کر نے سے روکا کیونکہ خام مال کو کراچی سے یہاں تک لانے پر بے انتہا اخراجات کے باعث یہاں کی صنعتی مصنوعات منڈی میں مقابلے کی اہلیت کھو بیٹھی ہیں ۔ صنعتی مراعات اور تر غیبات کے ضمن میں صوبہ خیبرپختونخوا کے ساتھ سو تیلی ماں جیسا سلوک ہوتا رہا ۔
صوبہ خیبرپختونخوا وسطی ایشیاءکی تجارت کے لئے ”گیٹ وے “ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ہمارے ہاں منصوبوں پر عمل نہیں ہوتا اور حکومتوں کے آنے جانے کے چکر میں ہماری پالیسیو ں میں تسلسل نہیں رہتا۔ ہمارے ذمہ داران اور حکمرانوں کو چاہئے کہ حکومت تو آنی جانی چیز ہے چاہے جو بھی اقتدار کی رسہ کشی ہارے جیتے لیکن پالیسیوں میں تسلسل رکھنا چاہئے تاکہ ان پالیسیوں کا کچھ نتیجہ نکل سکے۔ دراصل پالیسیاں حکومت کی اس سوچ کی عکاسی کرتی ہیں جو اس نے ملک میں تجارت کےلئے اپنائی ہوئی ہیں یہ امر ہمارے حکمرانوں کےلئے قابل توجہ ہونا چاہئے کہ 70برسوں کے دوران ہماری بین الاقوامی تجارت کبھی ہماری معیشت کے حق میں نہیں رہی اور ہمیں ہر سال خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ (APTTA)2010کا معاہدہ جو کہ ایک دباو¿ کے تحت ہوا تھا وہ اب بری طرح سبوتاژ ہو چکا ہے۔اس حوالے سے پاکستان اور افغانستان کے مابین حکومتی سطح پر کئی میٹنگز بھی ہوئیں جو کہ بے سود ثابت ہوئیں اور گزشتہ آٹھ سالوں سے تقریباً اے ٹی ٹی کا کاروبار ایران کی بندرگاہ چا بہار اور بندر عباس منتقل ہو چکا ہے جس کی وجہ سے پاک افغان باہمی تجارت کاحجم جو کہ تقریباً 2.5ارب ڈالر تھا مزید کم ہو گیا ہے اور 50کروڑڈالر کی خطرناک سطح پر آگیا ہے۔جبکہ دونوں ممالک کی خواہش ہے کہ یہ حجم 5ارب ڈالر تک پہنچایا جائے۔اس لئے دونوں ممالک کے اعلیٰ حکا م کو چاہیے کہ ملک کے بہترین اقتصادی مفادات کی روشنی میں فیصلہ کریں اور دونوں ممالک کی بیورو کریسی کی جانب سے پیدا کی جانیوالی مشکلات کو دور کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائیںاوراس معاہدے پر دونوں ممالک نظر ثانی کریںتاکہ پاک افغان باہمی تجارت کو فروغ حاصل ہو۔ اس وقت لینڈ روٹ کے ذریعے کوئی مال ان ریاستوں میں نہیں جا رہا۔جس کی وجہ سے برآمد کنندگان کو مختلف ملکی و غیر ملکی اداروں سے مسائل و مشکلات کا سا منا ہے جس کے حل کے لئے ٹی ڈی اے پیTDAP(ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان) کو مزید محنت کی ضرورت ہے اور خاص طور پر بیرون ملک مقیم کمرشل اتاشیوں اور قونصلرز کو زیادہ فعال بنانے کی ضرورت ہے ،حکومت کو چاہئے کہ اس ضمن میں سنجیدگی سے اقدامات کرے ایسے مثبت اقدامات جن کے نتیجے میں ہماری برآمدات بڑھ سکیں ہماری درآمد میں کمی آسکے۔ ڈیوٹی ڈرا بیک اور سیلز ٹیکس ریفنڈ کے سلسلے میں برآمد کنندگان کے کیس ایف بی آر کے پاس کئی کئی سال لٹکے رہتے ہیں جس کی وجہ سے برآمدات جمود کا شکار ہو جاتی ہےں ۔جبکہ وسط ایشیاءتک برآمدی لینڈ روٹ کو مزید فعال بنا نے کے لئے وفاقی سطح پر مثبت اور ٹھوس اقدام اٹھائے جائیں اور یقینی طور پر ایک مربوط پاک افغان تجارتی پالیسی تشکیل دی جائے تا کہ اس راستے سے وسطی ایشیائی ریاستوں کو برآمدات کو فروغ حاصل ہو ۔
ٹی ڈی ای پی کو بھی چاہئے کہ وہ اپنا تعمیری کردار ادا کرے تا کہ ملکی معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہوں اور ایک بار پھر صوبہ خیبرپختونخوا کو وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کے لئے گولڈن گیٹ وے کی حیثیت حاصل ہو سکے ۔ وفاقی حکومت کے ٹھوس اور بر وقت اقدامات سے پاک افغان تجارت میں نمایاں طور پر اضافہ ہو سکتاہے۔ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے ساتھ تجارت پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے لئے مزید نرمی کی جائے۔جبکہ موجودہ گورنر خیبرپختونخواشاہ فرمان حقیقی معنوں میں صوبے کی بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کے لئے اپنا کلیدی کردار ادا کریں اور وفاقی سطح پر بھی خیبرپختونخوا کی بزنس کمیونٹی کی آوازحکام بالا تک پہنچا ئیں ۔ طور خم اور چمن سے وسطی ایشیاءتک برآمدی لینڈ روٹ کو مزید فعال بنانے کے لئے وفاقی سطح پر مثبت اقدام اٹھائے جائیں اور برآمدات کے تمام تجارتی اشیاءپر پا بندیاں ختم کر کے ایکسپورٹ کو آزادانہ اجازت دی جائے۔ایک اندازے کے مطابق سالانہ ایک ارب ڈالرسے زائد کی ایکسپورٹ ہو سکتی ہے اور پاکستانی برآمدات کو نہ صرف افغانستان بلکہ وسط ایشیاءاور یورپ تک پہنچایا جا سکتا ہے اور اس طرح پاکستان افغانستان کے شہروں قندھار ، ہرات ، غزنی ، مزار شریف کے علاوہ تر کمانستان اور دوسرے وسطی شہروں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے ۔ حکومت کے ان اقدامات سے ہم افغانستان میں ایران، انڈیا، چین ، ترکی او ر دوسرے ممالک کا مقابلہ کر سکتے ہیں او راگر خدانخواستہ وسطی ایشیائی ممالک کی طرح افغانستان میں پاکستانی برآمدات بھی عدم توجہی کا شکار ہوئیں تو ہم افغانستان کے اندر برآمدی ایشیاءکی مارکیٹ بنانے سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے او ردوبارہ یہ موقع ہمارے ہاتھ نہیں آئے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ برآمدات کے ہدف کے حصول کے لئے دانش مندانہ اقدامات کرے کیونکہ پوری قوم تاجر برادری اور ایکسپورٹرز وفاقی و صوبائی حکومتوں کی پالیسیوں کی مکمل حمایت کر تی ہے اس لئے انکو بھی تاجربرادری و ایکسپورٹرز برادری کا خیال رکھنا چاہئے جبکہ برآمدی تجارت کسی بھی ملک کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہو تی ہے بہتر برآمدی تجارت کے بغیر کسی ملک کی خوشحالی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved